LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) ایران امریکہ معاہدے سے پاکستانی معیشت کو فائدہ پہنچنے کی توقع ؟

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) ایران امریکہ امن معاہدے سے پاکستان کو مجموعی طور پر تقریباً 20 ارب ڈالر کا معاشی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، جس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز کا کھلنا، تیل کی قیمتوں میں کمی اور توانائی کے تعطل کا خاتمہ ہے۔ پاکستان نے اس تاریخی امن معاہدے (اسلام آباد یادداشتِ تفاهم) میں ایک مرکزی ثالث کا کردار ادا کیا ہے، جس کی بدولت ملک کے عالمی امیج اور معاشی ساکھ میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ آبنائے ہرمز کے مکمل طور پر کھلنے سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی بحال ہو جائے گی۔ اس سے پاکستان میں پٹرول، ڈیژل اور بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی اور مہنگائی کا بوجھ کم ہوگا۔ امریکی پابندیوں میں نرمی کے بعد برسوں سے تاخیر کا شکار پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ دوبارہ شروع ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے، جو پاکستان کو سستی توانائی فراہم کرے گا۔ خلیجی خطے میں جنگ کا خطرہ ٹلنے سے پاکستان کی خلیجی ممالک کو برآمدات میں تقریباً 4 ارب ڈالر کا اضافہ متوقع ہے۔پاک ایران دوطرفہ تجارت: خطے میں تناؤ کم ہونے اور ایرانی صدر کے حالیہ دورۂ پاکستان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارت، انفراسٹرکچر اور بارڈر مارکیٹس کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے راستے کھل گئے ہیں خطے میں امن کی وجہ سے پاکستان کے فاریکس ریزرو کے 20 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے کامیاب سفارت کاری کے نتیجے میں پاکستان کا جیو پولیٹیکل رسک کم ہوا ہے، جس سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا اور ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری آنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ماہرین کا تجزیہ: اگرچہ یہ معاہدہ پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا سفارتی اور عبوری معاشی ریلیف ہے، تاہم معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل مڈت کے فوائد حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو اپنے اندرونی ڈھانچے اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت معاشی اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھنا ہوگاا یران جنگ کے خاتمے کے لیے امن معاہدہ کرانے میں پاکستان کے کردار نے اسے وسیع سفارتی پذیرائی دلائی ہے، جس کے نتیجے میں کچھ معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فوائد پاکستان کی معیشت میں موجود بنیادی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سوئٹزرلینڈ کے قصبے بورگن اسٹاک میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی۔ یہ مذاکرات پاکستان کے کئی ماہ پر محیط سفارتی کردار کا نقطۂ عروج تھے، جو دنیا کی اہم ترین سفارتی کوششوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دیکھ کر کہا، ’’یہ بندہ! کیا حال ہے دوست؟‘‘ اور پھر انہیں گلے لگا لیا۔ دونوں فریقوں سمیت متعدد عالمی رہنماؤں نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے ایسے تنازعے کو ختم کرنے میں مدد دی جو آبنائے ہرمز کو طویل عرصے کے لیے بند کر سکتا تھا، عالمی تیل کی فراہمی کو متاثر کر سکتا تھا اور عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتا تھا۔اس سفارتی پیش رفت سے پاکستان کی عالمی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے اور ماہرین کے مطابق 250 ملین آبادی والا یہ ملک اس نیک نامی کو اپنی معیشت کے لیے کچھ فوائد میں تبدیل کرنے کا موقع رکھتا ہے، جو دہائیوں سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ممکنہ فوائد سے ان بنیادی مسائل کا حل نہیں نکلے گا جن میں سماجی اور معاشی ناہمواری، محدود ٹیکس نیٹ اور آئی ایم ایف پر بار بار انحصار شامل ہیں۔ پاکستان آئندہ مالی سال کے لیے 4 فیصد معاشی ترقی اور 8.2 فیصد مہنگائی کا ہدف رکھتا ہے، جبکہ جون میں ختم ہونے والے مالی سال 2025-26 میں معاشی نمو 3.7 فیصد رہنے اور جولائی تا مئی کے دوران اوسط مہنگائی 6.7 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔ وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ جو ملک اندرونِ ملک استحکام پیدا کرتا ہے اور بیرونِ ملک استحکام کے فروغ میں کردار ادا کرتا ہے، وہ سرمایہ کاری کے لیے زیادہ قابلِ اعتماد منزل بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پر مبنی معاشی ایجنڈا اور امن و استحکام کے علمبردار کی حیثیت پاکستان کو افرادی قوت، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور مستقبل کے ترقیاتی شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے منفرد طور پر موزوں بناتی ہے۔ تجزیہ کار توقع کر رہے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کو کسی نہ کسی صورت فائدہ پہنچ سکتا ہے، اگرچہ فی الحال ایسی کسی پیش رفت کے آثار نظر نہیں آئے۔ واشنگٹن میں قائم مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایران پروگرام کے ڈائریکٹر اور سینئر فیلو الیکس وتانکا نے کہا کہ پاکستان کے لیے ایک بڑا فائدہ وسیع مشرقِ وسطیٰ کا زیادہ مربوط حصہ بننے کی بڑی صلاحیت ہے، جو مستقبل میں خطے کے ساتھ دفاع سمیت وسیع معاشی شراکت داریوں کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ایران پر پابندیوں میں نرمی کی صورت میں ایران اور پاکستان کے درمیان بہت بڑی تجارت ممکن ہو سکتی ہے، 11 ستمبر 2001 کے حملوں اور افغانستان پر امریکی حملے کے بعد واشنگٹن کے ساتھ پاکستان کی قربت نے ایک درجن سے زائد دوطرفہ قرض دہندگان سے قرضوں کی ری شیڈولنگ، آئی ایم ایف اور دیگر کثیرالجہتی اداروں کی نئی حمایت اور امریکی امداد حاصل کرنے میں مدد دی تھی۔موجودہ صورتحال 9/11 کے بعد کے دور سے ملتی جلتی ہے، لیکن ایک بنیادی فرق کے ساتھ۔ اس وقت ایک طویل اور تباہ کن جنگ کا آغاز ہو رہا تھا جس میں پاکستان کو اگلے مورچے کا کردار ادا کرنا پڑا جبکہ اس بار پاکستان امن قائم کرنے والے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں،پاکستان اور قطر کی بڑی کوششوں اور ثالثی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان تلخیاں کم ہونے لگی ہیں اور دونوں ملک بات چیت کو آگے بڑھانے پر راضی ہو گئے ہیں۔ اگرچہ یہ مذاکرات ابھی آمنے سامنے بیٹھ کر نہیں ہوئے بلکہ پاکستان اور قطر کے ذریعے پیغامات پہنچا کر کیے گئے ہیں، لیکن اس سے علاقے میں امن کی ایک بڑی امید پیدا ہو گئی ہے۔قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان الگ الگ ملاقاتیں ہوئی ہیں، جن میں پچھلے مہینے طے پانے والے چودہ نکاتی عبوری معاہدے اور مفاہمتی یادداشت پر عمل کرنے کے طریقوں پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ قطری وزارت خارجہ کے مطابق اگلا مذاکراتی اجلاس بہت جلد بلایا جائے گا، تاہم یہ اگلی ملاقات ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نو جولائی کو ہوانے والی تدفین کے بعد ہی طے کی جائے گی۔ دفترِ خارجہ پاکستان نے بھی مذاکرات کا عمل مکمل ہونے اور اگلی مذاکراتی بیٹھک جلد بلانے کی تصدیق کی ہے۔ اس اہم پیش رفت پر ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق دوحہ میں ہونے والا مذاکراتی دور مکمل ہو گیا ہے اور فریقین نے معاہدے کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کے لیے ایک رابطہ چینل قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان ملاقاتوں میں لبنان کی صورت حال اور ایران کے روکے گئے پیسوں پر بھی بات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ قطری حکام اور ان کے مرکزی بینک کے ساتھ ملاقاتوں میں ایران کے منجمد اثاثوں میں سے شروعاتی چھ ارب ڈالر کے ایک حصے کو استعمال کرنے کا طریقہ بھی طے پایا ہے، جس کے تحت ایران کی ضرورت کی چیزیں خرید کر اسے دی جائیں گی۔ دوسری طرف ایران کے اندر اس بات چیت پر ہونے والی بحث کا جواب دیتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے حکومت کو مذاکرات سے نہیں روکا، اگر انہوں نے ایسا کوئی حکم دیا ہوتا تو ہم یقیناً اس پر عمل کرتے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مثبت اشارہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت ٹھیک سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور ایران کی ایٹمی صلاحیت کے خاتمے سے متعلق ہونے والی پیش رفت حوصلہ افزا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق، اس پورے معاملے کا اصل مقصد آبنائے ہرمز کے سمندری راستے کو بحری جہازوں کے لیے دوبارہ پوری طرح کھولنا اور دونوں ملکوں میں جنگ کے بعد پیدا ہونے والے تناؤ کو ختم کرنا ہے۔ رپورٹ میں بتایا کہ اس بات چیت میں ایران کا سارا دھیان سمندری راستے کے انتظام اور اپنے چھ ارب ڈالر واپس لینے پر رہا، جبکہ امریکا کا مقصد دنیا بھر کے تجارتی اور تیل کے جہازوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے اس راستے سے گزارنا ہے۔ اگرچہ یہ مذاکرات ابھی آمنے سامنے بیٹھ کر نہیں ہوئے بلکہ پاکستان اور قطر کے ذریعے پیغامات پہنچا کر کیے گئے ہیں، لیکن اس سے علاقے میں امن کی ایک بڑی امید پیدا ہو گئی ہے۔ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد پانچ بنیادی شقوں کی تکمیل سے مشروط ہے۔ ان کے مطابق ان نکات پر پیش رفت کے بغیر معاہدہ مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکتا۔ سی این این کے مطابق ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے شق نمبر 1، 4، 5، 10 اور 11 پر پیش رفت ناگزیر ہے۔ باقر قالیباف کے مطابق پہلی شق کے تحت امریکا اور ایران نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں مستقل طور پر ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اگرچہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑی عسکری کارروائیاں رک چکی ہیں، تاہم لبنان میں کشیدگی برقرار ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ حتمی معاہدے کے لیے اسرائیل کو لبنان سے مکمل انخلا کرنا ہوگا، جب کہ اسرائیل حزب اللہ کو غیر مسلح کیے بغیر انخلا سے انکار کر رہا ہے۔ چوتھی شق کے مطابق امریکا ایران پر عائد بحری پابندیاں ختم کرے گا، جب کہ ایران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرے گا۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے بحری ناکا بندی ختم کر دی ہے، تاہم اس کے جنگی جہاز اب بھی خطے میں موجود ہیں۔ دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے اجازت نامہ لازمی قرار دے رکھا ہے، جس کے باعث بحری ٹریفک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔ پانچویں شق کے تحت ایران نے 60 روز تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے کوئی ٹرانزٹ فیس وصول نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اگرچہ ایران نے اب تک کسی قسم کی فیس عائد نہیں کی، تاہم رضاکارانہ ادائیگیوں کے امکان پر بات چیت جاری ہے۔ معاہدے کے مطابق 60 روز کی مدت کے دوران کسی نئی فیس کا اطلاق نہیں ہوگا۔ معاہدے کی دسویں شق کے تحت امریکا نے ایرانی تیل، پیٹروکیمیکل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی برآمد کے لیے 60 روزہ رعایت جاری کر دی ہے، جس سے ایران کو امریکی ڈالر میں فروخت کی اجازت مل گئی ہے۔ گیارہویں شق کے تحت امریکا نے ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی دینے کا وعدہ کیا ہے، تاہم اس معاملے پر اب بھی ابہام برقرار ہے۔ باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ 24 ارب ڈالر میں سے 12 ارب ڈالر ایران کو فراہم کیے جائیں گے، جب کہ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران کی جانب سے معاہدے کی شرائط پوری کیے بغیر منجمد فنڈز جاری نہیں کیے جائیں گے۔ قطر کی وزارت خارجہ نے بھی کہا ہے کہ ان فنڈز کی منتقلی امریکا اور ایران کے درمیان حتمی اتفاق رائے سے مشروط ہے۔ دوسری جانب قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے دوحہ میں امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت، لبنان کی صورتِ حال اور وہاں جنگ بندی کو مستحکم بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا دوحہ میں جاری رابطوں کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی شقوں کو مزید واضح کرنا ہے تاکہ مستقبل میں کسی غلط تشریح یا اختلاف کی گنجائش نہ رہے۔۔ ان کے مطابق مذاکرات میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت، علاقائی سلامتی، جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی، اقتصادی تعاون اور ایران کے منجمد اثاثوں جیسے معاملات بھی زیر غور ہیں۔ اس سے قبل امریکی صدر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاملات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ان کی انتظامیہ خطے میں امن کے قیام کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ 15 جون کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا امریکہ، ایران معاہدے کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’آج کا دن نہ صرف پاکستان میں بسنے والوں بلکہ دنیا بھر میں رہنے والے پاکستانیوں کے لیے باعثِ افتخار ہے۔ پاکستانی حکومت ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے نتیجے میں آنے والے عالمی معاشی استحکام کے ثمرات ہر پاکستانی کو پہنچائے گی۔ مذاکرات کے دوران کئی مواقع ایسے آئے جب لگا کہ ابھی معاملہ ختم ہو جائے گا ’مگر فیلڈ مارشل نے ہمت نہیں ہاری جس کے نتیجے میں کل رات ہونے والا اعلان ممکن ہوا۔ امریکہ اور ایران پاکستان کی ثالثی میں جس چیز پر متفق ہوئے ہیں، وہ ایک فریم ورک ہے جس پر اگلے 60 روز میں مزید بات چیت ہو گی، لہذا اسے مکمل امن معاہدہ ابھی نہیں کہا جا سکتا۔‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ امن معاہدے کی تقریب کی میزبانی سے پاکستان کے عالمی وقار میں مزید اضافہ ہو گا لیکن اس سارے معاملے کو پاکستان کے مسائل کا حل قرار دینا بھی مناسب نہیں۔یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ ایران پر پابندیوں میں نرمی کی وجہ سے پاکستان کی ایران کے ساتھ دو طرفہ تجارت میں اضافہ ہو۔ایران اس ثالثی کی بدولت ہمیں بلامعاوضہ تیل دے گا تو یہ ممکن نہیں، ہاں یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ پاکستان کو وہ کم نرخوں پر تیل کی سہولت فراہم کر سکتا ہے لیکن یہ بھی اُسی صورت ممکن ہو گا، جب ایران پر سے پابندیاں مکمل طور پر ہٹ جائیں گی۔ اس جنگ کے اثرات پوری دُنیا پر پڑے تھے اور لامحالہ پاکستان بھی اس سے متاثر ہوا اور اگر مستقل امن ہوتا ہے تو اس کے قلیل مدتی مثبت اثرات پاکستان پر بھی پڑ سکتے ہیں۔پاکستان کی ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے اور اگر ایران پر سے پابندیاں ہٹ جاتی ہیں تو اس کا پاکستان کو لازماً فائدہ ہو گا۔ پاکستان ایران کے ساتھ کچھ تجارت تو کر رہا تھا لیکن امریکی پابندیوں کی وجہ سے گیس پائپ لائن سمیت کچھ اور اہم منصوبوں پر کام رُکا ہوا تھا، تو یہ دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔یاد رہے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن ایک پرانا منصوبہ ہے جس میں اس وقت ایک نمایاں پیش رفت ہوئی تھی جب سنہ 2013 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت کے آخری دنوں میں اس وقت صدر پاکستان آصف علی زرداری نے ایران کے دورے کے دوران اس کا افتتاح کیا تھا تاہم اس کے بعد اس میں کوئی خاص پیشرفت ممکن نہیں ہو سکی۔اس منصوبے پر امریکہ کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا تھا، جس کی وجہ ایران پر بین الاقوامی پابندیاں قرار دی گئی تھیں۔ اگر ایران سے پابندیاں ختم ہوتی ہیں تو پھر اس کا پاکستان کو بہت فائدہ ہو گا کیونکہ پاکستان میں گیس کی کمی ہے اور یہ مسلسل مہنگی بھی ہو رہی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X