اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور ڈی جی ایف آئی اے عثمان انور کے وژن، ڈائریکٹر اسلام آباد زون سید شہزاد ندیم بخاری کی ہدایات کے مطابق ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل، اسلام آباد زون کی بڑی کارروائی۔ غیر قانونی اعضا فروشی کا نیٹ ورک بے نقاب، گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث اہم ڈاکٹر گرفتار۔
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز)— وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل، اسلام آباد زون نے انسانی گردوں کی غیر قانونی خرید و فروخت اور پیوندکاری میں ملوث مبینہ گروہ کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے 9 ملزمان کو گرفتار کر لیا، جن میں ایک معروف یورولوجسٹ اور نجی اسپتال کا ایک ملازم بھی شامل ہے، جنہیں اس غیر قانونی نیٹ ورک کے مرکزی کردار قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق گردہ اسمگلنگ اسکینڈل کی تحقیقات کے دوران ایف آئی اے ٹیم نے اسلام آباد کے ایک معروف نجی اسپتال پر چھاپہ مار کارروائی کی، جہاں غیر قانونی طور پر گردے نکالنے کے آپریشن کیے جا رہے تھے۔ کارروائی کے دوران متعلقہ ڈاکٹر اور اسپتال ملازم کو گرفتار کر لیا گیا۔
ایف آئی اے حکام نے موقع پر موجود کئی افراد کو بھی حراست میں لیا، جن میں مبینہ گردہ عطیہ کرنے والے، وصول کنندگان اور اسپتال کا عملہ شامل تھا۔ مشتبہ افراد کو مزید تفتیش کے لیے ایف آئی اے دفتر منتقل کر دیا گیا۔
اس سے قبل بھی حکام نے ایک وسیع گروہ کے ارکان کو گرفتار کیا تھا، جو جنوبی پنجاب کے پسماندہ اضلاع خصوصاً رحیم یار خان اور ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے غریب افراد کو نشانہ بناتا تھا۔ ملزمان مبینہ طور پر مالی مشکلات کا شکار افراد کو معمولی رقم کے عوض گردے فروخت کرنے پر آمادہ کرتے تھے، جبکہ انہی اعضا کو بعد ازاں بھاری قیمتوں پر فروخت کیا جاتا تھا۔
حکام کے مطابق تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور نیٹ ورک کے دیگر ارکان کی گرفتاری کے لیے مزید چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اس کامیاب کارروائی کو عوامی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے۔

