LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ثالثی ;امریکہ , ایران; اسلام آباد اکارڈ” کا ڈرافٹ فائنل

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان کی پسِ پردہ اور مسلسل سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران بالآخر ایک باقاعدہ فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں۔
امریکہ اور ایران نے پاکستان کی مسلسل ثالثی کے بعد تاریخی “اسلام آباد اکارڈ” (اسلام آباد اکارڈ) کے بنیادی فریم ورک کا ڈرافٹ فائنل کرلیا ہے۔
مزید برآں، اسی دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف (CDF)، ثالثی کی جاری کوششوں کے ایک حصے کے طور پر تہران پہنچے ہیں۔ آمد پر ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ استقبالیہ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ دورہ تہران اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان اس نازک ترین مرحلے پر اپنی پوری عسکری اور سیاسی طاقت کے ساتھ اس سفارتی عمل کو حتمی شکل دینے کے لیے کوشاں ہے۔
یہ اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں اس ڈرافٹ کو محض ایک کاغذی معاہدے سے نکال کر زمین پر نافذ کرنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
اس دورے کی سٹریٹجک اہمیت اور نتائج درج ذیل اہم پہلوؤں پر مشتمل ہیں:
1۔ عسکری اور سیکیورٹی ضمانتیں (Military & Security Guarantees)
ایرانی عسکری قیادت سے روابط:
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بطور چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف تہران جانا ظاہر کرتا ہے کہ مذاکرات میں اب سیکیورٹی اور عسکری ضمانتوں (جیسے جنگ بندی پر عمل درآمد اور آبنائے ہرمز کی مانیٹرنگ) کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔پاک-ایران بارڈر سیکیورٹی:
اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی سیکیورٹی اور انٹیلیجنس شیئرنگ کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی، تاکہ کوئی بھی تیسری طاقت اس امن عمل کو سبوتاژ نہ کر سکے۔
2۔ سیاسی اور انتظامی تال میل (Political Coordination)
وفاقی وزیر داخلہ کی موجودگی:
ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کی جانب سے استقبال اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ مذاکرات صرف بیرونی سیکیورٹی تک محدود نہیں، بلکہ ان میں داخلی سلامتی، قیدیوں کے تبادلے، اور سرحد پار آمدورفت کے مشترکہ میکانزم پر بھی بات چیت ہو رہی ہے۔
3۔ فائنل ڈرافٹ کی منظوری (Finalizing the Deal)
واشنگٹن اور تہران کے درمیان پل:
پاکستانی قیادت کا یہ دورہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے فوراً بعد ہوا ہے۔
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پاکستان امریکی پیغامات اور شرائط کو براہِ راست ایرانی قیادت تک پہنچا کر آخری رکاوٹوں کو دور کر رہا ہے تاکہ اگلے چند گھنٹوں میں ڈرافٹ کا رسمی اعلان ممکن ہو سکے۔
یہ دورہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان نے “اسلام آباد اکارڈ” کے لیے محض ایک میزبان کا نہیں، بلکہ ایک فعال اور متحرک ضامن (Active Guarantor) کا کردار اختیار کر لیا ہے۔
مزید برآں، اسی دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف (CDF)، ثالثی کی جاری کوششوں کے ایک حصے کے طور پر تہران پہنچے ہیں۔ آمد پر ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ استقبالیہ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ دورہ تہران اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان اس نازک ترین مرحلے پر اپنی پوری عسکری اور سیاسی طاقت کے ساتھ اس سفارتی عمل کو حتمی شکل دینے کے لیے کوشاں ہے۔
یہ اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں اس ڈرافٹ کو محض ایک کاغذی معاہدے سے نکال کر زمین پر نافذ کرنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
اس دورے کی سٹریٹجک اہمیت اور نتائج درج ذیل اہم پہلوؤں پر مشتمل ہیں:
1۔ عسکری اور سیکیورٹی ضمانتیں (Military & Security Guarantees)
ایرانی عسکری قیادت سے روابط:
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بطور چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف تہران جانا ظاہر کرتا ہے کہ مذاکرات میں اب سیکیورٹی اور عسکری ضمانتوں (جیسے جنگ بندی پر عمل درآمد اور آبنائے ہرمز کی مانیٹرنگ) کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔پاک-ایران بارڈر سیکیورٹی:
اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی سیکیورٹی اور انٹیلیجنس شیئرنگ کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی، تاکہ کوئی بھی تیسری طاقت اس امن عمل کو سبوتاژ نہ کر سکے۔
2۔ سیاسی اور انتظامی تال میل (Political Coordination)
وفاقی وزیر داخلہ کی موجودگی:
ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کی جانب سے استقبال اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ مذاکرات صرف بیرونی سیکیورٹی تک محدود نہیں، بلکہ ان میں داخلی سلامتی، قیدیوں کے تبادلے، اور سرحد پار آمدورفت کے مشترکہ میکانزم پر بھی بات چیت ہو رہی ہے۔
3۔ فائنل ڈرافٹ کی منظوری (Finalizing the Deal)
واشنگٹن اور تہران کے درمیان پل:
پاکستانی قیادت کا یہ دورہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے فوراً بعد ہوا ہے۔
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پاکستان امریکی پیغامات اور شرائط کو براہِ راست ایرانی قیادت تک پہنچا کر آخری رکاوٹوں کو دور کر رہا ہے تاکہ اگلے چند گھنٹوں میں ڈرافٹ کا رسمی اعلان ممکن ہو سکے۔
یہ دورہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان نے “اسلام آباد اکارڈ” کے لیے محض ایک میزبان کا نہیں، بلکہ ایک فعال اور متحرک ضامن (Active Guarantor) کا کردار اختیار کر لیا ہے۔ایرانی عسکری اور سیکیورٹی اداروں (بشمول پاسدارانِ انقلاب اور وزارتِ دفاع) کا پاکستانی عسکری قیادت کے اس ہائی پروفائل دورے پر ردعمل انتہائی محتاط، تزویراتی (Strategic) اور دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر مبنی ہے۔ ایرانی میڈیا ہاؤسز جیسے تسنیم (Tasnim) اور پریس ٹی وی کے مطابق، سیکیورٹی حلقے اس دورے کو امریکی دھمکیوں کے سامنے جھکنے کے بجائے ایک “برابر کی سطح پر مذاکرات” (Negotiation from a position of strength) کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ایرانی سیکیورٹی اداروں کے ردعمل کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:1۔ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا سخت مگر سفارتی موقف ;
حملوں کی صورت میں وسیع تر جنگ کی وارننگ:
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی آمد کے دوران ہی واضح کیا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیڈ لائن کے بعد دوبارہ حملے شروع ہوئے، تو جنگ مغربی ایشیا (مشرقِ وسطیٰ) کی سرحدوں سے باہر تک پھیل جائے گی۔
سرپرائزز (Surprises) کا انتباہ:
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور عسکری کمانڈروں نے واضح کیا ہے کہ وہ امن چاہتے ہیں لیکن اگر جنگ دوبارہ مسلط کی گئی تو ایران کے پاس دشمن کے لیے کئی نئے سرپرائزز موجود ہوں گے۔
2۔ آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور خودمختاری کا اصرارکلیئرنس اور فیس کا مطالبہ:
ایرانی سیکیورٹی حکام کا اصرار ہے کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے کسی بھی بحری جہاز کے گزرنے کے لیے پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی سے منظوری لازم ہوگی۔ ایرانی عسکری ادارے اس اہم تجارتی راستے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کو ملکی خودمختاری کا مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔
امریکی دعووں کی تردید: ایرانی جوائنٹ ملٹری کمانڈ نے امریکی بحریہ کے ان دعووں کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے حالات سازگار بنا لیے ہیں۔
3۔ پاکستان کے کردار کی اہمیت کا اعتراف قابلِ اعتماد رابطہ کار:
ایرانی سیکیورٹی اور انٹیلیجنس حکام پاکستانی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کو ایک سنجیدہ اور بااثر ثالث کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو تہران کے حقیقی تحفظات (جیسے پابندیوں کا فوری خاتمہ اور منجمد اثاثوں کی بحالی) کو واشنگٹن تک من و عن پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ٹرمپ کے دباؤ کا جواب:
ایرانی عسکری کمانڈرز صدر ٹرمپ کے اس بیان کو گیدڑ بھبکی قرار دے رہے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مذاکرات “بارڈر لائن” پر ہیں، اور ان کا ماننا ہے کہ پاکستان کی یہ “آخری سفارتی کوشش” (Final Push) دونوں ممالک کو ایک بڑی تباہی سے بچا سکتی ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق مجوزہ اسلام آباد اکارڈ” ڈرافٹ میں فوری جنگ بندی، آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آزاد آمدورفت اور ایران پر عائد پابندیاں بتدریج ختم کرنے کی شقیں شامل ہیں۔پاکستان کی کامیاب ثالثی کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں:
پاکستانی سفارت کاری دونوں طرف اعتماد:
پاکستان کے بیک وقت واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ گہرے روابط ہیں، جس کی وجہ سے وہ دونوں فریقین کے لیے ایک قابلِ قبول ثالث کے طور پر سامنے آیا۔
علاقائی استحکام:
پاکستان کے لیے ایران کے ساتھ اس کی سرحد اور امن و امان کی صورتِ حال انتہائی اہم ہے، اس لیے اس جنگ بندی کا براہِ راست فائدہ پاکستان کی اپنی داخلی اور معاشی سلامتی کو بھی ہوگا۔
عالمی ساکھ میں اضافہ:
اس تاریخی “اسلام آباد اکارڈ” کے ڈرافٹ کی تکمیل سے عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی اہمیت اور بحرانوں کو حل کرنے کی صلاحیت کا لوہا مانا جا رہا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کا فائنل ڈرافٹ تیار کر لیا گیا ہے۔
“اسلام آباد اکارڈ” (Islamabad Accord) کے ڈرافٹ میں فوری طور پر جنگ روکنے کی شرط شامل کی گئی ہے، جب کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت پر عائد پابندیاں بھی ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا، جس کے لیے آئندہ مراحل میں مزید مذاکرات بھی ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق چند گھنٹوں کے اندر “اسلام آباد اکارڈ” (Islamabad Accord) کے ڈرافٹ کی تکمیل کا اعلان کیے جانے کا امکان ہے۔ سفارتی ذرائع نے بتایا کہ آئندہ سات روز کے دوران دیگر اہم معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید بات چیت کی جائے گی، جب کہ ممکنہ تنازعات کے حل اور معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے مشترکہ مانیٹرنگ کمیٹی بھی قائم کی جائے گی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتِ حال اور عالمی توانائی منڈی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا تھا قبل ازیں، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے، مذاکرات میں کچھ مثبت اشارے مل رہے ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ پاکستانی حکام ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں تہران کا دورہ کر رہے ہیں، امید ہے کہ پاکستانی حکام کے دورے سے یہ عمل مزید آگے بڑھے گا۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران سے بات چیت جاری ہے، تنازع جلد ختم ہوجائے گا، تہران ایران معاہدے پر آمادہ نہ ہوا تو تباہ کن ایکشن ہوگا، یورینیم کو ایران سے لے کر تباہ کردیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہاتھا کہ آبنائے ہرمز پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے، چاہتے ہیں آبنائے ہرمز بغیر کسی پابندی اور فیس کے کھلے، ہماری اجازت کے بغیر کوئی جہازنہ ایران جا رہا ہے نہ آرہا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان اہم معاہدے کا ڈرافٹ فائنل ہونے کی اطلاعات ہیں۔معاہدے کے اہم ترین نکات;
فوری جنگ بندی:
دونوں ممالک کے درمیان جاری فوجی کشیدگی اور حملوں کو فوری طور پر روکنے کی شرط ڈرافٹ کا حصہ ہے۔آبنائے ہرمز کی بحالی: آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے بحری جہازوں کی آزادانہ اور بلا تعطل آمدورفت کو یقینی بنایا جائے گا اور عائد پابندیاں ختم کی جائیں گی۔
پابندیوں میں نرمی:
ایران پر عائد بین الاقوامی اور امریکی اقتصادی پابندیوں کو مرحلہ وار (Step-by-Step) ختم کیا جائے گا، جس کے لیے مستقبل میں مزید مذاکرات ہوں گے۔
مشترکہ مانیٹرنگ کمیٹی:
معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی اور ممکنہ تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
پسِ منظر اور اہم بیانات;
پاکستانی ثالثی:
یہ بریک تھرو پاکستانی حکام کے حالیہ تہران اور واشنگٹن کے دوروں اور مسلسل ثالثی کے بعد ممکن ہوا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ (مارکو روبیو): انہوں نے پاکستانی کوششوں کو سراہتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ مذاکرات میں مثبت اشارے مل رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا موقف:
صدر ٹرمپ نے ایک طرف تنازع کے جلد خاتمے کی امید ظاہر کی تھی، تو دوسری طرف ایران کے یورینیم پروگرام کی منتقلی اور آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول جیسے سخت مطالبات بھی سامنے رکھے تھے تاکہ ایران پر دباؤ برقرار رہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اس تاریخی ڈرافٹ کا رسمی اعلان اگلے چند گھنٹوں میں متوقع ہے، جس کے بعد اگلے 7 دنوں میں بقیہ تکنیکی معاملات کو حتمی شکل دی جائے گی۔ یہ اکارڈ عالمی توانائی کی مارکیٹ (Oil Market) اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی ثابت ہو سکتا ہے۔
اگلا مرحلہ اور چیلنجز;
اگرچہ ڈرافٹ فائنل ہونا ایک بہت بڑی کامیابی ہے، لیکن اب اصل امتحان ان نکات پر عمل درآمد کا ہوگا:
پابندیوں کا خاتمہ: کیا امریکہ ایران پر سے پابندیاں اتنی ہی تیزی سے ہٹائے گا جس کی ایران کو توقع ہے؟
جوہری پروگرام کی نگرانی:
صدر ٹرمپ کے یورینیم سے متعلق سخت مطالبات کو ڈرافٹ میں کس طرح متوازن کیا گیا ہے؟
مشترکہ مانیٹرنگ: آئندہ 7 دنوں میں بننے والی مشترکہ کمیٹی ان دونوں روایتی حریفوں کو معاہدے کی پاسداری پر کیسے مجبور رکھے گی؟
امریکی اور ایرانی میڈیا کا “اسلام آباد اکارڈ” کے فائنل ڈرافٹ پر ابتدائی ردعمل ملا جلا ہے،
جہاں امریکی ذرائع ابلاغ اسے صدر ٹرمپ کی سخت گیر حکمتِ عملی کی کامیابی قرار دے رہے ہیں، وہیں ایرانی میڈیا اسے اپنی مزاحمت اور خودمختاری کی فتح کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
امریکی میڈیا کا ردعمل (US Media Response);
ٹرمپ کی فتح کا بیانیہ: سی این این (CNN) اور اکسیوس (Axios) جیسے معتبر امریکی اداروں کے مطابق، واشنگٹن اس ڈرافٹ کو صدر ٹرمپ کی “میکسیمل پریشر” (شدید دباؤ) اور جارحانہ سفارت کاری کا نتیجہ قرار دے رہا ہے۔
جوہری پروگرام پر توجہ:
امریکی میڈیا اس بات کو نمایاں کر رہا ہے کہ ایران کو افزودہ یورینیم کے ذخائر کی منتقلی اور ایٹمی پروگرام پر سخت امریکی شرائط تسلیم کرنا پڑی ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بحالی:
امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کا غیر مشروط طور پر کھلنا اور امریکی بحریہ کا کنٹرول برقرار رہنا عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹ کے لیے واشنگٹن کی بڑی کامیابی ہے۔
ایرانی میڈیا کا ردعمل (Iranian Media Response)
پابندیوں کے خاتمے پر جشن:
ایران کے سرکاری میڈیا، بشمول ایرانی مہر نیوز ایجنسی اور پریس ٹی وی، نے اس بات پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز کی ہے کہ یہ معاہدہ ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کو مرحلہ وار مکمل طور پر ختم کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔
فوجی طاقت کا اعتراف:
ایرانی فوجی حلقوں کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا آؤٹ لیٹس (جیسے فارس نیوز) کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کی میزائل اور عسکری صلاحیت کو مفلوج کرنے میں ناکام رہا، جس کے بعد وہ اس جنگ سے ایک “باعزت واپسی” کا راستہ تلاش کرنے پر مجبور ہوا ہے۔

فوجی طاقت کا اعتراف:
ایرانی فوجی حلقوں کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا آؤٹ لیٹس (جیسے فارس نیوز) کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کی میزائل اور عسکری صلاحیت کو مفلوج کرنے میں ناکام رہا، جس کے بعد وہ اس جنگ سے ایک “باعزت واپسی” کا راستہ تلاش کرنے پر مجبور ہوا ہے۔
قومی خودمختاری کا تحفظ:
ایرانی میڈیا اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ تہران نے اپنی ریڈ لائنز پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور مستقل جنگ بندی کی صورت میں ہی آبنائے ہرمز سے جہازوں کو جانے کی اجازت دی جائے گی۔بین الاقوامی میڈیا اور پاکستان کا کردار;
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز (Reuters) اور الجزیرہ (Al Jazeera) نے اس ڈرافٹ کی تکمیل میں پاکستان کے بیک چینل سفارتی کردار کو خاص طور پر سراہا ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دونوں حریفوں کے سخت مطالبات کے درمیان توازن پیدا کر کے خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے کردار ادا کر رہا ہے۔
اسی دوران ترجمان دفتر خارجہ پاکستان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان نہ صرف خطے میں امن کا خواہاں ہے بلکہ عالمی قوانین، کشمیر، پانی اور دہشت گردی سمیت اہم معاملات پر بھی اپنا مؤقف بھرپور انداز میں دنیا کے سامنے رکھ رہا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ وزیر داخلہ نے ایران کے دو اہم دورے کیے جہاں ایرانی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور سیکیورٹی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کسی اعلیٰ پاکستانی وفد کے ممکنہ دورۂ ایران سے متعلق خبروں سے آگاہ نہیں، اس لیے ایسی اطلاعات کی نہ تصدیق کی جا سکتی ہے اور نہ تردید۔ ترجمان نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیانات سے متعلق سوال پر کہا کہ وہ بیانات وزیر داخلہ کے دورۂ ایران کے تناظر میں تھے، کسی اور شخصیت یا وفد کے حوالے سے نہیں۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ نائب وزیراعظم کو امن عمل سے سائیڈ لائن کرنے کے تاثرات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امن عمل کو کسی ایک ادارے یا شخصیت کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ وزیراعظم، فیلڈ مارشل، نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ سب مل کر کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایرانی قیادت سے مسلسل رابطے میں ہے اور یہ رابطے ہمسایہ ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کا حصہ ہیں۔ ترجمان کے مطابق پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان امن عمل میں سہولت کاری بھی فراہم کر رہا ہے۔ ترجمان نے امریکی حملے کیلئے پاکستان سے فضائی حدود مانگنے کے تاثر کو بھی مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایسا کوئی مطالبہ پاکستان کے سامنے نہیں رکھا گیا۔
اس دوران امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے ایک ایسی قرارداد منظور کی ہے جس کے تحٹ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنا غیر قانونی ہوگا۔
یہ قرارداد، جو امریکی آئین کے مطابق فوج کو جنگ میں بھیجنے کا اختیار صرف کانگریس کو دینے کی وکالت کرتی ہے، سینیٹ میں 50 ووٹوں کے مقابلے میں 47 ووٹوں سے منظور کی گئی۔اگر یہ قرارداد کانگریس سے بھی منظور ہو جاتی ہے، تو صدر ٹرمپ کے ممکنہ ویٹو کو غیر مؤثر کرنے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی، جو فی الحال مشکل نظر آتا ہے۔
قرارداد کے اسپانسر، ورجینیا کے ڈیموکریٹ سینیٹر ٹم کین نے بحث کے دوران کہا کہ ”یہ جنگ سے پہلے بحث کرنے کا بہترین وقت ہے۔“
ان کا اشارہ صدر ٹرمپ کے اس بیان کی طرف تھا کہ تہران نے جنگ ختم کرنے کے لیے ایک نئی تجویز پیش کی ہے۔ سینیٹر کین نے مزید کہا، ”صدر امن اور سفارتی تجاویز موصول کر رہے ہیں جنہیں وہ ہمارے ساتھ شیئر کیے بغیر ردی کی ٹوکری میں پھینک رہے ہیں۔“
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس جنگ نے نہ صرف امریکا بلکہ دنیا بھر کی معیشتوں کو نصف ٹریلین ڈالر کا جھٹکا دیا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ ایرانی سیکیورٹی ادارے پاکستان کی ثالثی کا خیرمقدم تو کر رہے ہیں، لیکن ساتھ ہی امریکہ کو یہ پیغام بھی دے رہے ہیں کہ وہ کسی بھی قسم کے یکطرفہ یا جارحانہ دباؤ کے تحت “اسلام آباد اکارڈ” پر دستخط نہیں کریں گے۔

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

SLOT GACOR

SALAMJITU

SATGASJITU

SEMOGAJITU

SALAMJITU

Slot Gacor

MAUJP

Slot Gacor

SLOT GACOR

artikel 000000121

artikel 000000122

artikel 000000123

artikel 000000124

artikel 000000125

artikel 000000126

artikel 000000127

artikel 000000128

artikel 000000129

artikel 000000130

artikel 000000131

artikel 000000132

artikel 000000133

artikel 000000134

artikel 000000135

artikel 000000136

artikel 000000137

artikel 000000138

artikel 000000139

artikel 000000140

artikel 000000141

artikel 000000142

artikel 000000143

artikel 000000144

artikel 000000145

artikel 000000146

artikel 000000147

artikel 000000148

artikel 000000149

artikel 000000150

artikel 000000151

artikel 000000152

artikel 000000153

artikel 000000154

artikel 000000155

artikel 000000156

artikel 000000157

artikel 000000158

artikel 000000159

artikel 000000160

artikel 000000161

artikel 000000162

artikel 000000163

artikel 000000164

artikel 000000165

artikel 000000166

artikel 000000167

artikel 000000168

artikel 000000169

artikel 000000170

artikel 000000171

artikel 000000172

artikel 000000173

artikel 000000174

artikel 000000175

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

informasi terbaru kabupaten belu 00000081

informasi terbaru kabupaten belu 00000082

informasi terbaru kabupaten belu 00000083

informasi terbaru kabupaten belu 00000084

informasi terbaru kabupaten belu 00000085

informasi terbaru kabupaten belu 00000086

informasi terbaru kabupaten belu 00000087

informasi terbaru kabupaten belu 00000088

informasi terbaru kabupaten belu 00000089

informasi terbaru kabupaten belu 00000090

informasi terbaru kabupaten belu 00000091

informasi terbaru kabupaten belu 00000092

informasi terbaru kabupaten belu 00000093

informasi terbaru kabupaten belu 00000094

informasi terbaru kabupaten belu 00000095

informasi terbaru kabupaten belu 00000096

informasi terbaru kabupaten belu 00000097

informasi terbaru kabupaten belu 00000098

informasi terbaru kabupaten belu 00000099

informasi terbaru kabupaten belu 00000100

informasi terbaru kabupaten belu 00000101

informasi terbaru kabupaten belu 00000102

informasi terbaru kabupaten belu 00000103

informasi terbaru kabupaten belu 00000104

informasi terbaru kabupaten belu 00000105

informasi terbaru kabupaten belu 00000106

informasi terbaru kabupaten belu 00000107

informasi terbaru kabupaten belu 00000108

informasi terbaru kabupaten belu 00000109

informasi terbaru kabupaten belu 00000110

informasi terbaru kabupaten belu 00000111

informasi terbaru kabupaten belu 00000112

informasi terbaru kabupaten belu 00000113

informasi terbaru kabupaten belu 00000114

informasi terbaru kabupaten belu 00000115

informasi terbaru kabupaten belu 00000116

informasi terbaru kabupaten belu 00000117

informasi terbaru kabupaten belu 00000118

informasi terbaru kabupaten belu 00000119

informasi terbaru kabupaten belu 00000120

informasi terbaru kabupaten belu 00000121

informasi terbaru kabupaten belu 00000122

informasi terbaru kabupaten belu 00000123

informasi terbaru kabupaten belu 00000124

informasi terbaru kabupaten belu 00000125

informasi terbaru kabupaten belu 00000126

informasi terbaru kabupaten belu 00000127

informasi terbaru kabupaten belu 00000128

informasi terbaru kabupaten belu 00000129

informasi terbaru kabupaten belu 00000130

article 48666670361

article 48666670362

article 48666670363

article 48666670364

article 48666670365

article 48666670366

article 48666670367

article 48666670368

article 48666670369

article 48666670370

article 48666670371

article 48666670372

article 48666670373

article 48666670374

article 48666670375

article 48666670376

article 48666670377

article 48666670378

article 48666670379

article 48666670380

article 48666670381

article 48666670382

article 48666670383

article 48666670384

article 48666670385

article 48666670386

article 48666670387

article 48666670388

article 48666670389

article 48666670390

article 48666670391

article 48666670392

article 48666670393

article 48666670394

article 48666670395

article 48666670396

article 48666670397

article 48666670398

article 48666670399

article 48666670400

article 48666670401

article 48666670402

article 48666670403

article 48666670404

article 48666670405

article 48666670406

article 48666670407

article 48666670408

article 48666670409

article 48666670410

article 58666670411

article 58666670412

article 58666670413

article 58666670414

article 58666670415

article 58666670416

article 58666670417

article 58666670418

article 58666670419

article 58666670420

article 58666670421

article 58666670422

article 58666670423

article 58666670424

article 58666670425

article 58666670426

article 58666670427

article 58666670428

article 58666670429

article 58666670430

article 58666670431

article 58666670432

article 58666670433

article 58666670434

article 58666670435

article 58666670436

article 58666670437

article 58666670438

article 58666670439

article 58666670440

article 58666670441

article 58666670442

article 58666670443

article 58666670444

article 58666670445

article 58666670446

article 58666670447

article 58666670448

article 58666670449

article 58666670450

article 58666670451

article 58666670452

article 58666670453

article 58666670454

article 58666670455

article 58666670456

article 58666670457

article 58666670458

article 58666670459

article 58666670460

article 58666670461

article 58666670462

article 58666670463

article 58666670464

article 58666670465

article 58666670466

article 58666670467

article 58666670468

article 58666670469

article 58666670470

article 58666670471

article 58666670472

article 58666670473

article 58666670474

article 58666670475

article 58666670476

article 58666670477

article 58666670478

article 58666670479

article 58666670480

article 58666670481

article 58666670482

article 58666670483

article 58666670484

article 58666670485

article 58666670486

article 58666670487

article 58666670488

article 58666670489

article 58666670490

article 58666670491

article 58666670492

article 58666670493

article 58666670494

article 58666670495

article 58666670496

article 58666670497

article 58666670498

article 58666670499

article 58666670500

article 58666670501

article 58666670502

article 58666670503

article 58666670504

article 58666670505

article 58666670506

article 58666670507

article 58666670508

article 58666670509

article 58666670510

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download