اسلام آباد (اردو ٹائمز) مشرق وسطیٰ جنگ،وزیراعظم پاکستان کامدبرانِہ کردار,مختلف سربراہانِ مملکت سے رابطے
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان مسلم امہ کی مدد سے مشرق وسطیٰ کاحالیہ بحران حل کرانےکے لیے پر امید ہے۔وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی حکومت ایران جنگ رکوانے کی ہر ممکن کوششیں کر رہی ہے,‘ایران کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے اور ردعمل سے گریز کرے تاکہ جنگ کا دائرہ وسیع نہ ہومشرق وسطیٰ جنگ کے دورانِ وزیراعظم پاکستان کامدبرانِہ کردار سامنے آیٰا, شہباز شریف نِے مختلف سربراہانِ مملکت سے رابطےکیٰے دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی صورتحال پر پارلیمانی لیڈرز کا اجلاس آج طلب کرلیاہے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز متعدد خلیجی رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں اور علاقائی اڈوں پر تہران کے جوابی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ کے بڑھتے ہوئے بحران کے درمیان امن کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کی پیشکش کی ہے۔وزیر اعظم نے ایکس پر شیئر کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ” میں نے آج شام اپنے پیارے بھائی ایچ آر ایچ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بات کی تاکہ ایران پر اسرائیلی حملے اور اس کے نتیجے میں خلیجی خطے میں حملوں کے بعد خطرناک علاقائی کشیدگی پر پاکستان کی شدید مذمت کا اظہار کیا جا سکے۔“انہوں نے کہا کہ ” پاکستان اس مشکل وقت میں سعودی عرب اور ہمارے برادر خلیجی ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے، ہم امن کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ رمضان کی برکتیں ہمارے خطے میں امن اور استحکام لائے“۔وزیراعظم نے ابوظہبی پر میزائل حملے میں پاکستانی شہری کی المناک موت پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے متحدہ عرب امارات کی قیادت کو موجودہ بحران میں پاکستان کی یکجہتی اور حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ پاکستان ” ہمیشہ اپنے اماراتی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا رہے گا، دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کے مطابق، جو وقت کی آزمائش کا مقابلہ کر چکے ہیں“۔دریں اثناء وزیر اعظم نے قطر کی ریاست کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے بھی بات کی۔
وزیر اعظم نے ایران پر اسرائیلی حملے سے خطے میں سنگین کشیدگی کی شدید مذمت کی، جس کے بعد قطر کے ساتھ ساتھ دیگر خلیجی ممالک میں بھی افسوسناک حملے کیے گئے۔وزیراعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران شیخ محمد بن زاید النہیان سے ٹیلی فون پر بات چیت بھی کی۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ جونہی حملہ ہوا، انہوں نے فوری طور پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کیا اور گزشتہ تین دنوں میں فلسطین، ایران، سعودی عرب، بنگلہ دیش، مالدیپ، عمان، متحدہ عرب امارات، عراق، بحرین اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ سے بات چیت کی۔ انہوں نے بتایا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف نے بھی مختلف سربراہانِ مملکت سے رابطے کیے تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے۔مشرق وسطیٰ میں جنگ روکنے کے لیے پاکستان کے موثر اور متوازن کردار کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے خاص طور پر وزیر اعظم پاکستان ذاتی طور پر اس حوالے سے دلچسپی لے رہے ہیں، عالمی میڈیا پہلے ہی پاکستان کے مثبت کردار کا اظہار کر چکا ہے حتیٰ کہ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے بھی اعتراف کیا ہے کہ پاکستان صرف ایک مسلم ملک ہے جس نے اپنا کردار ادا کیا۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے حال ہی میں ہونے والے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان، چین اور روس کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا ہے ایرانی سفیر نے اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف ہونے والی حالیہ جارحیت پر پاکستان کے “اصولی اور آزادانہ” مؤقف کو سراہا۔ سوشل میڈیا اور مختلف خبر رساں ذرائع کے مطابق، ایران نے پاکستان کو وہ واحد مسلم ملک قرار دیا جس نے عالمی فورم پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے خلاف کھل کر آواز بلند کی اور ایران کے حقِ دفاع کی حمایت کی۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایران پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے بھی پاکستانی حکومت، عوام اور میڈیا کے کردار کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اس مشکل وقت میں پاکستان کی سفارتی اور اخلاقی حمایت کو ہمیشہ یاد رکھے گااس سفارتی حمایت نے موجودہ علاقائی کشیدگی کے دوران پاک-ایران تعلقات میں مزید مضبوطی پیدا کی ہےپاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ہم دوستوں کا تو چناؤ کر سکتے ہیں لیکن ہمسایوں کا نہیں، پاکستان اور ایران دو برادر ہمسایہ ممالک ہیں۔ خطے میں تبدیلیوں کے نتیجے میں پاکستان اور ایران مزید قریب آئے دوسری جانب23 سال بعد جب ایک امریکی صدر نے حکومت کی تبدیلی کے تعاقب میں ایک خودمختار ریاست کے خلاف امریکی فوجی طاقت کا بھرپور استعمال کیا تھا جس نے مشرقِ وسطیٰ کو دہائیوں تک افراتفری اور خونریزی میں دھکیل دیا، وائٹ ہاؤس کے ایک اور مکین نے اسی خطرناک راستے پر چلنے کا انتخاب کیا ہے۔28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے آغاز کے ساتھ ہی، جس کے نتیجے میں ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ٹارگٹڈ شہادت ہوئی، ڈونلڈ ٹرمپ نے عملی طور پر امریکہ کی دائمی جنگوں کو ختم کرنے کے اپنے دیرینہ دعووں کو ترک کردیا ہے۔ وہ واضح طور پر اس بات کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے ان سے پہلے 2003 میں عراق پر حملے کے وقت جارج ڈبلیو بش ناکام رہے تھے کہ حکومت کی تبدیلی کے منصوبے اپنے اندر فطری طور پر انتہائی گہری اور دور رس تباہیاں چھپائے ہوئے ہوتے ہیں۔ایران پر حملے اور خامنہ ای کی شہادت نے پہلے ہی اشتعال انگیزی کے ایک خطرناک سلسلے کو جنم دے دیا ہے، جس کے جواب میں تہران نے قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات پر جوابی کارروائی کی ہے، جس سے علاقائی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔گزشتہ دو دہائیوں کے تجربے نے حقیقت میں یہ بار بار ثابت کیا کہ باہر سے مسلط کردہ حکومت کی تبدیلی کی کوششوں نے صرف عسکریت پسندی اور دہشت گردی کو ہوا دی، معیشتوں کو تباہ کیا اور پہلے سے کمزور معاشروں کو مزید تقسیم کردیا جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ طویل المدتی نقل مکانی، عدم تحفظ اور بنیادی گزر بسر کے ذرائع چھین لیے جانے جیسے حالات کا سامنا کرنے پر مجبور ہوئے، اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ اس کے اثرات کبھی بھی قومی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔ اس طرح کے انقلابات اور اتھل پتھل کے اثرات لہروں کی طرح واضح طور پر پھیلتے ہیں جو پڑوسی ریاستوں کو غیر مستحکم کرتے ہیں اور پورے خطوں کو افراتفری، عدم استحکام اور معاشی بدحالی کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔اور جیسا کہ اب تک کے واقعات سے ثابت ہو چکا ہے، یہی پرانا سلسلہ یہاں بھی دہرایا جا رہا ہے۔ نہ صرف خلیجی ریاستیں تصادم کے پھیلتے ہوئے دائرے کی زد میں آ گئی ہیں جس نے دہائیوں میں پہلی بار ان کے طویل مدتی استحکام کو آزمائش میں ڈال دیا ہے بلکہ اس کے اثرات براہِ راست ملحقہ جغرافیائی خطوں میں بھی پھیلنے کے لیے تیار ہیں۔ کسی موڑ پر، اس کھنچاؤ اور دباؤ کے اثرات پاک ایران سرحد پر بھی محسوس ہونا شروع ہو سکتے ہیں اور وہاں ہونے والی کوئی بھی پیش رفت بلوچستان کی پہلے سے ہی غیر مستحکم سکیورٹی صورتحال اور افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحدی علاقوں کے معاملات سے جڑسکتی ہے، جہاں ایران کے اندرونی واقعات ان نازک حالات کو مزید بگاڑ سکتے ہیں، ان معاملات کو مزید سنگین تہران کا آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ بنا رہا ہے، جو کہ ایک ایسی اہم ترین شہ رگ ہے جہاں سے دنیا کی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ تہران کا یہ قدم عالمی معیشت کے لیے دور رس اور دیرپا نتائج کا حامل ہوسکتا ہے کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہو رہا ہے اور توانائی کی عالمی منڈیاں اس شدید جھٹکے کی زد میں ہیں۔یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ ایک خود مختار ملک پر حملے، اور اس کے سپریم لیڈر اور دیگر اعلیٰ قیادت کے قتل کے لیے جو جواز پیش کیے جا رہے ہیں، انہیں بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کے ساتھ کسی صورت ہم آہنگ نہیں کیا جا سکتا۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت، پیشگی فوجی طاقت کا استعمال صرف کسی فوری خطرے کے جواب میں یا سلامتی کونسل کی واضح اجازت کے ساتھ ہی جائز ہے اور اس معاملے میں یہ شرائط واضح طور پر پوری نہیں کی گئیں۔ مزید برآں صدر ٹرمپ کے یہ دعوے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے پر تلا ہوا ہے، وہ بھی کسی ٹھوس جانچ پڑتال پر پورے نہیں اترتے۔ جیسا کہ عمان کے وزیر خارجہ نے واضح کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ حالیہ مذاکرات کے دوران اس سے پہلے کہ اس بے مقصد اشتعال انگیزی نے انہیں سبوتاژ (تباہ) کر دیا، تہران اس بات پر راضی ہو گیا تھا کہ وہ کبھی بھی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ نہیں کرے گا۔ اگر قانونی اور حقائق پر مبنی جواز کو ہٹا کر دیکھا جائے تو یہ امریکی-اسرائیلی کارروائی طاقت کے کھلے اظہار کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ اپنی پسند کی مسلط کردہ جنگ ہے جس میں حق کی جگہ طاقت نے لے لی ہے اور فوجی قوت کا ایسا استعمال کیا گیا جو ان تمام قانونی اور اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہے جو اسے منظم کرنے کے لیے بنائی گئی تھیں۔یہ بات تیزی سے واضح ہوتی جارہی ہے کہ خامنہ ای کی شہارت ایرانی ریاست کے لیے ایک گہرا بگاڑ یا بہت بڑی رکاوٹ ہے، اور یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک پہلے ہی دہائیوں کی معاشی مشکلات اور جبر کے نتیجے میں پیدا ہونے والے پُرتشدد حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کا گواہ بن چکا تھا۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس افراتفری اور مصائب کے درمیان ایرانی عوام ہی وہ طبقہ ہیں جو سب سے زیادہ بوجھ اٹھائیں گے۔ ان کے لیے افق پر امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی، اور ان کا مستقبل غیر یقینی صورتحال، محرومی اور عدم تحفظ کی لپیٹ میں نظر آتا ہے۔ کہنا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر متفق ہو گیا تھا، جوہری مذاکرات میں مثبت پیشرفت کے باوجود ایران پر حملہ کیا گیا، ایران پر حملہ ہوا تو پاکستان نے کھل کر اس کی مذمت کی۔۔اس سے قبل اسحاق ڈار نے ایوان بالا (سینٹ) میں اپنے خطاب میں کہا کہ ہم فرض سمجھ کر ایران جنگ رکوانے کی سفارتی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی عوام کو بھی اس بات کو سمجھنا چاہیے۔ اپنے ملک میں حالات خراب کرنے سے کچھ نہیں ہو گاان کا کہنا تھا کہ ’ہم فلسطینی کے لیے دو ریاستی حل کے اپنے موقف پر قائم ہیں۔ فلسطین کے معاملے کا خلیج میں جاری حالیہ کشیدگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘
’ہم ہر طرح کی معاونت کے لیے تیار ہیں۔ ہم نے اس سے قبل بھی امریکہ اور ایران کو ثالثی کا اشارہ دیا تھا۔ ہم یہ چاہتے ہیں تو فریقین آپس میں بات کریں چاہے وہ اسلام آباد میں کریں یا کسی اور ملک میں کریں۔ ہم چاہتے ہیں کہ کشیدگی کسی طرح کم ہو۔‘ کہا کہ ’ایران میں رجیم چینج ہمارا ایجنڈا تھا نہ ہے۔ یہ ایرانی بہن بھائیوں کا اختیار ہے کہ وہ اپنے ملک کی قیادت کسے دیتے ہیں۔ ہمیں ہمسایہ ہونے ناتے اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔‘
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے اور ایران کے مختلف ممالک پر جوابی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر پالیسی بیان دیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران کو سعودی عرب کی سرزمین حملوں کےلیے استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی پاکستان نے لےکر دی ، ایران کے معاملے پر پاکستان کی پُرخلوص سفارتی کوششوں کو ملک کے اندر غلط رنگ دینا مناسب نہیں۔ اسحاق ڈار نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان کی کوششوں کے بارے میں ایرانی قیادت بخوبی آگاہ ہے، جب پاکستان کے پاس سلامتی کونسل کی صدارت تھی اس وقت بھی ہم نے امریکا اور ایران کے مسئلے پر کئی مباحثے کرائے۔ بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا عمل کامیابی سے چل رہا تھا جس میں عمان ثالث کا کردار ادا کر رہا تھا، بڑے پُرامید تھے کہ ایران مذاکرات مثبت جا رہے ہیں، اسی دوران ایران پر گزشتہ سال جون کی طرح کا حملہ ہو گیا۔ کہنا تھا میری امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی ملاقات ہوئی، ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر متفق ہو گیا تھا، پاکستان نے جوہری توانائی کے پُرامن استعمال سے متعلق ایران کے حق کی حمایت کی، امریکا ایران کے تمام ایٹمی پروگرام کو مکمل ختم کرنا چاہتا تھا جبکہ ہم نے ایران کو پُرامن ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کی بات منوائی۔ کہنا تھا ہم امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ثالثی کےلیے تیار تھے، دنیا میں صرف پاکستان نے ہی ایران کے خلاف حملے کی کھلے انداز میں مذمت کی، ہمارے مؤقف کی ہی وجہ سے ہی ایرانی پارلیمنٹ کے اندر تشکر پاکستان کے نعرے لگے، سلامتی کونسل میں پاکستان نے واضح الفاظ میں ایران پر حملے کی مذمت کی، معاملے کی سفارتی سطح پر حل کی ضرورت پر زور دیا ہے وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا و اسرائیل کی جانب سے حملے کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک پر حملہ کر دیا، ایران نے کہا کہ امریکا کی بیسز پر حملہ کر رہے ہیں، وہاں ایئر پورٹس ہٹ کیے گیے، ہمیں اس تنازع میں نہیں پڑنا چاہیے، ان ممالک پر حملہ نہ ہوتا تو ہم امریکا اور اسرائیل کے حوالے سے ان کو ساتھ لیکر آواز بلند کرتے، ہمیں معلوم ہے کہ مزاحمت ہوتی ہے لیکن ہم نے 15 منٹ میں مذمت کی۔ سینیٹ اجلاس میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا 12 سال بعد اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں اتفاق رائے سے قرارداد پاس کی گئی، حکومت کی طرف سے مذاکرات کی کوشش میں کوئی کمی نہیں، ہم پوری طرح آن بورڈ ہیں، میں اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی براہ راست رابطے میں ہیں، ہمیں رابطے کے لیے دفتر خارجہ کی ضرورت نہیں۔ کہنا تھا سلامتی کونسل میں قرارداد کے ساتھ کھڑے ہوئے جس میں ایران سے پابندی ہٹانے کا کہا، ایران کی پارلیمنٹ میں تشکر پاکستان کہا گیا، ہم نے 28 فروری کو سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس کرایا، ہم اپنی سکیورٹی کونسل ممبر شپ کا تو فائدہ اٹھائیں، ہم نے وہاں ایران پر حملے کی مذمت کی، عرب ممالک کے ساتھ ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کی، سب کو کہا تحمل کا مظاہرہ کریں، بین الاقوامی امن و امان کمزور ہو رہا ہے، دو تین دن میں جو ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے۔وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازع کے حوالے سے سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے صیہونیت کوانسانیت کے لیے خطرہ قرار دیا اور الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی اثرورسوخ کو پاکستان کی سرحدوں تک پھیلا کر ملک کو غیر مستحکم کرنے کا ایک مربوط ایجنڈا موجود ہے۔اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کے ایجنڈے میں اسرائیل کے اثرورسوخ کو پاکستان کی دہلیز تک لانا شامل ہے۔اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ صیہونی نظریے نے ایک صدی سے دنیا کے معاشی نظاموں اور بڑی طاقتوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
انہوں نے اسرائیل کے قیام کے بعد سے عالمِ اسلام میں رونما ہونے والی ہر بڑی تباہی کو اسی اثرورسوخ سے جوڑا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ صیہونیت انسانیت کے لیے ایک خطرہ ہے۔ فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کے قیام سے لے کر آج تک عالمِ اسلام پر جو بھی مصیبت ٹوٹی یا جو بھی جنگ مسلط کی گئی، اس کے پیچھے براہِ راست یا بالواسطہ صیہونی نظریے اور ریاست کا ہاتھ دکھائی دے گا۔ صیہونیت ایک صدی سے دنیا کے معاشی نظام کو کنٹرول کررہی ہے اور عالمی طاقتیں صیہونیت کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہیں۔علاقائی بحران پر بات کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ تہران کی جانب سے سفارتی معاہدے پر آمادگی کے باوجود ایران پر مسلط کی جانے والی جنگ، دراصل صیہونی سرپرستی میں تیار کردہ اس وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستان کی خود مختاری کو نقصان پہنچانا ہے۔ہ موجودہ کشیدگی کا مقصد پڑوسی ممالک کو شامل کر کے سنگل پوائنٹ ایجنڈا قائم کرنا ہے تاکہ پاکستان کی تمام سرحدوں پر دشمنی کا ماحول پیدا کیا جاسکے۔خواجہ آصف نے خبردار کیا کہ اس سازش کا حتمی مقصد پاکستان کی سلامتی پر سمجھوتہ کرنا اور ملک کو ایک ماتحت ریاست بنانا ہے۔ مزید کہا کہ ایران کی جانب سے معاہدے پر آمادگی کے باوجود ان پر جنگ مسلط کردی گئی اور صیہونیوں کے ترتیب دیے گئے اس ایجنڈے میں اسرائیل کے اثر و رسوخ کو براہِ راست پاکستان کی سرحد تک لانا شامل ہے۔ اس کے بعد افغانستان، ایران اور بھارت کا مشترکہ ’یک نکاتی ایجنڈا‘ پاکستان سے دشمنی ہوگا جس کا مقصد ہماری سرحدوں کو غیر محفوظ بنانا، ہمیں چاروں طرف سے دشمنوں میں گھیرنا اور پاکستان کو ایک ماتحت ریاست بنانا ہے۔ پاکستان کے 25 کروڑ عوام پر زور دیا کہ وہ سیاسی اور مذہبی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ازلی دشمنوں کے عزائم کو سمجھیں۔وزیرِدفاع نے ملک کی عسکری قوت اور ایٹمی طاقت ہونے کی حیثیت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جس کا سہرا انہوں نے شہداء کی بہادری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے سیاسی عزم کے سر باندھا۔انہوں نے نوازشریف کی جرات کو سلام پیش کیا جنہوں نے ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کا دفاعی نظام قائم کیا۔ نوٹ کیا کہ ہماری مسلح افواج کی طاقت کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جاتا ہے جو ان مشکل حالات میں ملک کی خود مختاری کے لیے ایک بنیادی ڈھال کا کام کر رہی ہے۔وفاقی وزیر نے عالمِ اسلام کے درمیان اتحاد کی اپیل کی تاکہ مشترکہ خطرات کو پہچانا جا سکے۔ انہوں نے آزاد فلسطین کے مقصد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور پاکستان اور اس کے محافظوں کی مسلسل مضبوطی اور سلامتی کے لیے دعا کی۔صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے عہدیداروں نے کانگریس کے سٹاف کو دی جانے والی بریفنگ میں بتایا کہ انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے ایسی کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی کہ ایران امریکہ کے خلاف پیشگی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔امریکی خبر رساں ادارے نے اس بریفنک کے حوالے سے واقفیت رکھنے والے تین افراد کا حوالہ دیا ہے، جنہوں نے شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بات کی ان میں سے دو کہنا تھا کہ انتظامی عہدیداروں نے تسلیم کیا کہ ایران کے میزائلوں اور پراکسیز سے پہلے کی نسبت زیادہ خطرہ موجود ہے تاہم تیسرے سورس کا کہنا ہے کہ انتظامی حکام نے اس امر پر زور دیا کہ ایران کے میزائل اور پراکسیز خطے میں امریکی اہلکاروں اور اس کے اتحادیوں کے لیے فوری خطرہ ہیں۔ذرائع کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حکام کی جانب سے ایسی کوئی تفصیل نہیں فراہم کی گئی کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد ایران میں مزید کیا کچھ ہو گا۔ کہا گیا ہے کہ کانگریس کے سٹاف کو جو معلومات دی گئیں وہ صدر ٹرمپ کے پیغام کے برعکس ہیں۔ امریکی صدر نے حملے شروع ہونے کے بعد ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ ’ہمارا مقصد ایرانی حکومت کی طرف سے آنے والے خطرات کو ختم کرنا اور امریکی عوام کا دفاع ہے اسی طرح ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا تھا کہ ایسے اشارے موجود ہیں کہ ایرانی حملہ کر سکتے ہیں آپریشن سے واقفیت رکھنے والے ایک سورس کا کہنا ہے کہ آپریشن سے قبل کئی ہفتے تک اسرائیل اور امریکہ کے حکام سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت سینیئر ایرانی رہنماؤں کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے اور پھر ایسی معلومات شیئر کیں جن کی وجہ سے دن کی روشنی میں حملے ممکن ہوئے۔ تین مقامات پر ایک منٹ میں تین حملے ہوئے جن میں خامنہ ایک اور پاسداران انقلاب کے سربراہ اور وزیر دفاع سمیت تقریباً 40 اعلیٰ حکام ہلاک ہوئے۔
اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’متعدد عوامل نے مل کر ایک ایسا سنہری موقع پیدا کیا جس میں زیادہ سے زیادہ ایرانی لیڈرشپ نشانہ بنی۔
خلیج تعاون کونسل(جی سی سی) کی وزارتی کونسل نے کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے خلیجی ریاستوں کے حق کی توثیق کی ہے۔اجلاس میں سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ، کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے شرکت کی۔ امارات، بحرین، سعودی عرب، عمان، قطر اور کویت پر سنیچر 28 فروری کو شروع ہونے والے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں پر تبادلہ خیال کیا گیاعالمی برادری پر زور دیا گیا کہ ’وہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرے، علاوہ ازیںایران پر حملے سے پیدا صورتحال پر حکومت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے پارلیمانی لیڈروں کواعتماد میں لینے کا فیصلہ کرلیا۔
وزیراعظم پاکستان نے پارلیمانی لیڈران کو مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے، ان کیمرہ بریفنگ آج ساڑھے 11 بجے ہوگی،بریفنگ کیلئے کوآرڈینیشن کی ذمہ داری رانا ثناءاللہ کو دی گئی ہے۔واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی شروع کی گئی جنگ اب پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل چکی ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے بحرین میں امریکی اڈے کو نشانہ بنایا۔ 20 پر بیس ڈرونز اور 3 میزائل داغ دیے۔ امریکی سینٹ کام نے پاسداران انقلاب کے کنٹرول اینڈ کمانڈر سنٹر کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی میزائل لانچنگ سائٹس اور دیگر اہداف کو بھی نشانہ بنایا۔سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے پر بھی ڈرون حملہ کیا گیا۔ اُدھر اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بھی حملوں کا تبادلہ ہورہا ہے۔ اسرائیلی طیاروں نے بیروت پر شدید بمباری کی۔ لبنان کے 59 قصبوں کو انخلا کی وارننگ جاری کردی۔ حزب اللہ نے بھی اسرائیلی ایئربیس پر ڈرون حملے کیے گزشتہ روز ایرانی پاسداران انقلاب کے 13 اہلکار جاں بحق ہوئے،

