LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) حکومت اور پیپلز پارٹی کا بجٹ تجاویز پر اتفاق

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کو جون 2026 کے وسط میں پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔
وفاقی حکومت اور اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی بیشتر تجاویز پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے۔ ایوانِ صدر میں صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کی موجودگی میں ہونے والی اہم بیٹھک میں پیپلز پارٹی نے حکومت کو بجٹ کی منظوری کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے۔ملاقات کی اہم تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:
بجٹ تجاویز پر اتفاق: دونوں فریقین نے ایک دوسرے کی بجٹ سازی سے متعلق زیادہ تر معاشی تجاویز پر اتفاق کا اظہار کیا ہے۔تکنیکی کمیٹیوں کا قیام: بعض اہم اور قابلِ عمل نکات پر تفصیلی کام کے لیے دونوں جماعتوں کی تکنیکی کمیٹیاں مزید مشاورت جاری رکھیں گی۔
وسائل اور مسائل کا توازن: طے پایا ہے کہ ملکی معاشی صورتحال، دستیاب وسائل اور درپیش مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں فریق ایک دوسرے کے لیے گنجائش پیدا کریں گے۔
صدرِ مملکت کی عوامی فلاح کو ترجیح:
صدر آصف علی زرداری نے تاکید کی کہ وفاقی بجٹ میں عوامی فلاح، صوبوں کے حقوق اور معاشی استحکام کو اولین ترجیح دی جائے۔

ہم آہنگی پر زور: صدر مملکت نے اقتصادی ترقی کی شرح اور عوامی فلاحی منصوبوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزراء اور وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ حکام شامل تھے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سید نوید قمر، شیری رحمان اور سلیم مانڈوی والا شریک ہوئے۔اس بیٹھک کے بعد بجٹ کی تیاری اور اس کی پارلیمنٹ سے منظوری کا عمل ہموار ہونے کی توقع ہے، جبکہ سیاسی و معاشی امور بشمول گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات پر بھی اس ملاقات میں تبادلہ خیال کیا گیا۔
پہلے بجٹ 10 جون کو پیش ہونا تھا، تاہم تازہ ترین معلوماتی پیش رفت کے مطابق اب اسے 12 جون 2026 کو پیش کیے جانے پر مشاورت جاری ہے۔
اکنامک سروے: وفاقی بجٹ سے قبل 9 جون 2026 کو پاکستان کا معاشی سروے پیش کیا جائے گا۔
پنجاب کا بجٹ: صوبائی وزیرِ خزانہ کے مطابق پنجاب کا بجٹ 16 جون 2026 کو پیش کیا جائے گا۔
معاشی اہداف اور بجٹ کا حجمکل حجم: نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم تقریباً 17.1 کھرب (17.1 Trillion) روپے متوقع ہے۔
ٹیکس ہدف: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف ریکارڈ 15.3 کھرب روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے۔
ترقیاتی بجٹ (PSDP): وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے 1126 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، جو گزشتہ سال سے 289 ارب روپے زیادہ ہے۔
شرحِ نمو اور مہنگائی: نئے بجٹ میں اقتصادی ترقی (GDP Growth) کا ہدف 4.1 فیصد اور اوسط مہنگائی کا ہدف 8.4 فیصد مانا جا رہا ہے۔
ڈالر کا ریٹ: بجٹ کی بنیادی دستاویزات اور تخمینے 290 روپے فی ڈالر کے ریٹ پر تیار کیے جا رہے ہیں۔
عوام اور تنخواہ دار طبقے کے لیے تجاویزتنخواہوں میں اضافہ: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 سے 15 فیصد تک اضافے کی تجویز زیرِ غور ہے۔
ٹیکس ریلیف: تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے نئے انکم ٹیکس سلیب متعارف کرانے کی تجویز ہے، جس کے لیے آئی ایم ایف (IMF) کی حتمی منظوری کا انتظار ہے۔
نئے ٹیکسز اور دیگر شعبےسولر اور ای وی (EV): توانائی اور ماحول دوست اقدامات کے تحت سولر پینلز اور الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کیے جانے کا امکان ہے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی : آئی ٹی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے پاکستان آئی ٹی ایسوسی ایشن کی جانب سے ٹیکس چھوٹ کو مزید بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے۔یہ بجٹ مکمل طور پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کی شرائط اور ملکی معاشی استحکام کو سامنے رکھ کر تیار کیا جا رہا ہے۔
بجٹ میں برآمدات میں اضافے کیلئے ایکسپورٹرز کو ریلیف دینے کی تجویز ہے، نئے بجٹ میں ایکسپورٹررز پر ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

میک اپ سامان پر ڈیوٹی 44 فیصد سے کم کرکے 40 فیصد کی جا سکتی ہے۔ درآمدی میک اپ کے سامان پر ڈیوٹی میں 4 فیصد کمی کی سفارش کی گئی ہے۔ بیوٹی پارلر، ہیلتھ فٹنس اور کلینک کے درآمدی سامان مشینری پر ٹیکس ریلیف متوقع ہے۔

درآمدی سن بلاک، سن اسکرین، شیونگ کریم، آفٹر شیو، لوشن سستا ہونے کا امکان ہے، بچوں کے فارمولا دودھ، کیچ اپ، گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی پر پرچون قیمت پرنٹ ہوگی۔ اشیائے خورونوش پر سیلز ٹیکس وصولی کیلئے پرچون قیمت پرنٹ لازمی قرار دیدی گئی ہے۔

پیٹرولیم پر کلائمیٹ لیوی میں اضافے اورخیبر پختونخوا کے ضم اضلاع کیلئے ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات پر کلائمیٹ لیوی 2.5 روپے سے بڑھا کر 5 روپے لیٹر کرنے کی تجویز ہے۔بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کیلئے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جو رواں مالی سال کے مقابلے میں صرف ایک ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔ دوسری جانب وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ترقیاتی منصوبوں کیلئے 36 ارب روپے ملنے کی تجویز دی گئی ہے۔

دستاویزات کے مطابق وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ میں دانش اسکولوں کیلئے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے 3 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کیلئے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے 2 ارب 61 کروڑ روپے بھی سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔بجٹ دستاویزات کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 3 نئے منصوبوں کیلئے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن رقم مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ 41 ارب روپے سے زائد رقم کمیشن کے 135 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔
وفاقی وزارتِ تعلیم کے 2 نئے منصوبوں میں ڈیجیٹل لرننگ اور رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبے شامل ہیں، جن کیلئے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزارتِ تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی، جبکہ مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی ترقیاتی پروگرام میں پاور ڈویژن کے 48 منصوبوں کے لیے 91 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے،جن میں 45 جاری اور 3 نئے منصوبے شامل ہیں۔

دستاویزات کےمطابق جاری منصوبوں کےلیے 86 ارب روپےجبکہ نئےمنصوبوں کے لیے 4 ارب روپے سے زائد فنڈز رکھنےکی تجویزدی گئی،قومی گرڈسسٹم کی توسیع اوربجلی کی ترسیل و تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کے متعدد منصوبے بھی ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہیں۔

500 کے وی لاہور نارتھ گرڈ اسٹیشن منصوبے کے لیے 70 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ این ٹی ڈی سی ٹرانسمیشن سسٹم اپ گریڈیشن کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

دستاویز کےمطابق داسو ہائیڈرو پاورمنصوبے کےلیے 10 ارب 80 کروڑ روپےمختص کرنےکی تجویز ہے، جبکہ سُکھی کناری ہائیڈرو پاورمنصوبےکی ٹرانسمیشن لائن کےلیے 3 ارب روپےتجویزکیےگئےہیں،مہمند ڈیم سےپیداہونےوالی بجلی قومی گرڈتک پہنچانے کے منصوبے کے لیے 3 ارب 90 کروڑ روپے رکھنےکی سفارش کی گئی ہے۔

ملتان الیکٹرک پاورکمپنی کےڈسٹری بیوشن سسٹم کی بہتری کے لیے 3 ارب روپےمختص کرنے کی تجویز دی گئی،جبکہ بجلی کےترسیلی نظام کی اپ گریڈیشن کے لیے 2 ارب 41 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

اسلام آبادویسٹ گرڈاسٹیشن کی تعمیر کےلیے 9 ارب 32 کروڑروپےسےزائد مختص کرنےکی تجویز سامنے آئی ہے،اسی طرح سندھ کے 10 اضلاع میں پاورڈسٹری بیوشن سسٹم کی بہتری کے لیے 2 ارب 91 کروڑ روپےاورپاورکنزمپشن ڈیوائسزکی تنصیب کےلیے 3 ارب روپے سےزائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سےسب سےزیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہونے کے باوجود نئے وفاقی بجٹ میں کلائمیٹ چینج سےنمٹنے کے لیےکوئی نیا منصوبہ شامل نہیں کیاگیا،جبکہ تین جاری منصوبوں کیلئے بھی برائے نام فنڈزمختص کیےگئےہیں۔

آئندہ مالی سال کےلیےکلائمیٹ چینج ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات سامنےآگئی ہیں،جن کے تحت صرف 2 ارب 78 کروڑ 40 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں،جو پہلے سے جاری منصوبوں پر خرچ ہوں گے۔

دستاویز کےمطابق ماحولیاتی تبدیلی ڈویژن کےجاری منصوبوں کی مجموعی لاگت 123 ارب 51 کروڑ روپے ہے،جن میں سے 30 جون 2026 تک بمشکل 35 ارب روپے خرچ ہونے کی توقع ہے۔

گزشتہ سال اس شعبےکےلیے 2 ارب 30 کروڑروپےمختص کیےگئےتھے،تاہم رواں سال بھی فنڈنگ میں خاطرخواہ اضافہ نہیں کیاگیا،گرین پاکستان پروگرام کےلیے 2 ارب 49 کروڑ 70 لاکھ روپےمختص کرنے کی تجویزدی گئی ہے،جبکہ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 122 ارب 14 کروڑ روپے ہے۔

دستاویز کےمطابق وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی کی تکنیکی استعدادبڑھانے کے لیے 29 کروڑ روپےسےزائد رقم رکھی گئی ہے،جبکہ پائیدارترقی اہداف کےتحت گرین اسکلزمنصوبے کے لیے صرف 16 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کو ہر سال سیلاب،ہیٹ ویوز اور دیگر قدرتی آفات کا سامنا رہتا ہے، اس کے باوجود ماحولیاتی تحفظ کے لیے جامع منصوبہ بندی اور نئی سرمایہ کاری سامنے نہیں آ سکی۔

یاد رہےکہ گزشتہ سال سیلاب کے دوران 1000 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے،تاہم ماہرین کے مطابق ارلی وارننگ سسٹم اور مون سون پلان پر عملدرآمد تاخیر کا شکار ہے۔بجٹ میں پاور ڈویژن کے ترقیاتی پروگرام کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن کے مطابق 48 منصوبوں کیلئے مجموعی طور پر 91 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق پہلے سے جاری 45 ترقیاتی منصوبوں کیلئے 86 ارب روپے جبکہ 3 نئے منصوبوں کیلئے صرف 4 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

دستاویزات میں قومی گرڈ نظام کی توسیع اور بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے متعدد منصوبوں کیلئے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

500 کے وی لاہور نارتھ گرڈ اسٹیشن منصوبے کیلئے 70 کروڑ روپے جبکہ این ٹی ڈی سی کے ٹرانسمیشن سسٹم کی اپ گریڈیشن کیلئے 3 ارب روپے مختص کرنے کا پلان تجویز کیا گیا ہے۔

داسو ہائیڈرو پاور منصوبے سے پیدا ہونے والی بجلی کے انخلا کیلئے 10 ارب 80 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ سوکی کناری ہائیڈرو پاور منصوبے کی ٹرانسمیشن لائنوں کیلئے 3 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

اسی طرح مہمند ڈیم سے بجلی کو قومی گرڈ میں شامل کرنے کیلئے ترسیلی نظام پر 3 ارب 90 کروڑ روپے خرچ کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق میپکو کے بجلی تقسیم کے نظام میں بہتری کیلئے 3 ارب روپے، جبکہ بجلی کے ترسیلی نظام کی اپ گریڈیشن کیلئے 2 ارب 41 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسلام آباد ویسٹ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کیلئے 9 ارب 32 کروڑ روپے سے زائد رقم رکھنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
مزید برآں سندھ کے 10 اضلاع میں بجلی کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے 2 ارب 91 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ بجلی کے استعمال کی نگرانی اور بہتری کیلئے پاور کنزمپشن ڈیوائسز کی تنصیب پر 3 ارب روپے سے زائد خرچ کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں بجلی کی ترسیل، تقسیم اور قومی گرڈ کے استحکام سے متعلق منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ملک میں ایک کروڑ سے زائد گھروں کی کمی اور سالانہ 10 لاکھ نئے ہاؤسنگ یونٹس کی ضرورت کے باوجود آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس پاکستان کے ترقیاتی فنڈز میں نمایاں کمی کی تجویز سامنے آئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 کی دستاویزات کے مطابق وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے صرف 4 ارب 82 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ رواں مالی سال میں یہی رقم 13 ارب 44 کروڑ روپے تھی۔ اس طرح ترقیاتی فنڈز میں 8 ارب 62 کروڑ روپے سے زائد کمی تجویز کی گئی ہے۔

ملک بھر میں ہاؤسنگ یونٹس کی کمی ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ سالانہ کم از کم 10 لاکھ نئے گھروں کی ضرورت بتائی جاتی ہے، تاہم محدود فنڈنگ کے باعث بحران میں کمی کے امکانات مزید محدود ہو گئے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق وزارت ہاؤسنگ کے جاری منصوبوں کی مجموعی لاگت 40 ارب روپے سے زائد ہے، جبکہ کم فنڈز کے باعث کئی منصوبوں کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ترقیاتی ترجیحات کا بڑا حصہ کراچی کے شہری انفراسٹرکچر کی طرف جاتا دکھائی دیتا ہے۔ کراچی کے گرین لائن بی آر ٹی منصوبے کیلئے تقریباً 1 ارب 98 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جو تمام منصوبوں میں سب سے بڑی ایلوکیشن ہے۔

اسی طرح اورنگی ٹاؤن، ناظم آباد اور لیاقت آباد میں سڑکوں، واٹر سپلائی، سیوریج اور پارکس کی بہتری کیلئے 1 ارب 10 کروڑ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

حیدرآباد اور میرپورخاص ڈویژن میں انفراسٹرکچر اور پانی کی فراہمی کے منصوبوں کیلئے بھی کروڑوں روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ شہری سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔ مزید برآں مانسہرہ میں سائرن ندی پر دو بڑے پلوں کی تعمیر کیلئے 68 کروڑ روپے سے زائد رکھنے کی تجویز بھی ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہے۔آئندہ مالی سال کے لیے آبی وسائل کے ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ وزارت آبی وسائل نےمجموعی طور پر 969 ارب روپے کےفنڈزکی ضرورت ظاہرکی تھی، تاہم حکومت کی جانب سےصرف 179 ارب روپے مختص کرنےکی تجویزدی گئی ہے،جسےماہرین “اونٹ کےمنہ میں زیرہ” قرار دےرہے ہیں۔

دستاویزات کےمطابق آئندہ سال کےترقیاتی بجٹ میں 41 جاری منصوبےشامل ہیں جبکہ صرف ایک نیا منصوبہ شامل کیاگیا،جودیامر بھاشا ڈیم سےبجلی کی پیداوارکی سہولت سےمتعلق ہے،اس منصوبے کے لیے 50 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دستاویزات کےمطابق دیامربھاشا ڈیم بجلی جنریشن فیسلیٹی کیلئے 50 کروڑ روپے،،ڈیم کیلئے 25 ارب روپے،زمین کے حصول کیلئے 7 ارب مختص کرنے کی تجویز ہے،جبکہ داسو ہائیڈرو منصوبے کےلیےآئندہ بجٹ میں 25 ارب مختص کرنے کی تجویز ہے۔ آئندہ بجٹ میں مہمند ڈیم کے لیے 39 ارب روپے،مختص کرنےاوروارسک ہائیڈرو پاور اسٹیشن کی مرمت پر 4 ارب 28 کروڑ روپےخرچ ہوں گے،کچھی کینال منصوبےکیلئے 50کروڑ،کراچی گریٹر واٹر سپلائی کیلئے 13 ارب تجویز ہے۔ اس کےعلاوہ دریائےسندھ پرٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب کیلئے 5 ارب 76 کروڑ رکھنے کی تجویز ہے، جبکہ منگلا ڈیم توسیع منصوبے کے لیے 4 ارب 59 کروڑ روپے،تربیلا پانچویں توسیع منصوبے کے لیے 3 ارب 40 کروڑ مختص کرنے کی تجویز ہے،جبکہ داسو منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 1737 ارب روپےسے زائد ہے،دیامربھاشاڈیم کاتخمینہ 479ارب روپے،پاورہاؤس کی لاگت 174ارب روپے ہے،مہمند ڈیم کی لاگت کا ابتدائی تخمینہ 309 ارب روپے ہے۔بجٹ میں برآمدات میں اضافے کیلئے ایکسپورٹرز کو ریلیف دینے کی تجویز ہے، نئے بجٹ میں ایکسپورٹررز پر ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

میک اپ سامان پر ڈیوٹی 44 فیصد سے کم کرکے 40 فیصد کی جا سکتی ہے۔ درآمدی میک اپ کے سامان پر ڈیوٹی میں 4 فیصد کمی کی سفارش کی گئی ہے۔ بیوٹی پارلر، ہیلتھ فٹنس اور کلینک کے درآمدی سامان مشینری پر ٹیکس ریلیف متوقع ہے۔

درآمدی سن بلاک، سن اسکرین، شیونگ کریم، آفٹر شیو، لوشن سستا ہونے کا امکان ہے، بچوں کے فارمولا دودھ، کیچ اپ، گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی پر پرچون قیمت پرنٹ ہوگی۔ اشیائے خورونوش پر سیلز ٹیکس وصولی کیلئے پرچون قیمت پرنٹ لازمی قرار دیدی گئی ہے۔ پیٹرولیم پر کلائمیٹ لیوی میں اضافے اورخیبر پختونخوا کے ضم اضلاع کیلئے ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات پر کلائمیٹ لیوی 2.5 روپے سے بڑھا کر 5 روپے لیٹر کرنے کی تجویز ہے۔نئے مالی سال کیلئے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ترقیاتی بجٹ میں صرف ایک نیا منصوبہ متعارف کرایا گیا ہے۔ بجٹ میں تجویز کئے ڈیڑھ ارب روپے میں سے 1.4 جاری منصوبوں پر خرچ کرنے اور 10 کروڑ روپے نئے منصوبے کیلئے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

دستاویز کے مطابق نئے مالی سال کیلئے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ترقیاتی بجٹ میں کیلئے 1.5 ارب روپےمختص کرنےکی تجویز ہے۔ جاری منصوبوں کیلئے 1.4 ارب روپے جبکہ نئے منصوبوں کیلئے 10 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

پی اے ای سی کے ترقیاتی پروگرام کا مجموعی حجم 330.22 ارب روپےتک پہنچ گیا، ایمرجنگ ٹیکنالوجیز سینٹر کیلئے 80 کروڑ روپے خرچ کرنے کا پلان ہے۔ طبی آئسوٹوپس کی تیاری کی سہولت کے قیام کیلئے 39 کروڑ روپے مختص ہوں گے، منصوبے سے کینسر سمیت مختلف بیماریوں کی تشخیص اورعلاج میں مدد ملے گی۔

کراچی کوسٹل پاورپراجیکٹ یونٹ 1 اور 2 کیلئےآئندہ مالی سال میں 10 کروڑروپےمختص کرنےکی تجویز ہے، کراچی کوسٹل پاور پراجیکٹ پراب تک 202.47 ارب روپے خرچ ہوچکےمزید121 ارب روپےدرکار ہیں۔

ایمرجنگ ٹیکنالوجیز سینٹر کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 2 ارب 89 کروڑ روپے ہے، موسمیاتی تبدیلی سےہم آہنگ فصلوں کی ہائبرڈ اقسام کی تیاری کیلئےاسپیڈ بریڈنگ پلیٹ فارم منصوبہ بجٹ میں شامل ہے۔ نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں دفاعی اور ترقیاتی اخراجات کیلئے بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کرنے کی تجویز سامنے آگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق دفاعی شعبے کیلئے 2665 ارب روپے جبکہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کیلئے 1126 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

دستاویزات کے مطابق مالی سال 2026-27 میں وفاقی ترقیاتی منصوبوں پر مجموعی طور پر 1126 ارب روپے خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ مجوزہ پی ایس ڈی پی میں سب سے زیادہ 730 ارب روپے انفراسٹرکچر منصوبوں کیلئے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

سماجی شعبے کے ترقیاتی بجٹ میں 40 ارب روپے اضافے کے بعد مجموعی طور پر 187 ارب 20 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے، جبکہ آبی وسائل کے منصوبوں کیلئے 179 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
کلائمیٹ اسمارٹ ہائبرڈ کراپس منصوبے کیلئے20 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، ایڈوانس فیوژن ریسرچ کے فروغ کیلئے نئی اسکیم متعارف کرانے کی تجویز ہے، ایڈوانس فیوژن ریسرچ کی استعداد بڑھانے کیلئے 10 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

SLOT GACOR

SALAMJITU

SATGASJITU

SEMOGAJITU

SALAMJITU

Slot Gacor

MAUJP

Slot Gacor

SLOT GACOR

artikel 000000121

artikel 000000122

artikel 000000123

artikel 000000124

artikel 000000125

artikel 000000126

artikel 000000127

artikel 000000128

artikel 000000129

artikel 000000130

artikel 000000131

artikel 000000132

artikel 000000133

artikel 000000134

artikel 000000135

artikel 000000136

artikel 000000137

artikel 000000138

artikel 000000139

artikel 000000140

artikel 000000141

artikel 000000142

artikel 000000143

artikel 000000144

artikel 000000145

artikel 000000146

artikel 000000147

artikel 000000148

artikel 000000149

artikel 000000150

artikel 000000151

artikel 000000152

artikel 000000153

artikel 000000154

artikel 000000155

artikel 000000156

artikel 000000157

artikel 000000158

artikel 000000159

artikel 000000160

artikel 000000161

artikel 000000162

artikel 000000163

artikel 000000164

artikel 000000165

artikel 000000166

artikel 000000167

artikel 000000168

artikel 000000169

artikel 000000170

artikel 000000171

artikel 000000172

artikel 000000173

artikel 000000174

artikel 000000175

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

informasi terbaru kabupaten belu 00000081

informasi terbaru kabupaten belu 00000082

informasi terbaru kabupaten belu 00000083

informasi terbaru kabupaten belu 00000084

informasi terbaru kabupaten belu 00000085

informasi terbaru kabupaten belu 00000086

informasi terbaru kabupaten belu 00000087

informasi terbaru kabupaten belu 00000088

informasi terbaru kabupaten belu 00000089

informasi terbaru kabupaten belu 00000090

informasi terbaru kabupaten belu 00000091

informasi terbaru kabupaten belu 00000092

informasi terbaru kabupaten belu 00000093

informasi terbaru kabupaten belu 00000094

informasi terbaru kabupaten belu 00000095

informasi terbaru kabupaten belu 00000096

informasi terbaru kabupaten belu 00000097

informasi terbaru kabupaten belu 00000098

informasi terbaru kabupaten belu 00000099

informasi terbaru kabupaten belu 00000100

informasi terbaru kabupaten belu 00000101

informasi terbaru kabupaten belu 00000102

informasi terbaru kabupaten belu 00000103

informasi terbaru kabupaten belu 00000104

informasi terbaru kabupaten belu 00000105

informasi terbaru kabupaten belu 00000106

informasi terbaru kabupaten belu 00000107

informasi terbaru kabupaten belu 00000108

informasi terbaru kabupaten belu 00000109

informasi terbaru kabupaten belu 00000110

informasi terbaru kabupaten belu 00000111

informasi terbaru kabupaten belu 00000112

informasi terbaru kabupaten belu 00000113

informasi terbaru kabupaten belu 00000114

informasi terbaru kabupaten belu 00000115

informasi terbaru kabupaten belu 00000116

informasi terbaru kabupaten belu 00000117

informasi terbaru kabupaten belu 00000118

informasi terbaru kabupaten belu 00000119

informasi terbaru kabupaten belu 00000120

informasi terbaru kabupaten belu 00000121

informasi terbaru kabupaten belu 00000122

informasi terbaru kabupaten belu 00000123

informasi terbaru kabupaten belu 00000124

informasi terbaru kabupaten belu 00000125

informasi terbaru kabupaten belu 00000126

informasi terbaru kabupaten belu 00000127

informasi terbaru kabupaten belu 00000128

informasi terbaru kabupaten belu 00000129

informasi terbaru kabupaten belu 00000130

article 48666670361

article 48666670362

article 48666670363

article 48666670364

article 48666670365

article 48666670366

article 48666670367

article 48666670368

article 48666670369

article 48666670370

article 48666670371

article 48666670372

article 48666670373

article 48666670374

article 48666670375

article 48666670376

article 48666670377

article 48666670378

article 48666670379

article 48666670380

article 48666670381

article 48666670382

article 48666670383

article 48666670384

article 48666670385

article 48666670386

article 48666670387

article 48666670388

article 48666670389

article 48666670390

article 48666670391

article 48666670392

article 48666670393

article 48666670394

article 48666670395

article 48666670396

article 48666670397

article 48666670398

article 48666670399

article 48666670400

article 48666670401

article 48666670402

article 48666670403

article 48666670404

article 48666670405

article 48666670406

article 48666670407

article 48666670408

article 48666670409

article 48666670410

article 58666670411

article 58666670412

article 58666670413

article 58666670414

article 58666670415

article 58666670416

article 58666670417

article 58666670418

article 58666670419

article 58666670420

article 58666670421

article 58666670422

article 58666670423

article 58666670424

article 58666670425

article 58666670426

article 58666670427

article 58666670428

article 58666670429

article 58666670430

article 58666670431

article 58666670432

article 58666670433

article 58666670434

article 58666670435

article 58666670436

article 58666670437

article 58666670438

article 58666670439

article 58666670440

article 58666670441

article 58666670442

article 58666670443

article 58666670444

article 58666670445

article 58666670446

article 58666670447

article 58666670448

article 58666670449

article 58666670450

article 58666670451

article 58666670452

article 58666670453

article 58666670454

article 58666670455

article 58666670456

article 58666670457

article 58666670458

article 58666670459

article 58666670460

article 58666670461

article 58666670462

article 58666670463

article 58666670464

article 58666670465

article 58666670466

article 58666670467

article 58666670468

article 58666670469

article 58666670470

article 58666670471

article 58666670472

article 58666670473

article 58666670474

article 58666670475

article 58666670476

article 58666670477

article 58666670478

article 58666670479

article 58666670480

article 58666670481

article 58666670482

article 58666670483

article 58666670484

article 58666670485

article 58666670486

article 58666670487

article 58666670488

article 58666670489

article 58666670490

article 58666670491

article 58666670492

article 58666670493

article 58666670494

article 58666670495

article 58666670496

article 58666670497

article 58666670498

article 58666670499

article 58666670500

article 58666670501

article 58666670502

article 58666670503

article 58666670504

article 58666670505

article 58666670506

article 58666670507

article 58666670508

article 58666670509

article 58666670510

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download