LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) امریکی صدر کاایران کے ساتھ اسلام آباد میں مذاکرات کا عندیہ

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کا عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور پاکستان (اسلام آباد) میں جمعے یا ویک اینڈ کے دوران ہو سکتا ہے، جس کا مقصد ممکنہ طور پر خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے معاہدہ طے پانا ہے۔ امریکا کے صدر نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق ایک اچھی خبر ہے اور تہران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعے کو ہوسکتا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کو ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے مذاکرات میں بڑے بریک تھرو کا امکان ہے۔ ایران کے ساتھ امن مذاکرات کا دوسرا دور ممکنہ طور پر جمعہ تک شروع ہو سکتا ہے۔ نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں موجود پاکستانی ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں میں پیش رفت ہو رہی ہے اور آئندہ 36 سے 72 گھنٹوں میں مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔پاکستانی حکام کے مطابق اسلام آباد ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ جس کی مثال امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی کی مدت ختم ہونے پر اس میں توسیع کا اعلان ہے۔ صدر ٹرمپ نے پاکستان کے مطالبے پر ایران کی جانب سے متفقہ تجویز آنے تک جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسی ہفتے اسلام آباد میں متوقع تھا تاہم ایران نے شرط عائد کی کہ امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے ہوتے مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔ پاکستان کے ثالثوں نے منگل کو ایک طرف ایران کو مذاکرات میں شامل کرنے کے لیے دوڑ دھوپ کی اور دوسری طرف ٹرمپ کو جنگ بندی میں توسیع پر بھی قائل کیا۔ ٹرمپ نے مذاکرات میں کردار پر پاکستانی حکام کی تعریف کی ہے۔ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ ان مذاکرات سے ایک حتمی معاہدہ نکل سکتا ہے۔ امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران کو نیوکلیئر بم بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بصورت دیگر سنگین نتائج ہوں گے۔ آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول ہے اور ایران کو اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ مذاکرات خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ بندی کے تناظر میں ایک بڑی سفارتی پیش رفت ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت ایک اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری خارجہ کی سفیر آمنہ بلوچ اور وزارت خارجہ کے سینئر حکام نے شرکت کی جس میں علاقائی ترقی اور آئندہ بین الاقوامی مصروفیات کا جائزہ لیا گیا,انہوں نے خارجہ پالیسی کی کلیدی ترجیحات پر مقصد کی وضاحت، اسٹریٹجک دور اندیشی، مقاصد اور نتائج پر مضبوط توجہ کے ساتھ فعال مشغولیت کی اہمیت پر زور دیا۔ دریں اثنا، سینیٹر اسحاق ڈار نے ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے بات کی دونوں رہنماؤں نے تازہ ترین علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ اسحاق ڈار نے گزشتہ ہفتے انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے دوران پاکستانی وفد کی شاندار مہمان نوازی اور ترکی، سعودی عرب، مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی سائیڈ لائنز پر R-4 کے تیسرے اجلاس کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔دوسری طرف صدر ڈپلومیٹک کارسپانڈنٹس فورم آف پاکستان ,سینئر پاکستانی سفارتی تجزیہ کار ,اصغر علی مبارک نے کہاہے کہ پاکستان کی بہترین ملٹری ڈپلومیسی سےمعاہدے کی امید برقرار ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر , پائیدار بین الاقوامی امن اور استحکام کیلئے اہم کردار ادا کررہے ہیں۔سفارتی سطح پر پاکستان کا نام بلند ہوا ہے,وزیراعظم پاکستان شہباز شریف,نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا لائق تحسین کردار عالمی سطح پر تسلیم کیا گیاہے، پوڈکوسٹ میں بات کرتے ہوئےاصغر علی مبارک نے کہا کہ ,چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف دی آرمی سٹاف, فیلڈ مارشل سید عاصم منیر احمد شاہ کی مستقل توجہ بات چیت اور بہترین ڈپلومیسی رہی ہےکہ کس طرح کشیدگی کم ہوسکتی ہے صدر ڈپلومیٹک کارسپانڈنٹس فورم آف پاکستان ,سینئر پاکستانی سفارتی تجزیہ کار اصغر علی مبارک نے کہا کہ پاکستان کی بہترین ملٹری ڈپلومیسی سےمعاہدے کی امید برقرار ہے، یاد رکھیں کہ پاکستان کی حالیہ “برج ڈپلومیسی” نے ایران-امریکہ کشیدگی میں نہایت جامع , کلیدی کرداراداکیا ہے, پاکستان کی برج ڈپلومیسی کا سب سے بڑا چیلنج ایران کی اس شرط کو منوانا ہے کہ مذاکرات سے پہلے امریکی ناکہ بندی ختم کی جائے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ ناکہ بندی تب ہی ختم ہوگی جب ایران مذاکرات میں “ٹھوس پیش رفت” دکھائے گا۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی مشترکہ کوششوں نے ملک کو ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔
پاکستان اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک مرکزی ثالث کے طور پر ابھرا ہے سینئر پاکستانی سفارتی تجزیہ کار اصغر علی مبارک کے مطابق پاکستان کی “برج ڈپلومیسی” نے غیر جانبدارانہ حیثیت برقرار رکھتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا اگرچہ ایران نے ابتدائی طور پر مذاکرات میں شامل ہونے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ، لیکن پاکستان کی مسلسل ثالثی , سفارتی مشقوں نے معاہدے کی امید کو برقرار رکھا ہوا ہے, اس صورتحال کے اہم نکات کو اگر مختصرًا دیکھا جائے تو یہ پاکستان کی بڑی سفارتی جیت محسوس ہوتی ہے,پاکستان نے غیر جانبدار رہتے ہوئے تہران اور واشنگٹن کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی ہے، جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ جنگ بندی میں توسیع: 22 اپریل کو ختم ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی میں پاکستان کی درخواست پر توسیع، خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچانے کی طرف اہم قدم ہے۔
صدر ٹرمپ کا بیان: امریکی صدر کا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تجاویز کو اہمیت دینا اور ایرانی ناکہ بندی کے خاتمے کی شرط پر مذاکراتی گنجائش پیدا کرنا ایک مثبت پیش رفت ہے,ایران کی معاشی ناکہ بندی اور امریکی “بہترین معاہدے” (Great Deal) کی خواہش کے درمیان پاکستان ایک ایسے پل کا کردار ادا کر رہا ہے جو دونوں فریقین کے لیے قابل قبول حل نکال سکتا ہے۔ دو ہفتے کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہو رہی تھی,تعطل کی بڑی وجہ ایران کی وہ پیشگی شرط تھی، جس میں اس نے امریکی پابندیوں کے تحت ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی میں توسیع ہوئی ہے ، امید ہے دونوں فریق تنازعات کے مستقل خاتمے کے لیے جامع امن ڈیل میں کامیاب ہو جائیں گےپاکستان کی درخواست پر امریکہ نے ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی میں توسیع پر رضامندی ظاہر کی ہے, صدر ٹرمپ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ ایک “بہترین معاہدے” کی توقع کر رہے ہیں، جو اوباما دور کے معاہدے سے زیادہ جامع ہوگا، امریکی صدر کا کہنا ہے کہ پاکستانی قیادت نے ہم سے کہا ہے کہ ایران پر حملہ نہ کریں۔ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی میں تب تک توسیع کررہے ہیں جب تک بات چیت کا عمل مکمل نہیں ہوجاتا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہم سے ایرانی قیادت کی متفقہ تجاویز آنے تک حملے روکنے کا کہا ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ناکا بندی جاری رکھے اور ہر لحاظ سے تیار رہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کا اپنی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی طرف سےجنگ بندی میں توسیع کی درخواست قبول کرنے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان تنازعات کے مذاکراتی حل کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے گا۔ مزید کہا کہ امید ہے دونوں فریق جنگ بندی کی پاسداری جاری رکھیں گے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستانی قیادت نے ہم سے کہا ہے کہ ایران پر حملہ نہ کریں۔ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی میں تب تک توسیع کررہے ہیں جب تک بات چیت کا عمل مکمل نہیں ہوجاتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کئی ہفتوں پر محیط جنگ کے خاتمے کے لیے ایک “بہترین معاہدہ” ہونے جا رہا ہے، ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے

 

سینئر تجزیہ کار اصغر علی مبارک خیال میں امریکہ اور ایران دونوں میں اب دوبارہ جنگ شروع کرنے کی طرف مائل نظر نہیں آتے۔ ’دوبارہ جنگ شروع ہونے کے امکانات 99 فیصد ختم ہو چکے ہیں۔ دونوں اطراف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی طلب بالکل نظر نہیں آتی۔ پاکستان کی “برج ڈپلومیسی” نے واقعی ایک اہم موڑ پیدا کر دیا ہے۔ اسلام آباد مذاکرات کے اگلے مرحلے سے متعلق تازہ ترین تفصیلات درج ذیل ہیں:
اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا مرحلہ اور جے ڈی وینس کا دورہ
دورہ فی الحال ملتوی: تازہ ترین اطلاعات (22 اپریل 2026) کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا پاکستان کا طے شدہ دورہ فی الحال ملتوی (On Hold) کر دیا گیا ہے, وائٹ ہاؤس ایران کی جانب سے ایک “متفقہ تجویز” کا منتظر ہے، جس کے بعد ہی وینس اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔
جنگ بندی میں توسیع: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کر دی ہے جب تک بات چیت کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔
مذاکرات کا مقام: مذاکرات کا اگلا دور بھی اسلام آباد میں ہی متوقع ہے، پاکستان مسلسل تہران کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے۔ ایران کی جانب سے مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے، تاہم پاکستانی سفارت کار اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے متحرک ہیں۔
پاکستان کے اس کردار کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے کیونکہ یہ دہائیوں بعد امریکہ اور ایران کے درمیان بلند ترین سطح کا براہ راست رابطہ ہے۔ اگر ایران آمادہ ہوتا ہے تو جے ڈی وینس کے ساتھ جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، اسلام آباد مذاکرات کے لیے دونوں فریقین نے انتہائی سخت لیکن واضح شرائط سامنے رکھی ہیں۔ پاکستان ان دونوں متضاد موقف کے درمیان “درمیانی راستہ” نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران کا 10 نکاتی ایجنڈا (مطالبات)
ایران نے مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے جو نکات پیش کیے ہیں، ان میں سے اہم درج ذیل ہیں:
ناکہ بندی کا خاتمہ: ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی کا فوری خاتمہ۔
پابندیوں کی منسوخی: تمام معاشی اور بینکنگ پابندیوں کا خاتمہ تاکہ ایران تیل فروخت کر سکے۔
سلامتی کی ضمانت: اس بات کی تحریری یقین دہانی کہ امریکہ دوبارہ ایران کی قیادت یا فوجی تنصیبات پر حملہ نہیں کرے گا۔
منجمد اثاثوں کی واپسی: بیرون ملک منجمد ایرانی فنڈز کی فوری واگزاری۔
جوہری حقوق: پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا۔
علاقائی سالمیت: امریکی افواج کا خطے سے مرحلہ وار انخلا۔
نقصانات کا ازالہ: حالیہ کشیدگی میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کا معاوضہ۔
سفارتی وقار: ایران کے خلاف “رجیم چینج” کی پالیسی کا باضابطہ خاتمہ۔
پائیدار معاہدہ: کسی بھی معاہدے کو امریکی کانگریس سے منظور کرایا جائے تاکہ اگلی حکومت اسے ختم نہ کر سکے۔
دفاعی خودمختاری: اپنے میزائل پروگرام کو دفاعی حد تک برقرار رکھنے کی آزادی۔
امریکی شرائط (صدر ٹرمپ کا موقف)
صدر ٹرمپ ایک ایسے “بہترین معاہدے” (Great Deal) کے خواہاں ہیں جو ان کے بقول اوباما دور کے معاہدے سے زیادہ سخت ہو:
جوہری پروگرام کی مکمل بندش: ایران مستقل طور پر یورینیم افزودگی بند کرے اور اپنے سینٹری فیوجز کو ختم کرے۔
میزائل پروگرام پر پابندی: بیلسٹک میزائلوں کی تیاری اور تجربات پر مکمل پابندی۔
علاقائی مداخلت کا خاتمہ: یمن، لبنان، شام اور عراق میں ایرانی اثر و رسوخ اور پراکسیز کی حمایت کا خاتمہ۔
دیرپا انسپکشن: IAEA کے انسپکٹرز کو کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ (فوجی تنصیبات سمیت) تلاشی کی اجازت۔
نئی ڈیل کی مدت: یہ معاہدہ “غروب آفتاب” (Sunset clauses) کی شرائط کے بغیر مستقل ہونا چاہیے۔
قیدیوں کی رہائی: ایران میں قید تمام امریکی اور دوہری شہریت والے شہریوں کی فوری واپسی۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ امریکا اگر ناکہ بندی ختم کر دے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی روک دے تو ایران مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے تیار ہے، جو ممکنہ طور پر اسلام آباد میں منعقد ہوسکتا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے ایرانی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ کسی بھی نئے مذاکراتی دور سے قبل امریکا کو جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی روکنا ہوگی۔ انہوں نے ایرانی اخبار شرق سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی امریکا ناکہ بندی ختم کرے گا، مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں منعقد کیا جائے گا۔ ایران ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے۔ مزید کہا کہ ایران نے کسی فوجی جارحیت کا آغاز نہیں کیا، اگر امریکا سیاسی حل چاہتا ہے تو ایران اس کے لیے تیار ہے، تاہم اگر جنگ مسلط کی گئی تو ایران اس کے لیے بھی تیار ہے۔پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہم سے ایران پر اس وقت تک حملے روکنے کی درخواست کی ہے کہ جب تک کہ وہاں کے رہنما اور نمائندگان ایک متفقہ تجویز پیش نہ کر دیں۔ اس سے پہلے21 اپريل 2026 اسلام آباد میں ایرانی وفد کے ساتھ 21 گھنٹے کی طویل بات چیت کے اختتام پر امریکی نائب صدر جی ڈی وینس نے کہا تھا کہ ’اچھی خبر یہ ہے کہ ہماری اور ایرانی سفارتکاروں کی براہ راست بات چیت ممکن ہوئی ہے۔‘ لیکن پھر جے ڈی وینس نے وہ ’بری خبر‘ دی جس پر انھوں نے اپنا اسلام آباد کا دورہ ختم کیا۔ ’ہمارا ایرانیوں کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہو پایا۔۔۔انھوں نے ہماری پیشکش قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔۔۔ہم بغیر ڈیل کے واپس جا رہے ہیں۔‘ رواں ماہ کی 11 تاریخ کو شروع ہو کر 12 کی صبح ختم ہونے والے اسلام آباد مذاکرات کے بعد امریکی اور ایرانی وفود نے اسلام آباد میں ’مذاکرات کی فضا‘ کو حوصلہ افزا تو قرار دیا لیکن مذاکرات کی ناکامی کے لیے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرایا۔ جے ڈی وینس کے مطابق ایران جوہری افزودگی کو لمبے عرصے تک ترک کرنے کی امریکی شرط سے متفق نہیں تھا جبکہ تہران نے کہا کہ ’امریکی وفد نے غیرمعقول یا نا مناسب مطالبات سامنے رکھے۔‘ تہران نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ دونوں فریقین کسی معاہدے کے قریب تھے جب ’امریکی وفد نے اس عمل کو سبوتاژ کیا۔‘ جے ڈی وینس کی اسلام آباد میں الوداعی بریفنگ کے ’بری خبر‘ والے حصے کو لے کر ایک عمومی تاثر یہ سامنے آیا کہ شاید دونوں کا مذاکرات کی میز پر دوبارہ واپس آنا مشکل ہوگا۔ تاہم امریکہ ایران مذاکرات کے میزبان پاکستان نے جے ڈی وینس کے ’اچھی خبر‘ والے حصے پر توجہ مرکوز کی اور پاکستانی حکام کے بیانات نے فوری طور پر اس کے لیے راہ ہموار کرنا شروع کی۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے اس بیانے کی حوصلہ افزائی کرنا شروع کہ ’مذاکرات اگر کامیاب نہیں ہوئے تو ناکام بھی نہیں ہوئے۔
پھر واشنگٹن اور تہران دونوں کی طرف سے ایک ممکنہ دوسرے راؤنڈ کے حوالے سے مثبت اشارے ملتے ہی پاکستان کی اعلیٰ قیادت خود حرکت میں آئی۔پاکستان کے ذریعے ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوا۔ ایرانی حکام نے اس کی تصدیق کی۔ اس کے بعد پاکستانی فوجی اور سویلین قیادت لگ بھگ ایک ہی وقت میں ایران اور مشرق وسطیٰ کے دوروں پر روانہ ہوئی۔ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا جہاز گزشتہ ہفتے بدھ کے روز تہران میں اترا۔ دوسری طرف پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اسی روز سعودی عرب، قطر اور ترکی کے دوروں پر روانہ ہو گئے۔ ادھر امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود یہ بتاتے سنائی دیے کہ پاکستان کی مدد سے ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور ہونے کے امکانات ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو امریکہ ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے پاکستان ہی کا انتخاب کرے گا۔ پاکستانی قیادت کا ایران اور مشرق وسطیٰ میں قیام جاری تھا کہ اس کے دوران خطے میں جنگ سے جڑی اہم پیش رفت سامنے آئی۔‘اسرائیل اور لبنان براہ راست مذاکرات کے دوران دس روزہ جنگ بندی پر راضی ہو گئے۔ ’لبنان میں جنگ بندی‘ ایران اور امریکہ مذاکرات کے پہلے دور کے شروع ہونے سے پہلے ایران کی طرف سے دو دیرینہ مطالبات میں سے ایک کے طور پر سامنے آیا تھا۔ پھر جمعے کے روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر پیغام میں اعلان کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز ہر قسم کے جہازوں کے لیے کھول دی ہے۔ یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ خیال رہے کہ پاکستان آرمی چیف اس وقت ایران ہی میں موجود تھے۔ اس وقت تک ان کی ایرانی وزیر خارجہ عراقچی اور مذاکرات کے پہلے دور میں ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف سے ملاقاتیں ہو چکی تھیں اور وہ پاسداران انقلاب کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ بھی کر چکے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری طور پر ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں ’ایران کا شکریہ‘ ادا کیا۔ انھوں نے ایک الگ پیغام میں پاکستان، پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا بھی شکریہ ادا کیا کہ ’وہ بہت بہترین کام کر رہے ہیں۔‘ان دونوں معاملات پر پات چیت کا آغاز تو پہلے ہو چکا تھا تاہم ان کو حاصل کرنے کی طرف تحریک پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران میں موجودگی اور وہاں ان کی سرگرمی کی وجہ سے ملی۔آبنائے ہرمز کے کھولنے کے اعلان نے بنیادی طور پر مزاکرات کے دوسرے دور کے لیے راہ ہموار کی۔ یہ پہلے سے پائپ لائن میں تھے لیکن پاکستانی آرمی چیف کے دورہ ایران نے ان معاملات کو مزید تیز کیا۔

 

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران نے ان کے لگ بھگ تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں اور اب ان کے درمیان ڈیل نہ ہونے کی زیادہ تر وجوہات ختم ہو گئی ہیں۔ تاہم ایران نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ ایران میں سخت موقف رکھنے والے حلقے نے ان بیانات کو تنقید کا نشانہ بھی بنایاایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے ایران کے پریس ٹی وی سے ایک حالیہ گفتگو کے دوران بتایا کہ اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ ان کے مذاکرات کے دوران انھوں نے امریکی وفد کو یہ واضح طور پر بتا دیا تھا کہ مائنز تباہ کرنے والے امریکی جہاز کی آبنائے ہرمز کے قریب موجودگی کو وہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی تصور کرتے ہیں۔انھیں بتایاہے کہ اگر آپ کا مائن سویپر جہاز ذرا سا بھی آگے بڑھا تو ہم ضرور اس کو نشانہ بنائیں گے۔‘قالیباف نے بتایا کہ اس کے بعد امریکی وفد نے 15 منٹ کا وقت مانگا کہ وہ جہاز کو پیچھے ہٹنے کے احکامات دلوا رہے ہیں۔پریس ٹی وی پر گفتگو کے دوران بتایا کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے پہلے دور میں ایران اور امریکہ کے درمیان موجود عدم اعتماد ختم نہیں ہوا تاہم دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملا۔ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے اس دور میں دو بنیادی نکات پر ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان اختلافات ہوئے وہ ’آبنائے ہرمز کی بندش اور ایران کے جوہری توانائی کے عزائم کو لے کر ہوئے۔ جنگ بندی کے معاہدے اور مذاکرات کے آغاز کے لیے یہ طے کیا گیا تھا کہ لبنان میں جنگ بندی اس معاہدے کا حصہ ہو گی,ایران کے وزیر خارجہ کے آبنائے ہرمز کھولنے کے بیان کے چند ہی منٹ بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے جواب میں ایران کا شکریہ ادا کیا۔ تاہم ٹرمپ کے ایک ذیلی بیان نے حالات کا رخ ایک مرتبہ پھر موڑ دیا۔انھوں نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے ایرانی پورٹس کی بندش اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کے ساتھ صد فیصد معاملات طے نہیں پا جاتے۔اس پر ایران کی بحریہ نے اعلان کیا کہ انھوں نے آبنائے ہرمز ایک مرتبہ پھر بند کر دی ہے ’کیونکہ امریکہ کی طرف سے معاہدے کا پاس نہ کرتے ہوئے ایران پورٹس کی ناکہ بندی جاری ہے۔ دوسرے ہی روز صدر ٹرمپ نے ایک اعلان میں بتایا کہ امریکی نیوی نے آبنائے ہرمز سے گزر کر امریکی ناکہ بندی کی کوشش کرنے والے ایک ایرانی پرچم والے ٹینکر نشانہ بنانے کے بعد قبضے میں لے لیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ’اس ٹینکر کو رکنے کا کافی موقع دیا گیا تاہم اس نے ان وارننگز پر دھیان نہیں دیا جس کے بعد امریکی میرینز نے اس ٹینکر کے انجن والے کمرے کو متعدد بار نشانہ بنا کر اسے اسی مقام پر روک دیا اور بعد میں اس پر سوار ہو کر اسے قبضے میں لے لیا ہے۔ ایران نے کہا ہے وہ اس امریکی کارروائی کا جواب دے گا۔ ساتھ ہی ایران کی طرف سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جب تک امریکی کی طرف سے اس کی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی وہ مذاکرات کے دوسرے دور میں حصہ نہیں لے گا۔دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف مشرق وسطیٰ کے دورے پر پہلے سعودی عرب، وہاں سے قطر اور آخر میں ترکی میں اناطالیہ پہنچے تھے ان دوروں میں انھوں نے ان تین ممالک کی اعلی قیادت سے ملاقات کی شہباز شریف کے ان دوروں کے دو مقاصد تھے ۔ ایک تو وہ چاہتے ہیں کہ جب ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی معاہدہ اسلام آباد میں طے پا رہا ہو اس وقت ان ممالک کی نمائندگی وہاں موجود ہو۔اس عمل کے جتنے ریجنل شراکت دار ہوں اتنا اچھا ہے کیونکہ جب یہ تمام شراکت دار اس کی ذمہ داری لیں گے تو کل کو اگر کچھ غلط ہوتا ہے تو اکیلا پاکستان ہی مشکل میں نہیں ہوگا,پاکستانی وزیراعظم کے ان ممالک کے اس موقعے پر دورے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں ایک نیا اتحاد سامنے آ رہا ہے۔ جنگ کے بعد خطے میں امریکی اتحاد کے خدوخال بدلیں گے اور ان میں پاکستان کے کردار میں اضافہ ہو گا,امریکا کی ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے بعد آج دنیا بھر میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ اور تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی, رپورٹ کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث مہنگائی میں ممکنہ اضافے اور طویل عرصے تک بلند شرحِ سود کے خدشات کم ہو گئے۔ اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 4 ہزار 755 ڈالرز فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ روز یہ 13 اپریل کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ گئی تھی۔ اسی طرح جون کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ 4 ہزار 772 عشاریہ 90 ڈالرز تک پہنچ گئے۔ دیگر قیمتی دھاتوں میں اسپاٹ چاندی کی قیمت 1.5 فیصد اضافے کے ساتھ 77.84 ڈالرز فی اونس، پلاٹینئم 1.5 فیصد اضافے کے ساتھ 2,067.25 ڈالرز اور پیلیڈیم 1.8 فیصد اضافے کے ساتھ 1,560.31 ڈالرز تک پہنچ گیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے اختتام سے چند گھنٹے قبل اعلان کیا کہ امریکا ایران کے ساتھ جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھا رہا ہے تاکہ مزید امن مذاکرات کی گنجائش پیدا کی جا سکے۔ واضح رہے کہ 2 ہفتے قبل شروع ہونے والی جنگ بندی میں حالیہ توسیع سے متعلق ٹرمپ کا یہ اعلان بظاہر یک طرفہ تھا اور فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا ایران یا امریکا کے اتحادی اسرائیل بھی اس توسیع پر متفق ہوں گے یا نہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X