اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیراعظم پاکستان کا”قومی کفایت شعاری پالیسی” کا اعلان
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی موجودہ معاشی اور علاقائی صورتحال کے پیش نظر “قومی کفایت شعاری پالیسی” کی منظوری دی ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی لانا اور عوام پر بوجھ کم کرنا ہے۔زیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ موجودہ بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر ملک میں معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے بروقت اقدامات ناگزیر ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف کا قوم سے اہم خطاب میں کہنا ہےکہ پاکستان آزمائش کی گھڑی میں ان ملکوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑا ہے، پاکستان ان ملکوں کی سلامتی کو اپنی سلامتی کا حصہ سمجھتا ہے خطے کو درپیش سنجیدہ اور پر خطر مسئلے پر آپ سے مخاطب ہوں، امن کو لاحق خطرات ہم سب کےلیے تشویش کا باعث ہیں۔ پاکستان کو مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کا سامنا ہے، مسلح افواج بہادر سپہ سالار کی قیادت میں وطن کی سلامتی اور خود مختاری کا تحفظ یقینی بنانے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی شہادت پر پاکستان گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے۔وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین اور دیگر ملکوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، خلیجی ملکوں پر حملوں سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
شہباز شریف نے اعلان کیا کہ آئندہ 2 ماہ کے لیے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کو ملنے والے تیل میں 50فیصد کٹوتی کی جارہی ہے، تمام محکموں کی 60 فیصد گاڑیوں کو 2 ماہ کے لیے بند کیا جا رہا ہے20 گریڈ اور اس سے اوپر کے افسران کی تنخواہ سے 2 دن کی کٹوتی کر کے عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جائے گی، تمام سرکاری محکموں کے اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جا رہی ہے۔ سرکاری دفاتر میں گاڑی، اے سی اور دیگر اشیا کی خریداری پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وصوبائی وزرا، مشیران، معاون خصوصی اور گورنرز کے بیرون ملک دوروں پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے اخراجات گھٹانے کی ہدایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت کفایت شعاری کی حکمت عملی پر سنجیدگی سے متوجہ ہے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ موجودہ بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر ملک میں معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے بروقت اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے یہ بات اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی جس میں عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں قومی معیشت کے استحکام کو برقرار رکھنے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔ وزیراعظم کو حالیہ عالمی کشیدگی اور اس کے ممکنہ معاشی اثرات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ علاقائی صورتحال پاکستان کی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے، خصوصاً توانائی کی فراہمی اور عالمی منڈیوں میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر حکومت پیشگی احتیاطی اقدامات کر رہی ہے تاکہ ممکنہ چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور قومی معیشت کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری فیصلے کیے جائیں گے۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ موجودہ حالات سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا تاکہ عوامی مفادات کا مکمل تحفظ اور معاشی استحکام یقینی بنایا جا سکے۔ وفاقی کابینہ، وفاق اور صوبوں میں تمام منتخب نمائندوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کو انہوں نے ہدایت کی کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ تمام سرکاری ملازمین اور وزرا سادگی اور کفایت شعاری کو اپنائیں۔
موجودہ مشکل حالات میں قومی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ جب مشکل مرحلہ گزر جائے گا اور معیشت مزید مضبوط ہو جائے گی تو حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ممکنہ ریلیف فراہم کرے گی۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ کفایت شعاری، سادگی اور بچت سے متعلق ہدایات کا اطلاق صنعتی اور زرعی شعبوں پر نہیں ہوگا تاکہ قومی پیداوار، برآمدات اور غذائی تحفظ متاثر نہ ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بچت اور کفایت شعاری کا بوجھ منصفانہ طور پر سب کو برداشت کرنا چاہیے۔ انہوں نے بالخصوص معاشرے کے بااثر اور صاحب حیثیت طبقات پر زور دیا کہ وہ رضاکارانہ طور پر ضروری ایڈجسٹمنٹ برداشت کر کے مثال قائم کریں۔وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں قومی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے سادگی اور کفایت شعاری سے متعلق متعدد تجاویز اجلاس میں پیش کی گئیں بتایا گیا کہ ملک میں ڈیزل، پیٹرول اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کے مناسب ذخائر موجود ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات کر لیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے محتاط استعمال اور ایندھن کے دانشمندانہ استعمال کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ وزارت آئی ٹی طلب اور رسد کی مسلسل نگرانی کے لیے ایک نظام فراہم کرے گی تاکہ سرکاری وسائل میں بچت اور توانائی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے اور متعلقہ ادارے بروقت فیصلے کر سکیں۔دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خطے میں جنگ کے باعث معاشی مشکلات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ فیصلے کے مطابق پیٹرولیم بحران کے خاتمے تک صوبائی وزرا کے لیے سرکاری فیول بند کر دیا گیا ہے۔ سرکاری افسران کی گاڑیوں کے لیے پیٹرول اور ڈیزل الاؤنس میں فوری 50 فیصد کمی کر دی گئی ہے۔ صوبائی وزرا اور اعلیٰ سرکاری افسران کے ہمراہ پروٹوکول گاڑیوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کے فیصلے کے مطابق ناگزیر سیکیورٹی کے لیےصوبائی وزرا اور اعلیٰ سرکاری افسر کے ہمراہ صرف ایک گاڑی ہوگی۔ سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم کا بھی فیصلہ کیا گیا اور صرف ضروری عملہ ہی دفتر آئے گا۔ دریں اثنا اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں، 10 مارچ سے 31 مارچ تک بند رہیں گی۔ امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے، اسکول اور تعلیمی ادارے آن لائن کلاسز لے سکیں گے۔ اعلامیہ کے مطابق سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے آن لائن اجلاس اور ٹیلی کانفرنسز منعقد ہوں گی، سرکاری آؤٹ ڈور تقریبات پر پابندی لگا دی گئی۔ اعلامیہ کے مطابق ہارس اینڈکیٹل شوکاثقافتی تہوار بھی ملتوی کر دیا گیا، پیٹرولیم مصنوعات کی مانیٹرنگ کے لیے ہرضلع میں ڈسٹرکٹ پیٹرولیم مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پی آئی ٹی بی کو پیٹرولیم مصنوعات کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر اداروں کے نمائندے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیار کرنے والی ٹیم میں شامل ہوں گے۔ وزیراعلی مریم نواز نے ہدایت کی کہ ورک فرام ہوم کے تحت صرف اضافی سپورٹ اسٹاف کی آمد ورفت بند کی جا رہی ہے، دفاتر میں کام بند نہیں ہوگا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ نجی شعبے کو ورک فرام ہوم اور غیر ضروری تقریبات نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نجی شعبہ کو صرف ضروری اسٹاف بلانے کی ایڈوائزری جاری کی جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہا تمام اضلاع میں ٹرانسپورٹ کرایوں کی سخت نگرانی کی جائے، زائد اور ناجائز کرائے وصول کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، پنجاب میں اشیائے خورونوش کی طلب و رسد کی سخت نگرانی کی جائے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے اپیل کی کہ بحرانی صورتحال کے پیش نظر عوام آؤٹ ڈورفنکشن نہ کریں، ہنگامی حالات کے پیش نظر عوام لیٹ نائٹ شاپنگ سے گریز کریں۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ ضروری اشیا کی غیرضروری خریداری یا ذخیرہ نہ کریں۔ انھوں نے کہا ہم وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو مشکل ترین بحران میں جراتمندانہ فیصلوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں، مشکل حالات میں قوم کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے والوں سے آہنی ہاتھوں سےنمٹیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا بہادر قومیں مشکل حالات کا اتحاد، صبر اور دانش مندی سے مقابلہ کرتی ہیں۔
چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز نے بھی حالیہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں اجلاس میں اپنے اپنے صوبوں میں معاشی سرگرمیوں، توانائی کے استعمال اور انتظامی تیاریوں کے بارے میں وزیراعظم کو آگاہ کیا۔اجلاس میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر توانائی سردار اویس لغاری، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر ماحولیات مصدق مسعود ملک، معاون خصوصی ہارون اختر خان اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ ہمیں آج کھڑے ہو کر چیلنج کو قبول کرنا ہے اور دنیا کو بتانا ہے کہ پاکستان ایک مضبوط قوم ہے اور حکومت ان چیلنجوں کے مقابلے میں ہر ممکن کوشش کرنے کو تیار ہےان اقدامات سے عوام کو احساس ہوگا کہ حکومت، سیاست دانوں اور بیوروکریسی نے دل کی گہرائیوں سے قربانی کا جذبہ دکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔آج وقت آگیا ہے کہ آپ کھڑے ہوں اور اس چیلنج کو قبول کریں اور خدا کے نام پر، پاکستان کے نام پر ایسا کریں۔آئیے اس میں تاخیر نہ کریں اور اپنی خوش حالی کو شرمندہ نہ کریں۔پاکستان میں دس لاکھ سے بھی کم افراد انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ٹیکس دینے والوں میں ایک بڑی تعداد سرکاری ملازمین کی ہے۔ سیاستدانوں کا خیال ہے کہ سرکاری ملازمین پہلے ہی معاشی بدحالی کا شکار ہیں اور ان کی تنخواہوں میں کمی مناسب نہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت وفاق کے اخراجات کم کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، اس کمیٹی نے وفاقی حکومت کو اخراجات کم کرنے کے حوالے سے مختلف اقدامات کرنے کی سفارش کی تھی۔وفاقی حکومت نے کفایت شعاری کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، وفاقی کابینہ نے کمیٹی کی سفارشات منظور بھی کرلی ہیں، جس کے بعد وزارت خزانہ نے بچت کے اقدامات کرنے کے لیے سرکلر جاری کردیا۔سرکلر کے مطابق سرکاری و حکومتی اہلکاروں پر سرکاری خرچے پر بیرون ملک علاج پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، ساتھ ہی حکومتی اخراجات پر بیرون ملک دوروں پر بھی مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔وزیراعظم میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومتی سطح پر بڑے پیمانے پر سادگی اور کفایت شعاری کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے اس میں شبہ نہیں کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی قسط کے اجرا کی راہ ہموار ہو چکی ہے اور دیگر مالیاتی اداروں اور ڈونر ممالک کا تعاون حاصل ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔یہ خیال رکھنا اب ہمیشہ سے زیادہ ضروری ہوگیا ہے کہ عام آدمی کے لئے مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ پہلے ہی جان لیوا ہو چکا ہے۔ اس ضمن میں سادگی اختیار کرنے، بالخصوص حکومتی اخراجات میں کفایت کے طریقوں پر عملدرآمد کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ وزیراعظم کی زیر صدارت بین الاقوامی سطح پر حالیہ کشیدگی کی وجہ سے ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے اقدامات کے حوالے سے اہم اجلاس میں حالیہ کشیدگی اور اس کے ممکنہ معاشی اثرات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی, بتایا گیا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے پاکستان کی معیشت، بالخصوص توانائی کی فراہمی اور عالمی منڈیوں میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے پیش نظر حکومت پیشگی اقدامات کر رہی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر ملکی معاشی استحکام کے لیے بروقت اقدامات کا نفاذ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور قومی معیشت کو ہر ممکن استحکام فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری فیصلے کیے جائیں گے۔وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حالیہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام تر اقدامات کیے جائیں گے جن سے عوام کے مفادات کا مکمل تحفظ کیا جائے گا اور معاشی استحکام کو یقینی بنایا جائے۔وزیراعظم نے وفاقی کابینہ، وفاقی و صوبائی سطح پر تمام منتخب نمائندوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کو ہدایت کی کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور وسائل کے موثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام سرکاری ملازمین اور وزرا کو سادگی اور کفایت شعاری اختیار کرنی ہوگی۔وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ مشکل وقت میں قومی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کو یقینی بنانا ضروری ہے اور جیسے ہی یہ مشکل مرحلہ گزرے گا اور معیشت مزید مستحکم ہوگی، حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرے گی۔اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ کفایت شعاری، سادگی اور بچت کے حوالے سے ہدایات صنعت اور زرعی شعبے پر لاگو نہیں ہوں گی تاکہ ملکی پیداوار، برآمدات اور غذائی تحفظ متاثر نہ ہو۔اجلاس میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر توانائی سردار اویس لغاری، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر ماحولیات ڈاکٹر مصدق ملک، معاون خصوصی ہارون اختر، چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔کہا گیا ہے کہ تمام قسم کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر بھی مکمل پابندی عائد ہوگی، ہر قسم کی نئی مشینری اور آلات کی خریداری پر بھی پابندی عائد ہوگی۔ اسپتالوں ،لیبارٹریز، زراعت، اسکولوں کے لیے مشینری اور آلات کی خریداری ہوسکے گی، صرف ایمبولینس، طبی امداد سے متعلق آلات اور تعلیمی اداروں کے لیے بسیں خریدی جاسکیں گی۔اس پالیسی کے اہم نکات میں وفاقی کابینہ کے اراکین نے 2 ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔وزراء، مشیران اور اعلیٰ سرکاری افسران کی تنخواہوں اور مراعات میں کٹوتی کا عندیہ دیا گیا ہے۔ خریداری اور دوروں پر پابندی: نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری، سرکاری دوروں، ضیافتوں اور دیگر غیر ضروری اشیاء کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
سرکاری محکموں کی میٹنگز کو ترجیحی طور پر ورچوئل (آن لائن) کرنے اور پٹرول و ڈیزل کے استعمال میں 25 فیصد تک کمی لانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ پالیسی میں مستحق اور غریب شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے خصوصی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ موجودہ مشکل وقت میں تمام وزراء اور سرکاری ملازمین کو سادگی اختیار کرنا ہوگی تاکہ قومی وسائل کی بچت ممکن ہو سکے۔
علاقائی اور عالمی صورتحال کے تناظر میں وزیراعظم کی قومی کفایت شعاری پالیسی سے متعلق اجلاس میں حتمی لائحہ عمل طے کرلیا گیاہے ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاقی کابینہ کے اراکین نے دو ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا اجلاس میں کفایت شعاری اورسادگی پر مبنی تجاویز اور سفارشات کی بنیاد پرحتمی لائحہ عمل طے کیا گیا اور تمام سرکاری ملازمین اور وزرا کو سادگی اور کفایت شعاری اختیار کرنے کی تلقین کی گئی۔اجلاس میں کفایت شعاری اور بچت سے متعلق ہدایات صنعتی اور زرعی شعبوں پر لاگو نہ کرنے کا پلان تیار کیا گیا ہے جبکہ سرکاری وسائل کی بچت اور توانائی کے موثر استعمال کے لیے طلب اور رسد کی مسلسل نگرانی کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر اعظم نے ورک فرام ہوم اور ڈیجیٹل کنیکٹی ویٹی میں تعطل نہ لانے اور آن لائن کام کرنے والوں کو بلا رکاوٹ انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وزیراعظم آزادکشمیر نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔وزیراعظم نے معاشی ترقی، سادگی اور بچت پر مبنی لائحہ عمل تشکیل دینے اور عوام پر بوجھ کم سے کم رکھنے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعظم کی زیرصدارت حالیہ عالمی تناظر میں ملکی معاشی صورتحال پر جائزہ اجلاس میں حالیہ کشیدگی اور اس کے خطے پر پڑنے والے معاشی اثرات پر بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا ک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ کمیٹی کی تجویز پر ہوا جس میں عالمی سطح پر اضافے کا کم سے کم بوجھ صارفین پر منتقل کیا گیا۔ وزیراعظم نے کمیٹی کو مزید فعال طور پرکام کرنے اور جلد ازجلد عوام کیلئے سہل اورقابل عمل سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی۔ شہباز شریف نے کہا کہ جو پیٹرول پمپس یا کمپنی بھی مصنوعی قلت پیدا کرنے یا ذخیرہ اندوزی میں ملوث پائی گئی ہو، اس کو فوراً بند کیا جائے، ایسے پیٹرول پمپ یا کمپنی کا لائسنس منسوخ کرکے قانونی کارروائی کی جائے۔ وزیراعظم نے وزیر خزانہ اور وزیر پیٹرولیم کو چاروں صوبوں کا دورہ کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ صوبائی حکومتوں سے مل کر پیٹرولیم مصنوعات کی بچت، عوام کو بلاتعطل فراہمی کے بارے میں لائحہ عمل و منصوبہ بندی تیار کریں۔
حکومت کا رائٹ سائزنگ پروگرام جاری رکھنے کا فیصلہ ہے، آئندہ بجٹ میں حقیقی مالی بچت کے اہداف مقرر کیے جانے کا امکان ہے، اخراجات کم کرنے کے لیے ٹیلی کانفرنسنگ اور ورچوئل میٹنگز کو فروغ دیا جائے گا، سرکاری ضیافتوں پر پابندی عائد ہوگی صرف غیر ملکی وفود کے اعزاز کے لیے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ سرکاری سیمینارز، ٹریننگز اور کانفرنسز سے قبل خصوصی کمیٹی کی منظوری لازمی ہوگی، کمیٹی تقریب کی ضرورت اور ترجیح کا جائزہ لے گی، ایسی تقریبات کے لیے حکومتی آڈیٹوریم اور سرکاری سہولیات استعمال کرنے کی ہدایت کردی گئی۔ وزیراعظم نے جنگی صورتحال کے باعث کفایت شعاری کے اضافی اقدامات کی منظوری دے دی، کیے گئے فیصلے تمام وزارتوں، محکموں، خود مختار اداروں، عدلیہ اور پارلیمنٹ میں یکساں لاگو ہوں گے۔
حکومت نے جون 2026ء تک نئی پائیدار اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ آئی ٹی خریداری صرف این آئی ٹی بی کی جانچ اور آسٹریٹی کمیٹی کی منظوری کے بعد ممکن ہوگی۔
کابینہ ارکان، ارکانِ پارلیمان اور سرکاری افسران کے غیر ملکی سرکاری دوروں پر پابندی عائد کر دی گئی، پابندی کا اطلاق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تمام عہدے داروں پر ہوگا۔ ناگزیر سرکاری دوروں کے سوا کسی بھی قسم کے بیرونِ ملک سرکاری سفر کی اجازت نہیں ہوگی، بیرونِ ملک سفر کی صورت میں تمام حکومتی عہدے دار صرف اکانومی کلاس میں سفر کریں گے، یہ پابندی سرکاری یا ڈونر فنڈنگ سے ہونے والے تمام دوروں پر لاگو ہوگی۔
تمام سرکاری گاڑیوں کو اگلے 2 ماہ کے لیے ایندھن کی فراہمی میں 50 فیصد کمی کی جائے گی، ایندھن کی کمی سرکاری بسوں، ایمبولینس، موٹر بائیکس وغیرہ جیسی آپریشنل گاڑیوں کے لیے نہیں ہوگی، ایندھن کی کمی سے وفاقی سطح پر ساڑھے چار ارب روپے کی بچت متوقع ہے
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ساٹھ فیصد سرکاری گاڑیاں دو ماہ کے لیے گراوٴنڈ کی جائیں گی جب کہ جون 2026ء تک تمام قسم کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔
حکومت کا رائٹ سائزنگ پروگرام جاری رکھنے کا فیصلہ ہے، آئندہ بجٹ میں حقیقی مالی بچت کے اہداف مقرر کیے جانے کا امکان ہے، اخراجات کم کرنے کے لیے ٹیلی کانفرنسنگ اور ورچوئل میٹنگز کو فروغ دیا جائے گا، سرکاری ضیافتوں پر پابندی عائد ہوگی صرف غیر ملکی وفود کے اعزاز کے لیے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ سرکاری سیمینارز، ٹریننگز اور کانفرنسز سے قبل خصوصی کمیٹی کی منظوری لازمی ہوگی، کمیٹی تقریب کی ضرورت اور ترجیح کا جائزہ لے گی، ایسی تقریبات کے لیے حکومتی آڈیٹوریم اور سرکاری سہولیات استعمال کرنے کی ہدایت کردی گئی
وزیراعظم نے جنگی صورتحال کے باعث کفایت شعاری کے اضافی اقدامات کی منظوری دے دی، نئی اشیا اور سرکاری گاڑیوں کی خریداری، سرکاری دوروں، سرکاری ضیافتوں پر پابندی ہوگی، سرکاری گاڑیوں کا پیٹرول آدھا کردیا گیا، وزرا و مشیران دو ماہ کی تنخواہ و الاؤنسز چھوڑ دیں گے، سرکاری افسران کی تنخواہوں میں دو دن کی کٹوتی ہوگی قومی کفایت شعاری پالیسی اجلاس میں چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر کو بھی مدعو کیا گیا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام شعبوں میں اخراجات پوری طرح کنٹرول میں رہیں اور صنعت و زراعت کی ترقی کے ذریعہ روزگار سمیت ضروریات زندگی کی فراہمی یقینی بنائی جائے

