اسلام آباد (اردو ٹائمز) امریکا ,ایران کشیدگی قانونی اور آئینی مرحلے میں داخل
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اب ایک ایسے فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں فوجی محاذ کے ساتھ ساتھ قانونی اور سفارتی محاذ بھی گرم ہیں۔پاکستان اس تنازعے میں ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایران نے ایک عارضی جنگ بندی کی تجویز دی ہے، جس کے بدلے میں وہ آبنائے ہرمز (اسٹریٹ آف ہرمز) کو بین الاقوامی تجارت کے لیے کھولنے پر تیار ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور جنگ کے بادلوں کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جس کا دباؤ براہِ راست امریکی معیشت پر بھی پڑ رہا ہے
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اس وقت ایک انتہائی نازک موڑ پر ہے، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے یکم مئی 2026 کی ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے۔اگر معاملہ سپریم کورٹ میں جاتا ہے، تو عدالت یا تو اسے “سیاسی معاملہ” قرار دے کر مداخلت سے انکار کر دے گی ,جو عملاً صدر کی جیت ہوگی ، یا پھر وہ وار پاورز ایکٹ کی توثیق کرتے ہوئے صدر کو فوجی کارروائیاں روکنے کا حکم دے سکتی ہے۔ تاہم، عدالتیں عام طور پر اس وقت تک مداخلت نہیں کرتیں جب تک کانگریس اور صدر کے درمیان تعطل اپنی آخری حد تک نہ پہنچ جائے۔
موجودہ صورتحال کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
وار پاورز ایکٹ کی ڈیڈ لائن:
1973 کے وار پاورز ایکٹ کے تحت، صدر کو فوجی کارروائی شروع کرنے کے 60 دنوں کے اندر کانگریس سے منظوری لینا لازمی ہے۔
ایران کے خلاف 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی کارروائی کے بعد، یہ قانونی مدت یکم مئی 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔
کانگریس میں سیاسی تعطل:
امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) میں اب تک ایسی تمام قراردادیں مسترد ہو چکی ہیں جو صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے یا انہیں باقاعدہ منظوری دینے کے لیے پیش کی گئی تھیں۔ ریپبلکن اکثریت صدر کی حمایت کر رہی ہے جبکہ ڈیموکریٹس اس جنگ کو غیر آئینی قرار دے رہے ہیں۔
مذاکرات اور جنگ بندی: پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا ہے۔
ایران نے ایک عارضی جنگ بندی کی تجویز دی ہے جس میں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو کھولنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی پیشکش شامل ہے، تاہم مستقل حل ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
ممکنہ منظر نامہ: اگر یکم مئی تک صدر کو کانگریس کی منظوری نہیں ملتی، تو انہیں قانونی طور پر اپنی افواج واپس بلانے یا فوجی کارروائیاں محدود کرنے کا حکم دینا ہوگا، بصورتِ دیگر وہ ایک آئینی بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔ تاہم، ماہرین کے مطابق صدر 30 دن کی اضافی مہلت (Extension) کی درخواست بھی کر سکتے ہیں۔
امریکی صدر پر اس وقت دباؤ کی دو بڑی تہیں ہیں جو انہیں سفارتی حل کی جانب دھکیل رہی ہیں:
اندرونی دباؤ (آئینی بحران کا خطرہ): اگر یکم مئی تک کانگریس سے باقاعدہ منظوری نہیں ملتی، تو صدر ٹرمپ کی فوجی کارروائیاں امریکی قانون کے تحت “غیر قانونی” تصور کی جا سکتی ہیں۔ ڈیموکریٹس اس معاملے کو عدالتوں میں لے جانے اور صدر کے مواخذے (Impeachment) کی دھمکی دے رہے ہیں، جس سے نمٹنا انتخابی سال میں ان کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
عالمی دباؤ (معاشی اور سفارتی ناکہ بندی): ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی ناکہ بندی نے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے چین اور یورپی اتحادیوں میں بے چینی ہے۔
پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے اسلام آباد مذاکرات نے ایک متبادل راستہ دکھایا ہے، جس کی حمایت عالمی برادری کر رہی ہے تاکہ خطے کو ایک مکمل تباہ کن جنگ سے بچایا جا سکے۔صدر ٹرمپ کے پاس اب صرف چند دن باقی ہیں کہ وہ یا تو کانگریس کو راضی کریں یا پھر ایران کی عارضی جنگ بندی کی پیشکش قبول کر کے سیاسی ساکھ بچائیں۔
اگر صدر ٹرمپ یکم مئی 2026 کی قانونی ڈیڈ لائن کو نظر انداز کرتے ہیں، تو امریکی عدالتی نظام میں اس کے اثرات اور سپریم کورٹ کے ممکنہ کردار کے حوالے سے درج ذیل صورتحال پیدا ہو سکتی ہے:
سیاسی سوال کا نظریہ (Political Question Doctrine): تاریخی طور پر، امریکی عدالتیں جنگی اختیارات سے متعلق تنازعات میں مداخلت سے گریز کرتی رہی ہیں۔ ماضی کے کیسز، جیسے 1982 کا Crockett v. Reagan اور 2002 کا Doe v. Bush، اس بنیاد پر مسترد کر دیے گئے کہ یہ “سیاسی سوالات” ہیں جن کا فیصلہ پارلیمنٹ اور صدر کو مل کر کرنا چاہیے، عدالتوں کو نہیں۔
سپریم کورٹ میں ممکنہ سماعت:
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر کانگریس کے اراکین یا فوجی اہلکار اس معاملے کو عدالت میں لے جاتے ہیں، تو یہ کیس سپریم کورٹ تک پہنچ سکتا ہے۔ اس صورت میں عدالت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا 1973 کا وار پاورز ایکٹ آئینی ہے یا نہیں، کیونکہ کئی صدور اسے صدر کے بطور “کمانڈر ان چیف” اختیارات میں غیر قانونی مداخلت قرار دے چکے ہیں۔
حالیہ عدالتی رویہ: فروری 2026 میں سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے اقدامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے یہ واضح کیا تھا کہ صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کر سکتے۔ یہ فیصلہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ موجودہ عدالت صدر کے ہنگامی اختیارات کو محدود کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔قانونی استثنیٰ کا مسئلہ: جولائی 2024 میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے مطابق صدر کو اپنے سرکاری فرائض کی ادائیگی کے دوران کیے گئے اقدامات پر “استثنیٰ” (Immunity) حاصل ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اس فیصلے کو اپنے دفاع میں استعمال کر سکتی ہے کہ جنگ کا تسلسل صدر کا آئینی اختیار ہے۔پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ایران کے سرکاری موقف میں ایک واضح لچک دیکھی گئی ہے، جس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
مشروط جنگ بندی کی پیشکش:
ایران نے پہلی بار باقاعدہ طور پر ایک عارضی جنگ بندی کی تجویز دی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنی فوجی کارروائیاں روکنے کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ امریکا بھی اپنی جارحیت بند کرے۔
آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz):
ایران نے پاکستان کے ذریعے یہ پیغام پہنچایا ہے کہ اگر جنگ بندی کے عمل میں پیش رفت ہوتی ہے، تو وہ عالمی تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستے “آبنائے ہرمز” سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر غور کر سکتا ہے۔
سفارتی حل کو ترجیح:
ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ ایک وسیع پیمانے کی جنگ نہیں چاہتا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق، اگر امریکا ان کی خود مختاری کا احترام کرے اور خطے سے اپنی مداخلت کم کرے، تو وہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے لیے تیار ہیں۔
پاکستان پر اعتماد:
ایران نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے ایک “غیر جانبدار اور معتبر” سہولت کار قرار دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ براہِ راست امریکا سے بات کرنے کے بجائے علاقائی ثالثی کو ترجیح دے رہا ہے۔تاہم، ایران کا موقف اب بھی اس شرط سے جڑا ہے کہ امریکا کو 1973 کے وار پاورز ایکٹ کے تحت اپنی فوجی کارروائیوں کو قانونی طور پر ختم کرنا ہوگا۔
ایران کی جانب سے پاکستان کی ثالثی میں پیش کی گئی حالیہ پیشکش پر وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کا ردِعمل ملا جلا اور کافی حد تک محتاط رہا ہے۔تازہ ترین صورتحال کے مطابق اہم نکات یہ ہیں:وائٹ ہاؤس کا موقف: ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کی اس تجویز کا جائزہ لیا ہے جس میں آبنائے ہرمز کو کھولنے کی بات کی گئی ہے۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے اس پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی یہ پیشکش “بہتر ہو سکتی تھی”۔ وائٹ ہاؤس کا اصرار ہے کہ کسی بھی معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام اور یورینیم کی افزودگی کا خاتمہ شامل ہونا چاہیے، جس کا اس نئی تجویز میں ذکر نہیں ہے۔پینٹاگون کی پوزیشن: امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے واضح کیا ہے کہ جب تک ایران امریکی شرائط تسلیم نہیں کرتا، بحری ناکہ بندی (Blockade) جاری رہے گی۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی افواج کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار (“Locked and Loaded”) ہیں اور آبنائے ہرمز کا کنٹرول فی الحال امریکی بحریہ کے پاس ہے۔
پاکستان کی ثالثی کی اہمیت:
وائٹ ہاؤس نے پاکستان کو اس تنازعے میں “واحد ثالث” کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ اگرچہ سلیمان وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا دورہ اسلام آباد ملتوی کر دیا گیا تھا، لیکن واشنگٹن اب بھی سفارتی چینلز کے ذریعے پاکستان سے رابطے میں ہے تاکہ ایران پر دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔
ڈیڈ لائن کا دباؤ:
صدر ٹرمپ پر یکم مئی کی قانونی ڈیڈ لائن کا شدید دباؤ ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اشارہ دیا گیا ہے کہ صدر خود فیصلہ کریں گے کہ آیا اس ڈیڈ لائن کے بعد فوجی کارروائی جاری رکھنی ہے یا اسے سفارتی کامیابی میں تبدیل کرنا ہے۔مختصراً یہ کہ امریکا اس پیشکش کو ایران کی “کمزوری” قرار دے رہا ہے اور کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل ایران سے مزید رعایتیں (خاص طور پر جوہری معاملے پر) حاصل کرنا چاہتا ہے۔یہ یاد رکھیں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب ایک ایسے قانونی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نہ صرف سرحد پار دشمن سے بلکہ اپنے ہی ملک کے آئین اور پارلیمنٹ سے بھی نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے۔ 1973 کے ’وار پاورز ایکٹ‘ کے تحت صدر ٹرمپ کے پاس یکم مئی تک کی مہلت ہے کہ وہ کانگریس سے اس جنگ کو جاری رکھنے کی باقاعدہ منظوری حاصل کریں، بصورتِ دیگر انہیں ساٹھ دن کی مدت مکمل ہونے پر فوجی کارروائیاں محدود کرنی ہوں گی۔ بائیس اپریل جب صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تو انہوں نے مذاکرات کی بحالی کے لیے کوئی واضح تاریخ نہیں دی، بلکہ صرف اتنا کہا کہ تہران کی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی اور وہ ایران کی جانب سے مذاکرات کی نئی تجویز کا انتظار کریں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر کو ایران سے زیادہ واشنگٹن میں موجود ڈیڈ لائن کی فکر ہونی چاہیے۔ وار پاورز ایکٹ کے مطابق اگر کانگریس ساٹھ دن کے اندر جنگ جاری رکھنے کی مشترکہ قرارداد منظور نہیں کرتی، تو صدر کو اپنی افواج واپس بلانی پڑتی ہیں۔ اس قرارداد کی منظوری کے لیے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے جو اب تک حاصل نہیں ہو سکی ہے امریکی صدر تحریری طور پر یہ کہہ کر تیس دن کی مزید مہلت لے سکتے ہیں کہ ’ناگزیر فوجی ضرورت‘ کی وجہ سے فورسز کا وہاں رہنا ضروری ہے، لیکن نوے دن گزرنے کے بعد اگر کانگریس نے باقاعدہ اعلانِ جنگ نہ کیا ہو تو صدر کو ہر صورت آپریشن ختم کرنا پڑتا ہے۔
واضح رہے کہ ماضی میں صدور نے اس قانون کو غیر آئینی قرار دے کر نظر انداز بھی کیا ہے اور کانگریس کے پاس صدر کو اس پر عمل درآمد کے لیے مجبور کرنے کا کوئی واضح قانونی راستہ موجود نہیں۔ سیاسی طور پر صدر ٹرمپ کے لیے کانگریس سے منظوری لینا ایک کٹھن مرحلہ نظر آتا ہے۔ پندرہ اپریل کو سینیٹ میں صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش اگرچہ 52-47 سے ناکام ہو گئی تھی، لیکن ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ریپبلکن سینیٹر جان کرٹس نے حال ہی میں لکھا ہے کہ میں صدر کے دفاعی اقدامات کی حمایت کرتا ہوں لیکن ساٹھ دن سے زائد جنگ جاری رکھنے کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی ہے، کیونکہ یہ ایک آئینی تقاضا ہے۔ ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حیران کن ہے سینیٹ کی ریپبلکن قیادت اس جنگ کی نگرانی نہیں کر رہی جس پر ہر ہفتے اربوں ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔ اگرچہ آٹھ اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن سمندر میں لڑائی اب بھی جاری ہے۔ تاہم، سوال اب بھی وہیں ہے کہ کیا ٹرمپ یکم مئی کے بعد بھی جنگ جاری رکھیں گے؟ ٹرمپ کی پوری پہچان ’جیت‘ پر مبنی ہے، اگر وہ پیچھے ہٹتے ہیں تو یہ ان کی شکست تصور ہوگی۔ وہ ایک جواری کی طرح ہیں اور ممکن ہے کہ وہ کسی بڑی کامیابی کی امید میں اس جنگ کو مزید طول دیں ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ کانگریس کو نظر انداز کرنے کے لیے 2001 اور 2002 کے ان قوانین کا سہارا لے سکتے ہیں جو نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے بنائے گئے تھے۔ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے لیے بھی اسی پرانے قانون کا سہارا لیا تھا۔ ماضی کے امریکی صدور بھی ایسے حربے استعمال کرتے رہے ہیں۔ بل کلنٹن نے 1999 میں یوگوسلاویہ کے خلاف 79 دن تک جنگ جاری رکھی جبکہ اوباما انتظامیہ نے 2011 میں لیبیا پر حملے کے دوران یہ دلیل دی تھی کہ چونکہ وہاں آمنے سامنے براہِ راست فائرنگ نہیں ہو رہی، اس لیے اسے ’وار پاورز ایکٹ‘ کے تحت باقاعدہ جنگ نہیں مانا جا سکتا۔ اس دوران ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی کے باعث تہران نے اپنی معیشت کو بچانے کے لیے ایک نیا اور غیر روایتی راستہ تلاش کر لیا ہے۔ امریکی جریدے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق، سمندری راستوں پر امریکی پہرے کے باعث ایران اب ٹرینوں کے ذریعے خام تیل چین بھیجنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ایران میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً ختم ہو چکی ہے اور صورتحال اس حد تک سنگین ہو گئی ہے کہ تہران اب کچرے کے ڈھیروں اور پرانے ناکارہ ٹینکوں میں تیل رکھنے پر مجبور ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اپنا تیل ذخیرہ کرنے یا برآمد کرنے میں ناکام رہا تو اسے اپنے تیل کے کنویں مکمل طور پر بند کرنے پڑیں گے، جو اس کی معیشت کے لیے ایک جان لیوا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل کے وسط میں آبنائے ہرمز کی سخت بحری ناکہ بندی کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد ایرانی معیشت کو اس ’شٹ ان‘ پوائنٹ تک پہنچانا ہے جہاں اس کے پاس تیل رکھنے کی جگہ باقی نہ رہے اور اسے پیداوار بند کرنی پڑے۔ صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی تیل کی صنعت کے پاس صرف تین دن باقی ہیں، جس کے بعد یہ نظام بیٹھ جائے گا اور اسے دوبارہ بحال کرنا ناممکن ہوگا۔ تاہم، توانائی کے ماہرین صدر ٹرمپ کے اس مختصر وقت سے اتفاق نہیں کرتے۔ یوریشیا گروپ کے بانی ایان بریمر کا کہنا ہے کہ امریکا ایران پر ناقابلِ برداشت معاشی دباؤ ڈال کر اسے اپنی شرائط پر امن معاہدے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے پاس ابھی تقریباً ایک ماہ کی گنجائش باقی ہے۔ جبکہ وولف ریسرچ کے تجزیہ کار ٹوبن مارکس کا خیال ہے کہ ایران مزید دو ماہ تک یہ دباؤ برداشت کر سکتا ہے۔ ٹوبن مارکس نے صدر ٹرمپ کے تین دن والے دعوے کو ’سراسر لغو‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر کا منصوبہ دراصل ایران کو انتظار کی سولی پر لٹکانا ہے تاکہ زمینی جنگ سے بچا جا سکے۔ واضح رہے کہ تیل کے کنوؤں کو بند کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ انجینئرز کے مطابق ایک بار پیداوار رک جائے تو کنوؤں کو دوبارہ شروع کرنا انتہائی مشکل اور مہنگا عمل ہوتا ہے، اور اس سے تیل کے ذخائر کو مستقل جغرافیائی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ایران کا تقریباً 90 فیصد تیل ’خارگ آئی لینڈ‘ سے برآمد ہوتا ہے جہاں 20 سے 30 ملین بیرل تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ گنجائش چند ہفتوں میں بھر سکتی ہے۔ پینگیا پالیسی کے تجزیہ کار ٹیری ہینز نے ایران کی حالیہ امن تجویز کو ’غیر سنجیدہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ایٹمی پروگرام پر بات چیت کو موخر کرنا چاہتا ہے جو امریکا کو کسی صورت قبول نہیں۔ اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ چکی ہیں اور پوری دنیا کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ آیا ٹرینوں کے ذریعے تیل کی منتقلی کا یہ انوکھا منصوبہ ایران کو معاشی تباہی سے بچا پائے گا یا نہیں۔ اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ تجویز پر ناخوش دکھائی دیتے ہیں، جس کی اطلاع بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز اور امریکی میڈیا نے دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کی تجویز میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات کو جنگ کے خاتمے تک مؤخر کر دیا جائے۔ تاہم اس حوالے سے ایک عہدیدار جسے صدر ٹرمپ کی اپنے مشیروں کے ساتھ ہونے والی ملاقات پر بریفنگ دی گئی تھی، نے بتایا کہ صدر اس تجویز سے مطمئن نہیں کیونکہ امریکا چاہتا ہے کہ جوہری معاملے کو مذاکرات کے آغاز ہی میں طے کیا جائے۔ امریکی اخبار دی نیو یارک ٹائمز نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی بات چیت سے آگاہ متعدد افراد کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو واضح طور پر بتایا کہ وہ ایرانی تجویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ اس دوران ایران نے امریکا کو ایک نئی سفارتی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور جاری جنگ کا خاتمہ کرنا ہے، تاہم اس فارمولے کے تحت جوہری مذاکرات کو فی الحال مؤخر کرنے کی بات کی گئی ہے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ اس تجویز کا مقصد سفارتی تعطل کو ختم کرنا ہے کیونکہ ایرانی قیادت اس وقت اس حوالے سے منقسم ہے کہ جوہری پروگرام پر امریکا کو کیا رعایتیں دی جائیں۔ ایرانی تجویز کے مطابق اگر اس وقت جوہری معاملے کو مذاکرات سے الگ کر دیا جائے تو ایک تیز رفتار معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے، لیکن دوسری جانب مبصرین کا خیال ہے کہ ناکہ بندی ختم کرنے سے صدر ٹرمپ کا وہ دباؤ کم ہو جائے گا جو وہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کروانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق توقع ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے اعلیٰ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مشیروں کے ساتھ ایران کی اس نئی صورتحال پر غور کرنے کے لیے ایک اہم اجلاس کی صدارت کریں گے۔ امریکی حکام کے مطابق اس میٹنگ میں مذاکرات میں جاری جمود اور مستقبل کے ممکنہ اقدامات پر بات ہوگی۔ ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ وہ اس بحری ناکہ بندی کو جاری رکھنا چاہتے ہیں جس نے ایران کی تیل کی برآمدات کو روک رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ کے پاس تیل کی بھاری مقدار سسٹم میں موجود ہو اور اسے جہازوں میں نہ ڈالا جا سکے تو وہ لائن اندر سے پھٹ سکتی ہے، اور کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس ایسا ہونے سے پہلے صرف تین دن کا وقت ہوتا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کا بحران اس وقت مزید گہرا ہوا جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ پاکستان میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہ آئی۔ وائٹ ہاؤس نے پہلے اعلان کیا تھا کہ ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اسلام آباد میں عراقچی سے ملیں گے، لیکن ایران کی جانب سے کوئی واضح جواب نہ ملنے پر صدر ٹرمپ نے یہ دورہ منسوخ کر دیا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں انہیں 18 گھنٹے طویل فلائٹ پر بھیجنے کا کوئی فائدہ نہیں، ہم فون پر بھی بات کر سکتے ہیں اور ایرانی اگر چاہیں تو ہمیں کال کر سکتے ہیں، ہم صرف وہاں بیٹھنے کے لیے سفر نہیں کریں گے۔ پردے کے پیچھے ہونے والی پیش رفت کے مطابق عباس عراقچی نے پاکستان، مصر، ترکی اور قطر کے ثالثوں کو واضح کیا ہے کہ ایرانی قیادت میں امریکی مطالبات پر اتفاقِ رائے نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ذریعے امریکا کو دی گئی نئی تجویز میں کہا گیا ہے کہ پہلے آبنائے ہرمز کے بحران اور امریکی ناکہ بندی کو حل کیا جائے اور جنگ بندی میں طویل المدتی توسیع یا جنگ کے مستقل خاتمے پر اتفاق کیا جائے۔ جوہری مذاکرات اس کے بعد شروع ہوں گے جب ناکہ بندی ختم ہو جائے گی۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے اس حوالے سے کہا ہے کہ امریکا پریس کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا، صدر واضح کر چکے ہیں کہ تمام پتے امریکا کے ہاتھ میں ہیں اور وہ صرف وہی معاہدہ کریں گے جو امریکی عوام کے مفاد میں ہو اور ایران کو کبھی جوہری ہتھیار نہ بنانے دے۔ دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس تجویز کو قبول کیے جانے کا امکان کم ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اگر امریکا ایران کی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی کو تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات حل کیے بغیر ختم کر دیتا ہے تو اس سے مذاکرات میں امریکا کا ایک اہم دباؤ کا ذریعہ ختم ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو نئی تجاویز پیش کردی ہیں، ان تجاویز میں پہلے جنگ بندی اور پھر مستقل جنگ بندی کی ضمانت شامل ہے۔ ایران نے آبنائے ہُرمز کھولنے کی پیشکش امریکی ناکہ بندی کے خاتمے کے ساتھ مشروط کی ہے اور کہا ہےکہ یہ سب ہوجائے تو پھر ایرانی ایٹمی پروگرام پر بات ہوگی تاہم امریکا کو پُرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا ایرانی حق تسلیم کرنا ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر ٹرمپ یکم مئی کی ڈیڈ لائن سے کیسے نمٹتے ہیں اور کیا وہ امریکی عوام کی مخالفت کے باوجود اس مہنگی جنگ کو جاری رکھنے کا کوئی نیا قانونی راستہ نکال پائیں گے۔

