LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان، ٹرمپ کا پاکستانی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ ریمارکس ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے کے اعلان کے بعد دیئے دو ہفتے کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے سے پہلے، ثالث تین اہم نکات پر سمجھوتہ کرنے پر زور دے رہے ہیں جن میں ایران کا جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز اور جنگ کے وقت ہونے والے نقصانات کا معاوضہ شامل ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریش سمیت عالمی رہنماؤں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں مذاکرات کی بحالی کا امکان ہے۔ صدر ٹرمپ کے بیانات کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
ٹروتھ سوشل پر پیغام: صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ایپ پر لکھا، “پاکستان اور اس کے عظیم وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ، یہ دونوں بہت ہی شاندار (fantastic) لوگ ہیں!”۔
ثالثی کا اعتراف: انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کے کلیدی کردار کو سراہا اور دونوں رہنماؤں کو “غیر معمولی شخصیات” قرار دیا۔
امن کی کوششیں: صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف ایران کے قریب ہیں اور وہ صورتحال کو حل کرنے کے لیے انتہائی کامیاب کوششیں کر رہے ہیں۔
ممکنہ دورہ پاکستان: صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ حتمی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ اس پر دستخط کرنے کے لیے اسلام آباد کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔ اس سے قبل اکتوبر 2025 میں بھی ایک تقریب کے دوران صدر ٹرمپ نے عاصم منیر کو اپنا “پسندیدہ فیلڈ مارشل” قرار دیتے ہوئے غزہ امن عمل میں ان کی کوششوں کا شکریہ ادا کیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی کی جانب سے عارضی طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر متحرک ہوگئے ہیں۔ اس سے پہلےامریکہ اور ایران, پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع پر تیار ہو گئےہیں,پاکستانی سفارتی تجزیہ کار اصغر علی مبارک کے مطابق اگرچہ اس جنگ بندی کے خاتمے میں اب چند روز باقی ہیں لیکن پاکستان اس کی مدت میں توسیع کے لیے دوبارہ متحرک ہے۔ اس سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران کا دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں، جس کے بعد ایران نے جمعہ کو عارضی طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوز نے جمعے کو رپورٹ کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور اسی اختتام ہفتہ کو اسلام آباد میں ہو سکتا ہے جس میں منجمد اثاثوں کی بحالی اور ایرانی یورینیم کے حوالے سے نئی تجاویز پر غور کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق ایک نئے منصوبے کے تحت امریکہ تقریباً 20 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے پر غور کر رہا ہے، اس کے بدلے ایران اپنے تقریباً دو کلوگرام افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے متعلق رعایتیں دے سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران ایک ایسے مسودہ معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنا اور ممکنہ طور پر تنازع ختم کرنا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات ایک تین صفحات پر مشتمل مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر مرکوز ہیں، جس میں ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے متعلق متعدد اقدامات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس جوہری مواد کا کچھ حصہ کسی تیسرے ملک منتقل کیا جا سکتا ہے جبکہ باقی کو ایران میں بین الاقوامی نگرانی میں کم افزودہ کیا جائے گا۔
ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ نئی تجویز ان متعدد آپشنز میں سے ایک ہے جو اس وقت زیرِ غور ہیں۔
مذاکرات میں نیوکلیئر افزودگی پر رضاکارانہ پابندی کا معاملہ بھی شامل ہے، جس میں واشنگٹن 20 سالہ وقفے کی تجویز دے رہا ہے جبکہ ایران پانچ سالہ معطلی کی بات کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد مذاکرات کے دوران امریکہ نے ایران کو انسانی ضروریات کے لیے چھ ارب ڈالر کی پیشکش کی تھی، جبکہ تہران کی جانب سے 27 ارب ڈالر کا مطالبہ سامنے آیا تھا۔ ایران کے وزیر خارجہ کی جانب سے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت جنگ بندی کے دوران مکمل طور پر کھلا رکھنے کے اعلان کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں جمعے کے روز نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ سٹاک مارکیٹس اور حکومتی بانڈز میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ایران اور ٹرمپ کی جانب سے ایران کے شکریے کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت نو فیصد کمی کے ساتھ 90 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 10 فیصد کمی کے بعد 81.5 ڈالر فی بیرل تک گر گیا۔ اگرچہ قیمتیں اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے اب بھی زیادہ ہیں، تاہم مارچ کے آخر کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں نمایاں کمی آئی ہے جب برینٹ 120 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا تھا۔ دوسری جانب ایران کے اعلان کے بعد عالمی سٹاک مارکیٹس میں بھی اضافہ ہوا، یورپی سٹاکس 600 انڈیکس 1.3 فیصد اور امریکی ایس اینڈ پی فیوچرز 0.9 فیصد اوپر چلے گئے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے رسد معمول پر آنے کی توقع نے عالمی معیشت کے لیے خطرات کم کیے ہیں، جس کے باعث مارکیٹس میں مثبت رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ اسرائیل نے جمعے کو خبردار کیا ہے کہ 10 روزہ جنگ بندی کے بعد اپنے گھروں کو واپس آنے والے ہزاروں بے گھر لبنانی شہریوں کو جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں دوبارہ جنوبی علاقوں سے انخلا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کیرز نے ایک بیان میں کہا: ’اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو وہ شہری جو سکیورٹی زون میں واپس آئیں گے، مشن کی تکمیل کے لیے انہیں دوبارہ نکالنا پڑے گا۔‘ انہوں نے خبردار کیا کہ فوج نے ابھی تک حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائیاں مکمل نہیں کی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لبنان میں 10 روزہ جنگ بندی نافذ ہونے کے چند گھنٹوں بعد بھی حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی مہم مکمل نہیں ہوئی۔
ان کے بقول: ’لبنان میں زمینی کارروائی اور حزب اللہ پر حملوں سے کئی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، لیکن یہ ابھی مکمل نہیں ہوئی ہیں۔ پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ اپنے بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان خطے کے استحکام کو بہت اہمیت دیتا ہے اور اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ پائیدار امن صرف مذاکرات، خودمختاری کے باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’جنگ بندی دیرپا امن کی جانب پیش رفت کا ایک موقع ہے۔ پاکستان کے صدر نے کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ فعال طور پر رابطے میں ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی میں کمی اور منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے فروغ کے لیے ہر مخلصانہ اقدام کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان جاری دو ہفتے کی جنگ بندی کے وسیع تر مفادمیں لبنان میں بھی تحمل شامل تھا جس کی اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزی کی گئی۔‘ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی جمعے کو ’ایکس‘ پر ایک بیان میں لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جرات مندانہ اور دانشمندانہ سفارتی کوششوں کے ذریعے ممکن ہوئی، اور امید ظاہر کرتا ہوں کہ یہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرے گی۔‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور ’خطے میں دیرپا امن کے لیے تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔اس سے پہلے پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے پر زور دیا ہے اور اس امید کا اظہار کیا کہ ایک معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے۔ایرانی حکومت کے مطابق اسلام آباد ایک اہم ثالث کے طور پر اپنا کردار مزید مضبوط بنا رہا ہے تاکہ نازک جنگ بندی کو پائیدار امن میں بدلا جا سکے۔ فیلڈ مارشل اس وقت ایران کے دورے پر ہیں، جہاں وہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ ثالثی کے لیے پاکستان کی کوششوں سے 8 اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پائی تھی جس کے بعد اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطحی مذاکرات بھی ہوئے تاہم ان سے کسی معاہدے پر اتفاق رائے نہ ہو سکا۔ ایرانی صدر سے ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ یہ جنگ ختم بھی ہو جائے گی تو خطہ ممکنہ طور پر اپنی سابقہ حالت میں جلد واپس نہیں آئے گا، اس لیے تمام ممالک کو تعمیر نو، استحکام اور دیرپا امن کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔ ایرانی حکومت کے مطابق پاکستان کے فیلڈ مارشل نے کہا کہ ’چین، سعودی عرب، مصر اور ترکی اس بحران کے دوران سفارتی کوششوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ ایک معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے۔ یہ جنگ صرف تباہی اور نقصان لاتی ہے۔‘ صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران خطے میں امن، استحکام اور برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔ 10 اور 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران واشنگٹن اور تہران اہم معاملات پر متفق نہ ہو سکے۔ جہاں ایک طرف فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران میں موجود ہیں، وہیں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکی کے دوروں پر ہیں تاکہ امن کے قیام کے لیے کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ’ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بہت قریب ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے جلد ہی معاہدہ طے پا سکتا ہے اور کہا کہ جنگ بہت جلد ختم ہونی چاہیے۔ انہوں نے تہران کی حامی تنظیم حزب اللہ پر زور دیا کہ وہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے نفاذ کے ساتھ ہی اپنے حملے روک دے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان آئندہ ملاقات اس ہفتے کے آخر میں ہو سکتی ہے اور دو ہفتے کی جنگ بندی میں توسیع ممکن ہے، لیکن شاید اس کی ضرورت نہ پڑے کیوں کہ تہران ایک معاہدہ چاہتا ہے انہوں نے وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے؟ لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بہت قریب ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر معاہدہ طے پا گیا اور اس پر پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں دستخط ہوئے، تو وہ اس موقع پر وہاں جا سکتے ہیں۔چند گھنٹے بعد لاس ویگس میں، ٹرمپ نے مزید آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ جنگ ’بہت جلد ختم ہونی چاہیے۔‘ ایران کے ساتھ جنگ امریکہ میں غیر مقبول رہی ہے اور اس نے ٹرمپ کے لیے ملک میں اہم وسط مدتی انتخابات سے محض چند ماہ قبل ایک سیاسی درد سر کھڑا کر دیا ہے۔ ایران پر 28 فروری کو شروع ہونے والے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں کے بدترین بحران کو جنم دیا ہے اور اس کے باعث بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے عالمی معیشت کی ترقی کی رفتار میں کمی کا عندیہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ طویل تنازع دنیا کو معاشی کساد بازاری کے دہانے پر دھکیل سکتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کرنے والے ایک پاکستانی ذریعے نے جمعے کو روئٹرز کو بتایا کہ بیک ڈور ڈپلومیسی میں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان آئندہ ملاقات کے نتیجے میں ایک معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں۔دوسری طرف پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جلد متوقع ہے، تاہم حتمی تاریخ کا فیصلہ نہیں ہوا ترجمان طاہر اندرابی نے مذاکرات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت متعلقہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ثالثی کی کوششوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ہی کوششوں کے سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچے جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف تین ممالک کے اہم دورے پر ہیں۔ دنیا بھر کے سفارتی حلقوں میں پاکستان کے اس مثبت اور مصالحانہ کردار کو سراہا جا رہا ہے اور یہ دورے ہماری قیامِ امن کی مخلصانہ کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کا یہ دور تقریباً 21 گھنٹوں تک جاری رہا اس دوران نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی موجودگی میں فریقین کے درمیان تفصیلی تبادلہ خیال ہوا تھا۔ طاہر اندرابی نے اسحاق ڈار کے گزشتہ بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نائب وزیر اعظم نے ان مذاکرات کے جاری رہنے کی جو امید ظاہر کی تھی، وہ اب سچ ثابت ہو رہی ہے کیونکہ دونوں فریقین ایک بار پھر میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں۔ پاکستان سمجھتا ہے صرف بات چیت اور تعاون کے ذریعے ہی موجودہ تنازعات کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ پاکستان کا مقصد خطے کو جنگ کے سائے سے نکال کر استحکام کی طرف لانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاحال مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے وقت کا تعین نہیں ہوا لیکن سفارتی سطح پر تیاریاں عروج پر ہیں اور پاکستان اس حوالے سے اپنا کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔ دوسری طرف ڈیٹا، انٹیلی جنس اور انفراسٹرکچر کمپنیوں کیپلر اور ایل ایس ای جی کے مطابق پاکستانی پرچم بردار ٹینکر شالامار متحدہ عرب امارات سے لدا ہوا خام تیل لے کر آبنائے ہرمز کے راستے خلیج سے گزر گیا ہے۔ افرا میکس ٹینکر اس آبی گزرگاہ سے نکلا جس میں اس ہفتے کے شروع میں لادا گیا ابوظہبی کا تقریباً چار لاکھ 40 ہزار بیرل داس بلینڈ خام تیل موجود ہے۔ ڈیٹا کے مطابق، جہاز 19 اپریل کو اپنا سامان اتارنے کے لیے کراچی کی بندرگاہ کی طرف جا رہا ہے۔
شالامار ان دو پاکستانی ٹینکروں میں سے ایک ہے جو خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات لادنے کے لیے اتوار کو آبنائے میں داخل ہوئے تھے۔ پاکستان کے وزیر پٹرولیم نے بدھ کو بتایا کہ شالامار میں متحدہ عرب امارات میں ایڈنوک ٹرمینل سے خام تیل بھرا گیا۔اس سے پہلے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں لبنان میں جنگ بندی کے لیے پاکستان کی طرف سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کو سراہا ہے۔ انہوں اپنے پیغام میں حکومت پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کا شکریہ ادا کیا۔پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں باقر قالیباف، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں کی۔ باقر قالیباف نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’جنگ بندی صرف حزب اللہ کی ثابت قدمی اور مزاحمتی محور کے اتحاد کا نتیجہ ہے۔ ہم اس جنگ بندی پر احتیاط کے ساتھ ڈیل کریں گے اور مکمل کامیابی کے حصول تک ایک ساتھ رہیں گے۔لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب سے عمل میں آ گئی ہے۔ اس طرح اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی رک سکتی ہے اور ہفتوں کی تباہ کن جنگ کے بعد ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کو وسعت دینے کی کوششوں کو فروغ مل سکتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کا اعلان اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے طور پر کیا۔ آدھی رات کے فوراً بعد جنگ بندی کے آغاز کا جشن منانے کے لیے مقامی لوگوں نے ہوائی فائرنگ کی جس سے پورے بیروت میں گولیوں کی آوازیں گونج اٹھیں۔ حکام کے اس انتباہ کے باوجود کہ جب تک جنگ بندی برقرار رہنے کا واضح یقین نہ ہو جائے اپنے گھروں کو لوٹنے کی کوشش نہ کریں، نقل مکانی کرنے والے خاندانوں نے جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافات کی طرف جانا شروع کر دیا ہے۔‘امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ حزب اللہ اس اہم وقت میں اچھے اور بہتر انداز میں پیش آئے گی۔ اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یہ ان کے لیے ایک بہت بڑا لمحہ ہو گا۔ مزید کوئی قتل و غارت نہیں۔ آخرکار امن قائم ہونا چاہیے۔
یہ نوٹ کرنا ضروری ہےکہ امریکی صدر نے کہا ہے کہ آج دنیا کے لیے ایک عظیم دن ہے۔ انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں مرکزی کردار ادا کرنے پر پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ’دو لاجواب شخصیات‘ کہہ کر مخاطب کیا اور دونوں کا شکریہ ادا کیا۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولے جانے کے اعلان کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکے بعد دیگرے کئی بیانات جاری کیے ,
ان بیانات میں صدر ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے خلیجی ممالک کی تعریف کی، نیٹو پر شدید تنقید اور اسرائیل کو خبردار کیا کہ وہ لبنان پر حملوں سے باز رہے۔ ایک بیان میں انہوں نے ایران کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل بیان میں انہوں نے لکھا کہ ’آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلا ہے اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے آزاد ہے‘۔ کچھ دیر بعد انہوں نے ایک اور بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ’امریکی بحریہ کی جانب سے ناکہ بندی بدستور نافذ رہے گی اور اس کا اطلاق صرف اور صرف ایران پر ہوگا‘۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ امریکا کی ایران کے ساتھ ’ڈیل‘ سو فیصد مکمل ہونے تک ایران کے تجارتی جہازوں پر یہ پابندی برقرار رہے گی۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کا مسئلہ حل ہونے کے بعد نیٹو نے ان سے رابطہ کر کے مدد کی پیشکش کی جسے انہوں نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’نیٹو نے ان سے رابطہ کیا ہے اور مدد کی پیشکش کی ہے۔ میں نے ان سے کہا ہے کہ اب وہ اپنے جہازوں میں تیل بھروانا چاہتے تو جاکر بھروا لیں لیکن جب ان کی ضرورت تھی تب وہ بے کار اور ایک کاغذی شیر ثابت ہوئے‘۔

ایک اور مختصر پیغام میں امریکی صدر نے خلیجی ممالک کی تعریف کی۔ انہوں نے لکھا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کی زبردست بہادری اور مدد کا شکریہ‘۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ 40 روز تک جاری رہی۔ اس دوران ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرتے ہوئے دشمن ملکوں کے تجارتی جہازوں کو وارننگ جاری کی تھی۔
اس دوران پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان 8 اپریل کو جنگ بندی پر راضی کیا، جس کے بعد دونوں ملکوں نے دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس معاہدے میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا، جس کے بعد فریقین کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 11 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کا پہلا دور ہوا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔عباس عراقچی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت اسی مربوط راستے پر ہوگی جس کا اعلان ’ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن‘ پہلے ہی کر چکی ہے۔صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز ایک پیغام میں یہ بھی کہا ایران اور امریکا درمیان جاری مذاکرات میں سو فیصد اتفاق ہونے تک ایران کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ چونکہ زیادہ تر نکات پر مذاکرات ہو چکے ہیں، اس لیے یہ عمل بھی جلد ہی مکمل ہو جائے گا۔یہ یاد رکھیں کہ8 اپريل 2026 منگل اور بدھ کی درمیانی رات تھی۔ پاکستان کی گھڑیاں تین بج کر 32 منٹ دکھا رہی تھیں، امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں شام کے 6:32 ہو رہے تھے اور ایران میں رات کے دو بج کر دو منٹ تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی مہلت ختم ہونے میں صرف ایک گھنٹہ اور 28 منٹ باقی رہ گئے تھے۔ وہ دھمکی دے چکے تھے کہ ’ پوری تہذیب ختم ہو جائے گی۔ٹرمپ ایران سے بارہا یہ مطالبہ کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز کھول دے اور اسے ’پتھر کے دور میں واپس‘ دھکیلنے کی دھمکیاں دے چکے تھے۔ جبکہ ایرانی تہذیب کو مکمل ختم کرنے کی تازہ ترین دھمکی نے کئی خوفناک قیاس آرائیوں کو جنم دیا تھا۔ ہر کوئی یہی سوچ رہا تھا کہ امریکہ کوئی بہت ہولناک اور تباہ کن قدم اٹھانے جا رہا ہے۔دنیا آنے والے وقت کا انتظار کر رہی تھی کہ پاکستانی وقت کے مطابق تین بج کر 32 منٹ پر امریکی صدر کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل سے ایک پوسٹ کی گئی۔پاکستان کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے آئندہ دور کی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے۔ رواں ہفتے ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ بات چیت کا آئندہ دور اس اختتام ہفتے میں ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے گذشتہ ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان براہ بات چیت کی میزبانی کی تھی تاہم اس میں فریقین کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکے تھے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ ریمارکس ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے کے اعلان کے بعد دیئےیہ یاد رکھیں13 اکتوبر 2025 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصر میں غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور اپنے ’پسندیدہ‘ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کیا تھا ۔انہوں نے کہا تھاکہ ان دونوں کی کوششیں، دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ مل کر، غزہ میں امن کے قیام میں نہایت اہم ثابت ہوئیں۔ ٹرمپ نے وزیر اعظم شہباز شریف کو خصوصی خطاب کی دعوت بھی دی تھی، جنھوں نے پوڈیم پر آ کر صدر ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا ’آج کا دن جدید تاریخ کے عظیم ترین دنوں میں سے ایک ہے کیونکہ مسلسل اور انتھک کوششوں کے بعد امن قائم ہوا ہے۔ ’ایسی کوششیں جن کی قیادت صدر ٹرمپ نے کی، جو واقعی امن کے علم بردار ہیں اور جنہوں نے دن رات محنت کی تاکہ یہ دنیا امن اور خوشحالی کا گہوارہ بن سکے۔‘’میں کہنا چاہوں گا کہ پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے اس لیے نامزد کیا تھاکیونکہ ان کی شاندار اور غیر معمولی کوششوں سے پہلے انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ روکی گئی، اور اب ان کی قابل تعریف ٹیم کے ساتھ مل کر غزہ میں امن ممکن ہوا۔ ’آج میں ایک بار پھر اس عظیم صدر کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میرا یقین ہے کہ وہ اس اعزاز کے سب سے موزوں اور مخلص امیدوار ہیں۔ ’انہوں نے نہ صرف جنوبی ایشیا میں امن قائم کیا تھااور لاکھوں زندگیاں بچائیں بلکہ آج شرم الشیخ میں بھی مشرقِ وسطیٰ میں امن لا کر لاکھوں انسانوں کی زندگیاں بچائیں۔‘ وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹرمپ کو ’مثالی اور بصیرت رکھنے والے رہنما‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا’آپ وہ شخصیت ہیں جس کی دنیا کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
’دنیا ہمیشہ آپ کو ایک ایسے شخص کے طور پر یاد رکھے گی جس نے ہر ممکن کوشش کی اور سات، بلکہ اب آٹھ، جنگوں کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔‘شہباز شریف نے مزید کہاتھا ’یہ کہنا کافی ہوگا کہ اگر اس شخص (صدر ٹرمپ) نے مداخلت نہ کی ہوتی، جب انڈیا اور پاکستان، جو دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں، کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر تھی، تو شاید وہ جنگ ایک تباہ کن سطح تک پہنچ جاتی اور پھر کون ہوتا جو اس کہانی کو بیان کرتا۔‘ ’اسی طرح مشرقِ وسطیٰ میں جناب صدر، آپ کی قیمتی کاوشیں صدر السیسی کے ساتھ مل کر تاریخ میں سنہری الفاظ میں لکھی جائیں گی۔‘ شہباز شریف کی گفتگو ختم ہونے پر ٹرمپ نے پوڈیم پر آ کر مسکراتے ہوئےکہا تھا’واہ! میں یہ توقع نہیں کر رہا تھا۔ ’چلیے اب گھر چلتے ہیں، میرے پاس کہنے کو اور کچھ نہیں بچا۔ سب کو خدا حافظ!یہ واقعی بہت خوبصورت اور دل سے کیا گیا خطاب تھا، آپ کا بہت شکریہ۔‘ دوسری طرف ڈیٹا، انٹیلی جنس اور انفراسٹرکچر کمپنیوں کیپلر اور ایل ایس ای جی کے مطابق پاکستانی پرچم بردار ٹینکر شالامار متحدہ عرب امارات سے لدا ہوا خام تیل لے کر آبنائے ہرمز کے راستے خلیج سے گزر گیا ہے۔ افرا میکس ٹینکر اس آبی گزرگاہ سے نکلا جس میں اس ہفتے کے شروع میں لادا گیا ابوظہبی کا تقریباً چار لاکھ 40 ہزار بیرل داس بلینڈ خام تیل موجود ہے۔ ڈیٹا کے مطابق، جہاز 19 اپریل کو اپنا سامان اتارنے کے لیے کراچی کی بندرگاہ کی طرف جا رہا ہے۔
شالامار ان دو پاکستانی ٹینکروں میں سے ایک ہے جو خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات لادنے کے لیے اتوار کو آبنائے میں داخل ہوئے تھے۔ پاکستان کے وزیر پٹرولیم نے بدھ کو بتایا کہ شالامار میں متحدہ عرب امارات میں ایڈنوک ٹرمینل سے خام تیل بھرا گیا۔اس سے پہلے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں لبنان میں جنگ بندی کے لیے پاکستان کی طرف سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کو سراہا ہے۔ انہوں اپنے پیغام میں حکومت پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کا شکریہ ادا کیا۔پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں باقر قالیباف، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں کی۔ باقر قالیباف نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’جنگ بندی صرف حزب اللہ کی ثابت قدمی اور مزاحمتی محور کے اتحاد کا نتیجہ ہے۔ ہم اس جنگ بندی پر احتیاط کے ساتھ ڈیل کریں گے اور مکمل کامیابی کے حصول تک ایک ساتھ رہیں گے۔لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب سے عمل میں آ گئی ہے۔ اس طرح اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی رک سکتی ہے اور ہفتوں کی تباہ کن جنگ کے بعد ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کو وسعت دینے کی کوششوں کو فروغ مل سکتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کا اعلان اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے طور پر کیا۔ آدھی رات کے فوراً بعد جنگ بندی کے آغاز کا جشن منانے کے لیے مقامی لوگوں نے ہوائی فائرنگ کی جس سے پورے بیروت میں گولیوں کی آوازیں گونج اٹھیں۔ حکام کے اس انتباہ کے باوجود کہ جب تک جنگ بندی برقرار رہنے کا واضح یقین نہ ہو جائے اپنے گھروں کو لوٹنے کی کوشش نہ کریں، نقل مکانی کرنے والے خاندانوں نے جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافات کی طرف جانا شروع کر دیا ہے۔‘امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ حزب اللہ اس اہم وقت میں اچھے اور بہتر انداز میں پیش آئے گی۔ اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یہ ان کے لیے ایک بہت بڑا لمحہ ہو گا۔ مزید کوئی قتل و غارت نہیں۔ آخرکار امن قائم ہونا چاہیے۔اس سے پہلےوائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکہ پاکستان میں ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد پر بات کر رہا ہے اور وہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے پر امید ہے۔ پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ ’وہ بات چیت ہو رہی ہے‘ اور ’ہم معاہدے کے امکانات کے بارے میں اچھا محسوس کر رہے ہیں۔‘ مزید کہا کہ مزید بات چیت ’بہت امکان ہے‘ اسلام آباد میں ہو گی۔’امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستانی ایک زبردست ثالث رہے ہیں اور وہ واحد ثالث ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا کے کئی ممالک نے مدد کی حمایت کی مگر صدر سمجھتے ہیں کہ اس عمل کو پاکستان کے ذریعے جاری رکھنا اہم ہے۔‘دوسری طرف ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کا ملک جنگ نہیں چاہتا اور وہ بات چیت کو ترجیح دیتا ہے۔ پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران نہ جنگ اور نہ ہی عدم استحکام کا خواہاں ہے، بلکہ ہمیشہ دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ مکالمے اور تعمیری روابط کی زبان پر زور دیتا رہا ہے۔یہ بھی کہا کہ ایران کسی صورت ہتھیار ڈالنے کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق کسی بھی طرح کی زبردستی مسلط کرنے یا ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش ناکامی سے دوچار ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بین الاقوامی نظام میں دوہرے معیار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس دوہرے معیار کی مذمت کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ کسی بھی ملک کے خلاف فوجی کارروائی بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے۔ تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایران پر حملہ کسی قانونی اختیار کے تحت کیا گیا؟ اور اصل جرم کیا ہے؟ آخر شہریوں، ماہرین، بچوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے اور سکولوں و ہسپتالوں سمیت اہم مراکز کی تباہی کا کیا جواز ہے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X