اسلام آباد (اردو ٹائمز) عوام دوست بجٹ ;معاشی استحکام سے ترقی کا سفر
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) وفاقی بجٹ 2026-27 کا بنیادی محور معاشی استحکام سے پائیدار اقتصادی ترقی اور عوامی خوشحالی کی جانب کامیاب منتقلی ہے. وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت اور وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی تیار کردہ حکمتِ عملی کے تحت پیش کردہ 18,771 ارب روپے کا یہ بجٹ ملکی تاریخ میں معاشی نمو، روزگار کی فراہمی اور پیداواری شعبوں کی بحالی کے لیے سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے.وفاقی بجٹ 2026-27 کے اہم خدوخال اور ترجیحات;
وفاقی حکومت نے دستیاب مالیاتی گنجائش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عام آدمی، کسان، کاروباری برادری اور نوجوانوں کے لیے درج ذیل اقدامات متعارف کروائے ہیں:تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف:سالانہ 32 سے 41 لاکھ روپے تک کی آمدنی پر ٹیکس کی شرح کو کم کر کے 25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے.سالانہ 41 سے 56 لاکھ روپے تک کمانے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 29 فیصد تجویز کی گئی ہے.ملازمین کے بوجھ کو کم کرنے اور ریلیف کی منصفانہ فراہمی کے لیے ٹیکس سلیبس کو ازسرِنو متوازن کیا گیا ہے.زرعی شعبے کی بحالی اور مراعات:مجموعی زرعی قرضوں کا حجم بڑھا کر 2,000 ارب روپے سے زائد کر دیا گیا ہے.چھوٹے کسانوں کے لیے خصوصی “زرخیزی سکیم” کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے تحت زمین یا گھر گروی رکھے بغیر آسان قرضے ملیں گے.”وزیراعظم یوتھ ایگریکلچر لون پروگرام” کے لیے 262 ارب روپے مختص ہیں، جس میں سے 125 ارب روپے براہِ راست زراعت کے لیے مخصوص ہیں.زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے کسانوں کو ریلیف دیتے ہوئے کمبائن ہارویسٹرز اور دیگر ویلیو ایڈڈ زرعی مشینری کی درآمد پر تمام کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹیز ختم کر دی گئی ہیں.کاروبار، ہاؤسنگ اور آئی ٹی کا فروغ:آئی ٹی کی برآمدات کو 4 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کے لیے فری لانسرز اور ڈیجیٹل انڈسٹری کو بھرپور معاونت فراہم کی جا رہی ہے.تعمیراتی شعبے (ہاؤسنگ سیکٹر) کی بحالی اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ٹرانزیکشن ٹیکسز میں نمایاں کمی کی گئی ہے.تجارتی برادری کے لیے ٹیکس مراعات متعارف کرائی گئی ہیں تاکہ ملکی سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں کو تیز کیا جا سکے.ٹیکس نیٹ کی توسیع اور آٹومیشن:ایف بی آر (FBR) میں انسانی مداخلت اور بدعنوانی کو روکنے کے لیے اسے مکمل طور پر مصنوعی ذہانت (AI) اور آٹومیشن پر منتقل کیا جا رہا ہے.دستاویزی معیشت کو فروغ دینے اور ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے “ریٹیلر سکیم” کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے.🚀 معاشی استحکام سے ترقی کا سفر (تجزیہ)حکومتی دعووں کے مطابق، یہ بجٹ محض روایتی اعداد و شمار کا گورکھ دھندا نہیں بلکہ پاکستان کو معاشی طور پر خود انحصار بنانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے. پچھلے مالی سالوں میں حاصل کردہ میکرو اکانومک استحکام (جیسے افراطِ زر میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری) کو اب پائیدار معاشی ترقی (Growth) میں تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں. جہاں ایک طرف اپوزیشن جماعتیں بجٹ کی بعض تجاویز پر تنقید کر رہی ہیں، وہیں کاروباری حلقوں اور چیمبرز آف کامرس کی جانب سے بجٹ کے صنعتی اور تجارتی اقدامات کا مثبت خیرمقدم کیا گیا ہے وفاقی بجٹ 2026-27 کے اہم خدوخال اور ترجیحات;
وفاقی حکومت نے دستیاب مالیاتی گنجائش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عام آدمی، کسان، کاروباری برادری اور نوجوانوں کے لیے درج ذیل اقدامات متعارف کروائے ہیں:تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف:سالانہ 32 سے 41 لاکھ روپے تک کی آمدنی پر ٹیکس کی شرح کو کم کر کے 25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے.سالانہ 41 سے 56 لاکھ روپے تک کمانے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 29 فیصد تجویز کی گئی ہے.ملازمین کے بوجھ کو کم کرنے اور ریلیف کی منصفانہ فراہمی کے لیے ٹیکس سلیبس کو ازسرِنو متوازن کیا گیا ہے.زرعی شعبے کی بحالی اور مراعات:مجموعی زرعی قرضوں کا حجم بڑھا کر 2,000 ارب روپے سے زائد کر دیا گیا ہے.چھوٹے کسانوں کے لیے خصوصی “زرخیزی سکیم” کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے تحت زمین یا گھر گروی رکھے بغیر آسان قرضے ملیں گے.”وزیراعظم یوتھ ایگریکلچر لون پروگرام” کے لیے 262 ارب روپے مختص ہیں، جس میں سے 125 ارب روپے براہِ راست زراعت کے لیے مخصوص ہیں.زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے کسانوں کو ریلیف دیتے ہوئے کمبائن ہارویسٹرز اور دیگر ویلیو ایڈڈ زرعی مشینری کی درآمد پر تمام کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹیز ختم کر دی گئی ہیں.کاروبار، ہاؤسنگ اور آئی ٹی کا فروغ:آئی ٹی کی برآمدات کو 4 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کے لیے فری لانسرز اور ڈیجیٹل انڈسٹری کو بھرپور معاونت فراہم کی جا رہی ہے.تعمیراتی شعبے (ہاؤسنگ سیکٹر) کی بحالی اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ٹرانزیکشن ٹیکسز میں نمایاں کمی کی گئی ہے.تجارتی برادری کے لیے ٹیکس مراعات متعارف کرائی گئی ہیں تاکہ ملکی سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں کو تیز کیا جا سکے.ٹیکس نیٹ کی توسیع اور آٹومیشن:ایف بی آر (FBR) میں انسانی مداخلت اور بدعنوانی کو روکنے کے لیے اسے مکمل طور پر مصنوعی ذہانت (AI) اور آٹومیشن پر منتقل کیا جا رہا ہے.دستاویزی معیشت کو فروغ دینے اور ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے “ریٹیلر سکیم” کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے.🚀 معاشی استحکام سے ترقی کا سفر (تجزیہ)حکومتی دعووں کے مطابق، یہ بجٹ محض روایتی اعداد و شمار کا گورکھ دھندا نہیں بلکہ پاکستان کو معاشی طور پر خود انحصار بنانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے. پچھلے مالی سالوں میں حاصل کردہ میکرو اکانومک استحکام (جیسے افراطِ زر میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری) کو اب پائیدار معاشی ترقی (Growth) میں تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں. جہاں ایک طرف اپوزیشن جماعتیں بجٹ کی بعض تجاویز پر تنقید کر رہی ہیں، وہیں کاروباری حلقوں اور چیمبرز آف کامرس کی جانب سے بجٹ کے صنعتی اور تجارتی اقدامات کا مثبت خیرمقدم کیا گیا ہے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے جب کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8 ہزار 54 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جب کہ پنشن کی مد میں 1169 ارب روپے رکھے گئے ہیں، وفاقی حکومت کے سول اخراجات کے لیے 1071 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ہنگامی اور غیر متوقع صورت حال سے نمٹنے کے لیے 430 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ مجموعی جاری اخراجات کا حجم 17 ہزار 495 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے 1050 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ایف بی آر کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جب کہ وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5 ہزار 336 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج ختم اور ٹیکس میں ریلیف دینے کے لیے 4 سلیبز کی تجویز پیش کی ہے جب کہ حکومت نے آئندہ مالی سال سے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس شرح میں کمی کر دی ہے۔ 6 لاکھ سالانہ آمدن پر زیرو ٹیکس اور 12 لاکھ روپے آمدن پر ایک فیصد ٹیکس ہوگا، 12 لاکھ سے زائد اور 22 لاکھ روپے آمدن تک 11 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا، 22 لاکھ سے زائد اور 32 لاکھ روپے آمدن تک 20 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا، 32 لاکھ سے زائد اور 41 لاکھ روپے آمدن تک 25 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا، 41 لاکھ روپے سے زائد اور 56 لاکھ سالانہ آمدن پر 29 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا۔ 56 لاکھ روپے سے زائد اور 70 لاکھ سالانہ آمدن پر 32 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا جب کہ سالانہ 70 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر 35 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے، ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں بھی 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ تنخواہ دار طبقے کو ٹیکسوں میں ریلیف دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے نجکاری پروگرام کو وسعت دیتے ہوئے جینکوز، ڈسکوز، بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور ہوائی اڈوں کی نجکاری کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ تین ڈسکوز کی نجکاری کے لیے اظہارِ دلچسپی کے نوٹسز بھی جاری کر دیے گئے ہیں جب کہ نجکاری کے عمل کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔ وزیر خزانہ کے مطابق وفاقی حکومت کی خالص آمدن 11 ہزار 751 ارب روپے ہوگی جب کہ وفاقی محصولات میں صوبوں کا حصہ 8 ہزار 848 ارب روپے ہوگا، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے، بی آئی ایس پی کے لیے یہ رقم پچھلے سال کےمقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر کے لیے 146 ارب روپے، گلگت بلتستان کے لیے 88 ارب روپے اور خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے 95 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ ”اپنا گھر اسکیم“ کے لیے 71 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت مارک اپ کی شرح 19 فیصد سے کم کرکے 4.5 فیصد کردی گئی ہے تاکہ برآمد کنندگان کی لاگت میں کمی لائی جا سکے۔ وزیر خزانہ نے پراپرٹی سیکٹر کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے فائلرز کے لیے جائیداد کی خریداری اور فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کر دی ہے۔ بجٹ تجاویز کے مطابق فائلرز کے لیے جائیداد خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد جب کہ نان فائلرز کے لیے جائیداد کی فروخت پر ود ہولڈنگ ٹیکس 5.5 سے کم کرکے 2.75 فیصد کردیا گیا ہے۔ 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے منافع کمانے والی کمپنیوں پر عائد سپر ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے، 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن والی کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ دفاعی اخراجات کے لیے 3 ہزار ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ مزید بتایا کہ ریاستی ملکیتی اداروں کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے 451 ارب روپے شامل ہیں، وفاقی ترقیاتی پروگرام میں نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچہ کی ترقی کے لیے 365 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، بجلی اور دیگر شعبوں کی سبسڈی کے لیے 10 کھرب 91 ارب روپے رکھے ہیں۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ بجٹ میں کسانوں کے لیے 300 ارب کے قرضے، صنعت اور تجارت کے لیے 6.6 ارب روپے، صحت کے لیے 25.1 ارب روپے، اعلیٰ تعلیم کے لیے 46 ارب روپے اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے الگ سے 3.6 ارب روپے رکھے ہیں جب کہ دانش اسکولوں کے لیے 26.3 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ محمد اورنگزیب کے مطابق آئی ٹی شعبے کو ریلیف دیتے ہوئے آئندہ مالی سال کے لیے آئی ٹی برآمدات پر 0.25 فیصد رعایتی ٹیکس 2029 تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، برآمدات پر ایڈوانس انکم ٹیکس 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کردیا ہے۔حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں 2022 کے 15 فیصد اور 2025 کے 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام سے وفاقی ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں مستقل اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں مستقبل کی پنشن، سالانہ انکریمنٹس، ہاؤس رینٹ، کنوینس الاؤنس سمیت دیگر مالی مراعات میں بھی خاطر خواہ بہتری آئے گی۔ وفاقی سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے کہا ہے کہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کے تحت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ، 15 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس (DRA)، کنوینس الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ اور گزشتہ دو ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بجٹ کے بعد تنخواہوں سے متعلق پیکیج کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وفاقی ملازمین کو بنیادی تنخواہ پر 7 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مختلف سرکاری ملازمین کے درمیان تنخواہوں کے فرق کو کم کرنے کے لیے 15 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس بھی منظور کیا گیا ہے۔سیکرٹری خزانہ نے مزید کہا کہ بڑھتے ہوئے سفری اخراجات کے پیش نظر کنوینس الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا ہے تاکہ ملازمین کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔یہ وضاحت انہوں نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کے بعد ’’اے پی پی ‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے کی۔پریس کانفرنس سے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ ،وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزارت خزانہ کے سینئر حکام اور ایف بی آر کے چیئرمین نے بھی خطاب کیا۔امداد اللہ بوسال نے مزید بتایا کہ حکومت نے دو سابقہ ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کی منظوری دی ہے۔ ان میں 2022 میں دیا گیا 15 فیصد ایڈہاک ریلیف اور 2025 میں دیا گیا 10 فیصد ایڈہاک ریلیف شامل ہیں۔وفاقی بجٹ 2026-27 میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ملکی ترقیاتی منصوبوں کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ (Federal PSDP) کا حجم 1,000 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔مجموعی طور پر مالیاتی سال 2026-27 کا بجٹ جہاں ایک طرف آئی ایم ایف (IMF) کی شرائط کے تحت مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے، وہیں یہ ترقیاتی کاموں کی رفتار کو برقرار رکھنے کا عزم بھی ظاہر کرتا ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے دستیاب مالی گنجائش کو ترقی کے فروغ کے لیے استعمال کیا ہے اور یہ بجٹ معاشی ترقی کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اس بجٹ میں ہم نے برآمدات پر مبنی ترقی کے حصول کے لیے تمام سازگار عوامل کو شامل کرنے کی کوشش کی ہے، اس ضمن میں انہوں نے ایڈوانس ٹیکس اور سپر ٹیکس کے خاتمے کا حوالہ دیا۔ حکومت نے چھ آمدنی سلیبز میں سپر ٹیکس کے مکمل خاتمے کی تجویز دی۔ سالانہ 500 ملین روپے سے زائد آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی۔وزیر خزانہ نے علاقائی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور اس کے ملکی معیشت پر اثرات کے حوالے سے کہا کہ حکومت اب تک صورتحال کو مؤثر انداز میں سنبھالنے میں کامیاب رہی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ یہ تنازع جلد از جلد ختم ہو جائے گا۔ تاہم توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے اس کے اثرات آئندہ مالی سال تک جاری رہیں گے۔ چونکہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہے، اس لیے حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ٹیکس اہداف کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی توجہ نفاذ، تعمیل اور ریونیو لیکیج کو روکنے پر مرکوز ہے۔
سولر پینلز پر ٹیکس لگانے کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کبھی بھی ہمارے زیرِ غور نہیں تھا۔ حکومت کم از کم اجرت کے نفاذ کے لیے نجی شعبے کے ساتھ بات چیت کرے گی۔ حکومت نے ماہانہ کم از کم اجرت میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی ہے جس سے یہ 37,000 روپے سے بڑھ کر 40,700 روپے ہو جائے گی۔بیرونی جھٹکوں (ایکسوجینس شاکس) کے بارے میں بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ ان سے نمٹنے کا واحد طریقہ مالی ذخائر (بفرز) بنانا ہے، یہ ایک ذمہ دار حکومت کا کردار ہے۔ٹیرف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت پانچ سالہ منصوبے کے دوسرے سال میں ہے جس کا مقصد درمیانی اشیاء (انٹرمیڈیٹ گڈز) اور خام مال کی لاگت کو کم کرنا ہے۔یہ بھی ہماری برآمدی مسابقت کو بہتر بنانے کی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔ زرعی قرضوں اور مالی معاونت میں سالانہ تقریباً 15 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ اب 2 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکی ہےاس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ہم نے رواں مالی سال زرخیز اسکیم متعارف کرائی۔ یہ ایک نہایت اہم اقدام ہے۔ زرعی شعبے میں خاص طور پر چھوٹے کسانوں پر آڑھتیوں کے بڑھتے اثرورسوخ کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ بینک مناسب مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے آگے نہیں آرہے تھے۔ زرعی شعبہ مستقبل میں ہماری ترقیاتی حکمتِ عملی کے اہم ستونوں میں سے ایک رہے گا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت اشیاء کے تجارتی خسارے کو کم کرنے پر مسلسل توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے لیکن جیسے جیسے ہم آگے بڑھ رہے ہیں، خدمات (سروسز) کا شعبہ، خاص طور پر آئی ٹی سیکٹر زیادہ اہم ہوتا جارہا ہے۔مختلف آمدنی سلیبز پر انکم ٹیکس میں کمی کے حکومتی فیصلے کو خوب پذیرائی ملی ہے۔بجٹ تجاویز کے تحت سالانہ 2.2 ملین روپے سے 3.2 ملین روپے تک آمدنی حاصل کرنے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔بجٹ تجاویز کے مطابق 3.2 ملین سے 4.1 ملین روپے سالانہ آمدنی والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح 5.6 ملین سے 7 ملین روپے سالانہ کمانے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح کو 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ حکومت ٹیکس نظام کو خودکار بنانے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں اے آئی کا استعمال کیا جائے گا تاکہ انسانی مداخلت کو کم سے کم کیا جاسکے۔ انہوں نے اس بجٹ کو عوام دوست بجٹ قرار دیا۔ انہوں نے تنخواہ دار طبقے، صنعت کاروں، برآمد کنندگان اور تعمیراتی شعبے کے لیے کیے گئے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ معیشت کے تمام اہم ستونوں کو ریلیف فراہم کرے گا۔وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں موجودہ حکومت کا مالی سال 27-2026 کے لیے تیسرا بجٹ پیش کیا جس کا کل حجم 18,771 ارب روپے ہے۔ یہ رقم مالی سال 26-2025 کے نظرثانی شدہ بجٹ 15,642 ارب روپے کے مقابلے میں 8.33 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے
ایف بی آر کی کل آمدنی کا تخمینہ 15,264 ارب روپے لگایا گیا ہے جس میں سے 8,848 ارب روپے (57.5 فیصد) نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے تحت صوبوں کو منتقل کیے جائیں گے۔وفاقی حکومت کی نان ٹیکس آمدنی (بنیادی طور پر پیٹرولیم لیوی اور اسٹیٹ بینک کے منافع کے ذریعے) کا تخمینہ 5,336 ارب روپے لگایا گیا ہے۔اس کے بعد وفاقی حکومت کی خالص آمدن 11,751 ارب روپے ہوگی۔ اپنے اسٹریٹجک منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے وسائل میں اضافہ کرنے کی غرض سے وفاقی حکومت کو صوبائی حکومتوں پر انحصار کرنا پڑا ہے اور صوبوں نے بھی اس موقع پر کردار ادا کرتے ہوئے اپنی قابلِ تقسیم محاصل (ڈویزیبل پول) سے وصولیوں کو گزشتہ سال کی سطح پر منجمد رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
اس مقصد کے لیے صوبائی حکومتوں کو اپنے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرامز (ترقیاتی منصوبوں) میں کٹوتی کرنا ہوگی۔ تخمینہ ہے کہ صوبوں کی جانب سے یہ معاونت تقریباً 1,790 ارب روپے تک ہوگی جس سے مالی خسارہ 7,020 ارب روپے سے کم ہو کر 5,230 ارب روپے رہ جائے گا جو کہ جی ڈی پی کا 3.6 فیصد بنتا ہے۔معیشت کی شرحِ نمو کو جی ڈی پی کے 4 فیصد پر رکھا گیا ہے تاہم یہ ایک خاصا مشکوک تخمینہ ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کا دباؤ، اس کے نتیجے میں سپلائی چین میں رکاوٹیں اور ترقی یافتہ دنیا میں تجارت کے حوالے سے بڑھتا ہوا تحفظ پسندی کا رجحان اس پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔بجٹ تجاویز میں ٹیکس نیٹ کو بامعنی طور پر وسیع کرنے کی کوئی واضح کوشش نمایاں طور پر موجود نہیں ہے۔ تاجروں کے ساتھ مبینہ طور پر طے پانے والا معاہدہ، جس کے تحت انہیں ٹرن اوور کی بنیاد پر ٹیکس عائد کیا گیا ہے، ٹیکس کی مجموعی وصولی کے لحاظ سے نہ تو مؤثر ہے اور نہ ہی اس سے ٹیکس نیٹ میں کسی نمایاں وسعت کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے حکومت کو چاہیے کہ پہلے سے موجود شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹ ایکٹ پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائے جس کے تحت ہر تاجر کے لیے اپنی دکان یا کاروبار کی رجسٹریشن کرانا لازمی ہو اور وہ اپنی رجسٹریشن کو اپنے کاروباری مراکز میں نمایاں طور پر آویزاں کریں۔ اس سے حکومت کو ایک ایسا ڈیٹا بیس حاصل ہوگا جو ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور تعمیل کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
بجٹ کے لیے رہنما اصولوں کو اس طرح بیان کیا گیا ہے: 1) نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 کے ذریعے اسٹریٹجک ٹیرف کی تنظیمِ نو؛ 2)تجارتی عمل کو آسان بنانا، تجارت میں سہولت کاری اور نظام کی مجموعی کارکردگی میں اضافہ کرنا؛ اور 3) ہدف شدہ عوامی صحت میں ریلیف اور اہم شعبوں کے لیے معاشی تحریک (اسٹیمولس)۔
مذکورہ رہنما اصولوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے، 92 ٹیرف لائنز پر مختلف صنعتی شعبوں کے لیے خام مال پر موجودہ کسٹمز ڈیوٹیز کی تمام سلیبوں میں 5 فیصد کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ تقریباً 700 ٹیرف لائنز پر اضافی کسٹمز ڈیوٹیز میں 2 فیصد کمی کی گئی ہے جبکہ ریگولیٹری ڈیوٹی کے نظام کو 1700 سے زائد ٹیرف لائنز تک کم کر دیا گیا ہے۔غیر ملکی غیر منقولہ اور منقولہ اثاثوں کی ملکیت پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس کا خاتمہ ایک خوش آئند قدم ہے کیونکہ یہ سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا تھا اور حکومت کی جانب سے مختلف ٹیکس ایمنسٹی اسکیموں کے تحت دیے گئے واضح وعدوں کی بھی خلاف ورزی تھی۔وفاقی آئینی عدالت کے اس فیصلے کی تعمیل میں جس میں غیر منقولہ جائیداد سے سمجھی گئی آمدنی پر ٹیکس (ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 7E) کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا، مذکورہ ٹیکس ختم کردیا گیا ہے۔ اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا اس کالعدم قانون کے تحت پہلے سے جمع شدہ ٹیکس کو واپس کیا جائے گا یا اسے ٹیکس دہندگان کی مستقبل کی ٹیکس ذمہ داریوں میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔
500 ملین روپے تک کی آمدنی والے افراد پر سے سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ اس سے زائد آمدنی پر ٹیکس کی شرح میں کمی کی گئی ہے۔اسی طرح برآمدی آمدنی اور آئی ٹی و آئی ٹی سے منسلک خدمات پر عائد ٹیکس میں بھی کمی کی گئی ہے۔ غیر ملکی ادائیگیوں پر کارڈ کے ذریعے 5 فیصد ٹیکس عائد تھا جسے اب کم کر کے 0.5 فیصد کر دیا گیا ہے کیونکہ یہ دیکھا گیا تھا کہ ایسی ادائیگیاں کرنے کے لیے غیر سرکاری ذرائع کا استعمال کیا جا رہا تھا۔بزنس کلاس کے فضائی ٹکٹوں پر عائد 200,000 روپے کی بھاری فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی واپس لے لی گئی ہے۔رواں سال کی ایک نمایاں خصوصیت ترسیلاتِ زر میں غیر معمولی اضافہ ہے جو پہلے ہی 40ارب ڈالر کی حد کو عبور کر چکی ہیں۔ خلیجی ممالک میں جہاں بڑی تعداد میں پاکستانی تارکینِ وطن مقیم ہیں وہاں کے غیر مستحکم حالات کا اس میں واضح کردار ہے، کیونکہ ان میں سے کئی افراد اپنے نقد اثاثے وہاں سے منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر حکومت بغیر کسی سوال کے رقوم جمع کروانے کی قابلِ قبول حد کو دوبارہ دس ملین روپے تک بحال کر دے جسے کم کر کے پانچ ملین روپے سالانہ کر دیا گیا تھا، تو اس سے تارکینِ وطن کی بہت مدد ہوگی۔ترسیلاتِ زر نے یقیناً ملک کو شدید بیرونی دباؤ سے بچنے کا موقع فراہم کیا ہے، تاہم ترسیلاتِ زر برآمدی آمدنی کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں کیونکہ یہ کھپت کو تو بڑھاتی ہیں لیکن برآمدی تبدیلی کے لیے براہِ راست صنعتی صلاحیت پیدا نہیں کرتیں، جو کہ حکومت کا بیان کردہ ہدف ہے اور اگر ہمیں کبھی بھی جڑواں خساروں کے چکر سے نکلنا ہے تو یہ ہدف بالکل درست ہونا چاہیے۔
یہ دلیل کافی معقول ہے کہ صنعتی معیشتوں میں کرنسی کی قدر میں کمی عام طور پر برآمدات کو فروغ دیتی ہے تاہم پاکستان میں ہمارے درآمدی متبادل کے صنعتی ماڈل کی وجہ سے یہ صرف قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات اور صنعتی خام مال کی لاگت میں اضافہ کرتی ہے۔معیشت کو کئی وجوہات کی بنا پر اپنے موجودہ چیلنجوں کا سامنا رہے گا جن میں آبادی میں تیزی سے اضافہ، تعلیم اور صحت کے لیے ناکافی مختص کردہ بجٹ، ہر سال جاب مارکیٹ میں داخل ہونے والے لاکھوں افراد کے لیے روزگار کے مواقع کا فقدان اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شامل ہے۔اس حقیقت پر جتنا بھی زور دیا جائے کم ہے کہ حکومت کا قرضوں پر بھاری انحصار افراطِ زر (مہنگائی) کو ہوا دیتا ہے اور مرکزی بینک کو پالیسی ریٹ بڑھانے پر مجبور کرتا ہے جو بدلے میں حکومت کے لیے قرضوں کی ادائیگی کے بوجھ میں مزید اضافہ کردیتا ہے، تاہم کسی بھی ملک کی لچک کا انحصار اس کے معاشی بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی پر ہوتا ہے جس میں صنعتی صلاحیت، برآمدی مسابقت، لاجسٹکس انفرااسٹرکچر اور مالیاتی استعداد شامل ہیں۔ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے حال ہی میں کیے گئے ایک مطالعے کے مطابق، پاکستان کمزور صنعتی صلاحیتوں اور انتہائی ناکافی مالیاتی گنجائش کے باعث ایسی دیگر معیشتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ معاشی دباؤ کا شکار ہے جن میں مہنگائی کی شرح یکساں ہے۔

