لاہور (اردو ٹائمز) الغازی ٹریکٹرز لمیٹڈ کی پاکستان ایگریکلچرل کولیشن میں شمولیت، زرعی شعبے کے فروغ کے لیے تعاون مضبوط بنانے کا اعلان زرعی شعبے کو جدید، پیداواری اور عالمی معیار کے مطابق بنانے کے لیے نجی شعبے کے کردار پر زور
Share
لاہور، 18جون 2026 (اردو ٹائمز):پاکستان میں زرعی مشینری تیار کرنے والی کمپنی الغازی ٹریکٹرز لمیٹڈ (اے جی ٹی ایل)نے پاکستان ایگریکلچرل کولیشن (پی اے سی) میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ اس شراکت داری کو ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے ذریعے باضابطہ شکل دی گئی، جس کے تحت الغازی ٹریکٹرز ملک کے اہم کاروباری اور مالیاتی اداروں پر مشتمل اس اتحاد کا حصہ بن گیا ہے۔یہ اتحاد پاکستان کے زرعی شعبے ، ٹیکنالوجی کے استعمال، کاروباری جدت اور عالمی مسابقت کے اصولوں پر استوار کرنے کے لیے کام کرے گا۔
یہ شراکت داری الغازی ٹریکٹرز کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ قومی سطح پر زرعی ترقی کے ایجنڈے میں فعال کردار ادا کرتے ہوئے حکومت، صنعت اور ترقیاتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ پی اے سی کے ساتھ شمولیت کے ذریعے کمپنی اپنے عملی تجربے اور کسان برادری کے ساتھ مضبوط تعلق کو مشترکہ قومی کوشش کا حصہ بنا رہی ہے، جس کا مقصد زرعی شعبے کو مزید مضبوط اور خود کفیل بنانا ہے۔
زراعت پاکستانی معشیت میں ریڑ ھ کی ہڈی کی مانند ہے اور لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ اس شراکت داری کے ذریعے الغازی ٹریکٹرز زرعی پیداوار میں اضافے، میکانائزیشن کے فروغ اور کسانوں کی خوشحالی کے لیے جاری کوششوں میں معاونت کرے گی، جو ملک کے غذائی تحفظ اور دیہی ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ ہے۔
اس موقع پر الغازی ٹریکٹرز لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر یاسین سیکر کا کہنا تھا کہ”چار دہائیوں سے زائد عرصے سے الغازی ٹریکٹرز پاکستان کے کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ پاکستان ایگریکلچرل کولیشن میں شمولیت ہمارے تجربے کو ایک وسیع تر قومی کاوش میں شامل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ پاکستان کی زراعت کا مستقبل جدیدیت، ٹیکنالوجی اور نجی و سرکاری شعبے کے درمیان مضبوط تعاون سے وابستہ ہے، اور ہمیں اس ادارے کے ساتھ کام کرنے پر فخر ہے جو انہی مقاصد کے لیے سرگرم عمل ہے۔”

پاکستان ایگریکلچرل کولیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کاظم سعید نے اس موقع پر کہا، ہم الغازی ٹریکٹرز کو پی اے سی میں خوش آمدید کہتے ہیں۔یہ ایک ایسی کمپنی کی شمولیت جوکسان برادری کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہے، ہمارے اس مقصد کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ ہم زرعی شعبے کے لیے قابلِ عمل اور تجارتی طور پر مؤثر حل اور وسعت دے سکیں۔ یہ شمولیت پاکستان کی زراعت میں دیرپا بہتری کے لیے نجی شعبے کے کردار کو مزید تقویت دیتی ہے۔”

