LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) غیر مساوی ٹیکس نظام

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) اطلاعات کے مطابق ایف بی آر جولائی تا دسمبر کے دوران ٹیکس ہدف حاصل میں ناکام رہا جس کے نتیجے میں 6 ہزار 490 ارب روپے کے ہدف میں 335 ارب روپے کا شارٹ فال ہوا ہے سیلز انکم ٹیکس کسٹمز ڈیوٹی اہداف ادھورے رہ گئے ہیں جولائی سے نومبر کے دوران ریونیو شارٹ فال تقریبا 310 ارب روپے رہا گزشتہ ماہ دسمبر کے دوران ایف بی آر کا ٹارگٹ 1ہزار 446 ارب روپے تھا اس میں بھی ایف بی آر کو 25 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہےجولائی تا دسمبر ایف بی آر کی مجموعی آمدنی 6 ہزار 155 ارب روپے تک محدود رہی اور اس دوران 292 ارب روپے کے ریفنڈ زادا کئے گئے ایف بی آر نے بڑے بر آمد کنندگان کے ٹیکس گوشواروں کی جانچ کا حکم دیا ہے تاکہ قابل ٹیکس آمدن میں کمی کی وجوہات معلوم اور قانونی کارروائی کی جاسکے مقامی سطح پر اشیاء کی فروخت پر سیلز ٹیکس کی توقع سے کم وصولی درآمدی حجم میں کمی تجارتی سرگرمیوں میں سست روی کی وجہ سے کسٹمز ڈیوٹی اور امپورٹ ڈیوٹی کا متاثر ہونا معاشی سست روی مینو فیکچرنگ اور دیگر صنعتی شعبوں کی رفتار میں کمی متعلقہ ٹیکس محکموں کی انتظامی نااہلی ٹیکس قوانین کے کمزور نفاذ ٹیکسوں کے زیر التوا مقدمات رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ٹیکس وصولی میں کمی کی بڑی وجہ ہیں ساختی خامیاں بنیادی ڈھانچے اور تربیت یافتہ انسانی وسائل کی کمی نے ٹیکس کے مستقل فرق میں نمایاں کردار ادا کیا ہے بد عنوانی اور نااہلی نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے مالیاتی اہداف حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے ایف بی آر کا رجعت پسند ٹیکس کے طریقوں پر انحصار بنیادی طور پر بالواسطہ ٹیکس نے معاشی عدم مساوات کو بڑھا اور کاروبار کی ترقی کو روک دیا ہے یکے بعد دیگرے بر سر اقتدار آنے والی حکومتیں ادائیگی کی اہلیت کے اصول کے ساتھ منصفانہ ٹیکس نظام کو اپنانے میں ناکام رہی ہیں ٹیکس ریونیو کے اہداف ودہولڈنگ ٹیکس اور بڑھے ہوئے نرخوں کے ذریعے پورے کئے جاتے ہیں جو موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ ڈالتے اور تعمیل کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اس سے کاروبار کرنے کی لاگت اور افراط زر میں کے ساتھ ساتھ دولت کی عدم مساوات میں بھی اضافہ ہوتا ہے پاکستان غریب ملک ہے ہمارے لوگوں کی ٹیکس انکم ہی نہیں 60 فیصد لوگوں کی آمدنی اتنی ہے کہ وہ ٹیکس نیٹ میں ہی نہیں آتے پاکستان میں 2 ٹریلین کا ٹیکس گیپ ہے پاکستان میں 4 کروڑ لوگوں کے گھروں میں ایئر کنڈیشنڈ لگا ہوا ہے جو لوگ ٹیکس نیٹ پر پورے اترتے ہیں وہی ٹھیک طرح ٹیکس نہیں دے رہے ٹیکس دینے اور لینے والے دونوں میں بہت مسائل ہیں سسٹم کا ڈیزائن پانچ فیصد لوگوں کے لئے بنایا گیا ہے اقتصادی ماہرین طویل عرصے سے ملک میں غیر مساوی ٹیکس نظام کے مضمرات کو اجاگر اور اسے درست کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں یہ انتہائی افسوس ناک امر ہے کہ ملک میں بیشتر اہم معاشی ومالیاتی پالیسیاں طاقتور طبقوں کے مفاد میں یا ان کے دباؤ پر بنائی جاتی ہیں خواہ اس کے لئے قانون سازی کرنی پڑے یا قانون کو توڑنا پڑے ان نقصانات کو پورا کرنے کے لئے عوام پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جاتا ہے ترقیاتی اخراجات وانسانی وسائل کی ترقی کے لئے کم رقوم مختص کی جاتی ہیں اور ملکی وبیرونی قرضوں پر بے تحاشا انحصار کیا جاتا ہے یہی نہیں طاقتور طبقوں بشمول ٹیکس چوری کرنے والوں قومی دولت لوٹنے والوں بینکوں سے اپنے قرضے غلط طریقوں سے معاف کرانے والوں پاکستان سے لوٹ کر یا ناجائز طریقوں سے حاصل کی ہوئی رقوم سے ملک کے اندر اثاثے بنانے یا ملک سے باہر اثاثے منتقل کرنے والوں کے مفادات کا تحفظ حکومت اور ریاستی اداروں کی جانب سے کیا جاتا رہا ہے یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداور (جی ڈی پی) کا تقریبا 6 فیصد حصہ اشرافیہ کو دی جانے والی مراعات پر صرف ہوتا ہے یہ رقم ساڑھے سترہ ارب ڈالرز کے لگ بھگ بنتی ہے کاروباری طبقے کی جانب سے لی جانے والی مراعات کا حجم تقریبا پونے پانچ ارب ڈالرز ہے ایک فیصد امیر ترین لوگ ملک کی مجموعی آمدنی کے نو فیصد کے مالک ہیں جبکہ جاگیر دار جو ملک کی آبادی کا ایک اعشاریہ ایک فیصد ہیں 22 فیصد قابل کاشت رقبے کے مالک ہیں اعداد وشمار یہ ظاہر کرنے کے لئے کافی ہیں کہ پاکستان کے اندر واضح طور پر دو ریاستیں موجود ہیں ایک متوسط غریب اور پس ماندہ طبقات پر مشتمل اور دوسری وہ جس کا نہ صرف وسائل پر قبضہ ہے بلکہ اقتدار و اختیار کی مختلف شکلیں بھی اسی کے زیر اثر ہیں اس لئے کوئی چاہ کر بھی ان کا کچھ نہیں بگا سکتا ہماری اشرافیہ اتنی طاقتور ہے کہ ملک کو اس کے مفادات پر قربان کیا جارہا ہے غریب عوام کو قربانی کا بکرا سمجھ کر آئے روز کند چھری سے ذبح کرنے والے حکمران اس کے خلاف بات کرنے کو تیار نہیں ہے پاکستان کے موجودہ ٹیکس سسٹم بااثر طبقے کی جانب سے غریب طبقے کے لئے ہے 80 فیصد بالواسطہ ٹیکس آمدن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ غریب لوگ ٹیکس ادا کر رہے ہیں پچیس ہزار روپے ماہانہ کمانے والا بھی اشیاء ضروریہ پر وہی ٹیکس ادا کر رہا ہے جو 15 لاکھ روپے ماہانہ کمانے والا دے رہا ہے آمدنی کے لحاظ سے ٹیکس لیا جاتا تو پاکستان کی ٹیکس آمدن موجودہ سے بہت مختلف ہوتی دوسری جانب ٹیکس ریبیٹ ریفنڈز اور سبسڈی کی دیگر اقسام بھی متمول طبقے کے لئے ہوتی ہیں غریبوں کے لئے نہیں بجلی گیس اور پٹرول پر دی جانے والی سبسڈی متذکرہ بالا سبسڈیز کے آگے کچھ بھی نہیں ملک میں رائج نظام ٹیکس نیٹ سے باہر لوگوں کو ٹیکس کے دائرے میں لانے کے بجائے پہلے سے موجود طبقات پر ٹیکس کا بوجھ بڑھا دیتا ہے پاکستان میں ٹیکس کی شرح سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے کارپوریٹ ٹیکس کی شرحیں و دیگر من مانے ٹیکس پاکستان میں کارپوریشنوں کے لئے موثر ٹیکس کی شرح کو ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر مارکیٹوں کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں بناتے ملک کی معیشت کو مقامی سرمائے کو متحرک کرنے کی حوصلہ افزائی کرکے ہی بحال کیا جاسکتا ہے اور یہ غیر رسمی معیشت کا حجم کم کرنے رسمی معیشت میں اضافے کے لئے ٹیکسوں کی شرح کم کرنے کاروباری منصفانہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش سے ہی ممکن ہے ملک میں غیر معمولی پیمانے پر ٹیکس چوری کی جاتی اور اس میں ادارہ جاتی نااہلی سمگلنگ اور طاقتور صنعتی دھڑوں کیلئے حکومتی مراعات جیسے عوامل ہیں لیکن اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے جو حل ناگزیر ہیں ان پر توجہ کم دکھائی دیتی ہے ملک میں سیلز ٹیکس کی مد میں سالانہ 4 ہزار ارب سے زائد کی چوری ہورہی ہے مگر اس کا سدباب کرنے کیلئے درست اقدامات کے بجائے حکومت کے پاس ٹیکس آمدنی بڑھانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ بالواسطہ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کر دیا جائے افراط زر میں سنگل ڈیجٹ پر آنے کے باوجود اس وقت اشیائے ضروریہ پر ٹیکسوں کی بلند شرح مہنگائی کا ایک بڑا سبب ہے اور المیہ یہ ہے کہ بلاتفریق اس کا اطلاق سبھی شہریوں پر ہوتا ہے مثالی معاشی نظام میں دولت مند افراد سے وصول کر کے کمزور معاشی حیثیت والے طبقے پر خرچ کیا جاتا ہے مگر یہاں کمزور طبقہ بھی اسی طرح تختہ مشق ہے تا کہ سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس کی آمدنی سے حکومتی اخراجات کو پورا میں مدد کرے یہ صورتحال ملک میں مہنگائی اور پسماندگی کی ایک بڑی وجہ ہے ٹیکس پالیسی میں مساوات اور شفافیت پاکستان کے ریونیو شارٹ فال کے مسئلے کو حل کرنے کی بنیاد ہے نااہلیوں کو روکنے اور معیشت کو تقویت دینے کے لئے ٹھوس انتظامی اصلاحات ضروری ہیں ملک کی مختلف عدالتوں اور ایپلٹ ٹربیونلز میں 33 ہزار سے زائد ٹیکس مقدمات زیر التواء ہیں اور ان ٹیکس کیسز کی کل رقم کا تخمینہ 4500 ارب روپے کے لگ بھگ ہے اس ضمن میں حکومت اگر قانون سازی کے ذریعے در پیش رکاوٹوں کا خاتمہ کردے تو ان کیسز کے نمٹنے کی رفتار تیز کی جاسکتی ہے دیکھنا یہ ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں 336 ارب روپے کے ٹیکس خسارے کو پورا کرنے کے لئے حکومت ماضی کی روایات پر عمل کرتے ہوئے نئی ڈیوٹیز محصولات اور منی بجٹ جیسے آسان راستوں کا انتخاب کرے گی یا دیرینہ مسائل کے حل اور پائیدار اصلاحات کے بھاری پتھر کو اٹھائے گی اصلاحات کی تعمیل اور مساوات پر توجہ دے کر پہلی ششماہی کا خسارہ پورا کیا جاسکتا ہے حکومت اگر سیلز ٹیکس سے استثنی ختم بڑے برآمد کنندگان اور کارپوریٹ سیکٹر کی کڑی نگرانی اور ٹیکس چوری روکنے کے اقدامات کرلے تو اس شارٹ فال کو بآسانی پورا کیا جاسکتا ہے علاؤہ ازیں سرکاری اخراجات میں کٹوتی سے بجٹ خسارے کو قابو رکھنے میں مدد مل سکتی ہے منی بجٹ اور نئے ٹیکسز جیسے اقدامات معاشرے میں بے چینی کو جنم دیں گے پاکستان کی آمدنی میں کمی ایک شفاف مساوی ٹیکس پالیسی فریم ورک کی متقاضی ہے ساختی اصلاحات کو ترجیح دی جائے تاکہ نااہلیاں کم ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کیا جا سکے مالیاتی بدانتظامی سے نمٹنا اور ٹیکسوں کے پروگریسو میکانزم کے ساتھ صوبوں کو بااختیار بنانا پائیدار معاشی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے اب بھی وقت ہے حکومت معاشی بقاء اور استحکام کے لئے عارضی اقدامات کو چھوڑ کر دیرپا اصلاحات کی جانب توجہ دے**

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X