LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) یومِ استحصالِ کشمیراور حقِ خودارادیت

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) 5 اگست 2019 تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جب بھارت نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو منسوخ کر کے وہاں فوجی محاصرہ مسلط کیا۔
یہ اقدام نا صرف کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے بلکہ عالمی ضمیر کے لیے بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ لاکھوں کشمیری آج بھی بدترین ظلم، جبری گمشدگیوں اور اظہارِ رائے پر پابندی جیسے مظالم سہہ رہے ہیں۔
پاکستان کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ مظلوم کشمیریوں کا استحصال کسی صورت قبول نہیں!
کشمیر کی متنازعہ حیثیت ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے، جسے کوئی طاقت مٹا نہیں سکتی۔ کشمیریوں کا حقِ خودارادیت ان کو ہر حال میں دیا جانا چاہیے۔
پاکستان بھر میں 5 اگست 2026 کو یومِ استحصالِ کشمیر روایتی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا تا ہے جس کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر پر قابض بھارتی فوج کے گزشتہ سات سال سے جاری سخت ترین محاصرے اور ظلم و ستم کے خلاف بھرپور آواز بلند کرنا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے اس دن کی مناسبت سے ایک وسیع اور جامع قومی پروگرام تشکیل دیا ہے جس کے تحت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت تمام صوبائی دارالحکومتوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر احتجاجی ریلیاں، سیمینارز اور یکجہتی واکس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ وزارتِ امورِ کشمیر، وزارتِ خارجہ اور تمام سرکاری و نجی ادارے اس مہم کا حصہ ہیں تاکہ عالمی برادری کو بھارت کی طرف سے 5 اگست 2019 کو اٹھائے گئے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کی سنگینی کا احساس دلایا جا سکے۔اس دن کی مرکزی سرگرمیوں کا آغاز صبح کے وقت ایک منٹ کی خاموشی سے ہوگا جس کے دوران ملک بھر میں ٹریفک کی روانگی مکمل طور پر روک دی جائے گی اور سائرن بجائے جائیں گے جس کے فوری بعد پاکستان اور آزاد کشمیر کے قومی ترانے فضائیں گونج اٹھیں گے۔ صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم اور دیگر سیاسی و سماجی رہنما خصوصی پیغامات جاری کریں گے جبکہ حریت قیادت اور سول سوسائٹی کے ارکان کی زیرِ نگرانی بڑی ریلیاں نکالی جائیں گی جن میں مقبوضہ وادی میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کی بھارتی کوششوں اور کشمیری رہنماؤں کی غیر قانونی حراست کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کیا جائے گا۔میڈیا کے محاذ پر ریڈیو پاکستان، پاکستان ٹیلی ویژن اور تمام نجی چینلز خصوصی دستاویزی فلمیں، ٹاک شوز اور رپورٹس نشر کر رہے ہیں جن میں کشمیر کی تاریخی حیثیت اور آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد پیدا ہونے والی انسانی صورتحال کو تفصیل سے اجاگر کیا جا رہا ہے۔ تعلیمی اداروں میں بھی طلبہ کے لیے مضمون نویسی اور تقریری مقابلوں کا اہتمام کیا گیا ہے تاکہ نئی نسل کو اس دیرینہ تنازع سے روشناس کرایا جا سکے۔ سفارتی سطح پر دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارت خانے اور ہائی کمیشنز عالمی رہنماؤں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور تھنک ٹینکس کے سامنے کشمیر کا مقدمہ پیش کر رہے ہیں اور اقوامِ متحدہ کے مقامی دفاتر کو احتجاجی یادداشتیں بھیجی جا رہی ہیں تاکہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا جائز حقِ خودارادیت دلایا جا سکے۔ پون صدی کا عرصہ گزرنے کے بعد اب بھی بھارت کی پورے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل اور بے دریغ پامالیاں جاری ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کرہ ارض کا وہ واحد خطہ ہے جہاں محض چند ہزار مربع میل علاقے میں آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی قابض فوجی تعینات ہیں۔ بھارت سرزمین کشمیر پر جبری اور ناجائز فوجی تسلط کو جاری رکھنے کے لیے اپنے تمام وسائل اور ہتھکنڈوں کو استعمال کر رہا ہے۔

پاکستان نے کشمیریوں کی ہمیشہ سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کی ہے۔ بھارت تمام تر ظلم و جبر، تشدد و گرفتاریوں اور ریاستی دہشت گردی کے باوجود اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکا، کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں کرسکا۔ ان کی جدوجہد کو روک نہیں سکا، اس بات کو کسی طور جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ مقبوضہ وادی کا بچہ بچہ، بزرگ، خواتین اور ہر جوان آزادی حاصل کرنے کے لیے پر عزم ہے اور یہ بات اب بھارت کو بھی سمجھ لینی چاہیے۔ درحقیقت 5اگست 2019 مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخ کا سب سے المناک، دردناک اور سیاہ ترین دن ہے۔ اپریل 2019 میں بھارت میں عام انتخابات ہوئے۔

ان عام انتخابات میں آر ایس ایس نواز بی جے پی جماعت کامیاب ہوئی اور نریندر مودی نے دوبارہ وزیراعظم کی حیثیت سے اقتدار کی کرسی سنبھا لی۔ اقتدار میں آنے کے بعد اس حکومت نے سنگ دلی و عصبیت کا سب سے بڑا قدم اٹھایا اور کشمیر کی حق خود ارادیت پر شب خون مارتے ہوئے اس کی خود مختاری کو چیلنج کیا۔ بی جے پی حکومت کے قیام کو ابھی چار ماہ ہی ہوئے تھے کہ انھوں نے پارلیمان سے اندھے قوانین پاس کرنے کا گھناؤنا عمل شروع کیا۔

5 اگست 2019 کو بھارتی پارلیمان نے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کیا۔ آرٹیکل 370 کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتا ہے۔ کشمیر کو اپنا آئین اور اپنا جھنڈا دیتا ہے۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی اور اس کے آئین اور جھنڈے کو بھی ضبط کیا گیا۔اسی پر بس نہیں ہوا۔ بی جے پی حکومت نے صدارتی حکم نامے کے ذریعے دفعہ 35 اے کو بھی ختم کردیا۔ دفعہ 35اے کے مطابق کوئی شخص صرف اسی صورت میں جموں و کشمیر کا شہری ہو سکتا ہے، اگر وہ یہاں پیدا ہوا ہو۔ دفعہ 35 اے کے خاتمے کے بعد بھارت کی دوسری ریاستوں سے لوگوں کی کشمیر میں آباد کاری کا سلسلہ شروع ہوا۔ نتیجے کے طور پر گزشتہ پانچ برسوں میں جموں و کشمیر میں لاکھوں افراد اپنے روزگار سے محروم ہوگئے۔ ظلم پر ظلم سے جب بات نہیں بنی تو بھارت نے لاقانونیت کی ہر حد پار کردی۔6 اگست 2019 کو ری آرگنائزیشن کے نام سے ایک ایکٹ بھی منظور کرایا گیا۔

اس ایکٹ نے مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں (جموں و کشمیر اور لداخ) میں تقسیم کیا اور دونوں حصوں کو بھارتی مرکزی حکومت کے زیر انتظام بھی کیا اور اس کے لیے ایک قانون ساز اسمبلی کے قیام کی منظوری دی، جو بظاہر ایک بے اختیار قانون ساز اسمبلی ہے۔ یوں ایک دن کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کی گئی اور ا گلے روز تمام امور پر ان سے فیصلوں کا حق بھی چھینا گیا۔ ظلم اور لاقانونیت کی یہ داستان ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ کالے قوانین کے اطلاق کے بعد بھارتی حکومت نے کشمیر میں بلیک لسٹ بھی متعارف کرائی۔ اس لسٹ میں صرف منتخب نیوز سائٹ شامل ہوتی ہیں، جس کا انتخاب وہی کرتے ہیں جہاں کشمیریوں کا اس کے علاوہ باقی نیوز سائٹ تک رسائی ناممکن بنا دی گئی۔

بھارتی ظلم و جبر کی داستان محض کشمیر تک محدود نہیں۔ ہندوستان کے اپنے شہری اور اقلیت بھی ان کے شکنجے میں بری طرح پس رہے ہیں۔ آئے روز ان پر معمولات زندگی تنگ کی جا رہی ہے۔ قومی رجسٹر برائے شہریت نے تو گویا انھیں اپنا ماننے سے بھی انکار کردیا ہے۔ یہ رجسٹر شہریوں کو شہریت فراہم کرتی ہے۔ اس میں اپنا نام درج کرانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ شہری کے پاس لیگیسی دستاویز موجود ہوں، جو بھی اس دستاویز کو فراہم کرنے سے قاصر ہوتا ہے، اس کی شہریت ضبط کردی جاتی ہے۔

بھارت کے قومی رجسٹر برائے شہریت نے 31 اگست 2019 کو اپنی پہلی لسٹ شایع کی۔ اس لسٹ میں تقریبا آسام سے 19 لاکھ بنگالیوں کی شہریت ضبط کردی گئی اور انھیں شہری ماننے سے انکارکردیا گیا۔ اس کے کچھ ہی ماہ بعد 11 دسمبر 2019 کو citizenship amendment act بھی پاس کرایا گیا۔ اس ایکٹ کے بعد قومی رجسٹر برائے شہریت کا اطلاق پورے ہندوستان پر کیا گیا۔ لوگوں کی شہریت ضبط کی گئی، انھیں ملک بدر کرنے پر مجبور کیا گیا۔ نومبر 2019 میں Unlawful activities prevention actپاس کیا جس نے دہشت گردی کی تعریف میں توسیع کرکے چھوٹے سے چھوٹا جرم کو بھی دہشت گردی قرار دیا گیااور پھر مئی 2019 جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا۔فسادات میںدو ہزار کے قریب مسلمان قتل ہوئے ۔

بھارتیہ جنتا پارٹی آر ایس ایس کی کوکھ سے جنم لینے والی ایک سیاسی جماعت ہے جس کی بنیاد 1980میں رکھی گئی۔ آزادی کے بعد سے مودی حکومت ملک کی سب سے بدعنوان حکومت ہے۔ اس کی کارکردگی خراب اور قابل مذمت ہے۔ لوگوں میں خوف ہے کہ آمریت پسند مودی حکومت اگر اقتدار میں رہتی ہے تو ہندوستانی جمہوریت خطرے میں پڑ جائے گی۔ عوام کو سمجھ میںآ گیا ہے کہ ان لوگوں نے ایسے وعدے دے کر ان سے جھوٹ بولا ہے جنھیں پورا کرنے کی ان کی منشا ہی نہیں تھی۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق منوج جھا نے بھارتی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ بی جے پی کے قوم پرستی کے دعوؤں کی نفی کرتے ہیں اور سیاسی فائدے کے لیے مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کے غلط استعمال کو ظاہر کرتے ہیں۔

اعداد و شمار بی جے پی کے قوم پرستی کے دعوؤں کی نفی کرتے ہیں۔منوج جھا نے بی جے پی اور کارپوریٹ مفادات کے درمیان مذموم رابطوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہاکہ جن پرائیویٹ کمپنیوں پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے چھاپے مارے انھیں کمپنیوں نے بعد میں انتخابی بانڈز خریدے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دور حکومت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر و جرائم کے بھارتی تاریخ میں سب سے زیادہ واقعات رونما ہوئے ہیں۔ بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2014 میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارتیوں میں مسلمانوں کے خلاف رجحان بہت بڑھ گیا ہے۔مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے ریکارڈ شدہ 255 واقعات میں سے تقریباً 80 فیصد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیر حکومت ریاستوں میں پیش آئے۔ مودی سرکار نے اس سے قبل تحریک آزادی میں اہم کردار ادا کرنے پر جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر، مسلم لیگ، تحریک حریت، ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی، جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ، دختران ملت اور مسلم کانفرنس پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

اقوام متحدہ نے اپنے چارٹر کے آرٹیکل 1 میں حقِ خودارادیت سے لوگوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا ہے، مگر صرف قوانین سے کوئی بھی تحریک کامیاب نہیں ہوئی کیونکہ عالمی برادری کی سیاسی رضامندی کے بغیر ایسا ممکن نہیں۔ اس کی مثال تقسیم سوڈان اور ایسٹ تیمور کی تخلیق ہے، جب کہ کشمیر و فلسطین آج بھی عالمی ضمیر و نظام پر ایک سوالیہ نشان ہیں ۔ اس کے علاوہ سیاسی نمایندگی، تعلیم، آزادی اظہار، زندگی کا حق جیسے بنیادی حقوق کشمیریوں کے لیے شاید ناممکن ہیں مگر حیف کہ عالمی جمہوری علمبردار اپنے سیاسی و معاشی مفادات کی بدولت بھارت کی انسان دشمن پالیسیوں اور کالے قوانین پر چپ سادھے بیٹھے ہیں۔

اقوام متحدہ کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر رپورٹس کے بعد بھی بھارت کو روکنے اور کشمیریوں کے حق میں عالمی برادری کی خاموشی مجرمانہ غفلت نہیں تو اور کیا ہے؟ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کے حصول تک پاکستان کی جانب سے مضبوط اور ثابت قدم اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رہے گی۔ پاکستان بھارت سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے، تاہم اچھے تعلقات تنازعات سے انکار کے ذریعے نہیں بلکہ صرف تنازعات کے حل کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر ایک جہد ِ مسلسل ہے جس کو مخصوص دنوں سے منسوب کر کے صرف آواز بلند نہیں کی جانی چاہیے بلکہ ہر وقت، ہر لمحے، ہرگھڑی کشمیر کی آواز بن کر دنیا کے ایوانوں میں گونجنے کی ضرورت ہے۔ کشمیری عوام کا یہ عزم صمیم ہے کہ وہ بھارت کے گھناؤنے اقدامات کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور کشمیری عوام اقوام متحدہ کی قرار داد کے مطابق اپنی جدوجہد آزادی کو منزل کے حصول تک جاری رکھیں گے۔ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن جموں و کشمیر کے تنازع کے حل پر منحصر ہے۔

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

SLOT GACOR

SALAMJITU

SATGASJITU

SEMOGAJITU

SALAMJITU

Slot Gacor

MAUJP

Slot Gacor

SLOT GACOR

artikel 000000121

artikel 000000122

artikel 000000123

artikel 000000124

artikel 000000125

artikel 000000126

artikel 000000127

artikel 000000128

artikel 000000129

artikel 000000130

artikel 000000131

artikel 000000132

artikel 000000133

artikel 000000134

artikel 000000135

artikel 000000136

artikel 000000137

artikel 000000138

artikel 000000139

artikel 000000140

artikel 000000141

artikel 000000142

artikel 000000143

artikel 000000144

artikel 000000145

artikel 000000146

artikel 000000147

artikel 000000148

artikel 000000149

artikel 000000150

artikel 000000151

artikel 000000152

artikel 000000153

artikel 000000154

artikel 000000155

artikel 000000156

artikel 000000157

artikel 000000158

artikel 000000159

artikel 000000160

artikel 000000161

artikel 000000162

artikel 000000163

artikel 000000164

artikel 000000165

artikel 000000166

artikel 000000167

artikel 000000168

artikel 000000169

artikel 000000170

artikel 000000171

artikel 000000172

artikel 000000173

artikel 000000174

artikel 000000175

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

informasi terbaru kabupaten belu 00000081

informasi terbaru kabupaten belu 00000082

informasi terbaru kabupaten belu 00000083

informasi terbaru kabupaten belu 00000084

informasi terbaru kabupaten belu 00000085

informasi terbaru kabupaten belu 00000086

informasi terbaru kabupaten belu 00000087

informasi terbaru kabupaten belu 00000088

informasi terbaru kabupaten belu 00000089

informasi terbaru kabupaten belu 00000090

informasi terbaru kabupaten belu 00000091

informasi terbaru kabupaten belu 00000092

informasi terbaru kabupaten belu 00000093

informasi terbaru kabupaten belu 00000094

informasi terbaru kabupaten belu 00000095

informasi terbaru kabupaten belu 00000096

informasi terbaru kabupaten belu 00000097

informasi terbaru kabupaten belu 00000098

informasi terbaru kabupaten belu 00000099

informasi terbaru kabupaten belu 00000100

informasi terbaru kabupaten belu 00000101

informasi terbaru kabupaten belu 00000102

informasi terbaru kabupaten belu 00000103

informasi terbaru kabupaten belu 00000104

informasi terbaru kabupaten belu 00000105

informasi terbaru kabupaten belu 00000106

informasi terbaru kabupaten belu 00000107

informasi terbaru kabupaten belu 00000108

informasi terbaru kabupaten belu 00000109

informasi terbaru kabupaten belu 00000110

informasi terbaru kabupaten belu 00000111

informasi terbaru kabupaten belu 00000112

informasi terbaru kabupaten belu 00000113

informasi terbaru kabupaten belu 00000114

informasi terbaru kabupaten belu 00000115

informasi terbaru kabupaten belu 00000116

informasi terbaru kabupaten belu 00000117

informasi terbaru kabupaten belu 00000118

informasi terbaru kabupaten belu 00000119

informasi terbaru kabupaten belu 00000120

informasi terbaru kabupaten belu 00000121

informasi terbaru kabupaten belu 00000122

informasi terbaru kabupaten belu 00000123

informasi terbaru kabupaten belu 00000124

informasi terbaru kabupaten belu 00000125

informasi terbaru kabupaten belu 00000126

informasi terbaru kabupaten belu 00000127

informasi terbaru kabupaten belu 00000128

informasi terbaru kabupaten belu 00000129

informasi terbaru kabupaten belu 00000130

article 48666670361

article 48666670362

article 48666670363

article 48666670364

article 48666670365

article 48666670366

article 48666670367

article 48666670368

article 48666670369

article 48666670370

article 48666670371

article 48666670372

article 48666670373

article 48666670374

article 48666670375

article 48666670376

article 48666670377

article 48666670378

article 48666670379

article 48666670380

article 48666670381

article 48666670382

article 48666670383

article 48666670384

article 48666670385

article 48666670386

article 48666670387

article 48666670388

article 48666670389

article 48666670390

article 48666670391

article 48666670392

article 48666670393

article 48666670394

article 48666670395

article 48666670396

article 48666670397

article 48666670398

article 48666670399

article 48666670400

article 48666670401

article 48666670402

article 48666670403

article 48666670404

article 48666670405

article 48666670406

article 48666670407

article 48666670408

article 48666670409

article 48666670410

article 58666670411

article 58666670412

article 58666670413

article 58666670414

article 58666670415

article 58666670416

article 58666670417

article 58666670418

article 58666670419

article 58666670420

article 58666670421

article 58666670422

article 58666670423

article 58666670424

article 58666670425

article 58666670426

article 58666670427

article 58666670428

article 58666670429

article 58666670430

article 58666670431

article 58666670432

article 58666670433

article 58666670434

article 58666670435

article 58666670436

article 58666670437

article 58666670438

article 58666670439

article 58666670440

article 58666670441

article 58666670442

article 58666670443

article 58666670444

article 58666670445

article 58666670446

article 58666670447

article 58666670448

article 58666670449

article 58666670450

article 58666670451

article 58666670452

article 58666670453

article 58666670454

article 58666670455

article 58666670456

article 58666670457

article 58666670458

article 58666670459

article 58666670460

article 58666670461

article 58666670462

article 58666670463

article 58666670464

article 58666670465

article 58666670466

article 58666670467

article 58666670468

article 58666670469

article 58666670470

article 58666670471

article 58666670472

article 58666670473

article 58666670474

article 58666670475

article 58666670476

article 58666670477

article 58666670478

article 58666670479

article 58666670480

article 58666670481

article 58666670482

article 58666670483

article 58666670484

article 58666670485

article 58666670486

article 58666670487

article 58666670488

article 58666670489

article 58666670490

article 58666670491

article 58666670492

article 58666670493

article 58666670494

article 58666670495

article 58666670496

article 58666670497

article 58666670498

article 58666670499

article 58666670500

article 58666670501

article 58666670502

article 58666670503

article 58666670504

article 58666670505

article 58666670506

article 58666670507

article 58666670508

article 58666670509

article 58666670510

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download