اسلام آباد (اردو ٹائمز) محرم الحرام مذہبی ہم آہنگی، رواداری اور اخوت کے پیغام کےفروغ کا مہینہ
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) محرم الحرام کے دوران مذہبی ہم آہنگی، رواداری اور اخوت کے پیغام کو فروغ دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے, محرم الحرام اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ ہے، جو رواداری، بھائی چارے اور بین المسالک ہم آہنگی کا درس دیتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اختلافِ رائے کے باوجود ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کیسے کیا جائے۔موجودہ دور میں محرم کے دوران رواداری قائم رکھنے کے لیے درج ذیل امور اہم ہیں:
1۔ بین المسالک ہم آہنگی ;
عقائد کا احترام: تمام مکاتبِ فکر کے جذبات اور مقدسات کا احترام کرنا۔
مشترکہ اقدار: شہدائے کربلا کی قربانیوں کو ظلم کے خلاف ایک عالمگیر پیغام کے طور پر دیکھنا۔
امن کمیٹیوں کا کردار:
مقامی سطح پر علماء کرام کا مل کر بیٹھنا اور امن برقرار رکھنا۔
2۔ سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال نفرت انگیز مواد کا خاتمہ: ایسی کسی بھی پوسٹ یا ویڈیو کو شیئر نہ کرنا جس سے دل آزاری ہو۔
مثبت پیغام رسانی:
محرم کے اصل پیغام یعنی عدل، انصاف اور صبر کو فروغ دینا۔3۔ انتظامی اور سماجی تعاونمواخات کا جذبہ:
مجالس اور جلوسوں کے راستوں میں پانی، سبیلوں اور لنگر کا اہتمام کرنا، جس میں ہر مکتبِ فکر کے لوگ شامل ہوں۔سیکیورٹی میں مدد:
قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مقامی رضاکاروں کے ساتھ تعاون کرنا۔
محرم الحرام کے دوران امن و امان، بین المسالک ہم آہنگی اور فرقہ وارانہ رواداری کو یقینی بنانے کے لیے علماء کا ضابطہ اخلاق، حکومتی اقدامات اور تاریخی پس منظر انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان تینوں پہلوؤں کی تفصیل درج ذیل ہے:
علماء کا مشترکہ ضابطہ اخلاق ;
پیغامِ پاکستان ,پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر (دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ) کے جید علماء اور مشائخ نے “پیغامِ پاکستان” کے تحت محرم کے لیے ایک متفقہ ضابطہ اخلاق منظور کیا ہے، جس کے اہم نکات یہ ہیں:
تکفیر پر پابندی: کسی بھی مسلک یا فرد کو ‘کافر’ یا ‘واجب القتل’ قرار دینے کی سخت ممانعت ہے۔ تکفیر کا اختیار صرف ریاست اور عدالتوں کے پاس ہے۔
مقدسات کا احترام:
انبیاء کرامؑ، اہل بیت اطہار عظامؓ، امہات المؤمنینؓ، خلفائے راشدینؓ اور صحابہ کرامؓ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی یا نازیبا کلمات کی سخت ممانعت ہے۔
مذہبی آزادی:
تمام مکاتبِ فکر کو اپنے عقائد کے مطابق پرامن مجالس اور جلوسوں کے انعقاد کی مکمل آزادی ہے، لیکن طاقت کے زور پر اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کرنے کی اجازت نہیں۔
سوشل میڈیا پر کڑی نظر:
منبر و محراب کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر بھی نفرت انگیز تقاریر یا اشتعال انگیز مواد پھیلانے پر مکمل پابندی ہے۔
حکومتی اور انتظامی اقدامات;
حکومتِ پاکستان، وزارتِ مذہبی امور اور قانون نافذ کرنے والے ادارے محرم الحرام کے دوران امن برقرار رکھنے کے لیے ہر سال جامع حکمت عملی ترتیب دیتے ہیں:
سیکیورٹی پلان اور کمانڈ سنٹرز: حساس اضلاع اور جلوس کے راستوں پر سی سی ٹی وی (CCTV) کیمروں کی مدد سے مانیٹرنگ کی جاتی ہے اور رینجرز یا فوج کو الرٹ رکھا جاتا ہے۔
لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کا نفاذ:
اذان اور خطبہ جمعہ کے علاوہ لاؤڈ اسپیکر کے بیرونی استعمال پر پابندی ہوتی ہے تاکہ اشتعال انگیزی کا سدِباب ہو سکے۔
موبائل سروسز کی معطلی: نویں اور دسویں محرم کو سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر مخصوص اوقات اور حساس مقامات پر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز جزوی طور پر بند کی جاتی ہیں۔امن کمیٹیوں ,کاروانِ امن کا قیام:
ضلعی سطح پر پولیس اور تمام مسالک کے علماء پر مشتمل “امن کمیٹیاں” بنائی جاتی ہیں جو کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری طور پر مقامی سطح پر معاملہ حل کرتی ہیں حضرت امام حسین علیہ السلام کی ذاتِ مبارکہ اور ان کا اسوہ حسنہ پوری کائنات کے لیے شجاعت، ایثار اور رواداری کا سب سے بڑا نمونہ ہے۔
میدانِ کربلا کی تاریخ کا یہ روشن باب ہے کہ جب حر بن یزید ریاحی کا لشکر پیاس سے نڈھال ہو کر پہنچا، تو حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے خیموں کا تمام ذخیرہ پانی دشمن کے سپاہیوں اور ان کے گھوڑوں کو پلانے کا حکم دیا۔
یہ جنگی حالات میں بھی اعلیٰ ترین رواداری اور انسانیت کا ثبوت ہے۔اصول پسندی اور امن کی ترجیح: آپؑ نے آخری وقت تک جنگ سے گریز کیا اور مذاکرات کے ذریعے معاملے کو پرامن رکھنے کی کوشش کی، تاکہ انسانی جانوں کا ضیاع نہ ہو۔
ظلم کے خلاف عالمگیر پیغام حق کا علم بلند کرنا:
حضرت امام حسین علیہ السلام کی قربانی کسی مخصوص فرقے، نسل یا خطے کے لیے نہیں تھی، بلکہ انہوں نے انسانی حقوق، آزادی اور سچائی کی بقا کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
غیر مسلموں کا خراجِ تحسین: آپؑ کی فکر سے متاثر ہو کر ہر دور میں غیر مسلم مفکرین (جیسے نیلسن منڈیلا، مہاتما گاندھی اور چارلس ڈکنز) نے اعتراف کیا کہ امام حسینؑ نے مظلوموں کو ظالم کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ دیا۔
تمام مسالک اور مکاتبِ فکر حضرت امام حسین علیہ السلام اور اہل بیت اطہار عظامؓ سے یکساں محبت و عقیدت رکھتے ہیں۔رواداری کا سرچشمہ:
موجودہ دور میں آپؑ کا نام اور ذکر ہمیں فرقہ واریت کی دیواریں گرا کر باہمی احترام، محبت اور اتحاد کے ساتھ رہنے کا درس دیتا ہے۔
محرم الحرام اور سانحہ کربلا (61 ہجری / 680ء) کا تاریخی پس منظر خالصتاً حق و باطل کا معرکہ تھا، جس کا مقصد اسلام کی حقیقی روح اور انسانی اقدار کا تحفظ تھا:
پاک و ہند کی تاریخ میں محرم الحرام کا مہینہ ہمیشہ سے مشترکہ احترام کا مظہر رہا ہے۔ تاریخی طور پر غیر مسلم (ہندو، سکھ) بھی امام حسین علیہ السلام کی قربانی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تعزیہ داری اور لنگر و سبیلوں کا اہتمام کرتے رہے ہیں،
جسے “حسینی برہمن” کی تاریخ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی ملکی تاریخ میں جب بھی ملک کو فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنے کی کوشش کی گئی، تو جید اکابرین نے مل کر ہمیشہ اتحادِ امت کی بات کی اور محرم کو رواداری کا مہینہ بنانے پر زور دیا۔
محرم کا مہینہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ قربانیِ امام حسین علیہ السلام کسی ایک مکتبِ فکر کے لیے نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے ظلم کے خلاف صبر، استقامت اور امن کا عالمگیر پیغام ہے۔یہ یاد رکھیں کہ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف محرم الحرام بالخصوص یومِ عاشور کے موقع پر ہر سال قوم اور امتِ مسلمہ کے نام خصوصی پیغامات جاری کرتے ہیں۔ قیادت کے پیغامات کا بنیادی مقصد محرم کے جذبے کی روشنی میں بین المسالک ہم آہنگی اور ظلم کے خلاف اتحاد کو فروغ دینا ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا پیغام
قربانی کا درس: واقعہ کربلا کو صبر، وفا اور عظیم قربانی کی بے مثال داستان قرار دیا جو حق گوئی اور عزمِ صمیم کا راستہ دکھاتی ہے۔
اتحاد و یگانگت: فرقہ واریت اور انتشار سے بالاتر ہو کر متحد ہونے پر زور دیا۔
مشترکہ سرمایہ: حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی قربانی کو امتِ مسلمہ کا مشترکہ سرمایہ اور حق کا روشن چراغ قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام ;
اصولوں پر سمجھوتہ نہیں: حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی حق و انصاف کے لیے قربانی کو باطل کے سامنے سر نہ جھکانے کا عظیم درس قرار دیا۔
قومی یکجہتی: موجودہ ملکی چیلنجز (معاشی و سماجی) کے تناظر میں دیانت داری، رواداری اور ایثار کو اپنانے پر زور دیا۔
مظلومین کے لیے دعا:
ملکی امن و استحکام کے ساتھ ساتھ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے خصوصی دعا کی۔ اس دوران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پاکستانی قوم اور امتِ مسلمہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ نیا ہجری سال پاکستان اور عالمِ اسلام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کا سال ثابت ہو۔
محرم الحرام ہمیں صبر، قربانی، حق اور باطل کے درمیان فرق کی پہچان کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ اور ان کے جاں نثار رفقاء نے ظلم و جبر اور ناانصافی کے خلاف جس استقامت، صبر اور قربانی کا مظاہرہ کیا، وہ قیامت تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ کربلا کا پیغام مسلمانوں تک محدود نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے برائی کے خلاف جدوجہد اور سچائی کے قیام کا درس ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام حسینؑ کی عظیم قربانی نے ہمیں درس دیا ہے کہ حق کے لیے ڈٹ جانا ہی حقیقی کامیابی ہے۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ نیا اسلامی سال ہمیں اپنے انفرادی اور اجتماعی طرزِ عمل کا جائزہ لینے اور معاشرے میں اخوت، رواداری، برداشت اور اتحاد کو فروغ دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محرم الحرام کے دوران ملک بھر کے علماء کرام، مشائخ اور مذہبی رہنما ہمیشہ امن، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ میں قابلِ قدر کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان کی کاوشیں قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے اور ہم آہنگی کے قیام میں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے علماء و مشائخ سے اپیل کی کہ وہ اپنے مثبت کردار کو مزید مؤثر بناتے ہوئے اتحادِ امت، برداشت اور امن کے پیغام کو عام کریں۔ انہوں کہا کہ آج کا دن ہمیں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں وطنِ عزیز پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کرنے کے عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا۔
اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کشمیر اور فلسطین کے مظلوم عوام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے کشمیری اور فلسطینی بھائی آج بھی ظلم و بربریت اور ناانصافی کا سامنا کر رہے ہیں۔ محرم الحرام ہمیں درس دیتا ہے کہ ہم حق و انصاف کا ساتھ دیں، مظلوموں کی حمایت کریں اور ظلم کے خلاف آواز بلند کریں۔ پاکستان نے ہمیشہ مظلوموں کا ساتھ دیا ہے اور آئندہ بھی ہر سطح پر مظلوموں کی حمایت جاری رکھے گا۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ عصر حاضر کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے اور امت مسلمہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اسوہ حسینی پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت قوم، ہمیں فرقہ واریت، نفرت، عدم برداشت اور تشدد سے بچتے ہوئے اتحاد، یکجہتی، اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہوگا۔ اسپیکر نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران مذہبی ہم آہنگی، رواداری اور اخوت کے پیغام کو فروغ دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو امام حسینؑ کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، اور وطن عزیز کو امن، ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے۔ اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ نے اسلامی سالِ نو 1448 ہجری کے آغاز پر پاکستان کی عوام اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ماہِ محرم الحرام قربانی، صبر، استقامت اور حق و انصاف کے لیے ثابت قدمی جیسے اعلیٰ اصولوں کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے نواسۂ رسول ﷺ حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بے مثال قربانی ظلم و جبر کے خلاف ڈٹ جانے اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے استقامت کی لازوال مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیا اسلامی سال ہمیں خود احتسابی اور معاشرے میں اتحاد، رواداری اور باہمی احترام کے فروغ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ قومی ترقی اور استحکام کے لیے قومی یکجہتی، احترام اور قانون کی بالادستی ناگزیر ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ نیا اسلامی سال پاکستان سمیت پوری امتِ مسلمہ کے لیے امن، خوشحالی اور ترقی کا سال ثابت ہو,

