LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان امریکہ اور ایران مذاکرات کےنئے دور کا میزبان؟

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان 11 جولائی کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ایک نئے دور کی میزبانی کرے گا، جس کا مقصد فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل کو بحال کرنا ہے, ذرائع نے روز انکشاف کیا ہے کہ
متوقع دور میں تین اہم موضوعات پر بات چیت ہو گی، جن میں تہران پر عائد امریکی پابندیاں، ایرانی منجمد اثاثے اور ایرانی جوہری پروگرام شامل ہیں۔مزید کہا گیا کہ مذاکرات میں ایرانی وفد کی نمائندگی کی سطح کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا ہے۔ یہ فیصلہ ایرانی سابق مرشد علی خامنہ ای کی آخری رسومات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
مذاکرات کا یہ دور واشنگٹن اور تہران کے درمیان مہینوں سے جاری بالواسطہ رابطوں کے بعد سامنے آیا ہے، جو کشیدگی کو روکنے اور جوہری پروگرام پر مذاکرات کی راہ ہموار کرنے پر مرکوز رہے، جبکہ پابندیاں ہٹانے اور فریقین کی طرف سے مطلوبہ ضمانتوں پر اختلافات برقرار ہیں۔ نئے دور کی میزبانی کے لیے پاکستان کا انتخاب اس رجحان کی عکاسی کرتا ہے کہ مذاکرات میں علاقائی ثالثوں کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے۔ اس سے قبل سلطنتِ عمان اور قطر دونوں فریقوں کے درمیان ملاقاتوں اور رابطوں کی میزبانی کر چکے ہیں۔ متوقع مذاکرات کو ابھی بھی حالیہ جنگ کے بعد کے انتظامات، ایرانی جوہری پروگرام پر اختلافات اور ایرانی منجمد اثاثوں کی رہائی کے طریقہ کار سے متعلق چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ایسے وقت میں جب دونوں فریق سفارتی راستے پر واپسی کے امکانات کو آزمانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ خطے میں کشیدگی کی شدت کو کم کیا جا سکے گزشتہ عرصے کے دوران امریکہ نے ایسے ذرائع کی تلاش شروع کی ہے جن کا مقصد ایران کو آبنائے ہرمز کے انتظام پر اپنی ضد چھوڑنے اور اس سے گزرنے والے مال بردار جہازوں پر خدمات کا معاوضہ نافذ کرنے کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا ہے۔ اخبار ’’ وال سٹریٹ جرنل ‘‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ معاملات سے باخبر حکام نے اشارہ کیا ہے کہ دوحہ میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے دوران دباؤ کا سب سے بڑا کارڈ بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کا ایک حصہ بحال کرنے کا وعدہ تھا جن کی مالیت کا تخمینہ تقریباً 100 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ گزشتہ عرصے کے دوران امریکہ نے ایسے ذرائع کی تلاش شروع کی ہے جن کا مقصد ایران کو آبنائے ہرمز کے انتظام پر اپنی ضد چھوڑنے اور اس سے گزرنے والے مال بردار جہازوں پر خدمات کا معاوضہ نافذ کرنے کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا ہے معاملات سے باخبر حکام نے اشارہ کیا ہے کہ چند روز قبل دوحہ میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے دوران دباؤ کا سب سے بڑا کارڈ بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کا ایک حصہ بحال کرنے کا وعدہ تھا جن کی مالیت کا تخمینہ تقریباً 100 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔اعلیٰ امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر، جنہوں نے گزشتہ منگل کو دوحہ کا دورہ کیا تھا، نے ایرانیوں تک یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کا ان کا مطالبہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کو سبوتاژ کر سکتا ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ ایرانیوں کے لیے ہمارا پیغام یہ تھا کہ وہ وسیع تر دائرے میں سوچیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکہ معاہدے کے فریم ورک کے تحت تمام پابندیاں ہٹا دیتا ہے تو ایران تیل اور دیگر وسائل کی فروخت سے جتنا ریونیو حاصل کر سکتا ہے وہ اس رقم سے سو گنا زیادہ ہوگا جو وہ ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کے لیے گینگسٹر جیسے ہتھکنڈوں کے استعمال سے حاصل کر سکتا ہے۔ یہ بھی کہا کہ اگر پابندیاں مکمل طور پر اٹھا لی جاتی ہیں تو تہران کو حاصل ہونے والے اقتصادی فوائد آبنائے سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے سے حاصل ہونے والے فوائد کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوں گے۔ اسی تناظر میں باخبر حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکیوں نے دوحہ میں ایرانی وفد کو ایک ایسے معاہدے کی پیشکش کی جس کی بنیاد منجمد فنڈز میں سے اربوں ڈالر کی رہائی کے بدلے آبنائے پر کنٹرول کے مطالبے سے دستبردار ہونے اور ٹرانزٹ فیس کے نفاذ سے پیچھے ہٹنے پر ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مذاکرات شروع میں قطر میں روکے گئے 6 ارب ڈالر کی رہائی کی طرف بڑھ رہے تھے لیکن ایران کے آبنائے کو بند کرنے کے فیصلے نے اس قدم کو روک دیا۔ ایران کا اشارہ تھا کہ پیش کی جانے والی مراعات اس کے موقف کو بدلنے کے لیے ناکافی ہیں۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ اور چیف مذاکرات کار کاظم غریب آبادی نے دوحہ سے واپسی پر تصدیق کی تھی کہ ہرمز ایرانی کمانڈ کے تحت ہے، امریکی نہیں۔ اسی طرح ایرانی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے بھی اپنا لہجہ سخت کر لیا اور اسی دن بعد میں خبردار کیا کہ کوئی بھی جہاز جو ایران کے منظور شدہ راستے پر نہیں چلے گا اسے فوری اور سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایران سکیورٹی اور تحفظ جیسی خدمات کے بدلے آبنائے سے گزرنے والے ہر جہاز پر فیس عائد کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسے امید ہے کہ اس سے سالانہ 40 ارب ڈالر تک پہنچنے والے ریونیو کا بڑا حصہ حاصل ہوگا۔ تاہم اس مطالبے کو امریکہ اور کئی خلیجی ملکوں کی جانب سے مسترد کر دیا ہے۔ مذاکرات کاروں نے سلطنت عمان کی طرف سے پیش کردہ ایک متبادل تجویز پر غور کرنا شروع کر دیا ہے جس کے حقوق آبنائے کے جنوبی حصے میں ہیں۔ مذاکرات سے واقف حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت سمندری خدمات کے لیے فنڈنگ ایک ایسے فنڈ کے ذریعے کی جائے گی جو رضاکارانہ عطیات پر منحصر ہوگا۔ مزید کہا کہ عمان اس فنڈ میں حصہ ڈالنے کے لیے کمپنیوں کی آمادگی جاننے کے لیے تیل اور جہاز رانی کی کمپنیوں کے ساتھ پہلے ہی بات چیت کر چکا ہے۔ لیکن تہران اب بھی اس مجوزہ فارمولے پر اعتراض کر رہا ہے کیونکہ اس میں براہ راست فیس کی ادائیگی شامل نہیں ہے۔ اسی طرح امریکی موقف سے باخبر سفارتی ذرائع نے بتایا کہ امریکی مذاکرات کاروں کو عمانی تجویز موصول ہو گئی ہے لیکن انہیں اس پر تحفظات ہیں جنہیں وہ مسقط کے ساتھ اپنی بات چیت کے دوران اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں اس منصوبے کو بالآخر فیس کے نظام کی ایک غیر براہ راست شکل سمجھا جا سکتا ہے جس سے ایران کو فائدہ پہنچتا ہے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی پانچویں حصہ تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، میں بحری آمد و رفت گزشتہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایک طرف اور دوسری طرف ایران کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد سے کافی حد تک مفلوج ہو چکی تھی۔ گزشتہ جون میں ایران امریکہ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد اسے دوبارہ کھولے جانے سے پہلے اس میں بحری آمد و رفت ابھی تک اپنی پرانی حالت پر واپس نہیں آئی ہے۔ اس سٹریٹجک آبنائے سے روزانہ 100 جہاز گزرتے تھے۔ واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین جامع امن معاہدے کے لیے 60 دن کا وقت “اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت” کے تحت طے کیا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے 17 جون 2026 کو اس تاریخی دستاویز پر دستخط کیے جانے کے بعد 60 روزہ الٹی گنتی کا باضابطہ آغاز ہوا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جنگ کا مستقل خاتمہ ہے۔اس 60 روزہ فریم ورک کے اہم ترین نکات میں فائر بندی میں توسیع اور جنگ کا خاتمہ ہے یہ 60 دن بنیادی طور پر عارضی فائر بندی کی مدت میں توسیع ہیں۔ اس دوران دونوں ممالک اور ان کے اتحادی ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا طاقت کا استعمال نہ کرنے کے پابند ہیں اس مدت کے اختتام یعنی مڈ اگست 2026 تک دونوں فریقین کو تمام تنازعات کو حل کر کے ایک “جامع اور مستقل امن معاہدے” پر دستخط کرنے ہیں، تاہم باہمی رضامندی سے اس وقت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ معاہدے کی تیسری اور پانچویں شق کے تحت ایران اگلے 60 دنوں کے لیے خلیج فارس سے بحیرہ عمان تک تمام تجارتی جہازوں کو بغیر کسی فیس یا چارجز کے محفوظ راستہ فراہم کرنے کا پابند ہے۔ امریکہ نے دستخط کے فوراً بعد ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا عمل شروع کیا، جسے دستخط کے 30 دنوں کے اندر مکمل طور پر ختم کیا جانا ہے اس 60 روزہ مذاکراتی مدت کے دوران ایران کو اقتصادی پابندیوں میں عبوری ریلیف دیا جائے گا۔ اس دوران ایران کو تقریباً 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں تک رسائی ملنے کی امید ہے، تاہم امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ فنڈز کا مکمل نفاذ ایران کی طرف سے شرائط کی پاسداری سے مشروط ہوگا سب سے پیچیدہ معاملہ ایران کے جوہری انفراسٹرکچر اور افزودہ شدہ یورینیم کے ذخائر کو اقوامی متحدہ کے جوہری توانائی کے عالمی ادارے (IAEA) کی نگرانی میں لانا ہے، جس پر تفصیلی تکنیکی گفتگو اسی 60 دن کی ونڈو میں مکمل ہونی ہے۔فوجی انخلا: جامع امن معاہدہ طے پا جانے کی صورت میں، امریکہ اس حتمی معاہدے کے اگلے 30 دنوں کے اندر ایران کے ارد گرد کے قریبی علاقوں سے اپنی افواج کو پیچھے ہٹانے کا پابند ہوگا۔یہ 60 روزہ سفارتی چیلنج اس وقت آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے باعث عارضی تعطل کا شکار ہے، تاہم 11 جولائی کو اسلام آباد میں ہونے والے متوقع مذاکرات کو اس 60 دن کے فریم ورک کو بچانے اور حتمی امن معاہدے کی طرف بڑھنے کے لیے اہم ترین سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان اور قطر کی بڑی کوششوں اور ثالثی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان تلخیاں کم ہونے لگی ہیں اور دونوں ملک بات چیت کو آگے بڑھانے پر راضی ہو گئے ہیں۔ اگرچہ یہ مذاکرات ابھی آمنے سامنے بیٹھ کر نہیں ہوئے بلکہ پاکستان اور قطر کے ذریعے پیغامات پہنچا کر کیے گئے ہیں، لیکن اس سے علاقے میں امن کی ایک بڑی امید پیدا ہو گئی ہے۔ دوحہ میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان الگ الگ ملاقاتیں ہوئی ہیں، جن میں طے پانے والے چودہ نکاتی عبوری معاہدے اور مفاہمتی یادداشت پر عمل کرنے کے طریقوں پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ دفترِ خارجہ پاکستان نے بھی مذاکرات کا عمل مکمل ہونے اور اگلی مذاکراتی بیٹھک جلد بلانے کی تصدیق کی ہے۔ اس اہم پیش رفت پر ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق دوحہ میں ہونے والا مذاکراتی دور مکمل ہوا ہے اور فریقین نے معاہدے کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کے لیے ایک رابطہ چینل قائم کرنے پر اتفاق کیا انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان ملاقاتوں میں لبنان کی صورت حال اور ایران کے روکے گئے پیسوں پر بھی بات ہوئی۔ قطری حکام اور ان کے مرکزی بینک کے ساتھ ملاقاتوں میں ایران کے منجمد اثاثوں میں سے شروعاتی چھ ارب ڈالر کے ایک حصے کو استعمال کرنے کا طریقہ بھی طے پایا ہے، جس کے تحت ایران کی ضرورت کی چیزیں خرید کر اسے دی جائیں گی۔ دوسری طرف ایران کے اندر اس بات چیت پر ہونے والی بحث کا جواب دیتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے حکومت کو مذاکرات سے نہیں روکا، اگر انہوں نے ایسا کوئی حکم دیا ہوتا تو ہم یقیناً اس پر عمل کرتے۔ ادھر امریکی صدر نے بھی مثبت اشارہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت ٹھیک سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور ایران کی ایٹمی صلاحیت کے خاتمے سے متعلق ہونے والی پیش رفت حوصلہ افزا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق، اس پورے معاملے کا اصل مقصد آبنائے ہرمز کے سمندری راستے کو بحری جہازوں کے لیے دوبارہ پوری طرح کھولنا اور دونوں ملکوں میں جنگ کے بعد پیدا ہونے والے تناؤ کو ختم کرنا ہے۔ اس بات چیت میں ایران کا سارا دھیان سمندری راستے کے انتظام اور اپنے چھ ارب ڈالر واپس لینے پر رہا،جبکہ امریکا کا مقصد دنیا بھر کے تجارتی اور تیل کے جہازوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے اس راستے سے گزارنا ہے۔ اگرچہ یہ مذاکرات ابھی آمنے سامنے بیٹھ کر نہیں ہوئے بلکہ پاکستان اور قطر کے ذریعے پیغامات پہنچا کر کیے گئے ہیں، لیکن اس سے علاقے میں امن کی ایک بڑی امید پیدا ہو گئی ہے۔ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد پانچ بنیادی شقوں کی تکمیل سے مشروط ہے۔ ان کے مطابق ان نکات پر پیش رفت کے بغیر معاہدہ مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکتا۔ سی این این کے مطابق ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے شق نمبر 1، 4، 5، 10 اور 11 پر پیش رفت ناگزیر ہے۔ باقر قالیباف کے مطابق پہلی شق کے تحت امریکا اور ایران نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں مستقل طور پر ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اگرچہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑی عسکری کارروائیاں رک چکی ہیں، تاہم لبنان میں کشیدگی برقرار ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ حتمی معاہدے کے لیے اسرائیل کو لبنان سے مکمل انخلا کرنا ہوگا، جب کہ اسرائیل حزب اللہ کو غیر مسلح کیے بغیر انخلا سے انکار کر رہا ہے۔ چوتھی شق کے مطابق امریکا ایران پر عائد بحری پابندیاں ختم کرے گا، جب کہ ایران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرے گا۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے بحری ناکا بندی ختم کر دی ہے، تاہم اس کے جنگی جہاز اب بھی خطے میں موجود ہیں۔ دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے اجازت نامہ لازمی قرار دے رکھا ہے، جس کے باعث بحری ٹریفک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔ پانچویں شق کے تحت ایران نے 60 روز تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے کوئی ٹرانزٹ فیس وصول نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اگرچہ ایران نے اب تک کسی قسم کی فیس عائد نہیں کی، تاہم رضاکارانہ ادائیگیوں کے امکان پر بات چیت جاری ہے۔ معاہدے کے مطابق 60 روز کی مدت کے دوران کسی نئی فیس کا اطلاق نہیں ہوگا۔ معاہدے کی دسویں شق کے تحت امریکا نے ایرانی تیل، پیٹروکیمیکل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی برآمد کے لیے 60 روزہ رعایت جاری کر دی ہے، جس سے ایران کو امریکی ڈالر میں فروخت کی اجازت مل گئی ہے۔ گیارہویں شق کے تحت امریکا نے ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی دینے کا وعدہ کیا ہے، تاہم اس معاملے پر اب بھی ابہام برقرار ہے۔ باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ 24 ارب ڈالر میں سے 12 ارب ڈالر ایران کو فراہم کیے جائیں گے، جب کہ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران کی جانب سے معاہدے کی شرائط پوری کیے بغیر منجمد فنڈز جاری نہیں کیے جائیں گے۔ قطر کی وزارت خارجہ نے بھی کہا ہے کہ ان فنڈز کی منتقلی امریکا اور ایران کے درمیان حتمی اتفاق رائے سے مشروط ہے۔ دوسری جانب قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے دوحہ میں امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت، لبنان کی صورتِ حال اور وہاں جنگ بندی کو مستحکم بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا اہم دور 11 جولائی 2026 کو اسلام آباد، پاکستان میں متوقع ہے۔مذاکرات کے اس راؤنڈ کا اصل مقصد حال ہی میں طے پانے والے تاریخی اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کے فریم ورک کو آگے بڑھانا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت دونوں فریقین کو جامع امن معاہدے کے لیے 60 دن کا وقت دیا گیا ہے۔ اس تنقیدی بیٹھک میں ایران کے ایٹمی پروگرام اور یورینیم کی افزودگی کے معاملات۔عالمی پابندیاں اور اثاثے: تہران پر عائد امریکی و عالمی پابندیاں ہٹانا اور دنیا بھر میں منجمد ایرانی فنڈز کی بحالی۔علاقائی سلامتی: آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت اور لبنان میں جنگ بندی کو برقرار رکھناہے۔اسلام آباد امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات کی بحالی سفارتی عمل کو ٹریک پر رکھنے اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔دریں اثنا، تکنیکی بات چیت کے لیے دو ممکنہ مقامات اسلام آباد اور سوئٹزرلینڈ میں برگن اسٹاک ریزورٹ ہیں ,تاہم، اسلام آباد زیادہ ممکنہ آپشن ہے۔ قطر میں ہونے والے حالیہ بالواسطہ تکنیکی مذاکرات کے بعد اگلا مرحلہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال اور ان کی کثیر الروزہ سرکاری آخری رسومات کی وجہ سے عارضی طور پر موخر ہوا۔ ایرانی حکام کے مطابق، تدفین کے مراحل مکمل ہونے کے بعد تہران اپنے نئے وفد کی حتمی تشکیل کا باضابطہ اعلان کرے گا پاکستان اور قطر اس پورے عمل میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندلابی نے بھی اپنے حالیہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ دوحہ میں ہونے والی پیش رفت انتہائی مثبت رہی ہے اور مستقبل کے مذاکرات کے لیے اسلام آباد کے آپشن کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ حال ہی میں دوہا میں ہونے والے غیر مستقیم تکنیکی مذاکرات کے بعد اب اسلام آباد کو اگلے براہ راست اور تکنیکی دور کے لیے سب سے مضبوط مقام قرار دیا جا رہا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ان مذاکرات کا بنیادی مقصد دو ہفتے قبل طے پانے والے تاریخی اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کے فریم ورک کو آگے بڑھانا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت دونوں فریقین کو جامع امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے 60 دن کا وقت دیا گیا ہے۔ اگرچہ عرب میڈیا نے 11 جولائی کی تاریخ کا دعویٰ کیا ہے، تاہم امریکہ، ایران یا پاکستانی حکومت کی طرف سے سیکیورٹی اور وفود کی حتمی تیاریوں کے باعث تاحال اس کا باضابطہ مشترکہ اعلان ہونا باقی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X