LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازکا فلم انڈسٹری بحالی منصوبے کا آغاز

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) قومی فلم انڈسٹری کی بحالی کے لیے حکومتِ پنجاب نے ایک بہت بڑے منصوبے کا آغاز کیا ہے، اس منصوبے کا مقصد لاہور کو دوبارہ خطے کا ثقافتی اور تخلیقی مرکز بنانا ہے تاکہ صائمہ نور اور سید نور جیسے فنکاروں کے دور کی طرح لالی ووڈ ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنی پہچان بنا سکے۔
یاد رکھیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپریل 2026 میں لاہور میں پاکستان کی پہلی اسٹیٹ آف دی آرٹ فلم سٹی بنانے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔
یہ فلم سٹی لاہور میں نواز شریف آئی ٹی سٹی کے اندر 50 ایکڑ رقبے پر محیط ہوگی۔ اس میں عالمی معیار کے شوٹنگ اسٹوڈیوز، ساؤنڈ اسٹیجز، جدید وی ایف ایکس لیبز اور پوسٹ پروڈکشن کی سہولیات فراہم کی جائیں گی ,
منصوبے کے تحت یہاں پاکستان کا پہلا فلم اسکول اور ایک میوزک اکیڈمی بھی قائم کی جائے گی تاکہ نئی نسل کو پیشہ ورانہ تربیت دی جا سکے۔
فلم سٹی میں بڑے پیمانے پر شوٹنگ سیٹس، ایک مصنوعی جھیل اور عالمی معیار کا کنونشن ہال بنایا جائے گا جہاں بین الاقوامی فلمی میلے اور ایوارڈز کی تقریبات منعقد ہو سکیں گی۔
پنجاب اسمبلی نے پنجاب فلم سٹی بل 2026 منظور کر لیا ہے، جس کے تحت ایک مخصوص اتھارٹی بنائی گئی ہے جو فلم سازوں کو اجازت ناموں اور لائسنس کے لیے “ون ونڈو” سہولت فراہم کرے گی۔
حکومت نے فلم سازوں کی حوصلہ افزائی کے لیے 2 ارب روپے کا فنڈ مختص کیا ہے۔ اس وقت منتخب فلم سازوں کو فی فلم 3 کروڑ روپے تک کی گرانٹ دی جا رہی ہے۔
حکومت پرانے سنیما گھروں کی بحالی اور نئے ملٹی پلیکسز کی تعمیر میں بھی تعاون فراہم کر رہی ہے۔

یاد رہےکہ صائمہ، ایک پاکستانی فلمی اداکارہ اور فلم ساز ہیں۔ انھوں نے 1990ء میں لالی وڈ میں قدم رکھا اور بہت جلد پنجابی فلموں کی صفِ اول کی اداکارہ بن گئیں۔ ماضی میں فلم “ڈاکو رانی” اپنے دور کی ایک ایسی فلم تھی جس نے صائمہ نور کے “ایکشن امیج” کو عوامی سطح پر بہت مقبول بنایا۔فلم “ڈاکو رانی” کی شوٹنگ کے دوران مارگلہ کے جنگلات میں صائمہ نور کا اصغر علی مبارک کو دیا گیا یہ انٹرویو فلمی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ ہے۔
فراہم کردہ تصویر میں اس وقت کے ماحول اور پاکستانی فلم انڈسٹری کے عروج کی جھلک صاف دیکھی جا سکتی ہے۔اس تصویر اور انٹرویو کے حوالے سے کچھ اہم نکات یہ ہیں:
صائمہ نور کا عروج: اس دور میں صائمہ نور پاکستانی فلم انڈسٹری (لالی ووڈ) کی صفِ اول کی اداکارہ تھیں اور ان کی فلمیں باکس آفس پر کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھیں۔
اصغر علی مبارک کی صحافت: اصغر علی مبارک نے اپنی صحافتی زندگی میں کئی نامور شخصیات کے انٹرویو کیے، اور فلمی ستاروں کے ساتھ ان کی یہ پیشہ ورانہ گفتگو ان کی رپورٹنگ کے متنوع پہلوؤں کو ظاہر کرتی ہے۔
فلم “ڈاکو رانی”: یہ فلم اپنے دور کی ایک مقبول ایکشن فلم تھی جس کی شوٹنگ کے لیے مارگلہ کے خوبصورت اور قدرتی مناظر کا انتخاب کیا گیا تھا۔ تصویر میں صائمہ نور کو ان کے فلمی روپ (Costume) میں دیکھا جا سکتا ہے۔
منفرد انداز: تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اصغر علی مبارک روایتی انداز میں ڈائری اور پین کے ساتھ انٹرویو ریکارڈ کر رہے ہیں، جو اس دور کی صحافت کا خاصہ تھا۔یہ تصویر نہ صرف فلمی یادوں کو تازہ کرتی ہے بلکہ یہ اصغر علی مبارک کے طویل صحافتی سفر کی ایک اہم کڑی بھی ہے۔
صائمہ نور پاکستانی فلم انڈسٹری کی ایک ایسی زندہ جاوید شخصیت ہیں جنہوں نے خاص طور پر 90 کی دہائی کے آخر میں زوال پذیر لالی ووڈ کو ایک نیا جیون دیا۔
ان کے بارے میں کچھ اہم حقائق درج ذیل ہیں:
1. ابتدائی سفر اور عروج:صائمہ نے اپنے کیریئر کا آغاز 1987 میں فلم “غریبوں کا داتا” سے کیا، لیکن انہیں اصل شہرت 90 کی دہائی میں ملی۔ وہ جلد ہی پنجابی سنیما کی بے تاج ملکہ بن گئیں اور ایک طویل عرصے تک سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی اداکارہ رہیں۔
2. “چوڑیاں” کی تاریخی کامیابی:1998 میں ریلیز ہونے والی فلم “چوڑیاں” صائمہ کے کیریئر کا نقطہ عروج تھی۔ سید نور کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم نے پاکستانی باکس آفس کے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور یہ آج بھی پاکستان کی کامیاب ترین فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔
3. ورسٹائل اداکارہ:
صائمہ صرف رقص یا رومانوی کرداروں تک محدود نہیں رہیں۔ جیسا کہ فراہم کردہ تصویر اور فلم “ڈاکو رانی” سے ظاہر ہے، وہ ایک بہترین ایکشن ہیروئن بھی تھیں۔ وہ گھڑ سواری اور تلوار بازی جیسے مشکل اسٹنٹ خود کرنے کے لیے مشہور تھیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے “نکاح” اور “مجاجن” جیسی فلموں میں اپنی سنجیدہ اداکاری کا لوہا بھی منوایا۔
4. سید نور کے ساتھ جوڑی:
ہدایت کار سید نور اور صائمہ کی جوڑی نے انڈسٹری کو درجنوں ہٹ فلمیں دیں۔ ان دونوں کی پیشہ ورانہ اور بعد ازاں ازدواجی رفاقت نے پاکستانی فلمی بیانیے کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔
5. ٹی وی ڈراموں میں آمد:فلموں کے بعد صائمہ نے ٹی وی کا رخ کیا اور وہاں بھی اپنی جگہ بنائی۔ “رنگ لاگا” اور “ببن خالہ کی بیٹیاں” جیسے ڈراموں میں ان کی کارکردگی کو نئی نسل نے بھی بے حد پسند کیا۔
6. سادگی اور پیشہ ورانہ مہارت:
صائمہ نور اپنی سادگی اور کام سے لگن کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔ مارگلہ کے جنگلوں میں شوٹنگ ہو یا اسٹوڈیو کا سیٹ، وہ ہمیشہ صحافیوں جیسے اصغر علی مبارک اور اپنے مداحوں کے ساتھ نہایت خوش اخلاقی سے پیش آتی تھیں۔
ایکشن فلم ” “ڈاکو رانی” اپنے دور کی ایک ایسی ایکشن فلم تھی جس نے صائمہ نور کو ایک “لیجنڈری ایکشن ہیروئن” کے طور پر منوایا۔
اس فلم کے بارے میں مزید دلچسپ تفصیلات یہ ہیں:
1. کہانی کا موضوع (انتقام اور انصاف)اس فلم کی کہانی روایتی طور پر ایک ایسی بہادر خاتون کے گرد گھومتی ہے جو معاشرتی ناانصافی، جاگیردارانہ نظام یا کسی ذاتی المیے کے بعد ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
“ڈاکو رانی” کا کردار عورت کی طاقت اور مزاحمت کی علامت بن کر ابھرا، جسے عوامی سطح پر بے حد پذیرائی ملی۔
2. صائمہ نور کا “جنگجو” روپاس فلم میں صائمہ نور نے روایتی گھریلو لڑکی کے بجائے ایک جنگجو کا روپ دھارا۔
مارگلہ کے جنگلات میں شوٹنگ کے دوران انہوں نے گھڑ سواری اور تلوار بازی جیسے مشکل مناظر خود عکس بند کروائے۔
اصغر علی مبارک کو دیے گئے انٹرویو میں بھی انہوں نے اس کردار کے لیے اپنی جسمانی محنت اور چیلنجز کا ذکر کیا تھا۔
3. تکنیکی پہلو اور لوکیشن ;
مارگلہ ہلز کی دشوار گزار ڈھلوانوں اور گھنے جنگلات کا انتخاب فلم میں حقیقت رنگ بھرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس دور میں کیمرہ ورک اور اسٹنٹس کو زیادہ سے زیادہ قدرتی رکھنے کی کوشش کی جاتی تھی تاکہ ناظرین کو “ڈاکو” کی زندگی کا حقیقی احساس ہو سکے۔
4. دیگر ایکشن فلموں سے موازنہ”ڈاکو رانی” کے ساتھ ساتھ اس دور میں صائمہ کی دیگر ایکشن فلمیں جیسے “جنگل کوئین” اور “لاڈو رانی” بھی بہت مقبول ہوئیں۔ ان فلموں نے ثابت کیا کہ صائمہ نور صرف رومانوی گانوں تک محدود نہیں بلکہ وہ باکس آفس پر اکیلے اپنے دم پر فلم ہٹ کروانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
5. اصغر علی مبارک کے انٹرویو کی اہمیت ;
اس فلم کی شوٹنگ کے دوران اصغر علی مبارک کا انٹرویو اس لیے بھی اہم تھا کیونکہ اس میں فلم انڈسٹری کے اس دور کے بحران اور اس میں خواتین اداکاروں کے بدلتے ہوئے کرداروں پر گفتگو کی گئی تھی۔
یہ انٹرویو اس وقت کے فلمی رسائل کی زینت بنا۔ فلم “ڈاکو رانی” جس میں صائمہ نور نے مرکزی کردار ادا کیا تھا، 3 دسمبر 1999 کو پاکستان بھر کے سنیما گھروں میں ریلیز ہوئی تھی۔
اس فلم کے حوالے سے کچھ اہم معلومات یہ ہیں:
ہدایت کار: اس فلم کی ہدایات معروف فلم ساز سید نور نے دی تھیں۔
کاسٹ: صائمہ نور کے ساتھ اس فلم میں شان شاہد، معمر رانا اور میرا نے اہم کردار ادا کیے تھے۔
مقبولیت: یہ ایک سپر ہٹ پنجابی ایکشن فلم ثابت ہوئی جس نے صائمہ نور کے ایکشن ہیروئن کے طور پر مقام کو مزید مستحکم کیا۔اس وقت کی فلمی صحافت میں اصغر علی مبارک جیسے صحافیوں کے انٹرویوز فلم کی تشہیر میں اہم کردار ادا کرتے تھے،
جیسا کہ آپ کی فراہم کردہ تصویر میں شوٹنگ کے دوران کی گفتگو سے واضح ہے۔
مرکزی کردار:
صائمہ نور نے اس فلم میں ایک نڈر اور باغی عورت کا ٹائٹل رول (ڈاکو رانی) ادا کیا تھا، جو ناانصافی کے خلاف ہتھیار اٹھاتی ہے۔ اس دور میں ایسی فلمیں خواتین میں بھی کافی مقبول تھیں جہاں ہیروئن کو کمزور کے بجائے طاقتور دکھایا جاتا تھا۔
شوٹنگ کا مقام: جیسا کہ فراہم کردہ تصویر سے واضح ہے، اس فلم کے اہم حصوں اور گانوں کی عکسبندی اسلام آباد کے مارگلہ جنگلات میں کی گئی تھی، جو اپنی قدرتی خوبصورتی اور گھنے درختوں کی وجہ سے ایسی ایکشن فلموں کے لیے بہترین لوکیشن سمجھی جاتی تھی۔
اصغر علی مبارک کا انٹرویو:
شوٹنگ کے دوران صائمہ نور کا اصغر علی مبارک کو دیا گیا انٹرویو اس لیے بھی اہم تھا کیونکہ اس میں انہوں نے فلم کے لیے کی جانے والی محنت اور ایکشن سینز کی شوٹنگ کے دوران پیش آنے والے خطرات کا ذکر کیا تھا۔
موسیقی اور ایکشن:
اس فلم میں روایتی پنجابی موسیقی کے ساتھ ساتھ بھرپور اسٹنٹ اور ایکشن شامل تھے، جو اس وقت کے سنیما بینوں کی پہلی پسند تھے۔
یہ فلم اس دور کی عکاس ہے جب پاکستانی سنیما میں سوشل ایکشن ڈرامہ عروج پر تھا اور صائمہ نور اس صنف کی بے تاج ملکہ سمجھی جاتی تھیں۔
صائمہ نور پاکستانی فلم انڈسٹری، خاص طور پر پنجابی سنیما کی ایک ایسی اداکارہ ہیں جنہوں نے دہائیوں تک اسکرین پر راج کیا۔ انہوں نے سلطان راہی سے لے کر شان شاہد تک، انڈسٹری کے ہر بڑے ہیرو کے ساتھ کام کیا۔ان کی چند مشہور اور بلاک بسٹر فلموں کی فہرست درج ذیل ہے:
1. چوڑیاں (1998)یہ صائمہ نور کی زندگی کی سب سے کامیاب فلم مانی جاتی ہے۔ سید نور کی ہدایت کاری میں بننے والی اس پنجابی فلم نے باکس آفس پر تمام ریکارڈ توڑ دیے اور اسے آج بھی پاکستان کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس فلم نے صائمہ کو راتوں رات سپر اسٹار بنا دیا۔

2. مجاجن (2006)یہ فلم صائمہ نور کے کیریئر کا ایک اور سنگِ میل ہے۔ اس میں انہوں نے ایک ایسی عورت کا کردار ادا کیا جو صوفیانہ عشق اور روایتی اقدار کے گرد گھومتی ہے۔ اس فلم کی موسیقی اور صائمہ کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا۔
3. ظلم دا بدلہ (1994)سلطان راہی کے ساتھ ان کی ابتدائی مشہور فلموں میں سے ایک، جس نے انہیں ایکشن اور ڈرامہ فلموں کے لیے بہترین انتخاب ثابت کیا۔
4. نکاح (1998)اردو زبان میں بننے والی یہ فلم اپنی کہانی اور موسیقی کی وجہ سے بہت مقبول ہوئی۔ اس میں صائمہ نے اپنی ورسٹائل اداکاری سے ثابت کیا کہ وہ صرف پنجابی ہی نہیں بلکہ اردو فلموں میں بھی یکساں مہارت رکھتی ہیں۔
5. جنگل کوئین (2000)یہ ایک ایڈونچر اور ایکشن فلم تھی جس میں صائمہ نے ایک منفرد “ٹارزن” نما کردار ادا کیا تھا۔ یہ فلم اپنی عکسبندی اور صائمہ کے بہادرانہ روپ کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔6. لختِ جگر (2001)اس فلم میں انہوں نے ایک ماں کا جذباتی کردار ادا کیا، جسے شائقین نے بہت پسند کیا۔ یہ فلم ثابت کرتی ہے کہ وہ ہر قسم کے مشکل کردار نبھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔7. دبنگ (2010)جدید دور کی پنجابی فلموں میں سے ایک، جس میں انہوں نے شان شاہد کے ساتھ کام کیا اور یہ ثابت کیا کہ وہ آج بھی انڈسٹری کی سب سے مضبوط اداکارہ ہیں , صائمہ نے جس وقت فلمی صنعت میں قدم رکھا، اس وقت انجمن اور سلطان راہی کی جوڑی ہٹ تھی اورانجمن اپنے کیریئر کی بلندیوں پر تھیں- اسے صائمہ کی خوش قسمتی کہا جا سکتا ہے کہ صائمہ کی فلمی صنعت میں آمد کے کچھ ہی عرصہ بعد انجمن نے شادی کر لی اور فلمی صنعت چھوڑ دی- اب صائمہ کے لیے میدان خالی تھا چنانچہ صائمہ نے سخت محنت کی اور فلمی صنعت پر چھا گئیں-صائمہ نور ضلع ملتان میں پیدا ہوئیں۔انھوں نے 1990ء میں فلم ’خطرناک‘ سے فنی زندگی کا آغاز کیا اور اس کے ایک سال بعد ہی ان کی آٹھ فلمیں ریلیز ہوئیں- فلم ’الیکشن‘ میں ان کا مرکزی کردار تھا اور اس فلم میں ان کے مدمقابل ہیرو کے کردار سلطان راہی نے ادا کیا- اس سے ساتھ ہی سلطان راہی اور صائمہ کی ایک ایسی فلمی جوڑی قائم ہوئی جو سن انیس چھیانوے میں سلطان راہی کے قتل تک مسلسل فلموں کی کامیابی کا ضامن رہی۔
سلطان راہی کی وفات کے بعد صائمہ کے مقابل تنظیم حسن‘ سعود‘ غلام محی الدین‘ جاوید شیخ‘ اقبال گوندل‘ اظہار قاضی‘ معمر رانا‘ بابر علی، شان شاہداورشامل خان کو کاسٹ کیا گیا- ان میں سے معمر رانا اور شان کے ساتھ صائمہ کی فلمیں زیادہ کامیاب رہیں- فلموں کے علاوہ صائمہ نے ٹی وی ڈراموں میں بھی کام کیا۔معمر رانا کے ساتھ صائمہ کی فلم چوڑیاں نے تو کامیابیوں کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ اس فلم کے ڈائریکٹر سید نور تھے بعد میں صائمہ اور سید نور کا تعلق مزید گہرا ہوتا گیا اخبارات میں ان کی شادی کی افواہیں گردش کرتی رہیں۔ آخر کار 2007ء میں صائمہ نے سید نور سے شادی کا انکشاف کیا۔ بطورفلمساز ان کی پہلی فلم مجاجن ہے جس میں خود صائمہ نے اداکاری بھی کی۔ اور اس فلم کو بھی سید نور نے ڈائریکٹ کیا۔بیسویں صدی کے آخری پانچ برس سیّد نور کے لئے انتہائی مبارک ثابت ہوئے جب اوپر تلے اُن کی ہدایتکاری میں درجنوں فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں جیوا، سرگم، چور مچائے شور، ہوائیں، گھونگھٹ، راجو بن گیا جنٹلمین، عقابوں کا نشیمن، سنگم، راجہ پاکستانی، دیوانے تیرے پیار کے، محافظ، زیور، دیواریں، زور، دوپٹہ جل رہا ہے، چوڑیاں، ڈاکو رانی، انگارے، جنگل کوئین، بِلّی، مہندی والے ہتھ، لاکھوں میں ایک اور بیٹی وغیرہ شامل ہیں۔
بیسویں صدی کے آخری دو برس جہاں مصنّف و ہدایتکار سید نور کے فلمی کیریئر کا سنہری دور تھا وہیں اداکارہ صائمہ کے لیئے بھی انتہائی مبارک زمانہ تھا کیونکہ اِن دو برسوں کے دوران صائمہ کی 35 فلمیں ریلیز ہوئیں جو کسی پاکستانی اداکارہ کےلیئے ایک ریکارڈ کی حیثیت رکھتی ہیں,مارگلہ کےجنگل میں ”فلم ڈاکو رانی” دسمبر 1997کی شوٹنگ کے دوران اصغر علی مبارک کو دیا گیا صائمہ نور کا انٹرویو….

یہ فلم 3 دسمبر 1999 کو ریلیز ہوئی اور اپنے ایکشن اور موسیقی کی وجہ سے ایک “سپر ہٹ” فلم ثابت ہوئی۔
فلم “ڈاکو رانی” کی شوٹنگ اور اس کی کاسٹ کے بارے میں تفصیلی معلومات درج ذیل ہیں:
فلم کی شوٹنگ (Shooting)شوٹنگ کا وقت:
اس فلم کی شوٹنگ 1999 کے دوران ہوئی تھی۔
مقامات: فلم کے اہم حصوں، بشمول ایکشن سینز اور گانوں کی عکسبندی مارگلہ ہلز (اسلام آباد) کے گھنے جنگلات اور پہاڑی علاقوں میں کی گئی تھی۔
جیسا کہ آپ کی فراہم کردہ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے، صحافی اصغر علی مبارک نے شوٹنگ کے دوران ہی صائمہ نور کا انٹرویو ریکارڈ کیا تھا۔
فلم کی کاسٹ (Film Cast)سید نور کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں اس وقت کے تمام بڑے ستارے شامل تھے:
صائمہ نور: ٹائٹل رول (ڈاکو رانی)۔
شان شاہد: مرکزی ہیرو۔
معمر رانا: (فارسٹ آفیسر کا کردار)۔
میرا: اہم کردار۔ارباذ خان:۔افضل خان (جان ریمبو):۔شفق چیمہ:۔ہمایوں قریشی:۔عرفان کھوسٹ:۔

.
فلم “ڈاکو رانی” (1999) کی موسیقی اور باکس آفس کارکردگی کے بارے میں دلچسپ معلومات درج ذیل ہیں:
مشہور گانےاس فلم کی موسیقی معروف موسیقار ذوالفقار علی نے ترتیب دی تھی اور گیتوں کو اس وقت کے بڑے گلوکاروں نے اپنی آواز سے سجایا:
“ٹوٹ گئی تڑخ کر کے”: یہ فلم کا سب سے مشہور آئٹم نمبر اور ڈانس سونگ تھا، جسے صائمہ نور پر عکسبند کیا گیا اور اس دور میں یہ گلی گلی گونجتا تھا۔
“میرا پیا گھر آیا”: اس گانے کی مقبولیت نے بھی فلم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
پلے بیک سنگرز: فلم کے گانوں میں نصیبو لال، سائرہ نسیم اور اظہر عباس کی آوازیں شامل تھیں، جو اپنی بلند آہنگ اور جذباتی گلوکاری کے لیے مشہور تھے۔
باکس آفس ریکارڈزسپر ہٹ کا درجہ: “ڈاکو رانی” 1999 کی کامیاب ترین پنجابی فلموں میں سے ایک تھی۔ اس نے لاہور اور گوجرانوالہ کے سرکٹس میں “گولڈن جوبلی” (یعنی مسلسل 50 ہفتے سنیما گھروں میں چلنے) کا اعزاز حاصل کیا۔
صائمہ اور سید نور کی جوڑی:
یہ فلم ان کی کامیاب فلموں کے اس سلسلے کا حصہ تھی جس نے “چوڑیاں” کی تاریخی کامیابی کے بعد لالی ووڈ کو ایک نیا جیون دیا تھا۔
کمرشل کامیابی: اس فلم نے نہ صرف اپنی لاگت پوری کی بلکہ پروڈیوسرز کو بڑا منافع دیا، جس کی وجہ سے صائمہ نور کو ایکشن فلموں کے لیے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی اداکارہ بنا دیا گیا۔
اس فلم کی کامیابی نے ثابت کیا کہ اگر کہانی میں ایکشن اور موسیقی کا صحیح امتزاج ہو، تو مقامی سنیما بین اسے بھرپور پذیرائی دیتے ہیں۔
صائمہ نور کو ان کی بہترین کارکردگی پر متعدد نگار ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ہے۔ اصغر علی مبارک کی تصویر میں جس “ڈاکو رانی” کا ذکر ہے، وہ بھی ان کے اسی ایکشن اور نڈر امیج کا حصہ تھی جو 90 کی دہائی میں عوام میں بے حد مقبول تھا۔
پاکستانی فلم انڈسٹری (لالی ووڈ) کی تاریخ نشیب و فراز سے بھری ہوئی ہے۔
صائمہ نور اور اصغر علی مبارک کی اس تصویر کے دور سے لے کر آج تک، انڈسٹری نے کئی اہم مراحل طے کیے ہیں۔
پاکستانی فلم انڈسٹری کے بارے میں چند دلچسپ اور معلوماتی پہلو درج ذیل ہیں:
1. سنہرا دور (1950 سے 1970 کی دہائی)یہ وہ دور تھا جب پاکستانی فلمیں معیار اور موسیقی کے لحاظ سے برصغیر میں اپنا مقام رکھتی تھیں۔ اس دور میں وحید مراد (چاکلیٹی ہیرو)، ندیم، محمد علی، اور میڈم نور جہاں جیسے فنکاروں نے انڈسٹری کو عالمی پہچان دی۔ فلم “آئینہ” جیسی فلموں نے باکس آفس پر ریکارڈ قائم کیے۔
2. ایکشن اور پنجابی فلموں کا عروج (1980 اور 1990 کی دہائی)جیسا کہ تصویر میں فلم “ڈاکو رانی” کا ذکر ہے، یہ وہ دور تھا جب سلطان راہی اور صائمہ نور کی جوڑی نے انڈسٹری پر راج کیا۔ اس دور میں سماجی مسائل، انتقام اور لوک داستانوں پر مبنی پنجابی فلمیں بہت مقبول ہوئیں، جس نے لاہور کی فلم انڈسٹری کو معاشی سہارا دیا۔
3. زوال اور سنیما گھروں کی بندش90 کی دہائی کے آخر اور 2000 کے شروع میں معیار میں کمی، ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی اور نامناسب موضوعات کی وجہ سے انڈسٹری زوال کا شکار ہوئی۔ بہت سے تاریخی سنیما گھر مسمار کر کے شاپنگ مالز میں تبدیل کر دیے گئے۔
4. جدید لالی ووڈ کا احیاء (2010 سے اب تک)پچھلی ایک دہائی میں پاکستانی فلم انڈسٹری نے ایک بار پھر جنم لیا ہے جسے “New Wave” کہا جاتا ہے۔ اب فلمیں جدید ٹیکنالوجی، بہتر سکرپٹ اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بن رہی ہیں۔
دی لیجنڈ آف مولا جٹ: اس فلم نے عالمی سطح پر 400 کروڑ روپے سے زائد کا بزنس کر کے پاکستانی فلموں کی طاقت ثابت کی۔لندن نہیں جاؤں گا اور جوائے لینڈ: ان فلموں نے عالمی فلمی میلوں (جیسے کانز) میں داد وصول کی۔
5. موسیقی کا کلیدی کردارپاکستانی فلموں کی کامیابی میں ہمیشہ موسیقی کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔ مہدی حسن، نصرت فتح علی خان اور عابدہ پروین جیسے گلوکاروں کے گیتوں نے فلموں کو لازوال بنا دیا۔
6. موجودہ چیلنجزآج کل انڈسٹری کو مالیاتی بحران، اسکرینز کی کمی اور بین الاقوامی فلموں (ہالی ووڈ) سے مقابلے کا سامنا ہے، لیکن فلم ساز نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X