اسلام آباد (اردو ٹائمز) کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے 105 سال — ترقی، استحکام اور مشترکہ مستقبل کا سفر
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) یکم جولائی 2026 کو کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) اپنے قیام کی 105ویں سالگرہ منا رہی ہے۔ یہ محض ایک سیاسی جماعت کی سالگرہ نہیں بلکہ ایک ایسے تاریخی سفر کی یادگار ہے جس نے ایک صدی کے دوران چین کو معاشی، سائنسی، صنعتی اور سفارتی میدان میں دنیا کی صفِ اول کی طاقتوں میں شامل کر دیا۔ 1921 میں شنگھائی کے ایک محدود اجتماع سے شروع ہونے والا یہ سفر آج ایک ایسی جماعت تک پہنچ چکا ہے جس کے دس کروڑ سے زائد ارکان ہیں اور جو دنیا کی دوسری بڑی معیشت کی رہنمائی کر رہی ہے۔ اس عرصے میں چین نے غلامی، داخلی انتشار، غربت اور معاشی پسماندگی سے نکل کر ترقی، خود انحصاری اور جدیدیت کی نئی مثالیں قائم کی ہیں۔
گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں صدر شی جن پنگ کی قیادت نے اس سفر کو نئی توانائی، واضح سمت اور طویل المدتی وژن فراہم کیا ہے۔ انہوں نے “چینی قوم کی عظیم نشاۃ ثانیہ” یا چائنیز ڈریم کا تصور پیش کیا، جس کا مقصد صرف اقتصادی ترقی حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا جدید، خوشحال، باوقار اور ہم آہنگ معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں ترقی کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی قیادت میں چین نے تیز رفتار ترقی کے ساتھ ساتھ معیاری ترقی، عوامی فلاح، سائنسی تحقیق، ماحولیات کے تحفظ، سماجی استحکام اور جدید حکمرانی کو یکساں اہمیت دی۔
چین کی حالیہ تاریخ کا سب سے نمایاں کارنامہ غربت کے خلاف وہ وسیع مہم ہے جس کے نتیجے میں کروڑوں افراد کو انتہائی غربت سے نکالا گیا۔ دور افتادہ دیہات میں بنیادی سہولیات، سڑکیں، بجلی، صاف پانی، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے۔ یہ اقدام نہ صرف چین کی داخلی ترقی کا سنگِ میل ہے بلکہ دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک اہم مثال بھی ہے کہ مضبوط سیاسی عزم، مؤثر منصوبہ بندی اور مسلسل عمل درآمد کے ذریعے بڑے سماجی مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
صدر شی جن پنگ نے یہ بھی واضح کیا کہ مستقبل کی معیشت علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی پر استوار ہوگی۔ اسی سوچ کے تحت مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق، کوانٹم ٹیکنالوجی، جدید مواصلات، الیکٹرک گاڑیوں، قابلِ تجدید توانائی، سیمی کنڈکٹرز اور جدید صنعتوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی۔ آج چین نہ صرف دنیا کا ایک بڑا صنعتی مرکز ہے بلکہ اختراع، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔
بدعنوانی کے خلاف بھرپور مہم بھی صدر شی جن پنگ کی قیادت کا ایک اہم پہلو رہی ہے۔ سرکاری اداروں میں شفافیت، احتساب، نظم و ضبط اور قانون کی بالادستی کو مضبوط بنانے کے لیے وسیع اصلاحات متعارف کرائی گئیں۔ ایک مضبوط اور جوابدہ انتظامی ڈھانچہ کسی بھی ریاست کی ترقی کی بنیاد ہوتا ہے، اور چین نے اس سمت میں مسلسل پیش رفت کی ہے۔
ماحولیاتی تحفظ کو بھی چین نے قومی ترقی کے ایجنڈے کا اہم حصہ بنایا ہے۔ صاف توانائی، شمسی اور ہوائی بجلی، جنگلات کی بحالی، ماحول دوست صنعتوں اور کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے چین نے دنیا میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی آج پوری انسانیت کے لیے ایک مشترکہ چیلنج ہے، اور اس تناظر میں چین کی کوششیں عالمی مباحثے کا اہم حصہ بن چکی ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر صدر شی جن پنگ کی قیادت میں 2013 میں پیش کیا جانے والا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) عالمی رابطوں اور اقتصادی تعاون کی ایک اہم کاوش بن چکا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے ایشیا، افریقہ، یورپ اور دیگر خطوں میں بنیادی ڈھانچے، تجارت، توانائی، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے وسیع منصوبے شروع کیے گئے۔ اگرچہ مختلف ممالک اس اقدام کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں، تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے علاقائی روابط، اقتصادی تعاون اور ترقی کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔
پاکستان کے لیے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 105ویں سالگرہ خصوصی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ پاکستان اور چین کے تعلقات وقت کی ہر آزمائش پر پورے اترے ہیں۔ دونوں ممالک کی دوستی باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر استوار ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)، جو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا ایک نمایاں منصوبہ ہے، پاکستان میں توانائی، شاہراہوں، بنیادی ڈھانچے، صنعت اور علاقائی روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ پاکستان اور چین کی اسٹریٹجک شراکت داری نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے بھی اہم حیثیت رکھتی ہے۔
آج کی دنیا کو اقتصادی غیر یقینی صورتحال، موسمیاتی تبدیلی، تکنیکی انقلاب اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی جیسے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے ماحول میں طویل المدتی منصوبہ بندی، قومی استحکام، سائنسی تحقیق، عوامی خدمت اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ چین کا ترقیاتی سفر اپنے مخصوص قومی حالات اور طرزِ حکمرانی کے تناظر میں آگے بڑھا ہے، تاہم غربت کے خاتمے، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور مستقبل کی منصوبہ بندی جیسے کئی پہلو ایسے ہیں جن سے دنیا کے مختلف ممالک سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 105ویں سالگرہ اس امر کی یاد دہانی بھی ہے کہ قومی ترقی محض معاشی اعدادوشمار کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے مضبوط ادارے، عوامی فلاح، تعلیم، تحقیق، نظم و ضبط، دور اندیش قیادت اور قومی یکجہتی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ گزشتہ ایک صدی میں چین نے جس استقامت، منصوبہ بندی اور مسلسل اصلاحات کے ذریعے اپنی منزل کا تعین کیا ہے، وہ عالمی تاریخ کا ایک منفرد باب ہے۔
پاکستان کے عوام اس موقع پر عوامی جمہوریہ چین، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت اور چینی عوام کو 105ویں یومِ تاسیس کی دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ پاکستان اور چین کی لازوال دوستی، باہمی اعتماد اور ہر موسم کی اسٹریٹجک شراکت داری آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ فروغ پاتی رہے اور دونوں ممالک امن، ترقی، خوشحالی اور مشترکہ مستقبل کی تعمیر میں ایک دوسرے کے قابلِ اعتماد شراکت دار رہیں۔

