اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیراعظم پاکستان کا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت مذاکرات پراظہاراطمینان
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیراعظم شہباز شریف نے “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کے تحت امریکہ اور ایران کے مابین ہونے والے پہلے اعلیٰ سطح اجلاس کی کامیابی پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا ہے, انہوں نے ان مذاکرات کو مثبت، تعمیری اور حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔
وزیراعظم پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کے تحت امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات کا پہلا دور کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گیا ہے۔ مزید یہ کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان آج منگل 23 جون کو ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے، جہاں وہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتوں کے دوران دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتِ حال اور باہمی تعاون کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ دورے کے دوران وہ پاکستانی حکام کے ساتھ مشاورت اور اہم علاقائی و دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ دورے کے ایجنڈے میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات خاص اہمیت رکھتی ہے، جس کے دوران ایرانی صدر ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت میں پاکستان کی ثالثی اور سہولت کاری کے کردار پر اظہارِ تشکر کریں گے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر پزشکیان کے دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطوں کا تسلسل برقرار رکھنا، جاری تعاون کو مزید آگے بڑھانا اور پہلے سے طے شدہ اقتصادی معاہدوں پر پیش رفت کا جائزہ لینا بھی ہے۔ دونوں ممالک کی قیادت تجارت، سرمایہ کاری، سرحدی تعاون اور علاقائی استحکام سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ پر بھی بات چیت کرے گی۔ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمت کے بعد یہ ایرانی صدر کا پہلا غیر ملکی دورۂ ہوگا۔ ایرانی صدر کے دورۂ پاکستان سے قبل سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات ہوئے جہاں بات چیت کا پہلا دور کامیابی سے پورا ہوا۔ جس میں امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کے بڑے لیڈروں نے بات چیت کی اور خطے میں جاری کشیدگی اور لڑائی کو ختم کرنے کے لیے کئی بڑے فیصلے کیے ۔
سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت تفریحی مقام برگن اسٹاک میں ہونے والے صلح صفائی کے اس تاریخی عمل میں پاکستان اور قطر نے ثالث کا اہم کردار ادا کیا ہے، جس کی کامیابی پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے گہرے اطمینان کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں اس امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے امریکا اور ایران کی قیادت کی سنجیدگی کو سراہا اور سوئس حکومت سمیت تمام دوست ملکوں کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر وزیراعظم نے خاص طور پر آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ”ان کی لگن، عزم اور استقامت واقعی قابلِ تعریف ہیں جن کے بغیر اس عمل میں کوئی پیش رفت ممکن نہیں تھی۔“
انہوں نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، دفترِ خارجہ کی ٹیم اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی سفارتی و سیاسی محنت کی بھی دل کھول کر تعریف کی۔
مذاکرات کے اس پہلے مرحلے میں امریکا اور ایران کے درمیان اگلے ساٹھ دنوں کے اندر ایک حتمی امن معاہدہ طے کرنے کے لیے ایک باقاعدہ نقشہ یعنی روڈ میپ منظور کر لیا گیا ہے۔
اس پورے عمل کی سیاسی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی گئی ہے، جس کے ماتحت کام کرنے والے خصوصی گروپس ایران کے ایٹمی پروگرام اور اس پر لگی امریکی اقتصادی پابندیوں جیسے بڑے اور پیچیدہ مسائل کا حل نکالیں گے۔
ان گروپس کے بڑے مذاکرات کار باقاعدگی سے اپنی رپورٹیں اس اعلیٰ کمیٹی کو پیش کریں گے تاکہ پرانے تنازعات کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔
خطے میں جاری کشیدگی اور سمندری تجارت کو محفوظ بنانے کے لیے بھی دونوں ملکوں کے درمیان بڑے فیصلے ہوئے ہیں۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کے پرامن راستے کو یقینی بنانے اور کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا حادثے سے بچنے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان ایک براہِ راست رابطہ لائن قائم کر دی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ہی، لبنان میں فوجی کارروائیوں اور جنگ کو مکمل طور پر روکنے کے لیے ایک خاص ڈی کنفلیکشن سیل یعنی امن کمیٹی بنانے پر بھی اتفاق ہوا ہے تاکہ وہاں امن و امان کی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔
دوسری طرف، ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ان مذاکرات کے نتائج پر بات کرتے ہوئے الگ سے ایک بڑا دعویٰ کیا ہے کہ لبنان میں جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک بہت بڑی پیش رفت ہو چکی ہے۔
انہوں نے ایران کو ملنے والے بڑے معاشی فائدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ”امریکا نے ایران کے تیل کی برآمدات پر لگی سخت پابندیاں ہٹا دی ہیں اور دنیا بھر میں روکے گئے ایران کے کچھ منجمد اثاثے اور اربوں روپے کے فنڈز بھی بحال کر دیے گئے ہیں۔مزید بتایا کہ اس بڑی کامیابی کے بعد اب ایران کی تعمیرِ نو اور ترقی کے لیے ایک بہت بڑے منصوبے کا آغاز بھی کیا جائے گا۔ اگرچہ کچھ باریک بین اور تکنیکی باتوں پر بحث کا عمل اب بھی جاری ہے، لیکن پاکستان اور قطر نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اس تعمیری ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ خطے میں مستقل امن قائم ہو سکے۔سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات کے بعد پاکستان اور قطر نے مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق، مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا پہلا دور کامیابی سے پورا ہو گیا ہے۔اس اجلاس کو ’لیک لوسرن سمٹ‘ کا نام دیا گیا تھا، جس میں امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کے بڑے لیڈروں نے بات چیت کی اور خطے میں جاری کشیدگی اور لڑائی کو ختم کرنے کے لیے کئی بڑے فیصلے کیے۔ یہ ساری بات چیت مثبت اور اچھے ماحول میں ہوئی، جس کے بعد آگے کے معاملات کو سلجھانے کے لیے راستے کھل گئے۔اس بیٹھک کے بعد پاکستان اور قطر کی طرف سے جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں بتایا گیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے لیے ایک بہت بڑی اور اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائے جائے گی۔ یہ کمیٹی دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی صلح صفائی کے کام پر نظر رکھے گی۔اعلامیے کے مطابق، اس کمیٹی کے تحت الگ سے چھوٹے گروپس بھی بنائے جائیں گے جو ایران کے ایٹمی پروگرام، اس پر لگی ہوئی اقتصادی پابندیوں اور آپس کے جھگڑوں کو ختم کرنے کے لیے دن رات کام کریں گے، اور ان گروپس کے بڑے افسران باقاعدگی سے اس اعلیٰ سطح کی کمیٹی کو اپنی رپورٹس پیش کریں گے۔ اس اجلاس میں سب سے بڑا فیصلہ یہ ہوا کہ کمیٹی نے اگلے ساٹھ دنوں کے اندر امن معاہدہ مکمل کرنے کا ایک پورا نقشہ یعنی روڈ میپ منظور کر لیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت باریک تکنیکی باتوں پر مزید بات چیت کا عمل فوری طور پر شروع کر دیا جائے گا۔
اس کے ساتھ ہی ایک اور بڑا فیصلہ سمندری راستے کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کو کسی بھی قسم کے خطرے یا نقصان سے بچانے کے لیے اور آپس کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے ایک خاص اور سیدھی رابطہ لائن قائم کی جائے گی تاکہ سمندر میں تجارتی جہاز بغیر کسی ڈر کے امن سے گزر سکیں۔
اس کے علاوہ، لبنان میں جاری جنگ کو مستقل طور پر روکنے کے لیے بھی ایک بہت بڑا قدم اٹھایا گیا ہے۔
مشترکہ بیان کے مطابق، مذاکرات میں شامل تمام فریقین نے لبنان کی حکومت کے ساتھ مل کر ایک خاص ڈی کنفلیکشن سیل یعنی امن کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا ہے، جس کی دیکھ بھال صلح کرانے والے ملک یعنی پاکستان اور قطر کریں گے۔
اس کمیٹی کا اصل کام یہ یقینی بنانا ہوگا کہ لبنان میں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا لڑائی دوبارہ شروع نہ ہو اور وہاں مکمل امن قائم رہے۔
اس سلسلے میں مزید گہرائی سے ہونے والی تکنیکی بات چیت ہفتے کے باقی تمام دنوں میں بھی اسی بر گن اسٹاک ریزورٹ میں لگاتار جاری رہے گی۔ اس موقع پر صلح کرانے والے دونوں ملکوں، پاکستان اور قطر نے امریکا اور ایران کی حکومتوں کا دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ”ہم امریکا اور ایران کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے لڑائی کے پرامن حل اور سفارت کاری کے لیے اپنی مسلسل سنجیدگی اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔“ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ان تمام برادر اور دوست ملکوں کی کوششوں کو بھی بہت سراہا جو اس امن عمل کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی قیمتی مدد اور تعاون فراہم کر رہے ہیں۔ پاکستان اور قطر نے اس بات کا پکا عزم دہرایا ہے کہ وہ اس بات چیت کے ماحول کو اچھا رکھنے کے لیے اپنی طرف سے آخری حد تک کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ ساٹھ دنوں کے اندر ایک حتمی اور پکا معاہدہ دنیا کے سامنے آ سکے۔ اس بڑی کامیابی پر بات کرتے ہوئے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ”پاکستان کی ثالثی اور صلح صفائی کی کوششوں کی وجہ سے لبنان کی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک بہت بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔“ ایرانی وزیرِ خارجہ نے اپنے ملک کو ملنے والے فائدے کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ ”ایران کے لیے تیل اور کیمیکل کی مصنوعات باہر کے ملکوں کو بیچنے پر لگی ہوئی پرانی پابندیاں اب ختم کر دی گئی ہیں، ہمارے راستے کی ناکہ بندی اٹھا لی گئی ہے اور دنیا بھر میں روکے گئے ایران کے کچھ پیسے اور اثاثے بھی بحال کر دیے گئے ہیں۔“ پاکستان اور قطر کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ صلح کرانے والے تمام دوست ملک اس بات چیت کے ماحول کو اچھا اور کامیاب بنانے کے لیے اپنی کوششیں مسلسل جاری رکھیں گے۔ یہ اہم اور باریک بین تکنیکی مذاکرات سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک ریزورٹ میں اسی طرح جاری رہیں گے تاکہ ساٹھ دنوں کے اندر دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان ایک حتمی معاہدہ ہو سکے جس سے پورے خطے میں امن اور سکون آ سکے۔ خیال رہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے تناظر میں ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کے لیے 60 روزہ عمومی لائسنس جاری کر دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی پیش رفت کے بعد کیا گیا۔امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق ایک عمومی لائسنس جاری کیا ہے جس کے تحت 21 اگست تک ایرانی خام تیل، پیٹرولیم اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں جاری تعمیری مذاکرات کے نتیجے میں ایران نے آبنائے ہرمز میں آزاد اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت برقرار رکھنے اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے انسپکٹرز کو اپنے ملک میں داخلے کی اجازت دینے کا عزم کیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکا دنیا کو زیادہ محفوظ اور خوش حال بنانے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق مذاکراتی فریم ورک کے تحت محکمہ خزانہ نے 60 روزہ عارضی عمومی لائسنس جاری کیا ہے، جس کے ذریعے ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔یہ پیش رفت سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے ایران اور امریکا کے مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے۔ دونوں فریقوں نے مذاکرات کے دوران کشیدگی میں کمی، آبنائے ہرمز میں آزاد بحری آمدورفت، آئی اے ای اے انسپکٹرز کی ایران واپسی اور مستقبل کے جامع معاہدے کے لیے فریم ورک پر اتفاق کیا تھا۔ ایران سے مذاکرات کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ فریقین کے درمیان ”بہت اچھی پیش رفت“ ہوئی ہے اور حتمی معاہدے کے لیے مضبوط بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ ان کے مطابق عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے انسپکٹرز جلد ایران جا کر ابتدائی معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کریں گے، جب کہ ایران کے منجمد اثاثوں اور اقتصادی تعاون سے متعلق امور پر بھی بات چیت جاری ہے۔ جے ڈی وینس کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 78.71 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جب کہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ آئل کی قیمت 74.69 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی ہے۔ یا د رہے کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں پاکستان اور قطر کی میزبانی میں ایران اور امریکا کے درمیان اہم مذاکرات منعقد ہوئے۔ اس اجلاس کو ’لیک لوسرن سمٹ‘ کا نام دیا گیا، جس میں امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کے اعلیٰ سطحی نمائندوں نے شرکت کی۔ مذاکرات میں خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے مختلف امور پر بات چیت کی گئی، جو مجموعی طور پر مثبت اور خوش گوار ماحول میں ہوئی۔ مذاکرات کے بعد پاکستان اور قطر کی جانب سے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت بات چیت کا پہلا دور کامیابی سے مکمل ہوا ہے
اس پیش رفت پر وزیراعظم شہباز شریف نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کو سراہا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں امریکا اور ایران کی قیادت کی سنجیدگی کو قابلِ تعریف قرار دیا

