اسلام آباد (اردو ٹائمز) معاشی کارکردگی کا جائزہ ;آئی ایم ایف مشن کا دورہ پاکستان
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں کی گئی معاشی اصلاحات کو سراہا ہے۔ مالی سال 2025ء میں پاکستان 14 سال بعد کرنٹ اکاؤنٹ سر پلس میں رہا، جبکہ بنیادی مالیاتی سر پلس جی ڈی پی کا 1.3 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر مہنگائی قابو میں رہی ,
واضح رہے کہ آئی ایم ایف کا جائزہ مشن تیسرے ششماہی معاشی کارکردگی کا جائزہ کیلئے پاکستان کےدورے پرہے وزارت خزانہ کےحکام مطابق آئی ایم ایف جائزہ مشن 11 مارچ تک پاکستان میں قیام کرے گا، پہلے مرحلے میں کراچی اوردوسرےمرحلےمیں اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے،جس میں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا،آئندہ مالی سال کے بجٹ کے بنیادی خدوخال،صوبائی اور مجموعی مالیاتی فریم ورک پربات ہوگی۔حکام وزارت خزانہ کےمطابق ٹیکس ریونیو کے سوا آئی ایم ایف کے زیادہ اہداف پورے کئے جاچکے ہیں،مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں پاکستان نے 542 ارب روپے کا تاریخی مالیاتی سرپلس حاصل کر لیا، رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں 542ارب روپے کا سرپلس مالیاتی استحکام کا بہترین عکاس ہے۔اخراجات میں کمی، موثر پالیسیوں اور حکومتی آمدن میں اضافے نے مالی صورتحال کو متوازن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ٹیکس وصولیوں، سٹیٹ بینک منافع اور پٹرولیم لیوی آمدن میں اضافے سے حکومتی وسائل میں وسعت آئی، قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی اور اخراجاتی نظم و ضبط سے مالی بچت مزیدمستحکم ہوئی۔ایس آئی ایف سی کی رہنمائی میں مؤثر مالی پالیسیوں اور مستحکم معاشی اقدامات سے پاکستان پائیدار استحکام حاصل کر رہا ہے۔ دوسری طرف ڈائریکٹر کمیونکیشنز آئی ایم ایف جیولی کوزیک کا کہنا ہے کہ ای ایف ایف کے تحت حکومتی پالیسیوں سے پاکستانی معیشت کو استحکام ملا، اعتماد میں اضافہ اور مالی کارکردگی مضبوط رہی، سرپلس اہداف حاصل ہونے کی بھی تصدیق کی۔ آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشنز نے کہا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی اورپاکستانی حکام سے ای ایف ایف پروگرام کے تیسرے اور آر ایس ایف کے دوسرے جائزے پر بات ہوگی, ای ایف ایف کے تحت پاکستان کی پالیسیوں سے معیشت کو استحکام ملا جس سے اعتماد میں اضافہ اور مالی کارکردگی مضبوط رہی ہے, مالی سال 2025 میں میں پاکستان کو جی ڈی پی کا تقریباً 1.3 فیصد بنیادی مالی سرپلس حاصل ہوا اور 14 سال بعدپہلی بارکرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل ہوا, یہ پروگرام کے اہداف کے مطابق ہے۔پاکستان میں مہنگائی مجموعی طور پر قابو میں رہی ہے, ڈائریکٹر کمیونیکیشنز آئی ایم ایف کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں گورننس اور کرپشن سے متعلق رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے جس میں اصلاحات کی تجاویز شامل ہیں۔ ٹیکس نظام کو آسان بنانا اور سرکاری خریداری میں شفافیت بھی شامل ہے۔
یاد رکھیں کہ آئی ایم ایف سے ٹیکس ہدف میں مزید کمی کی درخواست زیر غور ہے،آئی ایم ایف مشن قرض پروگرام کے تحت جولائی تا دسمبر معاشی کارکردگی کا جائزہ لے گا،بجٹ 27-2026 کے بنیادی خدوخال، صوبائی اور مجموعی مالیاتی فریم ورک پربات ہوگی۔
حالیہ سیلاب سمیت کئی مشکلات کے باوجود قرض پروگرام آن ٹریک ہے،ایف بی آر کے ٹیکس محاصل کے سوا زیادہ تر اہداف پورے کئے جاچکے،ایف بی آر کو پہلے 6 ماہ میں 329 ارب، 7 ماہ میں 372 ارب روپے شارٹ فال کاسامنا ہے،
سالانہ ٹیکس ہدف میں مزیدکمی کی تجویز زیرغور،سپر ٹیکس سے اضافی آمدن کا امکان ہے،رواں سال ٹیکس ہدف 14 ہزار 131 ارب سے کم کرکے 13 ہزار 979 ارب کیا جاچکا۔ وزارت خزانہ کےمطابق مالیاتی اہداف،ٹیکس محاصل، توانائی شعبے سمیت اصلاحات میں پیش رفت کاجائزہ لیا جائے گا،گورننس،اینٹی کرپشن اقدامات،نیب سمیت اہم اداروں میں تقرریوں کے عمل کا جائزہ لیاجائےگا،کرپشن کی روک تھام کیلئے ایف بی آرسیل کومضبوط بنانےسمیت اہم اقدامات کی یقین دہانی کرائی جائے گی،فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) ٹیکس چوری روکنے کےلیے تمام کاروباری ٹرانزیکشز کی مانیٹرنگ کا فیصلہ کیاہے انکم ٹیکس رولز میں مزید ترامیم سے متعلق مسودے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیاہے کاروبار کی رئیل ٹائم نگرانی سے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوگا,ایف بی آر نے ٹیکس چوری روکنے اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے کےلیے تمام کاروباری ٹرانزیکشنز کی مانیٹرنگ کا فیصلہ کرلیا۔ بڑے ری ٹیلرز، پروفیشنلز اور سروس پرووائیڈرز کی نگرانی ہوگی, ڈاکٹررز، وکلاء، اکاونٹنٹس، بڑے شہروں کے ایلیٹ کلب زد میں آئیں گے، ایئر کنڈیشن ریسٹورنٹ، ہوسٹل، گیسٹ ہاوس، میرچ ہال، مارکیز بھی شامل ہے۔ پوائنٹ آف سیل سسٹم، ای انوائسنگ کے بغیر سیل سروس دینا ناممکن ہوگا,بیوٹی پارلرز، سلمنگ، مساج اور ہیئر ٹرانسپلانٹ سینٹر کی بھی نگرانی ہوگی، بڑے نجی ڈاکٹرز، تعلیمی ادارے بھی پی او ایس سسٹم سے مربوط ہونگے، 500 روپے سے زیادہ فیس والے ڈینٹسٹ بھی پابند ہوںگے، 50 ہزار سے زیادہ فیس والے فوٹو، ویڈیو گرافرز، ایونٹ مینجرز شامل ہوں گے۔ کوریئر، کارگو سروسز، فارن ایکسچینج ڈیلرز، کمپنیز بھی پابند ہونگی، ایسکرے، سٹی اسکین، ایم آر آئی کرنے والیمیڈیکل لیبارٹریز، ایک ہزار سے زیادہ ماہانہ فیس والے نجی اسکول، کالجز، یونیورسٹیز کی بھی نگرانی ہوگی۔ انٹر سٹی ٹریول سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی عمل کرنا ہوگا۔
آئی ایم ایف سے سرکاری افسران کے اثاثے عام کرنے سمیت اصلاحات کا ایکشن پلان شیئر کیاجائےگا, حکام کےمطابق معاشی استحکام، مہنگائی، کرنٹ اکاؤنٹ اور سماجی تحفظ کے اقدامات کا جائزہ لیاجائےگا،پرائمری فسکل سرپلس جی ڈی پی کے تقریباً 1.3 فیصدحاصل کیاگیا،صوبوں نے مجموعی طور پر 1180 ارب روپے کا کیش سرپلس دیا،صوبائی ٹیکس کلیکشن کے اہداف پورے،کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا،غیرملکی زرمبادلہ ذخائر پروگرام کے ہدف سے زیادہ برقرار رہے۔ حکام کا کہنا ہےکہ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ جولائی تا نومبر میں تقریباً 6 فیصد کی گروتھ رہی،دورہ 7 ارب ڈالر کے ای ایف ایف اور 1.4 ارب ڈالر کے آرایس ایف پروگرام کا تسلسل ہے،دونوں قرض پروگراموں کا مجموعی حجم 8.4 ارب ڈالر ہے،دونوں پروگرامز کے تحت پاکستان کو اب تک 3.3 ارب ڈالر مل چکےہیں،دوسری طرف آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرنے کیلئے پہلی بار بجلی کی ڈی ریگولیٹڈ مارکیٹ فعال ہونے کے قریب پہنچ گئی ہے، ڈیریگولیٹڈ مارکیٹ میں بجلی مارچ میں فروخت کیلئےپیش ہونےکا امکان ہے،ابتدائی طور پر 200 میگاواٹ بجلی نیلامی کیلئے پیش کی جائے گی،ڈی ریگولیٹڈ مارکیٹ بی تھری اور بی فورصنعتوں کے لیے قائم ہوگی،ڈی ریگولیٹڈ مارکیٹ میں بجلی پر عائد کپیسٹی چارجز ختم ہو جائیں گے۔ بجلی کی خرید وفروخت کے لیے آزادمارکیٹ آپریٹر پہلے ہی قائم کئے جاچکے،ابتدائی طور پر ایک میگا واٹ والے بڑے صارفین کو بجلی بیچی جائےگی، 4 سال کے دوران مارکیٹ میں دستیاب بجلی 800 میگا واٹ تک کی جائے گی بڑے صارفین صرف بجلی کمپنیوں کے انسٹالیشن کے چارجز دیں گے،ڈسکوز کو گرڈ اور تاریں استعمال کرنے کے ویلنگ چارجز ادا کئے جائیں گے،بی 3 کے لیے چارجز 6 روپے،بی 4 کے لیے 9 روپے فی یونٹ مقرر ہیں،مارکیٹ میں جو سستی بجلی دے گا صارفین اسی سے خریدیں گے۔
رواں مالی سال ایف بی آر کی ریونیو گروتھ تقریباً 12 فیصد تک ریکارڈ ہوئی ہے، جولائی سے جنوری کے دوران انکم ٹیکس کی مد میں نیٹ آمدن 3 ہزار 496 ارب روپے، سیلز کی مد میں 2 ہزار 240 ارب روپے، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 462 ارب روپے اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 750 ارب روپے جمع ہوئے ہیں، گزشتہ مالی سال 2024-25 کے پہلے سات ماہ کے دوران 6 ہزار 699 ارب روپے ٹیکس کلیکشن ریکارڈ ہوئی تھی، ابتدائی تجاویز یہ تیار کی گئی ہیں کہ آئی ایم ایف سے 100 ارب روپے تک ٹیکس ہدف میں کمی کیلئے درخواست کی جائے گی، کم سے کم یہ 50 ارب روپے تک ہو سکتی ہے، ایف بی آر نے مذاکرات کیلئے تیاریاں تیز کر دی ہیں اور یہ تجاویز حکومتی سطح پر ٹاپ لیول پر بھی ڈسکس ہوئی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات کے مطابق ایف بی آر کی تیاریاں جاری ہیں، پریزنٹیشن فائنل ہونے کے مراحل میں ہے، حالیہ دنوں میں جب آئی ایم ایف سے اقتصادی جائزہ کیلئے تیاریوں پر وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی تو وزیراعظم نے ہدایت کی کہ رواں مالی سال 30 جون تک کوئی ٹیکس نہ لگایا جائے اور ایف بی آر نیا ٹیکس لگائے بغیر ٹیکس ہدف پورا کرے، منی بجٹ لائے بغیر ٹیکس آمدن کے ہدف کے قریب تر پہنچنے کیلئے تمام کوششیں بروئے کار لائی جائیں۔آئی ایم ایف سے جولائی سے جنوری کے دوران تک ٹیکس ڈیٹا پر تبادلہ خیال ہوگا، جولائی سے جنوری مہنگائی اور معاشی ترقی کے مطابق ٹیکس آمدن کا جائزہ لیا جائے گا، اگر آئی ایم ایف، ایف بی آر کی تجاویز سے اتفاق کرے تو رواں مالی سال کیلئے ایف بی آر ٹیکس ہدف کو 13 ہزار 979 ارب سے کم کر کے 13 ہزار 879 ارب روپے تک لانے کی کوشش کرے گا، سپرٹیکس کے فیصلے سے بھی ٹیکس آمدن میں اضافے پر آئی ایم ایف کو بریفنگ دی جائے گی، جولائی سے جنوری ایف بی آر مجموعی طور پر 7 ہزار 147 ارب روپے جمع کر سکا ہے، جولائی سے جنوری کیلئے ایف بی آر کا ہدف 7 ہزار 521 ارب روپے تھا۔ایف بی آر کو رواں مالی سال جولائی سے جنوری 372 ارب روپے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ مہنگائی اور معاشی ترقی کی شرح کے حساب سے ٹیکس کلیکشن پر خصوصی سیشن ہوگا، رواں مالی سال سپر ٹیکس سے 217 ارب روپے کی وصولی کا امکان ہے۔ایف بی آر حکام پُرامید ہیں کہ عید کی تیاریوں کے سلسلے میں شاپنگ سے سیلز ٹیکس کی آمدن میں اضافہ ہو گا، گزشتہ ماہ کے دوران وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے سپر ٹیکس کے حق میں فیصلے کے باوجود ایف بی آر کو ماہانہ ٹیکس ہدف کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے، ابتدائی طور پر ایف بی آر نے وفاقی آئینی عدالت سے فیصلے کی بنیاد پر 300 ارب روپے کی وصولی کی توقع ظاہر کی تھی، رواں مالی سال جولائی سے جنوری تک 340 ارب روپے ٹیکس ریفنڈز جاری کیے جا چکے ہیں، گزشتہ مالی سال اسی عرصے کے دوران 314 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز جاری کیے گئے تھے۔ایف بی آر نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے مارچ 2026 تک 9917 ارب روپے ٹیکس محصولات جمع کرنے کا معاہدہ کر رکھا ہے، اب تک 7 ہزار 147 ارب روپے کی وصولی کے بعد باقی مدت میں مزید 2 ہزار 765 ارب روپے سے زائد اکٹھے کرنا ہوں گے، رواں ماہ فروری کیلئے ایف بی آر کا ہدف بھی تقریباً ڈیڑھ ہزار ارب روپے کے لگ بھگ ہے، ایف بی آر نے پارلیمنٹ سے منظور شدہ سالانہ ٹیکس ہدف 14 ہزار 131 ارب روپے کو کم کر کے آئی ایم ایف معاہدے کے تحت 13 ہزار 979 ارب روپے کر دیا ہے، تاہم پارلیمنٹ نے تاحال اس نظرثانی شدہ ہدف کی باضابطہ منظوری نہیں دی۔ پاکستان حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے، حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی ایک اور بڑی شرط پوری کردی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سول سرونٹس کے اثاثہ جات کے قواعد میں ترمیم کا مسودہ جاری کردیا ہےآئی ایم ایف کی شرائط کے تحت گریڈ 17 سے 22 کے افسران کے اثاثے ڈکلیئر کیے جائیں گے ،ایف بی آر کے مطابق پبلک سرونٹ کی نئی تعریف گریڈ 17 اور اس سے بالا افسران پر مشتمل ہوگی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں، خودمختار اداروں اور کارپوریشنز کے افسران بھی شامل ہیں، نیب آرڈیننس 1999ء کے تحت مستثنیٰ افراد اس تعریف میں شامل نہیں ہوں گے۔حکام کے مطابق ترامیم کا مقصد شفافیت اور انتظامی وضاحت بڑھانا ہے،اثاثہ جات کے گوشواروں کے تبادلے کا نظام مزید موثر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایف بی آر نے ترمیمی مسودہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کی دفعہ 237 کے تحت تیار کیا ہے ایف بی آر ایک بار پھر آئی ایم ایف سے رواں مالی سال 26-2025 کے ٹیکس ہدف میں کمی کیلئے درخواست کرے گا جس کی ورکنگ تیار کی جا رہی ہے، جولائی سے جنوری مہنگائی اور معاشی ترقی کے مطابق ٹیکس آمدن کا جائزہ لیا جائے گا۔مزید یہ کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 26-2025 کے ابتدائی 7 ماہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع کی ترسیلات 1.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 7 ماہ کے دوران غیر ملکی کمپنیوں کی منافع واپسی میں 27.92 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔مالیاتی شعبے میں غیر ملکی کمپنیوں کے منافع کی واپسی 371.33 ملین ڈالر رہی، جبکہ توانائی کے شعبے میں یہ رقم 400.19 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی, بتایا گیا کہ سب سے زیادہ منافع کی واپسی برطانیہ کو 442.76 ملین ڈالر اور چین کو 413.11 ملین ڈالر کی گئی۔مزید یہ کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) اور حکومت کی مؤثر پالیسیوں نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے عمل کو سازگار بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 26-2025 کے سات ماہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع کی ترسیلات 1.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔رواں مالی سال کے 7 ماہ کے دوران غیر ملکی کمپنیوں کی منافع واپسی میں 27.92 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، توانائی اور مالیاتی شعبہ میں غیر ملکی کمپنیوں کے منافع کی واپسی بالترتیب 400.19 اور 371.33 ملین ڈالر ریکارڈ ہوا۔سٹیٹ بینک کے مطابق سب سے زیادہ منافع کی واپسی برطانیہ میں 442.76 ملین اور چین میں 413.11 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ یہ اضافہ پاکستان کی مستحکم معاشی رفتار اور سرمایہ کاری کیلئے بہتر ماحول پر عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور کاروباری ماحول میں آسانیاں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید تقویت دے رہی ہیں۔ایس آئی ایف سی کے تعاون سے پاکستان پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کا بڑھتا ہوا اعتماد معاشی استحکام کی علامت ہے۔مزید یہ کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی زرمبادلہ ذخائر کے ہفتہ وار اعداد و شمار جاری کر دیئے ہیں سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذخائر ایک ہفتے میں 1 کروڑ 90 لاکھ ڈالر بڑھ گئے ہیں سٹیٹ بینک ذخائر بڑھ کر 16 ارب 19 کروڑ 70 لاکھ ڈالر پر پہنچ گئے۔ کمرشل بینکوں کے ذخائر ایک ہفتے میں 9 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کم ہوگئے ہیں، کمرشل بینکوں کے ذخائر کم ہوکر 5 ارب 10 کروڑ 46 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئے ہیں ۔سٹیٹ بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کےذخائر کم ہونے سے ملکی مجموعی زرمبادلہ ذخائر 7 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کم ہوئے۔ ملکی مجموعی زرمبادلہ ذخائر کم ہو کر 21 ارب 30 کروڑ 15 لاکھ ڈالر پر آگئے ہیں۔

