LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) عوام دوست بجٹ آج ; وفاقی حکومت پیش کرے گی

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) عوام دوست بجٹ حکومت آج قومی اسمبلی میں پیش کرے گی وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب جمعہ، 12 جون 2026 قومی اسمبلی میں 17.1 ٹریلین روپے تقریباً 61 ارب ڈالر کا وفاقی بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں۔
آئی ایم ایف کی سخت شرائط اور اہداف کو پورا کرنے کے دباؤ کے تحت تیار کیے گئے
بجٹ کی اہم ترین تجاویز اور تخمینے درج ذیل ہیں:
نئے وفاقی بجٹ 2026-27 کے کلیدی اہداف و اعداد و شمارمجموعی حجم : 17.1 ٹریلین روپے ۔ٹیکس ریونیو کا ہدف آئندہ مالی سال کے لیے ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 15,267 ارب (15.26 ٹریلین) روپے تجویز کیا گیا ہے۔نان ٹیکس ریونیو : 2,768 ارب روپے متوقع ہے۔
قرضوں پر سود کی ادائیگی : بجٹ کا سب سے بڑا حصہ یعنی 7,824 ارب روپے صرف بیرونی و اندرونی قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لیے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
دفاعی بجٹ ;دفاعی شعبے کے اخراجات کے لیے 2,665 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
وفاقی ترقیاتی بجٹ : وفاقی ترقیاتی پروگرام کا حجم 1.126 ٹریلین روپے متوقع ہے۔
پیٹرولیم لیوی کا ہدف: پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی کے ذریعے 1,727 ارب روپے اکٹھے کرنے کا ہدف ہے۔
معاشی ترقی اور مہنگائی کا تخمینہ معاشی شرح نمو : نئے مالی سال کے لیے ترقی کا ہدف 4.1 فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے۔
اوسط مہنگائی : مالی سال 2026-27 کے دوران ملک میں اوسط مہنگائی 8.4 فیصد تک رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
عوام اور مڈل کلاس پر اثرات ;رپورٹس کے مطابق، آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کے باعث رجسٹرڈ کاروباری شعبے اور مڈل کلاس طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھنے کا امکان ہے جبکہ سب سے غریب ترین طبقے کو سماجی تحفظ جیسے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام) کے ذریعے ریلیف دینے کی کوشش کی جائے گی ,سرکاری ملازمین کی تنظیموں نے مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں بڑے اضافے کا مطالبہ کر رکھا ہے وزیر خزانہ کی جانب سے پاکستان اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق ملکی معیشت کی مجموعی شرح نمو (GDP Growth) 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ گزشتہ چار سالوں میں سب سے زیادہ ہے،
تاہم یہ 4.2 فیصد کے مقررہ ہدف سے کم رہی۔ مالی سال 2025-26 کے اقتصادی سروے کے اہم ترین اعداد و شمار اور شعبہ جات کی کارکردگی درج ذیل ہے:
مجموعی معاشی اشاریے : پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ملکی معیشت کا حجم 126.9 ٹریلین روپے ($452.1 billion) کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔
فی کس آمدنی ): گزشتہ سال کے 1,751 ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 1,901 امریکی ڈالر ہو گئی ہے۔
مہنگائی کی شرح : جولائی تا اپریل کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 6.2 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ترسیلاتِ زر : سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر 38.1 ارب ڈالر کی تاریخی سطح کو چھو گئیں۔
اہم شعبہ جات کی شرح نمو )
معاشی شعبہ حاصل کردہ شرح نمو (FY 2025-26)اہم محرکات و تفصیلات خدمات کا شعبہ (Services) 4.09%معاشی ترقی کا سب سے بڑا محرک رہا، جو گزشتہ 4 سالوں کی بلند ترین سطح ہے۔
صنعتی شعبہ (Industry) 3.51%لارج اسکیل مینوفیکچرنگ (LSM) میں 6.1 فیصد بحالی کی وجہ سے بہتری آئی۔
زرعی شعبہ (Agriculture) 2.89%2025 کے سیلاب کے باوجود زراعت نے لائیوسٹاک کی بدولت استحکام دکھایا۔
ملک میں مجموعی غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد ہو گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ تقریباً 29 فیصد شہری خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ بلوچستان میں غربت سب سے زیادہ (47%) جبکہ پنجاب میں سب سے کم (23.3%) ریکارڈ کی گئی۔آئی ٹی برآمدات: ملک کی انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) کی برآمدات 3.8 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔ سروے کے مطابق سال 2025 کے دوران 7 لاکھ سے زائد پاکستانی روزگار اور دیگر مواقع کے لیے ملک چھوڑ کر گئے۔ لائیوسٹاک کے شعبے کی شرح نمو 3.75 فیصد رہی۔ ملک میں گدھوں کی تعداد 1.9 فیصد اضافے کے ساتھ 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب مالی سال کے لیے 17.1 ٹریلین روپے (61 ارب ڈالر) کا بجٹ پیش کریں گے بجٹ میں محصولات بڑھانے اور اخراجات کم کرنے کے لیے مڈل کلاس اور رجسٹرڈ کاروباری شعبے پر بوجھ ڈالا جائے گا جبکہ ملک کے غریب ترین طبقے کو تحفظ دینے کی کوشش کی جائے گی۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں ایندھن، بجلی اور ٹیکسوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا زیادہ تر اثر رجسٹرڈ کاروباری اداروں اور تنخواہ دار طبقے پر پڑے گا کیونکہ زراعت، ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ جیسے سیاسی طور پر بااثر شعبوں پر ٹیکس عائد کرنا اب بھی مشکل ہے۔ اہداف حاصل کرنے کے لیے حکومت کو نان فائلرز، زراعت اور تاجروں کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہوگی۔ تاہم ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے بجائے صرف اس کو مزید گہرا کرنے کے لیے درکار سیاسی عزم موجود نہیں ہے پالیسی سازوں کو نہ صرف آئی ایم ایف کے حالیہ بیل آؤٹ پیکیج کی شرائط کا مقابلہ کرنا ہے بلکہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے بڑے اثرات سے بھی نمٹنا ہے، یہ ایک ایسا تنازع ہے جس میں اسلام آباد نے ثالثی کرنے کی کوشش کی ہے۔ جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اچانک اضافے نے پاکستان کی مہنگائی کو ایک بار پھر دہرے ہندسوں میں پہنچا دیا ہے اور یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہوتی دکھائی دے رہی تھی۔ خلیجی ممالک سے توانائی کی درآمدات، وہاں سے آنے والی ترسیلاتِ زر اور خطے کی مالیاتی امداد پر انحصار کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ کے طویل تنازع سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ایشیا بحرالکاہل (ایشیان پیسیفک) خطے کی بڑی معیشتوں میں پاکستان کو ہے۔ حکومت کا ہدف مالی سال 27-2026 کے لیے 4.1 فیصد معاشی ترقی (اقتصادی نمو) حاصل کرنا ہے جو رواں سال کے متوقع 3.7 فیصد اور آئی ایم ایف کی 3.5 فیصد کی پیشگوئی سے زیادہ ہے جبکہ پورے سال کے لیے مہنگائی کا ہدف 8.2 فیصد مقرر کیا جا رہا ہے جو مئی میں رپورٹ ہونے والی 11.7 فیصد مہنگائی سے نمایاں طور پر کم ہے۔ تاہم مئی میں کاروباری اعتماد اس وقت اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گیا جب سے ایس اینڈ پی نے گزشتہ سال اپنی مینوفیکچرنگ سروے شروع کیا تھا۔ اسی دوران پیداواری لاگت 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ روزگار میں مسلسل دوسرے مہینے کمی ریکارڈ کی گئی۔ مرکزی بینک نے اپریل میں شرحِ سود میں ایک فیصد پوائنٹ کا اضافہ کیا، جو تقریباً تین سال میں پہلی بار کیا گیا اضافہ تھا۔ حکومت فیڈرل بورڈ آف ریونیو پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ اگلے سال کے ٹیکس جمع کرنے کے ہدف کو رواں سال کے ہدف سے 37 فیصد زیادہ تک بڑھائے جبکہ ادارہ رواں سال کا اپنا ہدف پورا کرنے میں بھی ناکام دکھائی دے رہا ہے۔ وسیع پیمانے پر پھیلی غیر دستاویزی معیشت پاکستان کے سرمائے کا ایک بڑا حصہ ایف بی آر کی پہنچ سے دور رکھتی ہے: گزشتہ سال صرف 1.3 فیصد پاکستانیوں نے ٹیکس کے قابل آمدنی ظاہر کرتے ہوئے گوشوارے جمع کرائے اور صرف 7.7 فیصد بالغ افراد کے پاس ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ موجود ہے۔ ٹیکس فائلرز کی تعداد میں تو اضافہ ہوا لیکن آمدنی (ریونیو) اس رفتار سے نہیں بڑھی۔ عالمی معیار کے مطابق کارپوریٹ ٹیکس کی شرح پہلے ہی بہت زیادہ ہیں جبکہ انکم ٹیکس (آمدنی پر ٹیکس) میں مزید اضافہ عوام کی قوتِ خرید کو مکمل طور پر کچل دے گا جو پہلے ہی دو سال کی شدید مہنگائی کے اثرات سے سنبھلنے کی کوشش کررہی ہے۔ زراعت، رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل پر ٹیکس لگائے بغیر مالیاتی خسارہ (فسکل ڈیفیسٹ) تو شاید کم ہو جائے لیکن شہریوں اور ریاست کے درمیان اعتماد کا فقدان (ٹرسٹ ڈیفیسٹ) مزید گہرا ہو جائے گا۔ اقتصادی ترقی پر ہونے والے اخراجات شدید دباؤ کا شکار ہیں دفاعی اور داخلی پالیسیوں کے علاوہ اگلے سال کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا۔تاہم امید ہے کہ بجٹ میں غریب ترین شہریوں کو نقدی کی منتقلی فراہم کر کے ان کا تحفظ کیا جائے گا۔ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ کچھ مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس میں وفاقی اخراجات کے لیے صوبوں کی طرف سے دستبردار کیے جانے والے فنڈز کا معاملہ بھی شامل ہے۔آئی ایم ایف نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ پاکستان آنے والے مالی سال کے لیے قرضوں کی ادائیگیوں کو نکال کر، 2 فیصد کا بجٹ سرپلس حاصل کرنے کے ہدف پر متفق ہو گیا ہے۔اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق پاکستان کی معیشت مالی سال 2025-26 میں 3.7 فیصد کی شرح سے ترقی کر سکی، جو گزشتہ بجٹ میں مقرر کردہ 4.2 فیصد ہدف سے کم رہی۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے جمعرات کو وفاقی بجٹ سے قبل اقتصادی سروے جاری کیا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ بجٹ کے اہداف پر معاہدے کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر خزانہ نے کہا کہ بات چیت جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ان کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں اور بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ جب ہم نے اس مالی سال کا آغاز کیا تو ٹیرف سے متعلق عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال موجود تھی۔ جولائی کے اختتام تک ہم اپنی برآمدات، خصوصاً امریکا کے لیے برآمدات، کے حوالے سے ایک مسابقتی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سیلاب کا سامنا کرنا پڑا اور پھر مارچ سے علاقائی تنازع شروع ہو گیا۔ یہ تینوں عوامل بیرونی نوعیت کے تھے جنہوں نے معیشت کو متاثر کیا۔
اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان کی معیشت نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت استحکام کی جانب پیش رفت جاری رکھی، تاہم اہم شعبوں کی کارکردگی ملی جلی رہی۔ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی فی کس آمدن 9 فیصد اضافے کے ساتھ 1,901 ڈالر تک پہنچ گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاشی نمو کے ساتھ آمدن کی بحالی کا عمل دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ جبکہ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی معیشت کا حجم بڑھ کر 126.9 کھرب روپے (452.1 ارب ڈالر) تک پہنچ گیا۔ اقتصادی سروے کے مطابق یہ پاکستان کی تاریخ میں ریکارڈ کیا جانے والا معیشت کا سب سے بڑا حجم ہے۔ عبوری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ کارکردگی سیلاب کے باوجود حاصل ہوئی۔ حکومتی اقدامات اور بروقت امدادی طریقوں نے 2025ء کے سیلاب کے تناظر میں فصلوں کے ذیلی شعبے کو دوبارہ سنبھلنے میں مدد دی، جس سے اس شعبے نے توقعات سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ مالیاتی سال 2026ء میں لائیوسٹاک (مال مویشی) کے شعبے میں 3.75 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مالیاتی سال 2024-25 میں یہ شرح 2.95 فیصد تھی۔ مالی سال کے دوران صنعتی پیداوار میں 3.5 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ مینوفیکچرنگ اور تعمیراتی شعبوں کی بہتر کارکردگی تھی، جبکہ خدمات کے شعبے نے 4.1 فیصد شرح نمو حاصل کی جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ خدمات کا شعبہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کا مضبوط ستون بنا ہوا ہے کیونکہ یہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 58 فیصد حصہ رکھتا ہے۔ بڑی صنعتوں (ایل ایس ایم) میں 6.1 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی، جو وسیع بنیادوں پر ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق مینوفیکچرنگ کے 22 شعبوں میں سے 16 میں ترقی دیکھی گئی، جن میں خوراک، ٹیکسٹائل اور ملبوسات سمیت دیگر شعبے شامل ہیں۔ مالی سال 2025-26 (جولائی تا مارچ) میں پاکستان کا مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 0.7 فیصد تک محدود رہا، جبکہ گزشتہ سال یہ 2.6 فیصد تھا۔ اسی دوران پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے 3.2 فیصد تک پہنچ گیا۔ رپورٹ کے مطابق مالیاتی نظم و ضبط مضبوط معاشی بنیادوں میں تبدیل ہو رہا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کو اپنی برآمدات اور ترسیلاتِ زر دونوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔ رواں مالی سال جولائی تا اپریل ترسیلاتِ زر 9 فیصد اضافے سے 33.9 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ ترسیلات زر ہمارے خطے کے ممالک کی ساختی معیشت کا حصہ ہیں۔ یہ آئندہ بھی ہمارے بیرونی توازن کی پوزیشن میں ایک نہایت اہم کردار ادا کرتی رہیں گی۔انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے کردار کو سراہا۔ محمد اورنگزیب نے یہ تفصیل بھی شیئر کی کہ حکومت کو توقع ہے کہ رواں مالیاتی سال کے اختتام تک ترسیلاتِ زر کا حجم 41 سے 42 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ تجارتی اشاریوں پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے تسلیم کیا کہ پاکستان کی برآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے اور اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاول کی برآمدات میں 1.1 ارب ڈالر کی کمی آئی ہے جبکہ چینی کی برآمدات جو ایک وقتی معاملہ تھا 400 ملین ڈالرتک کم ہوئیں۔ اس طرح خوراک کے شعبے کی برآمدات میں مجموعی طور پر 1.5 ارب ڈالر کی کمی ہوئی۔ مالی سال کے دوران ٹیکسٹائل کی برآمدات میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ مالی سال 2026ء میں جولائی تا مارچ کے دوران پاکستان کی اشیاء (گڈز) کی برآمدات 22.7 ارب ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ حجم 24.7 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ لوگوں اور صنعت کو اپنے کاروباری ماڈل اور پیداواری صلاحیت کے حوالے سے دوبارہ غور کرنا ہوگا۔
انہوں نے کھیلوں کے سامان کی برآمدات میں اضافے پر بھی روشنی ڈالی، جو مالی سال 2026ء میں جولائی تا مارچ کے دوران 319 ملین ڈالر رہیں اور ذکر کیا کہ آئندہ فیفا ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والا فٹ بال پاکستان میں تیار کیا گیا ہے۔ آئی ٹی برآمدات رواں مالی سال جولائی تا اپریل 3.8 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئیں، توقع ہے کہ مالی سال کے اختتام تک یہ 4.5 ارب ڈالر سے بھی بڑھ جائیں گی۔ رپورٹ کے مطابق فری لانسرز کی سالانہ آمدنی مالی سال 2025ء کے 642 ملین ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2026ء میں 959 ملین ڈالر ہو گئی۔ مالی سال 2026ء میں جولائی تا مارچ کے دوران درآمدات 6.9 فیصد اضافے کے ساتھ 50.7 ارب ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ حجم 47.4 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق درآمدات میں یہ اضافہ بنیادی طور پر ٹرانسپورٹ، خوراک اور مشینری کے شعبوں میں زیادہ درآمدات کی وجہ سے ہوا، جو گاڑیوں، ٹرانسپورٹ کے سازوسامان، ضروری اشیاء خورونوش اور کیپیٹل گڈز (پیداواری مشینری) کی مضبوط طلب کی عکاسی کرتا ہے۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہمارا خیال تھا کہ ہمارا برآمدی بل کم ہو جائے گا، تاہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث یہ رواں مالیاتی سال 70 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ درآمدات میں اضافے کے باوجود ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں رہے گا۔ 29 مئی 2026 تک پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 17.2 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے جو سالانہ 49 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ جون کے آخر تک یہ ذخائر 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے جس سے ہمیں 3 ماہ کی درآمدات کے برابر کوریج حاصل ہو جائے گی جو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ معیار ہے۔ وزیر خزانہ نے اسٹاک مارکیٹ کے شعبے کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تک پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 11 آئی پی اوز درج کیے جا چکے ہیں، یہ گزشتہ دو دہائیوں میں آئی پی او کی سب سے زیادہ تعداد ہے، جو مستقبل میں مضبوط کارپوریٹ اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال 2026ء میں پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹس (اسٹاک مارکیٹ) نے دنیا کی بڑی اسٹاک مارکیٹوں کے مقابلے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس نے جولائی تا مارچ مالی سال 2026ء کے دوران 18.4 فیصد کی شرح سے نمو (ترقی) دکھائی۔ اس اضافے کی وجہ کمپنیوں کے مضبوط منافع، پالیسی ریٹ (شرحِ سود) اور مہنگائی دونوں میں کمی، آئی ایم ایف کے ای ایف ایف پروگرام کا کامیاب جائزہ اور اس کے بعد اگلی قسط کی وصولی ہے، جن تمام عوامل نے ایک مستحکم میکرو اکنامک (مجموعی معاشی) ماحول پیدا کرنے میں مدد دی جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت ملی۔ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کا قرضہ جی ڈی پی کے تناسب سے 68.5 فیصد رہا، معیشت پر قرض کے بوجھ میں کمی کے باعث قرض کی پائیداری بہتر ہو رہی ہے۔ رواں سال مارچ کے اختتام پر بیرونی عوامی قرضہ 92.2 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جو رواں مالی سال کے پہلے 9 مہینوں کے دوران تقریباً 364 ملین امریکی ڈالر کا اضافہ ظاہر کرتا ہے، جبکہ گزشتہ مالیاتی سال اسی مدت کے دوران یہ اضافہ 883 ملین ڈالر تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومتی بیرونی قرضہ اس کا بڑا حصہ ہے، جس کا حجم 82,261 ملین ڈالر ہے، جبکہ آئی ایم ایف کے واجب الادا قرضے کا حجم 9,891 ملین امریکی ڈالر ہے۔ آئی ایم ایف کے اس قرضے میں وفاقی حکومت کا قرضہ (3,620 ملین ڈالر) اور مرکزی بینک کا قرضہ (6,271 ملین ڈالر) شامل ہیں۔ پیرس کلب دنیا کے امیر اور قرض دینے والے ممالک کا ایک غیر رسمی گروپ کا قرضہ 5.5 ارب ڈالر ہے، جو پاکستان کے مجموعی بیرونی عوامی قرضے کا تقریباً 6 فیصد بنتا ہے۔ یہ قرضے بھی رعایتی ہیں، جو طویل مدت میں واپسی اور کم شرحِ سود کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ غیر پیرس کلب ممالک سے لیے گئے دوطرفہ قرضوں کا حجم 19.03 ارب ڈالر ہے، جو کہ کل بیرونی قرضے کا 21 فیصد بنتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے بحران کے دوران عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث مہنگائی مارچ 2026 میں 7.3 فیصد سے بڑھ کر اپریل 2026 میں 10.9 فیصد تک پہنچ گئی۔ رواں مالی سال جولائی تا مئی اوسط مہنگائی 6.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ نجکاری کے حوالے سے وزیر خزانہ نے بتایا کہ جاری مالیاتی سال کے اختتام تک بجلی کی تقسیم کار تین کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کر دی جائے گی۔ مالی سال 2026ء میں پاکستان میں سرمایہ کاری اور جی ڈی پی کا تناسب 14.38 فیصد پر مستحکم رہا، جس کی بنیادی وجہ نجی شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہے۔ قومی بچت جی ڈی پی کا 14.13 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو بیرونی فنانسنگ پر محدود انحصار کو ظاہر کرتی ہے۔ مالی سال 2026ء کے دوران جولائی تا مارچ کے عرصے میں ٹیکس ریونیو (آمدنی) 11.3 فیصد اضافے کے ساتھ 10,166.6 ارب روپے رہا جبکہ نان ٹیکس ریونیو 9.5 فیصد اضافے کے ساتھ 4,632.7 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالیاتی سال 2026ء میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (آر ڈی اے) کے ذریعے ملک میں سرمایہ کاری کا حجم 12.7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع عالمی معیشت اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے ایک بڑا بیرونی خطرہ بن چکا ہے۔ توانائی کی سپلائی لائنز میں رکاوٹوں اور اہم پیداواری تنصیبات کو نقصان نے عالمی توانائی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھا دی ہے اور معاشی نمو کے لیے منفی خطرات میں اضافہ کیا ہے۔ اسی طرح نئے تجارتی تنازعات، بلند عوامی قرض اور پیداواری شرح میں سست روی کی تشویش نے عالمی اقتصادی منظرنامے پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔ورلڈ اکنامک آئوٹ لک کے مطابق عالمی شرح نمو 2026 میں کم ہو کر 3.1 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ عالمی مہنگائی 2025 کے 4.1 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 4.4 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے اس تنازع کے ابتدائی اثرات سے کامیابی کے ساتھ نپٹ لیا ہے، تاہم اس کے (اصل) اثرات آنے والے مہینوں میں محسوس کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تیل کی درآمدات، جو اپریل میں بڑھ کر 1 ارب ڈالر سے اوپر چلی گئی تھیں، مئی میں کم ہو کر آدھا ارب ڈالر رہ گئیں، کیونکہ اب ہم ملک میں آنے والی درآمدات کو مینیج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جبکہ اس تنازع کے دوسرے مرحلے کے اثرات بڑھتی ہوئی شرحِ افراطِ زر (مہنگائی) کی شکل میں دیکھے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے پالیسی ریٹ (شرحِ سود) میں اضافہ ہوا ہے۔مزید کہا کہ وہ اب بھی پرامید ہیں کہ ملک کی قیادت کی ثالثی کی کوششیں کامیاب ہوں گی۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے (انفرااسٹرکچر) کو نقصان پہنچا ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
اقتصادی سروے اختتام پذیر ہونے والے مالی سال کے دوران ملکی معاشی کارکردگی کا ایک جامع جائزہ فراہم کرتا ہے اور سالانہ بجٹ سے قبل ایک اہم ترین پالیسی دستاویز کے طور پر کام کرتا ہے۔ حکومت نے اس سے قبل اشارہ دیا تھا کہ بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا، تاہم بعد میں اس تاریخ کو تبدیل کر کے 12 جون کردیا گیا۔ توقع ہے کہ آنے والے بجٹ میں معیشت کو استحکام دینے اور پائیدار ترقی کو برقرار رکھنے کی جاری کوششوں کے درمیان مالی سال 2026-27 کے لیے حکومت کی مالیاتی ترجیحات، آمدنی بڑھانے کے اقدامات اور اخراجات کے منصوبوں کی آؤٹ لائن (خاکہ) پیش کی جائے گی۔ قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے مالی سال 2026-27 کے لیے 3 ہزار 669 ارب روپے (3.669 ٹریلین) کے قومی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دے دی ہے جس میں 838 ارب روپے کی غیر ملکی معاونت بھی شامل ہے، جبکہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ اجلاس میں فیڈرل پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے ایک ہزار ارب روپے، صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے لیے 2 ہزار 218 ارب روپے اور سرکاری اداروں (ایس او ایز) کے لیے 451 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی۔ کونسل نے مالی سال 2025-26 کے نظرثانی شدہ اقتصادی اشاریوں کی بھی منظوری دی، جس کے تحت وفاقی پی ایس ڈی پی کے لیے 820 ارب روپے، صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے لیے 2 ہزار 938 ارب روپے اور ایس او ایز کے لیے 355 ارب روپے مختص کیے گئے۔ کونسل نے مالی سال 2025-26 کے لیے جی ڈی پی کی شرحِ نمو کا ہدف 3.7 فیصد مقرر کرنے کی منظوری دی۔

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

SLOT GACOR

SALAMJITU

SATGASJITU

SEMOGAJITU

SALAMJITU

Slot Gacor

MAUJP

Slot Gacor

SLOT GACOR

artikel 000000121

artikel 000000122

artikel 000000123

artikel 000000124

artikel 000000125

artikel 000000126

artikel 000000127

artikel 000000128

artikel 000000129

artikel 000000130

artikel 000000131

artikel 000000132

artikel 000000133

artikel 000000134

artikel 000000135

artikel 000000136

artikel 000000137

artikel 000000138

artikel 000000139

artikel 000000140

artikel 000000141

artikel 000000142

artikel 000000143

artikel 000000144

artikel 000000145

artikel 000000146

artikel 000000147

artikel 000000148

artikel 000000149

artikel 000000150

artikel 000000151

artikel 000000152

artikel 000000153

artikel 000000154

artikel 000000155

artikel 000000156

artikel 000000157

artikel 000000158

artikel 000000159

artikel 000000160

artikel 000000161

artikel 000000162

artikel 000000163

artikel 000000164

artikel 000000165

artikel 000000166

artikel 000000167

artikel 000000168

artikel 000000169

artikel 000000170

artikel 000000171

artikel 000000172

artikel 000000173

artikel 000000174

artikel 000000175

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

informasi terbaru kabupaten belu 00000081

informasi terbaru kabupaten belu 00000082

informasi terbaru kabupaten belu 00000083

informasi terbaru kabupaten belu 00000084

informasi terbaru kabupaten belu 00000085

informasi terbaru kabupaten belu 00000086

informasi terbaru kabupaten belu 00000087

informasi terbaru kabupaten belu 00000088

informasi terbaru kabupaten belu 00000089

informasi terbaru kabupaten belu 00000090

informasi terbaru kabupaten belu 00000091

informasi terbaru kabupaten belu 00000092

informasi terbaru kabupaten belu 00000093

informasi terbaru kabupaten belu 00000094

informasi terbaru kabupaten belu 00000095

informasi terbaru kabupaten belu 00000096

informasi terbaru kabupaten belu 00000097

informasi terbaru kabupaten belu 00000098

informasi terbaru kabupaten belu 00000099

informasi terbaru kabupaten belu 00000100

informasi terbaru kabupaten belu 00000101

informasi terbaru kabupaten belu 00000102

informasi terbaru kabupaten belu 00000103

informasi terbaru kabupaten belu 00000104

informasi terbaru kabupaten belu 00000105

informasi terbaru kabupaten belu 00000106

informasi terbaru kabupaten belu 00000107

informasi terbaru kabupaten belu 00000108

informasi terbaru kabupaten belu 00000109

informasi terbaru kabupaten belu 00000110

informasi terbaru kabupaten belu 00000111

informasi terbaru kabupaten belu 00000112

informasi terbaru kabupaten belu 00000113

informasi terbaru kabupaten belu 00000114

informasi terbaru kabupaten belu 00000115

informasi terbaru kabupaten belu 00000116

informasi terbaru kabupaten belu 00000117

informasi terbaru kabupaten belu 00000118

informasi terbaru kabupaten belu 00000119

informasi terbaru kabupaten belu 00000120

informasi terbaru kabupaten belu 00000121

informasi terbaru kabupaten belu 00000122

informasi terbaru kabupaten belu 00000123

informasi terbaru kabupaten belu 00000124

informasi terbaru kabupaten belu 00000125

informasi terbaru kabupaten belu 00000126

informasi terbaru kabupaten belu 00000127

informasi terbaru kabupaten belu 00000128

informasi terbaru kabupaten belu 00000129

informasi terbaru kabupaten belu 00000130

article 48666670361

article 48666670362

article 48666670363

article 48666670364

article 48666670365

article 48666670366

article 48666670367

article 48666670368

article 48666670369

article 48666670370

article 48666670371

article 48666670372

article 48666670373

article 48666670374

article 48666670375

article 48666670376

article 48666670377

article 48666670378

article 48666670379

article 48666670380

article 48666670381

article 48666670382

article 48666670383

article 48666670384

article 48666670385

article 48666670386

article 48666670387

article 48666670388

article 48666670389

article 48666670390

article 48666670391

article 48666670392

article 48666670393

article 48666670394

article 48666670395

article 48666670396

article 48666670397

article 48666670398

article 48666670399

article 48666670400

article 48666670401

article 48666670402

article 48666670403

article 48666670404

article 48666670405

article 48666670406

article 48666670407

article 48666670408

article 48666670409

article 48666670410

article 58666670411

article 58666670412

article 58666670413

article 58666670414

article 58666670415

article 58666670416

article 58666670417

article 58666670418

article 58666670419

article 58666670420

article 58666670421

article 58666670422

article 58666670423

article 58666670424

article 58666670425

article 58666670426

article 58666670427

article 58666670428

article 58666670429

article 58666670430

article 58666670431

article 58666670432

article 58666670433

article 58666670434

article 58666670435

article 58666670436

article 58666670437

article 58666670438

article 58666670439

article 58666670440

article 58666670441

article 58666670442

article 58666670443

article 58666670444

article 58666670445

article 58666670446

article 58666670447

article 58666670448

article 58666670449

article 58666670450

article 58666670451

article 58666670452

article 58666670453

article 58666670454

article 58666670455

article 58666670456

article 58666670457

article 58666670458

article 58666670459

article 58666670460

article 58666670461

article 58666670462

article 58666670463

article 58666670464

article 58666670465

article 58666670466

article 58666670467

article 58666670468

article 58666670469

article 58666670470

article 58666670471

article 58666670472

article 58666670473

article 58666670474

article 58666670475

article 58666670476

article 58666670477

article 58666670478

article 58666670479

article 58666670480

article 58666670481

article 58666670482

article 58666670483

article 58666670484

article 58666670485

article 58666670486

article 58666670487

article 58666670488

article 58666670489

article 58666670490

article 58666670491

article 58666670492

article 58666670493

article 58666670494

article 58666670495

article 58666670496

article 58666670497

article 58666670498

article 58666670499

article 58666670500

article 58666670501

article 58666670502

article 58666670503

article 58666670504

article 58666670505

article 58666670506

article 58666670507

article 58666670508

article 58666670509

article 58666670510

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download