LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کادورہ سعودی عرب ,متوازن , خودمختار خارجہ حکمتِ عملی کا عکاس

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی عرب کا اہم دورہ کیاہے، جس کے دوران سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ پاکستان کی متوازن اور خودمختار خارجہ حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہےپاکستان مسلم دنیا کی دفاعی‘ فوجی اور ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے سلامتی کے تناظر میں ایک نہایت اہم اور کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت مسلم دنیا کے لیے مثبت‘ خیرخواہانہ اور تعمیری جذبات رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتوں کا پاکستان کے ساتھ عمومی طور پر متوازن اور مثبت رویہ رہا ہے۔ پاکستان کی سیاسی‘ حکومتی اور عسکری قیادتوں نے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ موثر دفاعی حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے اپنی پالیسیوں کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے‘ اور ریاستی دفاع‘ معاشی استحکام‘ ادارہ جاتی تحفظ اور قومی سلامتی کے معاملات کو ذمہ داری کے ساتھ سنبھالا ہے۔ اس پس منظر میں کچھ عرصہ قبل پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ایک دفاعی معاہدہ ہوا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ سکیورٹی‘ مشترکہ انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملیوں اور نئے جیو پولیٹکل اتحاد کے حوالے سے بات چیت میں اپنی فعال خارجہ پالیسی کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ اسی لیے فیلڈ مارشل کا حالیہ دورہ سعودی عرب غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ جس میں شہزادہ خالد بن سلمان نے پاکستانی آرمی چیف کے ساتھ ایران کی جانب سے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں اور دونوں ممالک کے درمیان موجود مشترکہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تناظر میں صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ سعودی وزیر دفاع نے اپنے ایکس (X) اکاؤنٹ پر بتایا کہ ملاقات میں ان حملوں کو روکنے کے طریقوں اور خطے کی سلامتی و استحکام کو یقینی بنانے کے امور پر گفتگو کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ایران دانشمندی اور عقل مندی کا مظاہرہ کرے گا اور غلط اندازوں سے گریز کرے گا۔
سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ایک مشترکہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ موجود ہے جس کے مطابق اگر سعودی عرب یا پاکستان پر کوئی بیرونی مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
اس مشترکہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان ایک تاریخی دفاعی تعاون قرار دیا جاتا ہے، جس کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا اور خطے میں سلامتی و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ اس دورے کے دوران ہونے والے اہم فیصلے اور ملاقاتیں درج ذیل ہیں, سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال: فیلڈ مارشل نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی، جس میں خطے کی مجموعی سکیورٹی اور خاص طور پر مملکت پر ہونے والے حالیہ ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد پیدا ہونے والی سنگین صورتحال پر بات چیت کی گئی۔
مشترکہ دفاعی اقدامات کا فیصلہ: ملاقات میں اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے (Strategic Mutual Defence Agreement) کے فریم ورک کے تحت ان حملوں کو روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
علاقائی امن و استحکام: دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ بلا اشتعال جارحیت علاقائی استحکام کو نقصان پہنچاتی ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب کی سکیورٹی، استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنے مکمل عزم کا اعادہ کیا۔
سفارتی حل کی حمایت: فیلڈ مارشل اور سعودی وزیر دفاع نے امید ظاہر کی کہ خطے کے ممالک، بشمول ایران، دانش مندی کا مظاہرہ کریں گے تاکہ بحران کے پرامن حل کی راہ ہموار ہو سکے۔ اس سے قبل یاد رہے کہ 22 دسمبر 2025 کو آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی عرب کا دورہ کیاتھا، جہاں سعودی وزیردفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی تھی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسیلنس کلاس سے نوازا گیاتھا۔خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی خصوصی ہدایت پر سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز نے پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو شاہ عبدالعزیز میڈل (اعلیٰ درجہ) سے نوازاتھا۔ میڈل خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے شاہی فرمان کے تحت دیا گیاتھا، کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسیلینس کلاس سعودی عرب کا اعلیٰ ترین قومی اعزاز ہے۔ اعزاز فیلڈ مارشل کی عسکری خدمات، قائدانہ صلاحیتوں،پاک سعودی دفاعی تعاون کے فروغ میں کلیدی کردار کا اعتراف ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اعزاز خطے میں امن و استحکام، انسداد دہشت گردی اور سکیورٹی تعاون کیلئے خدمات کا بھی مظہر ہے۔ سعودی قیادت نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پیشہ ورانہ مہارت اور اسٹریٹجک وژن کو سراہاتھا۔ دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کے فروغ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کی تعریف کی تھی ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خادم حرمین شریفین اور سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا، کہاتھا یہ اعزاز دراصل پاکستان اور سعودی عرب کے مضبوط، دیرپا تعلقات کا عکاس ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز نے سعودی عرب کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیاتھا۔ بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسیلینس عطا کرنا پاک سعودی تعلقات کی گہرائی کی واضح علامت ہے، میڈل عطا کرنا خطے سمیت عالمی امن کے لیے مشترکہ عزم کی واضح علامت بھی ہے۔ ترجمان پاک فوج کے کے مطابق ملاقات میں خطے کی بدلتی سیکیورٹی صورتحال، دفاعی و عسکری تعاون، تعزویراتی اشتراک اور علاقائی چیلنجز پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیاتھا، دونوں رہنماؤں نے پاک سعودی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیاتھا فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر سے سعودی وزیر دفاع شہزاد خالد بن سلمان نے ملاقات کی جس میں ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں سے پیدا ہونے والی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا,
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے بتایا گیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی عرب میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں سے پیدا سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں رہنماؤں کا حملوں کوروکنے کے لیے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں زور دیا گیا کہ بلاوجہ جارحیت خطےکی سکیورٹی اور استحکام کے لیے خطرہ ہے، بلاوجہ حملے امن کے لیے مذاکرات کے امکانات کو محدود کرتے ہیں اور بحران کو بڑھاتے ہیں۔ دونوں فریقین نے امید ظاہر کی کہ ایران سمجھداری اور دانشمندی کا مظاہرہ کرےگا، ایران کی محتاط حکمت عملی سے دوست ممالک کو بحران کے پرامن حل کی کوششوں میں مددملےگی، ملاقات میں علاقائی سیکیورٹی اوردوستی کےفروغ کےلیےتعاون مضبوط کرنے پر بھی اتفاق ہوا، دونوں ملکوں نے باہمی تعاون اور تعلقات کو مزید مستحکم بنانےکا عزم ظاہرکیا۔
دوسری طرف ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے ملک کی خارجہ اور دفاعی پالیسی میں بڑی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے ہمسایہ ممالک کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اب انہیں نشانہ نہیں بنایا جائے گا الجزیرہ کے مطابق ایرانی صدر نے واضح کیا ہے کہ ایران کی عبوری قیادت نے ہمسایہ ممالک پر حملے نہ کرنے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ صدر مسعود پیزشکیان نے حالیہ دنوں میں ہونے والے حملوں پر ہمسایہ ممالک سے معذرت بھی کی ہے۔ایرانی صدر نے خبردار کیا کہ ہمسایہ ممالک صرف اسی صورت میں نشانہ بنیں گے جب ان کی سرزمین ایران کے خلاف حملے کے لیے استعمال ہو گی۔ایرانی صدر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر کسی ہمسایہ ملک سے ایران پر حملہ کیا گیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا، تاہم اس کے علاوہ کسی بھی ملک کی خود مختاری کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا,اس دوران لبنانی دارالحکومت بیروت میں امریکی سفارت خانے کے اطراف غیر معمولی سرگرمیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سفارت خانے کی جانب تیزی سے بڑھتے ٹرک دیکھے گئے جبکہ کچھ دیر بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ تاہم واقعے کی سرکاری سطح پر تصدیق یا تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس دورے میں سعودی وزیردفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے جو ملاقات کی‘ وہ درحقیقت ایک ایسے وژن کی عملی جھلک ہے جو پاکستان کو محض دفاعی اعتبار سے نہیں بلکہ معاشی‘ سفارتی اور سٹریٹجک سطح پر بھی نئی بلندیوں تک لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اور اس کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کو ایک وسیع تر علاقائی حکمتِ عملی کا تسلسل سمجھا جانا چاہیے۔ مسلم دنیا میں پاکستان ایک منفرد مقام کا حامل ہے کیونکہ یہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔ اسی لیے جب سعودی عرب جیسا بااثر ملک پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرتا ہے تو اس کا پیغام محض دو ممالک تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری مسلم دنیا میں تحفظ‘ اشتراک اور اعتماد کا احساس پیدا کرتا ہے۔ سعودی عرب خطے میں اقتصادی استحکام‘ سرمایہ کاری اور سکیورٹی تعاون کا ایک نمایاں مرکز ہے۔ پاکستان کے لیے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات صرف افرادی قوت اور ترسیلاتِ زر تک محدود نہیں بلکہ انٹیلی جنس شیئرنگ‘ میری ٹائم سکیورٹی‘ انسدادِ دہشت گردی اور علاقائی رابطہ کاری تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اس دورے کے دوران علاقائی سلامتی‘ بحری تجارت کے تحفظ‘ انسدادِ دہشت گردی کی مشترکہ حکمت عملی اور نئے جیو پولیٹکل اتحاد پر ہونے والی گفتگو نے پاکستان کی فعال اور متوازن خارجہ پالیسی کو مزید واضح کر دیا ہے۔پاکستان سے مسلم دنیا کی توقعات بھی کثیرجہتی نوعیت کی ہیں۔ ایک طرف اسلامی اتحاد اور مشترکہ دفاعی حکمت عملی کی خواہش پائی جاتی ہے تو دوسری طرف سفارتی اعتدال اور پائیدار امن کی امید بھی وابستہ ہے۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ کسی عالمی بلاک کی سیاست کا آلہ کار بنے بغیر اپنے قومی مفادات کا موثر تحفظ کرے۔تجزیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو پاک سعودی دفاعی معاہدہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ پاکستان کی متوازن اور خودمختار خارجہ حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ اقدامات محض فوجی تعاون تک محدود نہیں بلکہ ایک جامع علاقائی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد توازنِ قوت‘ مشترکہ سلامتی اور سفارتی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ (Strategic Mutual Defence Agreement – SMDA) 17 ستمبر 2025 کو ریاض کے الیمامہ محل میں دستخط کیا گیا تھا، جو دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل ہے۔
اس معاہدے کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
اجتماعی دفاع کا تصور: اس معاہدے کی بنیادی شق یہ ہے کہ کسی بھی ملک پر ہونے والی بیرونی جارحیت کو دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی (NATO) کے آرٹیکل 5 سے مشابہ ایک دفاعی چھتری فراہم کرتا ہے۔
مشترکہ دفاعی ردعمل: معاہدہ دونوں ممالک کو جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع، انٹیلی جنس شیئرنگ، اور اسٹریٹجک تعاون کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
حالیہ صورتحال (مارچ 2026): سعودی عرب پر ہونے والے حالیہ ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد اس معاہدے کو عملی طور پر متحرک کیا گیا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ سعودی عرب (7 مارچ 2026) کے دوران اس معاہدے کے تحت حملوں کو روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر غور کیا گیا۔
دفاعی صلاحیتوں کا اشتراک: اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی صنعت میں تعاون، مشترکہ فوجی مشقوں، اور جدید ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔
علاقائی استحکام: یہ معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک کی سلامتی بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے اور مشترکہ خطرات (جیسے ڈرون حملے اور سرحدی جارحیت) کے خلاف ایک مضبوط دفاعی حصار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی عرب کی جانب سے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس تاریخی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ مزید معلومات کے لیے آپ وزارت خارجہ پاکستان کا سرکاری بیان دیکھ سکتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ یہ ملک بحرانوں سے نکل کر نئی سمت متعین کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مستقبل میں پیشرفت کے لیے آج بھی دفاعی قوت کو سفارتی بصیرت‘ معاشی اصلاحات اور قومی اتحاد کے ساتھ مربوط کرنا ناگزیر ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے عسکری قوت کو قومی تعمیر کے وسیع تر تناظر میں دیکھا ہے۔ ان کی سوچ یہ ہے کہ مضبوط دفاع‘ مستحکم معیشت اور فعال سفارت کاری دراصل ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔سعودی وزیردفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات میں اقتصادی تعاون‘ سرمایہ کاری اور سکیورٹی شعبوں پر دیا جانے والا زور اسی ہمہ جہتی وژن کی عکاسی کرتا ہے۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر وہ پہلے آرمی چیف ہیں جنہوں نے قومی سلامتی کے تصور کو محض سرحدی دفاع تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے معاشی سلامتی، توانائی کے تحفظ، علاقائی روابط اور سفارتی توازن تک وسعت دی ہے۔ سعودی عرب گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا آ رہا ہے تاہم موجودہ ماحول روایتی سرمایہ کاری سے آگے بڑھ کر سٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کی صورت اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X