اسلام آباد (اردو ٹائمز) دنیا کی نظریں اسلام آباد پر مذ کور, جنگ بندی یا پھرجنگ
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں متوقع مذاکرات سے قبل امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود کی آمد تاحال ابہام کا شکار ہے جب کہ پاکستان نے میزبانی کے لیے تیاری مکمل کرلی ہے,
آج، 22 اپریل 2026، وہ اہم دن ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی ختم ہو رہی ہے۔
اس وقت پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد اور واشنگٹن پر لگی ہیں کہ آیا آخری لمحات میں کوئی سفارتی حل نکل پاتا ہے یا خطہ دوبارہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔
کیا امریکی صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ ختم ہونے والی جنگ بندی میں توسیع کریں گے, امریکی میڈیا ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان نہیں ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ ختم ہونے والی جنگ بندی میں توسیع کریں گے۔ سینئر پاکستانی سفارتی تجزیہ کار , صدر ڈپلومیٹک کارسپانڈنٹس فورم آف پاکستان (DCFP) اصغر علی مبارک کے مطابق دو ہفتے کی جنگ بندی آج 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے, تعطل کی بڑی وجہ ایران کی وہ پیشگی شرط ہے، جس میں اس نے امریکی پابندیوں کے تحت ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں متوقع مذاکرات سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان اس بات پر غیر یقینی صورت حال برقرار ہے کہ کون سا فریق پہلے پاکستان پہنچے گا امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ایک ’عظیم معاہدہ‘ کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل انھوں نے ایران پر جنگ بندی کی بارہا خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا۔ ایرانی حکام بھی امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگا چکے ہیں۔ خیال رہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان کے لیے روانہ ہوچکے, تاہم تہران نے اب تک تصدیق نہیں کی کہ وہ اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے کوئی وفد بھیجے گا۔
اس نازک موڑ پر تازہ ترین صورتحال درج ذیل ہے:
جنگ بندی کا وقت:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ یہ جنگ بندی “بدھ کی شام واشنگٹن وقت” کے مطابق ختم ہو جائے گی۔
توسیع کے امکانات:
صدر ٹرمپ نے بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ کسی باقاعدہ معاہدے کے بغیر جنگ بندی میں توسیع کا امکان “انتہائی کم” ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو وہ دوبارہ عسکری کارروائیوں کی توقع رکھتے ہیں۔
اسلام آباد مذاکرات پر ڈیڈ لاک:
پاکستان نے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تمام انتظامات مکمل کر رکھے ہیں اور امریکی وفد (نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں) کی آمد متوقع ہے۔ تاہم، ایران نے فی الوقت ان مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا ہے، جس کی بڑی وجہ امریکی بحری ناکہ بندی اور ایرانی بحری جہاز ‘توسکا’ (Touska) کی حالیہ ضبطگی بتائی جا رہی ہے۔
ایران کا موقف:
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکہ نے بحری ناکہ بندی کر کے پہلے ہی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے، اس لیے وہ “دھمکیوں کے سائے” میں مذاکرات نہیں کریں گے۔
ایران کے پارلیمانی اسپیکر نے بھی خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی ختم ہونے کی صورت میں ایران میدانِ جنگ میں “نئے پتے” دکھانے کے لیے تیار ہے۔
پاکستانی وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی مدت 22 اپریل کو ختم ہونے جا رہی ہے، جب کہ پاکستان امن مذاکرات کیلئے ایران کے ردعمل کا انتظار کر رہا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے بطور ثالث ایران سے رابطے میں ہے اور اسے مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کا وقت 22 اپریل کو صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو جائے گا، جس کے پیش نظر سفارتی سرگرمیوں میں تیزی لائی جا رہی ہے۔عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ ایران کو امن مذاکرات میں شرکت پر آمادہ کیا جائے تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔ دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں قیامِ امن کے لیے عارضی جنگ بندی میں توسیع پر غور کریں اور سفارت کاری کو موقع دیں۔ پاکستان میں امریکا کی ناظم الامور نیتالی بیکر نے منگل کے روز وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی، جس میں خطے کی حالیہ صورتِ حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ تمام تنازعات کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے، جو دیرپا امن اور استحکام کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست رابطے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریق جنگ بندی میں توسیع پر غور کریں اور کشیدگی کم کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کریں۔ ملاقات کے دوران امریکی ناظم الامور نے خطے میں امن کے فروغ اور مذاکرات میں سہولت کاری پر پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا۔واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود کی آمد تاحال ابہام کا شکار ہے جب کہ پاکستان نے میزبانی کے لیے تیاری مکمل کرلی ہے۔ اسلام آباد میں مذاکرات سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان تاحال غیر یقینی صورت حال برقرار ہے جب کہ پاکستان کی جانب سے انتظامات مکمل ہیں اور بات چیت بدھ کو متوقع ہے۔ العربیہ ٹی وی، گلف نیوز اور رائٹرز کے مطابق ایرانی وفد کی آج اسلام آباد آمد متوقع ہے جب کہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام کو یقین ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کے لیے ایران کو قائل کر لیا جائے گا۔ رائٹرز نے بھی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ طے پانے کا امکان نظر آیا تو مذاکراتی عمل میں امریکی صدر کی شرکت بھی متوقع ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتے اور جلد ایک معاہدے کی امید رکھتے ہیں، جب کہ بات چیت اور کشیدگی دونوں امکانات زیر غور ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی این بی سی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق امریکا اس وقت مضبوط مذاکراتی پوزیشن میں ہے اور امکان ہے کہ جلد ایک بڑا معاہدہ طے پا جائے گا۔ کہا کہ امید ہے ایران کے ساتھ اچھا معاہدہ ہوگا کیونکہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا نے ایران کی نیوی، فضائیہ اور کئی رہنماؤں کو نشانہ بنایا ہے، جس کے باعث صورتِ حال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کے کچھ اثرات حکومت کی تبدیلی جیسے بھی ہیں، اگرچہ یہ ان کا ابتدائی مقصد نہیں تھا۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران سے اس وقت تک محاصرہ ختم نہیں کیا جائے گا جب تک حتمی معاہدہ نہیں ہو جاتا، اور ایران کو مذاکرات کے ذریعے ہی اپنی پوزیشن بہتر بنانا ہوگی۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا نے بڑی تعداد میں ایرانی بحری اثاثے اور ریڈار سسٹمز تباہ کیے ہیں، جبکہ ایک ایرانی جہاز کی ضبطی کے دوران غیر معمولی صورتِ حال بھی سامنے آئی، جس پر انہوں نے کہا کہ ممکن ہے یہ چین ملک کا تحفہ ہو۔ مزید کہا کہ جنگ کے حالات میں ایسی چیزیں پیش آ سکتی ہیں، تاہم امریکا نے ایران کے متعدد بحری جہاز تباہ کیے ہیں اور اس کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں فوری فیصلے ضروری ہیں اور فریقین کو مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنا چاہیے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر جلد معاہدہ نہ ہوا تو امریکا ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی شروع کر سکتا ہے اور امریکی فوج اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ اسی دوران صدرٹرمپ نے اپنے سوشل پلیٹ فارم ’ٹروتھ‘ سوشل پر ایران کی قیادت سے اپیل کی کہ وہ جلد ہونے والے مذاکرات سے قبل کچھ خواتین کو رہا کریں۔ان کے مطابق وہ توقع رکھتے ہیں کہ ایران اس اقدام کو مثبت انداز میں لے گا اور ان افراد کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا اور یہ قدم مذاکرات کے آغاز کے لیے ایک اچھا اشارہ ہو سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ٹیلی فونک انٹرویو میں مزید کہا کہ ایران اور امریکا کے ممکنہ مذاکرات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے نمائندے اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں ضرور شریک ہوں گے، اگرچہ تہران نے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ جب کہا گیا کہ ایران اپنے نمائندے نہیں بھیجے گا تو اس پر انہوں نے واضح کیا کہ وہ ضرور آئیں گے، کیونکہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔ کہا کہ موجودہ صورتِ حال میں فریقین کے درمیان رابطہ ناگزیر ہے اور بات چیت کے بغیر مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ٹرمپ کے مطابق وہ توقع رکھتے ہیں کہ یہ عمل آگے بڑھے گا اور کسی معاہدے کی طرف پیش رفت ہوگی۔ امریکی صدرنے یہ بھی بتایا کہ وہ متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کی جانب سے کرنسی سویپ کے مطالبے پر غور کر رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد تیل سے مالا مال معیشت کے لیے ڈالر کی دستیابی کو مستحکم بنانا بتایا جا رہا ہے، جو ایران سے جاری کشیدگی کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں حیرت ہے کہ ایک امیر ملک کو اس نوعیت کی مدد کی ضرورت پیش آ رہی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر ممکن ہوا تو وہ اپنے اتحادی کی مدد کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات ایک مضبوط اور اہم شراکت دار ہے جو امریکا کے لیے فائدہ مند ہے، اس لیے اگر مدد کرنا ممکن ہوا تو وہ اس میں ہچکچاہٹ نہیں کریں گے۔ دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کے گورنر نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں امریکی محکمہ خزانہ اور فیڈرل ریزرو کے حکام سے ملاقاتوں کے دوران کرنسی سویپ لائن کی تجویز پیش کی تھی، تاکہ ممکنہ جنگی صورتِ حال میں تیل سے مالا مال ملک کو معاشی دباؤ سے بچایا جا سکے۔پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے اور حکام کے مطابق یہ مذاکرات اعلیٰ سطح پر ہونے ہیں تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی روانگی کے حوالے سے کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔ امریکا ممکنہ طور پر کسی سفارتی سبکی سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے کیوں کہ اگر امریکی وفد اسلام آباد پہنچ جائے اور ایرانی وفد شریک نہ ہو تو یہ صورت حال واشنگٹن کے لیے شرمندگی کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکا اور ایران کے درمیان یہ غیر اعلانیہ مقابلہ جاری ہے کہ کون پہلے اپنے وفد کو پاکستان روانہ کرتا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ تاحال کسی بھی ملک کا اعلیٰ سطح کا وفد اسلام آباد نہیں پہنچا تاہم گزشتہ چند روز کے دوران معاون عملے کی آمد جاری رہی ہے۔
العربیہ ٹی وی، گلف نیوز اور رائٹرز کے مطابق ایرانی وفد کی آج اسلام آباد آمد متوقع ہے جب کہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام کو ایران کو امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شرکت پر قائل کرنے کی صلاحیت پر اعتماد ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں جاری ہیں اور بات چیت دوبارہ شروع ہونے کے واضح امکانات موجود ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اگر معاہدہ طے پا گیا تو امریکی صدر کے کسی بھی ممکنہ حتمی مرحلے میں شرکت کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔اس حوالے سے اسلام آباد میں ریڈ زون اور اہم مقامات پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جب کہ مختلف علاقوں میں چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کی متعد دبار خلاف ورزی کی۔اس سے قبل امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران سے مذاکرات جلد حتمی شکل اختیار کرلیں گے۔ ان کے مطابق اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع نہیں ہوگی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی نمائندے جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر اسلام آباد جا رہے ہیں تاہم امریکی وفد کی اسلام آباد آمد کے وقت کے حوالے سے بھی متضاد اطلاعات ہیں۔
الجزیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ جے ڈی وینس پاکستانی وقت کے مطابق منگل کی دوپہر اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے اور بدھ کی شام اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔ صدر ٹرمپ نے امید طاہر کی ہے کہ مذاکرات جلد مکمل ہو جائیں گے اور ہر ایک خوش ہوجائے گا۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران سے معاہدے کی صورت میں اسے جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بصورت دیگر اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا نے ایران میں نیوکلیئر سائٹس پر آپریشن کے ذریعے مکمل تباہی کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے بعض امریکی و بین الاقوامی میڈیا اداروں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں فیک نیوز قرار دیا اور کہا کہ ان کے بیانیے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ایرانی حکام نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ پاکستان میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت پر غور کر رہا ہے، اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا تھا کہ ان کا وفد مذاکرات کے اگلے دور کے لیے پاکستان نہیں جائے گا، جس کے فوراً بعد پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں رابطہ ہوا۔ برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ اسلام آباد کی جانب سے ایران کی بندرگاہوں پر امریکی پابندی یا رکاوٹ ختم کرانے کی کوششوں کے بعد تہران اس پیش رفت کا مثبت جائزہ لے رہا ہے، جو ایران کے امن عمل میں دوبارہ شمولیت کے لیے ایک اہم رکاوٹ سمجھی جا رہی تھی۔ عہدیدار کے مطابق اگرچہ ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت پر مثبت غور جاری ہے، لیکن کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ ان کے مطابق پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران کی شمولیت یقینی بنانے کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سے قبل ایران نے مذاکرات میں شرکت کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے امریکی اقدامات کے جواب میں سخت ردعمل کی دھمکی دی تھی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بیان میں کہا تھا کہ موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ نئے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے تہران کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایران اب امریکا پر مزید اعتماد نہیں کر سکتا کیونکہ واشنگٹن کا رویہ مسلسل غیر یقینی رہا ہے۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی انتظامیہ کے رویے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے اپنے ماضی کے تجربات سے کچھ نہیں سیکھا اور وہ اب بھی وہی غلطیاں دہرا رہا ہے جو پہلے کی گئی تھیں۔ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ ایک طرف امریکہ مذاکرات کی دعوت دیتا ہے اور دوسری طرف ایرانی اثاثوں اور بحری جہازوں کے خلاف کارروائیاں کر کے کشیدگی میں اضافہ کرتا ہے۔ جس کے بعد برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر میں رابطے کی خبر دی۔ رائٹرز کے مطابق، فیلڈ مارشل نے امریکی صدر کو واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ جس پر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی پر نظرثانی کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔ واضح رہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہر کے بڑے حصوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جبکہ بیس ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ الجزیرہ‘ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران امریکی سی -17 گلوب ماسٹر طیارہ نور خان ایئر بیس پر اترا ہے، جس کے بارے میں سمجھا جا رہا ہے کہ وہ امریکی وفد کی حفاظت کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں اور سیکیورٹی ٹیم لے کر پہنچا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنے بیان میں کہہ چکے ہیں کہ امریکی وفد پیر کی شام تک اسلام آباد پہنچ جائے گا۔ حکومت کی جانب سے اسلام آباد کے دو بڑے ہوٹلوں سرینا اور میریٹ کو خالی کروا کر مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جہاں غیر ملکی وفود کی آمد متوقع ہے۔ تاہم، ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے مبہم اشارے مل رہے تھے۔ خاص طور پر امریکا کی جانب سے خلیج عمان میں ایرانی بحری جہاز پر قبضے کے بعد ایران نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے خبر دی تھی کہ حکومت فی الحال ان مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، اور اس فیصلے کی بنیادی وجہ ایرانی بندرگاہوں کی مسلسل امریکی ناکہ بندی ہے جو تہران کے لیے ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن ’آئی آر آئی بی‘ نے رپورٹ دی تھی کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور میں شرکت کا فی الحال کوئی پروگرام نہیں ہے۔ اس سے قبل ایران کی خبر رساں ایجنسیوں ’فارس‘ اور ’تسنیم‘ نے بتایا تھا کہ مذاکرات کے لیے مجموعی ماحول کو بہت زیادہ مثبت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم، اسلام آباد میں ہونے والی وسیع پیمانے پر تیاریوں سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ ایرانی وفد مذاکرات کا حصہ بن سکتا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اس حوالے سے اہم گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ تو کیا ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ کریں گے یا دوسرے فریق کے ہر رویے کو قبول کریں گے۔ ابراہیم عزیزی، جو پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر بھی رہ چکے ہیں، انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران نے مذاکرات کے لیے اپنی سرخ لکیریں یعنی ریڈ لائنز طے کر لی ہیں جن کا احترام ہر صورت میں ضروری ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایرانی ٹیم اسلام آباد جائے گی، تو انہوں نے اس کا انحصار مثبت اشاروں پر چھوڑتے ہوئے کہا کہ ہم مذاکرات کے اصول سے کبھی نہیں ڈرے، آج یا کل مزید جائزے کے بعد ہماری شرکت کا امکان ہے، بشرطیکہ امریکی ٹیم اور ان کی جانب سے ملنے والے پیغامات سے ہمیں کوئی مثبت اشارہ ملے۔ ایران نے ان مذاکرات کو جنگ کا ہی تسلسل قرار دیا ہے۔ ابراہیم عزیزی کا کہنا تھا کہ ہم موجودہ مذاکرات کو میدانِ جنگ کا ہی ایک حصہ سمجھتے ہیں اور اس میں ہمیں میدانِ جنگ کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ مزید کہا کہ اگر ان مذاکرات سے ایسی کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں جو ہمارے میدانِ جنگ کی کامیابیوں کو برقرار رکھ سکیں، تو یہ ہمارے لیے ایک موقع ہے، لیکن اگر امریکیوں کا مقصد اپنی دھونس اور دھاندلی کے ذریعے حد سے زیادہ مطالبات منوانا ہے، تو پھر صورتحال مختلف ہوگی۔ ایران اب بھی لبنان میں جنگ بندی اور اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی کے مطالبات پر سختی سے قائم ہے۔ ابراہیم عزیزی نے خبردار کیا ہے کہ لبنان کا مسئلہ ہمارے لیے بہت اہم ہے اور اثاثوں کی واگزاری ہماری اولین شرائط میں شامل ہے۔ اگر ایسی کارروائیاں کی گئیں جو مزاحمتی محاذ کے مفادات کے خلاف ہوں یا اگر گزشتہ وعدوں کی پاسداری نہ کی گئی، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انہوں نے ایران کی شرائط قبول نہیں کیں، اور اس کا اثر براہِ راست مذاکرات کے مستقبل پر پڑے گا۔ اس تمام تر تناؤ کے باوجود دنیا بھر کی نظریں اب پاکستان پر لگی ہیں کہ آیا یہ سفارتی کوششیں خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچا پائیں گی یا نہیں۔

