LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) آبنائے ہرمز بحران اور امریکہ–ایران مذاکرات کا مستقبل

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) ایران کی جانب سے امریکہ کو پیش کی گئی نئی تجویز ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں تصادم اور مفاہمت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ تہران کی جانب سے یہ پیشکش بظاہر لچک کی علامت ہے مگر اس کے پیچھے وہی پرانے اسٹریٹیجک مفادات کارفرما ہیں جو اس بحران کو مسلسل پیچیدہ بنائے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان فاصلے کم ہونے کے بجائے اب بھی نمایاں ہیں، خصوصاً جوہری پروگرام اور علاقائی سیکیورٹی کے معاملات پر۔

اس بحران کا مرکز آبنائے ہرمز ہے، جو دنیا کی توانائی کی فراہمی کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کشیدگی نے نہ صرف عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ تیل کی قیمتوں کو بھی غیر یقینی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ ایران کی جانب سے بحری گزرگاہ کو محدود کرنا اور امریکہ کی طرف سے ایرانی بندرگاہوں پر دباؤ ڈالنا ایک ایسی خطرناک توازن کی کیفیت پیدا کر چکا ہے جہاں دونوں فریق ایک دوسرے کو نقصان پہنچا رہے ہیں مگر کھلی جنگ سے گریزاں ہیں۔

ایران کی نئی حکمت عملی اس کی سابقہ پالیسی سے مختلف ہے۔ پہلے تہران مذاکرات سے قبل پابندیوں کے خاتمے کو لازمی شرط قرار دیتا تھا، مگر اب وہ بیک وقت مختلف معاملات پر بات چیت کے لیے آمادہ نظر آتا ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مسلسل اقتصادی دباؤ نے ایران کو کسی حد تک لچک دکھانے پر مجبور کیا ہے۔ تاہم، اس کے باوجود ایران اپنے جوہری پروگرام پر بڑے پیمانے پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی مؤقف اب بھی سخت ہے۔ واشنگٹن کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ اسی لیے امریکہ ایران سے یورینیم افزودگی روکنے اور اپنے ذخائر حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جو تہران کے لیے قابل قبول نہیں۔ یہی بنیادی اختلاف دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی جامع معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

یہ صورتحال نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، جو سو ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہیں، عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال رہی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً پاکستان جیسے ممالک، اس دباؤ کو زیادہ شدت سے محسوس کرتے ہیں جہاں مہنگائی اور مالی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان کو ممکنہ مذاکراتی مقام کے طور پر سامنے آنا ایک اہم پیش رفت ہے۔ اسلام آباد کے دونوں ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات اسے ایک قابل اعتماد ثالث بناتے ہیں۔ تاہم، ثالثی کی کوششیں اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہیں جب فریقین اپنی بنیادی پوزیشنز میں لچک پیدا کریں، جو فی الحال ممکن نظر نہیں آتا۔

ایران کی جانب سے مذاکرات کے مرحلہ وار طریقہ کار کی تجویز—پہلے آبنائے ہرمز اور جنگی صورتحال، پھر جوہری پروگرام—ایک عملی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ مگر امریکہ کے لیے جوہری مسئلہ ہی بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اس ترتیب پر اتفاق رائے مشکل دکھائی دیتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ صورتحال ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں تصادم اور سفارت کاری دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ اگرچہ بات چیت کے دروازے بند نہیں ہوئے، مگر دونوں جانب سے سخت مؤقف اس عمل کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔ کسی بھی غلط اندازے یا اشتعال انگیزی کے نتائج نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں، جن کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔

آخرکار، اس بحران کا حل صرف وقتی مفاہمت سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے دیرپا سیاسی عزم، باہمی اعتماد اور حقیقت پسندانہ رویے کی ضرورت ہے۔ سوال یہ نہیں کہ مذاکرات ہوں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا دونوں فریق اس سطح کی سنجیدگی دکھا پائیں گے جو ایک پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X