اسلام آباد (اردو ٹائمز) معرکہِ حق سچائی کی وہ طاقت جس نے بھارتی غرور کو خاک میں ملا دیا
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان کی دفاعی تاریخ میں مئی 2025ء کا “معرکہِ حق” (آپریشن بنیان مرصوص) وہ درخشاں باب ہے جس نے قوم کے عزم، ایمان اور حب الوطنی کو نئی بلندیوں سے روشناس کرایا۔ آج اس عظیم الشان عسکری و اخلاقی کامیابی کو ایک برس مکمل ہو چکا ہے، لیکن اس کی گونج دشمن کے ایوانوں میں آج بھی لرزہ طاری کر دیتی ہے۔
یہ صرف ایک جنگ نہیں تھی، بلکہ حق و باطل کا وہ معرکہ تھا جہاں پاکستان نے سچائی کی طاقت سے بھارتی پروپیگنڈے کے پہاڑ کو ریت کی دیوار ثابت کر دیا۔
پہلگام واقعہ:
بھارتی سازش کا آغازاس تنازع کی بنیاد 22 اپریل 2025ء کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک مشکوک حملے سے رکھی گئی، جسے بنیاد بنا کر نئی دہلی نے روایتی مہم جوئی کا آغاز کیا۔ بھارت نے ثبوت فراہم کرنے کے بجائے “سندھ طاس معاہدہ” معطل کرنے جیسی گیدڑ بھبکیاں دیں، لیکن پاکستان نے نہایت ذمہ دارانہ رویہ اپنایا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کی منصفانہ پیشکش کی، جسے بھارت نے اپنے مزموم مقاصد کی خاطر مسترد کر دیا۔
آئی ایس پی آر کا پیغام:
“تیار، مستعد اور بے خوف”معرکہِ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر افواجِ پاکستان کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک نہایت طاقتور بیان جاری کیا ہے۔ ترجمانِ افواجِ پاکستان کے مطابق، پاک افواج مستقبل کے جنگی ماحول کے لیے پہلے سے زیادہ تیار، مرکوز اور مکمل طور پر مستعد ہیں۔ آئی ایس پی آر نے دشمن کو دو ٹوک پیغام دیا ہے کہ “معرکہِ حق میں دشمن نے پاکستان کی فیصلہ کن صلاحیت کا مشاہدہ کیا، اب کسی بھی مہم جوئی کا جواب پہلے سے زیادہ طاقت اور درستگی کے ساتھ دیا جائے گا۔”
پاک فضائیہ: فضاؤں کی ناقابلِ تسخیر محافظ ;
اس معرکے کا مرکز پاک فضائیہ کی وہ پیشہ ورانہ برتری تھی جس نے دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، آپر یشن بنیان مرصوص کے دوران فضائی کارروائیاں تاریخ میں منفرد اور اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کا شاہکار تھیں۔ آج پاک فضائیہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس، اسمارٹ سسٹمز اور ملٹی ڈومین آپریشنز کے ذریعے ایک ایسی فیصلہ کن قوت بن چکی ہے جو ہر قسم کے جدید چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ڈیجیٹل محاذ پر فتح;
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے درست نشاندہی کی کہ سچائی کی طاقت نے بھارتی میڈیا کی ڈرامہ بازی کو پاش پاش کر دیا۔ جہاں بھارت نے سچ کے خوف سے پاکستانی یوٹیوب چینلز بند کیے، وہاں پاکستان نے اپنی منفرد ڈیجیٹل حکمت عملی کے تحت بھارتی صارفین تک حقائق پر مبنی ویڈیوز پہنچائیں، جس نے خود بھارتی عوام کو اپنی حکومت کے جھوٹ پر سوال اٹھانے پر مجبور کر دیا۔امن کی خواہش مگر وقار کے ساتھافواجِ پاکستان کے بیان کے مطابق، پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور اس کی تزویراتی سوچ پختہ ہے، لیکن یہ امن ہمیشہ عزت، وقار اور خود مختار برابری کے اصولوں سے جڑا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاک افواج خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال اور دشمن کی ہر چال سے پوری طرح باخبر ہیں۔
معرکہِ حق نے ثابت کر دیا کہ جدید جنگ صرف روایتی میدانوں میں نہیں بلکہ ذہنوں اور بیانیوں کے محاذ پر بھی لڑی جاتی ہے۔ آج پوری قوم پاک فضائیہ کے ان غازیوں اور شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے اپنی جرات سے دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا۔ 10 مئی ‘یومِ معرکۂ حق نے یہ پیغام واضح کیا ہے کہ “سچ” وہ ہتھیار ہے جس کے سامنے دنیا کا بڑے سے بڑا پروپیگنڈا بھی نہیں ٹھہر سکتا۔
مئی 2025ء کی “معرکہِ حق” (آپریشن بنیان مرصوص) پاکستان کی دفاعی تاریخ کا وہ سنہرا اور درخشاں باب ہے جس نے قوم کے ایمان، جرات اور حب الوطنی کے جذبوں کو نئی بلندیوں سے روشناس کرایا۔
آج جب اس غیر معمولی عسکری کامیابی کو ایک برس مکمل ہو چکا ہے، اس کی بازگشت اب بھی ہر پاکستانی کے دل میں زندہ ہے، جو مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور قومی عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پہلگام واقعہ اور بھارتی عزائم کا بے نقاب ہونااس معرکے کا پس منظر اپریل 2025ء کے پہلگام واقعے سے جڑا ہے، جسے بنیاد بنا کر بھارت نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا۔
23 اپریل کو بھارتی کابینہ نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی جیسے سخت اقدامات کا اعلان کر کے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا۔ اس کے برعکس، وزیراعظم شہباز شریف نے 26 اپریل کو کاکول اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کی منصفانہ پیشکش کی، جسے بھارت نے اپنے مخصوص خوف کی وجہ سے مسترد کر دیا۔
سچائی کی طاقت اور ڈیجیٹل دفاع ;وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اس معرکے کی پہلی سالگرہ پر درست نشاندہی کی کہ سچائی کی طاقت نے بھارتی پروپیگنڈے کو پاش پاش کر دیا۔ بھارتی میڈیا کی ڈرامہ بازی اور سنسنی خیزی کے مقابلے میں پاکستان نے حقائق پر مبنی بیانیہ دنیا کے سامنے رکھا۔ پاکستان نے اپنی منفرد ڈیجیٹل حکمت عملی کے تحت بھارتی لوکیشنز کو جیو ٹیگ کر کے وہاں کے عوام تک پاک فضائیہ کے نغمے اور جے ایف-17 تھنڈر کی کارکردگی پہنچائی، جس نے خود بھارتی عوام کو اپنی حکومت کے جھوٹ پر سوال اٹھانے پر مجبور کر دیا۔
پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے اس موقع پر کئی اہم سوالات اٹھائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پہلگام واقعے کے چند منٹ بعد ہی ایف آئی آر کا اندراج اور بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان پر الزام تراشی ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ دنیا نے دیکھا کہ بھارتی جارحیت کا شکار معصوم بچے اور عام شہری ہوئے، جس سے بھارت کا “دہشت گردی کا ڈرامہ” ہمیشہ کے لیے بے نقاب ہو گیا۔ جہاں بھارتی عسکری قیادت سیاسی بیانات میں الجھی رہی، وہیں پاک مسلح افواج نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں اعلیٰ پیشہ ورانہ طرزِ عمل اپنایا۔جدید جنگ کے نئے تقاضے اور پاکستان کی تیاریآپریشن بنیان مرصوص نے ثابت کیا کہ آج کی جنگ صرف روایتی میدانوں تک محدود نہیں بلکہ یہ زمین، سمندر، فضا کے ساتھ ساتھ سائبر اور انفارمیشن وارفیئر (Information Warfare) تک پھیلی ہوئی ہے۔ پاکستان نے ان تمام محاذوں پر اپنی برتری ثابت کی اور دنیا کو دکھا دیا کہ وہ ایک ذمہ دار اور ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے دفاع کے لیے ہر لمحہ تیار ہے۔
آج ایک سال مکمل ہونے پر دنیا پاکستان کو ایک سنجیدہ اور مضبوط ملک کی حیثیت سے دیکھ رہی ہے۔
وزیراعظم کے وژن اور عسکری قیادت کے دفاعی و سفارتی اقدامات کی بدولت پاکستان نہ صرف دفاع بلکہ معاشی لحاظ سے بھی اپنا جائز مقام حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ 6 مئی کی رات تقریباً 1 بجے کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں خصوصاً مظفرآباد، کوٹلی، بہاولپور اور مریدکے کے اطراف دھماکوں کی اطلاعات آنا شروع ہوئیں۔ کچھ ہی دیر بعد بھارتی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ اس نے ‘آپریشن سندور’ کے تحت پاکستان اور آزاد کشمیر میں مبینہ ‘دہشت گرد ٹھکانوں’ کو نشانہ بنایا ہے۔ بھارت کے مطابق کارروائی رات گئے شروع ہوئی اور اس میں فضائیہ کے رافیل طیاروں اور دیگر جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی شب پاکستانی فضائیہ نے فوری طور پر ایئر ڈیفنس اور فضائی ردعمل دینا شروع کیا۔ پاکستانی عسکری ذرائع کے مطابق بھارتی طیارے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئے بغیر اسٹینڈ آف ہتھیار استعمال کر رہے تھے جبکہ پاکستان نے اپنے لڑاکا طیارے فضا میں بھیج دیے۔ اس دوران لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد کے قریب ایک بڑی فضائی جھڑپ ہوئی جسے بعد میں کئی بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کاروں نے حالیہ دہائیوں کی بڑی فضائی لڑائیوں میں شمار کیا۔6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاکستانی میڈیا پر تقریباً رات 3 بجے سے 3:30 بجے کے درمیان یہ خبریں چلنا شروع ہوئیں کہ پاکستان نے بھارتی جنگی طیارے مار گرائے ہیں۔ ابتدائی طور پر تعداد واضح نہیں تھی، تاہم صبح فجر کے بعد سرکاری اور نیم سرکاری ذرائع نے دعویٰ کیا کہ متعدد بھارتی طیارے تباہ ہوئے ہیں جن میں کم از کم ایک یا زیادہ رافیل طیارے شامل ہیں۔پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے 7 مئی کی صبح پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان نے دشمن کے 5 طیارے مار گرائے ہیں جن میں رافیل، مگ 29 اور ایس یو 30 شامل تھے۔ پاکستانی میڈیا میں یہی وہ لمحہ تھا جب رافیل گرنے کی خبر بڑے پیمانے پر بریکنگ نیوز بنی۔ بھارت نے ابتدا میں طیاروں کے نقصان کی واضح تصدیق نہیں کی، تاہم بعد میں بین الاقوامی میڈیا میں ایسے شواہد اور انٹیلی جنس رپورٹس سامنے آئیں جن میں کم از کم کچھ بھارتی طیاروں کے نقصان کا ذکر کیا گیا۔ فرانسیسی اور امریکی ذرائع ابلاغ میں بھی یہ رپورٹ ہوا کہ ایک یا زیادہ رافیل طیاروں کے نقصان کے امکانات زیرِ غور ہیں، اگرچہ بھارتی حکومت نے باضابطہ طور پر رافیل طیارے گرنے کی مکمل تفصیل جاری نہیں کی۔6 اور 7 مئی کی درمیانی شب ہوئے حملوں میں پاکستانی حکام کے مطابق شہری علاقے متاثر ہوئے اور خواتین و بچوں سمیت سویلین افراد شہید ہوئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع کا مکمل حق رکھتا ہے۔ جبکہ اُسی روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا صورتحال کو قریب سے دیکھ رہا ہے اور دونوں ممالک سے تحمل کی اپیل کرتا ہے۔8 مئی کو لائن آف کنٹرول اور پاک بھارت بین الاقوامی سرحد پر شدید گولہ باری جاری رہی۔ بھارت نے پاکستان پر ڈرون حملوں کا الزام لگایا جبکہ پاکستان نے کہا کہ بھارتی ڈرونز کو مار گرایا گیا۔ پاکستان نے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ بھارت کی جانب سے بھی فوجی تیاریوں میں اضافہ کیا گیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ابتدائی طور پر کہا کہ یہ معاملہ امریکا کا براہ راست مسئلہ نہیں لیکن بعد میں واشنگٹن نے سفارتی سرگرمیاں تیز کردیں۔چین، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، برطانیہ اور جی 7 ممالک نے دونوں ممالک سے تحمل اور مذاکرات کی اپیل کی۔9مئی کو صورتحال مزید سنگین ہوگئی۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے کئے۔ پاکستان نے فتح سیریز کے میزائلوں سمیت محدود جوابی کارروائیوں کا اشارہ دیا۔ اسی روز امریکی سفارتکاری انتہائی متحرک ہوگئی۔ مارکو روبیو نے وزیراعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے رابطہ کیا اور فوری ڈی ایسکلیشن پر زور دیا۔ امریکی ذرائع کے مطابق جے ڈی وینس نے نریندر مودی سے رابطہ کیا جبکہ مارکو روبیو نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے گفتگو کی۔ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اگر بھارت حملے روکے تو پاکستان کشیدگی کم کرنے پر آمادہ ہے۔10مئی کی صبح بھارت نے پاکستان کے بعض فضائی اڈوں پر حملوں کی کوشش کی۔ پاکستان نے اس کے جواب میں آپریشن بنیان المرصوص شروع کرنے کا اعلان کیا۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق اس کارروائی میں بھارتی فوجی تنصیبات اور اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستانی فضائیہ اور فوج نے بھارت کے مزید اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن میں بھارت کا فضاتی دفاعی نظام ایس 400 بھی شامل تھا جبکہ بھارت نے کہا کہ اس نے پاکستانی حملے ناکام بنائے۔ دونوں ممالک کے درمیان میزائل، ڈرون اور فضائی کارروائیاں جاری رہیں۔اسی دن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ امریکہ کی ثالثی میں پاکستان اور بھارت فوری جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں۔ بعد ازاں بھارتی خارجہ سیکریٹری وکرم مسری اور پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی جنگ بندی کی تصدیق کی۔ اعلان کے مطابق شام 5 بجے بھارتی وقت سے زمینی، فضائی اور بحری کارروائیاں روکنے پر اتفاق ہوا۔ شہباز شریف نے ٹرمپ، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، چین، برطانیہ اور اقوام متحدہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی میں ان کا اہم کردار رہا۔ بھارت نے بعد میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ جنگ بندی براہ راست فوجی رابطوں کے ذریعے طے ہوئی، کسی تیسرے فریق کی ثالثی نہیں تھی۔ جنگ بندی کے چند گھنٹوں بعد بھارت نے پاکستان پر خلاف ورزی کا الزام لگایا جبکہ پاکستان نے اس الزام کو مسترد کردیا۔ پاکستان میں 10 مئی کو بعد ازاں ‘یومِ معرکۂ حق’ کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔اس دوران،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ’معرکہ حق‘ میں پاکستان کی کامیابی صرف فضائیہ، بحریہ اور دیگر فورسز کی نہیں بلکہ انٹیلیجنس اداروں کی بروقت اور درست معلومات کا بھی بڑا کردار تھا۔پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے جنگ کے دوران انتہائی اہم اور بروقت معلومات فراہم کیں، جن کی بنیاد پر پیشگی تیاری ممکن ہوئی۔ ان کے مطابق یہ معلومات تقریباً مکمل طور پر درست ثابت ہوئیں، جس سے آپریشنز کے نتائج بہت بہتر آئےانہوں نے کہا کہ اس جنگ میں ڈرون حملوں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق دشمن نے مختلف چھوٹے اور درمیانے سائز کے ڈرونز کے ذریعے مختلف علاقوں میں حملے کرنے کی کوشش کی، تاہم پاکستان نے مؤثر دفاعی حکمت عملی سے انہیں ناکام بنایا۔وفاقی وزیر کے مطابق اس دوران دشمن کی جانب سے بڑے پیمانے پر ڈرون سرگرمیاں دیکھی گئیں، جس سے خطے میں خوف و ہراس کی صورتحال بھی پیدا ہوئی، تاہم پاکستان نے اپنے دفاعی نظام کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا۔پاکستان کی حکمت عملی کا مقصد صرف دفاع تھا اور کسی بھی مرحلے پر شہری آبادی یا سویلین مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ مزید کہا کہ پوری جنگ کے دوران پاکستان کی توجہ صرف اپنے دفاعی نظام، تنصیبات اور قومی سلامتی کے تحفظ پر رہی، اور تمام اداروں نے مل کر بہترین ہم آہنگی کے ساتھ کام کیا۔کہا کہ “معرکہ حق” میں حاصل ہونے والی کامیابی قومی اتحاد، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید دفاعی صلاحیتوں کا نتیجہ ہے، جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔محسن نقوی نے کہا کہ ہماری رینجرز جو بارڈر کے بالکل ساتھ ہوتی ہیں، انہوں نے کئی دنوں تک پاکستان میں داخل ہونے والے ڈرونز کو گرا دیا۔ آپ کے سامنے ہے کہ جن کے پاس اور کچھ نہیں تھا وہ اپنی گنز استعمال کر کے ڈرونز گراتے رہے۔ بہت کم تعداد ہے جو شہروں تک پہنچی، زیادہ تر ڈرونز جو تھے وہ ہماری رینجرز نے بارڈر پر ہی گرا دیے۔انہوں نے ہماری تقریباً 100 کے قریب پوسٹوں پر اس وقت حملہ کیا تھا، اور اللہ کا شکر ہے کہ ان کو اسی طرح کا جواب ملا جس کے وہ مستحق تھے۔ آپ کے سامنے وہ تصویریں بھی موجود ہیں جن میں انہیں ایل او سی پر خود سفید جھنڈا لہرانا پڑا کہ اب بس کر دیں۔وزیر داخلہ کے مطابق سائبر اٹیک کی بھی انہوں نے کوشش کی کہ کہیں نہ کہیں کامیاب ہو جائیں، یہ وہ ساری چیزیں ہیں جو جنگوں میں نئے طریقوں سے استعمال ہوتی ہیں، جو عام جنگ سے بالکل مختلف ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ سائبر حملوں میں وہ ہم تک پہنچ نہیں سکے۔ جو ہمارے نوجوانوں نے ان کے ساتھ کیا، وہ بہتر وہی بتا سکتے ہیں۔کیونکہ ان کا کوئی نظام ایسا نہیں تھا جو محفوظ رہ گیا ہو۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمارے میڈیا نے اس معاملے کو بہترین انداز میں پیش کیا، جس پر میں سب سے زیادہ تعریف کروں گا کہ انہوں نے پورے ملک میں اتحاد اور ایک آواز پیدا کی۔ پاکستان میں اس سے پہلے ایسی مثال نہیں ملتی۔ دوسری طرف بھارتی میڈیا مسلسل کنفیوژن کا شکار رہا، اور آپ کو یاد ہوگا کہ انہوں نے خود ہی اپنے اوپر حملے کی خبریں پھیلا دیں، جبکہ ہم بار بار کہہ رہے تھے کہ ابھی ہم نے کوئی حملہ نہیں کیا، جب کریں گے تو بتا کر کریں گے، چھپ کر نہیں کریں گے۔ انہوں نے پورے بھارت میں یہ تاثر دیا کہ امرتسر اور دیگر علاقوں پر حملے ہو گئے ہیں، جبکہ ہماری پوزیشن واضح تھی کہ جب بھی کارروائی ہوگی تو سامنے سے اور واضح ہوگی۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ معرکہ حق کے دوران اور خطے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت میں کئی ایسے مواقع آئے جن میں غیر معمولی حالات پیدا ہوئے، تاہم ان کا حل اللہ تعالیٰ کی مدد اور بہترین حکمت عملی سے ممکن ہوا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں اہم فیصلوں کے دوران غیر معمولی حالات بھی پیدا ہوئے، لیکن جس طرح معاملات سنبھالے گئے وہ قابلِ ذکر ہے۔ ان کے مطابق ایسے مواقع بھی آئے جب صورتحال انتہائی حساس تھی اور فیصلہ کن لمحات میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں محسن نقوی نے کہا کہ انہوں نے خود دیکھا کہ مذاکرات کے دوران بعض اوقات بات چیت ٹوٹنے کے قریب پہنچ جاتی تھی اور پھر اچانک دوبارہ بحال ہو جاتی تھی۔ ان کے مطابق یہ ایک ایسا عمل تھا جس میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ اسی طرح جنگ کے دوران بھی ایک اہم موقع پر بلوچستان کے ایک فوجی اڈے پر حملہ کیا گیا، اس وقت صورتحال انتہائی حساس تھی اور سیزفائر کے قریب معاملات چل رہے تھے۔ ان کے مطابق تقریباً 16 میزائل داغے گئے، تاہم ان میں سے زیادہ تر اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکے اور صرف ایک میزائل نے ہدف کو متاثر کیا، جبکہ باقی میزائل راستے میں ہی ناکام ہو گئے۔اس طرح کی صورتحال میں اس حد تک درست دفاعی ردعمل ممکن ہونا غیر معمولی بات ہے اور ان کے مطابق یہ صرف حکمت عملی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی خاص مدد اور نصرت کا نتیجہ تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایسے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب حالات انتہائی نازک ہوں تو کامیابی کے لیے بہترین منصوبہ بندی اور اللہ کی مدد دونوں ضروری ہوتے ہیں۔ معرکہ حق کے دوران پاکستان کی جانب سے کیے گئے دفاعی اور جوابی اقدامات انتہائی درست نشانے پر تھے اور دشمن کے اہم اہداف کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔بتایا کہ ایک موقع پر بھارت کے ایک بڑے اور حساس علاقے کی جانب میزائل فائر کیے گئے، تاہم درست ہدف بندی کے باعث یہ میزائل اپنی اصل ہدف سے ہٹ کر صرف فوجی نوعیت کے اہداف تک محدود رہے، جس سے شہری آبادی کو نقصان نہیں پہنچا۔ اگر معمولی سی بھی غلطی ہو جاتی تو سول آبادی متاثر ہو سکتی تھی، تاہم پاکستان کی جانب سے انتہائی احتیاط اور درستگی کے ساتھ کارروائی کی گئی۔ وفاقی وزیر کے مطابق اس دوران بھارت کے بڑے ایندھن ذخائر اور اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے اس کے اہم اسٹوریج نظام کو نقصان پہنچا۔ان کارروائیوں کے دوران درجنوں اہداف زیر نگرانی اور نشانے پر تھے، اور پاکستان کی دفاعی حکمت عملی انتہائی مؤثر ثابت ہوئی۔ مزید کہا کہ اس صورتحال میں دشمن کو احساس ہو گیا تھا کہ اگلے چند گھنٹوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، اسی لیے کشیدگی کم کرنے کے لیے سیزفائر کی طرف پیش رفت کی گئی۔ پاکستان کی کامیابی کا ایک بڑا سبب درست منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی اور بروقت فیصلے تھے جنہوں نے جنگی صورتحال میں واضح برتری دلائی۔قبل ازیں,پاکستان ایئرفورس کی جانب سے ’معرکہ حق‘ میں شاندار کارکردگی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب میں سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر نے خطاب کیا اور اس موقع کو قابلِ فخر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی پاکستان فضائیہ کے بلند حوصلے، پیشہ ورانہ مہارت اور فوری ردعمل کا نتیجہ ہے۔ایئر چیف کے مطابق کسی بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر پاک فضائیہ نے فوری طور پر ہائی الرٹ نافذ کیا اور فضائی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کی ہر نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی گئی اور جدید ریڈار سسٹم اور فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر فعال رکھا گیا۔بتایا کہ پاک فضائیہ نے مختلف علاقوں میں مسلسل فضائی گشت اور فوری ردعمل کے لیے جنگی طیاروں کی تیاری برقرار رکھی تاکہ کسی بھی جارحیت کا فوری جواب دیا جا سکے۔ ان کے مطابق متعدد آپریشنز کے دوران فضائیہ نے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا۔ایئر چیف مارشل نے کہا کہ پاک فضائیہ نے نہ صرف دفاعی حکمت عملی کو مؤثر بنایا بلکہ مختلف علاقوں میں اپنی دفاعی اور آپریشنل تیاریوں کو بھی تیزی سے مکمل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فضائیہ ہر سطح پر ہمہ وقت تیار ہے اور کسی بھی صورتحال میں ملک کا دفاع یقینی بنائے گی۔ایئر چیف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’معرکہ حق‘ پاکستان فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کی روشن مثال ہے اور یہ تاریخ میں سنہری الفاظ میں لکھی جائے گی۔ پاکستان فضائیہ کے مطابق دشمن نے ابتدا میں اپنی ایک ناکام فضائی حکمتِ عملی ہاشم آرا میں تعینات کی، جسے بعد میں امبالہ منتقل کیا گیا اور پھر یہ پورا فضائی نظام گوالیار کی طرف منتقل کر دیا گیا۔ یہ حکمتِ عملی اس مقصد کے لیے تھی کہ اپنی مرکزی فضائی طاقت کو چھپایا جا سکے، تاہم پاکستان فضائیہ کے جنوبی اور مرکزی علاقوں میں سخت اور جارحانہ فضائی پوزیشن کے باعث دشمن کو اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنا پڑی اور اسے شمال سے جنوب تک اپنے طیارے دوبارہ تعینات کرنے پڑے، جس سے ان کی اصل پوزیشن ظاہر ہو گئی۔پاکستان فضائیہ نے اسی دوران اپنی حکمتِ عملی کو خفیہ رکھنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے جن میں الیکٹرانک سگنلز میں تبدیلی، بار بار نقل و حرکت اور غیر متوقع آپریشنل پیٹرن شامل تھے۔ اس حکمتِ عملی کے باعث دشمن کو پاکستان کے منصوبوں کا اندازہ نہیں ہو سکا۔ فضائیہ کے مطابق دشمن کی اس عسکری تیاری کے مقابلے میں پاکستان فضائیہ مکمل الرٹ رہی اور مسلسل فضائی نگرانی جاری رکھی تاکہ ملکی فضائی حدود کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ اس دوران وزارت اطلاعات و نشریات کے زیر اہتمام معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر کتاب ’دی بیٹل آف ٹروتھ‘ کی تقریب رونمائی کی گئی، جس کے مہمان خصوصی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف تھے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ، پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات بیرسٹر دانیال عزیز اور وفاقی سیکریٹری اطلاعات و نشریات اشفاق احمد خلیل نے پکچر بک ’دی بیٹل آف ٹروتھ‘ کی رونمائی کی۔ تقریب میں کتاب کے حوالے سے دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ معرکہ حق میں پاکستان نے بیانیے اور سفارتی محاذ پر بھارت کو شکست دی۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بھارت کے خلاف عظیم فتح عطا کی انہوں نے کہا کہ پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا نے معرکہ حق میں انتہائی مثبت کردار ادا کیا، اور اس فتح کے پیچھے پوری قوم کا جذبہ اور لگن شامل تھی۔ ان کے مطابق بیانیے کی جنگ میں پاکستان کے میڈیا، سوشل میڈیا اور نوجوانوں نے بھرپور ساتھ دیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ بھارت کی مکاری، جھوٹ اور منافقت سب پر عیاں ہے، اور دنیا نے بھارت کے بیانیے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ زندہ قومیں عزت اور وقار کے ساتھ اپنا مقام خود بناتی ہیں۔
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ حق اور سچ پر ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل رہی، اور انہوں نے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ ان کے مطابق معرکہ حق کے دوران آئی ایس پی آر اور وزارت اطلاعات کے درمیان مکمل ہم آہنگی رہی۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد اور اتفاق کی بدولت قومی بیانیے کی ترویج ممکن ہوئی اور اسی اتحاد کے باعث بیانیے کی جنگ جیتی گئی۔ تقریب سے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض (ہلال امتیاز ملٹری)، زرین خان مگسی، ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور سینیٹر پلوشہ خان نے بھی خطاب کیا۔اس دوران،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معرکہ حق کا یاد گار سال مکمل ہونے پر قوم اور مسلح افواج کو مبارکباد پیش کی ہے اور اسے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرصدارت کور کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ فیلڈ مارشل نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ معرکہ حق قومی اتحاد، اجتماعی عزم اور پاکستان کی خودمختاری کی ہر قیمت پر تحفظ کے غیر متزلزل عہد کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ معرکہ حق عوام، حکومت اور افواجِ پاکستان کے درمیان غیر متزلزل ہم آہنگی کی علامت ہے، جو تمام اندرونی و بیرونی چیلنجز کے مدِمقابل ’بنیان مرصوص‘ کی مانند یکجا کھڑے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کو کمانڈرز کانفرنس میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے معصوم شہریوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ فورم نے شہدا کی بے مثال قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اعادہ کیاکہ شہدا کی لازوال قربانیاں ہمیشہ پاکستان کی قومی سلامتی، اتحاد اور استقامت کی بنیاد بنی رہیں گی۔
آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے پاکستان کی مسلح افواج کی تیاری، پیشہ ورانہ مہارت اور جنگی صلاحیتوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔
آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے ملک بھر میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر جاری انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں میں کمانڈرز اور فارمیشنزکے عزم، مستعدی اور کامیابی کو سراہا۔
کور کمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ دہشتگرد نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے، اُن کے معاون انفراسٹرکچر کی تباہی اور پاکستان کی سرزمین کو کسی بھی شر انگیز کارروائی سے روکنے کے لیے موجودہ آپریشنل رفتار برقرار رکھی جائے گی۔
فورم نے آپریشن غضب للحق کے ذریعے دہشتگردوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کی مسلسل تباہی کا احاطہ کیا۔
کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی غیر منطقی اور گمراہ کن پالیسی کے تحت خوارج اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
فورم نے کہاکہ افغان طالبان رجیم کی دہشتگردی کو سپورٹ افغان عوام کے مفادات کے مکمل برعکس ہے اور یہ رجیم اب اپنے عوام کے سامنے پوری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔
فورم کے مطابق افغان طالبان رجیم کی جانب سے حالیہ دنوں میں ایک مسلسل پروپیگنڈا کے تحت پاکستان پر افغانستان کے اندر شہریوں کو نشانہ بنا نے کا جھوٹا الزام لگایا جارہا ہے۔
فورم نے کہاکہ یہ گمراہ کن بیانیہ افغان طالبان رجیم کی ایک منظم ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا اور خود کو مظلوم پیش کرنے کا ڈرامہ رچانا ہے۔
کور کمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا کہ پاکستان ان بے بنیاد الزامات کو واضح طور پر مسترد کر تا ہے اور واضح کرتا ہے کہ ہماری دفاعی کارروائیاں صرف دراندازوں، دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور معان انفراسٹرکچر کے خلاف درست اہداف پر مبنی ہیں۔
فورم نے علاقائی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیاکہ ابھرتی ہوئی جیو پولیٹیکل پیشرفت علاقائی استحکام پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔
کورکمانڈرز کانفرنس میں علاقائی کشیدگی سے بچاؤ اور تحمل اختیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
کور کمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا کہ پاکستان مسلسل ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطے میں استحکام کے فروغ اور صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
فورم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ خطے میں امن اور استحکام کا دارومدار باہمی تحمل، ذمہ داری اور خودمختاری کے احترام پر مبنی ہے۔
کور کمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا کہ قومی سطح پر معرکہ حق کی یاد منانا بھارتی متکبرانہ سیاسی سوچ کے لیے واضح پیغام ہے کہ پاکستانی قوم متحد، مضبوط اور ہر لحاظ سے مکمل طور پر تیار ہے۔
فورم نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری مظالم، ماورائے عدالت قتل اور آبادیاتی تبدیلیوں کی شدید مذمت کی۔
فورم نے مقبوضہ جموں و کشمیرکے عوام کی منصفانہ جدوجہد کے لیے پاکستان کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔کانفرنس کے اختتام پر آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کمانڈروں کو ہدایت کی کہ وہ ابھرتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر مستعدی اور آپریشنل تیاری کی اعلیٰ سطح کو برقرار رکھیں۔ آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسزنے پیشہ ورانہ مہارت کے تسلسل، مربوط ردِعمل اور روایتی و غیر روایتی دونوں نوعیت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان کی فضائی حدود کا یہ دفاع تاریخ کا وہ روشن باب ہے جو انشااللہ ہمیشہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔

