LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) اسلام آباد معاہدہ ;ایران , امریکا جنگ ختم کرنے کا جامع منصوبہ

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہو گا,لیکن حقائق یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کی تیز رفتار کامیاب ڈپلومیسی کےاثرات کی وجہ سے ایران امریکہ خلیجی جنگ جلد ختم ہو جائے گی , پاکستانی سینئرسفارتی نامہ نگار اصغر علی مبارک کے مطابق پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے لیے ایک جامع منصوبہ ” اسلام آباد معاہدہ ”’(اسلام آباد اکارڈ ) پیش کیا گیا ہے،
دوسری جانب پاکستان اور چین نے بیجنگ میں مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے31 مارچ 2026 کو ایک مشترکہ پانچ نکاتی امن منصوبہ پیش کیا ہے,ترک میڈیا نے ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کے حوالے دعویٰ کیا ہے کہ ایران مستقبل میں دوبارہ جنگ نہ ہونے کی ضمانت کا مطالبہ کرتا ہے۔قبل ازیں سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایران کو پاکستان کی جانب سے جنگ بندی تجاویز کا مسودہ مل گیا ہے, مسودے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ایران فیصلے کیلئے کسی ڈیڈ لائن یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکا مستقل جنگ بندی کیلئے تیار نہیں ہے، تہران عارضی جنگ بندی کیلئے آبنائے ہرمز نہیں کھولے گا۔ واضح رہے کہ برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران کو جنگ ختم کرنے کا منصوبہ مل گیا۔ رپورٹ کے مطابق حتمی معاہدے کی تجویز میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری شامل ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ختم کرنے کے پلان پر آج ہی رضامندی ضروری ہے۔
پاکستان کا پیش کردہ فریم ورک دو مراحل پر مشتمل ہے، پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی اور بعد ازاں مستقل معاہدہ ہو گا۔ایران اور امریکا کو جنگ ختم کرنے کا جامع منصوبہ ,اسلام آباد معاہدہ موصول ہو گیا ہے جس پر دونوں ممالک اب غور کر رہے ہیں , اس منصوبے کے تحت جنگ بندی کے فوری نفاذ کے ساتھ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز دی گئی ہے، پاکستان اس عمل میں واحد رابطہ چینل کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے،
عسکری قیادت نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے کیے۔ ممکنہ معاہدے کو اسلام آباد اکارڈ کا نام دیا جا رہا ہے،
معاہدے کے تحت 45 روزہ جنگ بندی بھی زیر غور ہے۔ قبل ازیں امریکی جریدے ایگزوس نے امریکی، اسرائیلی اور خطے کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ثالث فریقین دو مرحلوں پر مشتمل معاہدے کی شرائط پر بات کر رہے ہیں، جس کے پہلے مرحلے میں ممکنہ طور پر 45 دن کی جنگ بندی ہوگی، اس کے دوران مستقل جنگ بندی پر مذاکرات کیے جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق دوسرے مرحلے میں جنگ کے خاتمے پر حتمی معاہدہ طے کیا جائے گا، اگر مذاکرات کے لیے مزید وقت درکار ہوا تو اس عارضی جنگ بندی کو بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔اس حوالے سے وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے فوری ردعمل ظاہر نہیں کیا تاہم اگلے 48 گھنٹوں میں کسی جزوی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں لیکن یہ آخری کوشش جنگ میں اضافے کو روکنے کا واحد موقع ہے۔
قبل ازیں امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا کہ پاکستان، مصر اور ترکیہ ایران کو مذاکرات کیلئے منانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔وال سٹریٹ جرنل کے مطابق تینوں ممالک جنگ روکنے کی کوشش میں مصروف ہیں، لیکن اب تک کوئی بڑی پیشرفت نہیں ہوئی، ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔
دوسری طرف پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ میڈیا پر چلنے والی رپورٹس کی تصدیق یا تردید نہیں کررہے، ہمارا مؤقف ہے کہ امن کا عمل جاری ہے۔دفتر خارجہ کے مطابق 45 روزہ جنگ بندی یا 15 نکاتی تبادلے کی پیشکش سے متعلق مختلف رپورٹس سامنے آئی ہیں، ہم انفرادی اور مخصوص معاملات پر تبصرہ نہیں کرتے۔
پاکستانی قیادت, ملٹری ڈپلومیسی کی طر ح جنگی سفارت کاری میں بھی ایران امریکہ خلیجی جنگ میں ماہر نظر آ ئی ہے,وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صلاحیتوں کا اعتراف گزشتہ سال مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ میں ہوا، خلیجی جنگ سے پہلے، جب پاکستان نے بھارت پر اپنی فوجی برتری اور بالادستی ثابت کی تھی۔
پاکستان 2026 میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان موجودہ جنگ میں ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے اور اس کی سفارت کاری جنگ کو ختم کرنے میں مدد دے رہی ہے۔ کے لیے بہت اہم سمجھا جاتا ہے،
پاکستان کی سفارتی کوششوں کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔
میزبانی اور مذاکرات: پاکستان نے اسلام آباد میں براہ راست امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے جس کی سعودی عرب، ترکی اور مصر جیسے علاقائی ممالک نے بھی حمایت کی ہے۔
پیغام کی ترسیل: پاکستانی حکام واشنگٹن اور تہران کے درمیان “غیر سرکاری” پیغامات پہنچانے کا ایک چینل بن چکے ہیں تاکہ دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔
عالمی حمایت: چین اور یورپی یونین نے کھل کر پاکستان کی مصالحتی مہم کی حمایت کی ہے جس سے پاکستان کا سفارتی وزن بڑھ گیا ہے۔
امریکی موقف: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں اشارہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ​​اگلے 2 سے 3 ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے۔ تاہم ایران کا کہنا ہے کہ وہ طویل مدتی دفاع کے لیے بھی تیار ہے۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے پاکستان کی امن کاوشوں کو سراہنا اور اسلام آباد کے دورے سے متعلق امریکی میڈیا کی قیاس آرائیوں کی واضح تردید نہ صرف علاقائی سفارتکاری کیلئے حوصلہ افزا ہے بلکہ اس سے پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کی بھی توثیق ہوتی ہے۔ امریکی پریس اور بعض تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ ایرانی قیادت اسلام آباد میں ملاقات سے گریزاں ہے‘ تاہم عباس عراقچی کی وضاحت نے ان مفروضوں کو رد کر دیا ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان کا خیر مقدم کیا اور اس وضاحت پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔
میزبانی اور مذاکرات: پاکستان نے اسلام آباد میں براہ راست امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے جس کی سعودی عرب، ترکی اور مصر جیسے علاقائی ممالک نے بھی حمایت کی ہے۔
پیغام کی ترسیل: پاکستانی حکام واشنگٹن اور تہران کے درمیان “غیر سرکاری” پیغامات پہنچانے کا ایک چینل بن چکے ہیں تاکہ دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔
عالمی حمایت: چین اور یورپی یونین نے کھل کر پاکستان کی مصالحتی مہم کی حمایت کی ہے جس سے پاکستان کا سفارتی وزن بڑھ گیا ہے۔
امریکی موقف: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں اشارہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ​​اگلے 2 سے 3 ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے۔ تاہم ایران کا کہنا ہے کہ وہ طویل مدتی دفاع کے لیے بھی تیار ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے پاکستان کی امن کاوشوں کو سراہنا اور اسلام آباد کے دورے سے متعلق امریکی میڈیا کی قیاس آرائیوں کی واضح تردید نہ صرف علاقائی سفارتکاری کیلئے حوصلہ افزا ہے بلکہ اس سے پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کی بھی توثیق ہوتی ہے۔
امریکی پریس اور بعض تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ ایرانی قیادت اسلام آباد میں ملاقات سے گریزاں ہے‘ تاہم عباس عراقچی کی وضاحت نے ان مفروضوں کو رد کر دیا ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان کا خیر مقدم کیا اور اس وضاحت پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی ایرانی وزیر خارجہ کے ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کیا اور اسے بروقت وضاحت قرار دیتے ہوئے کہا کہ قیاس آرائیاں کسی کیلئے فائدہ مند نہیں ۔یہ صورتحال اس امر کی غماز ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات میں مکمل اعتماد کی فضا موجود ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ سفارتکاری کے دروازے بند نہیں کر رہابلکہ ایسے مذاکرات کیلئے آمادہ ہے جو پائیدار‘ منصفانہ اور حتمی نتائج کی ضمانت دے سکیں۔یہ مؤقف نہ صرف ایران کی سنجیدہ سفارتی سوچ کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ وقتی جنگ بندی یا عارضی وقفے کے بجائے مستقل حل ہی خطے کے امن کا ضامن ہو سکتا ہے۔اس تناظر میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ایران اور دیگر علاقائی قوتوں کے درمیان اعتماد سازی کیلئے پاکستان ایک ایسا پل بن سکتا ہے جو نہ صرف فریقین کے درمیان فاصلے کم کرنے میں مدد کرے بلکہ ایک قابلِ قبول مذاکراتی فریم ورک بھی فراہم کرے۔ اسلام آباد کی سفارتی ساکھ‘ اسکی غیر جانبدارانہ پالیسی اور مختلف بلاکس کیساتھ متوازن تعلقات اسے اس کردار کیلئے موزوں بناتے ہیں۔یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں طاقت کے زور پر مسائل حل کرنے کی روایت نہ صرف ناکام ثابت ہو چکی ہے بلکہ اسکے نتائج مزید پیچیدگیاں پیدا کر رہے ہیں اور عالمی امن کیلئے خطرے کا باعث ہیں۔ ایسے میں حکمت عملی‘ صبر اور اصولی مذاکرات کا امتزاج ہی واحد راستہ ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ وہ صرف ایسے مذاکرات میں شریک ہوگا جو دیرپا امن کی ضمانت دیں‘ حقیقت پسندانہ نقطہ نظر ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سفارتکاری کو محض وقتی دباؤ کم کرنے کے آلہ کار کے بجائے مسئلے کے مستقل حل کا ذریعہ بننا چاہیے۔ یہ صورتحال ایک موقع بھی ہے اور بلاشبہ ایک امتحان بھی ہے۔
صورتحال ایک موقع اس لئے کہ سفارتی صلاحیتوں کو بروئے کار لا تے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں بد امنی کے خاتمے کے پائیدار اقدامات کیے جائیں اور امتحان اسلئے کہ اس کردار کو نہایت دانشمندی‘غیر جانبداری اور تدبر کیساتھ ادا کرنا ہوگا۔ ان حالات میں ہمیں داخلی معاملات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔سیاسی استحکام اور معاشی استقامت وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ مستحکم اور مضبوط ملک ہی سفارتی سطح پر مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ کا وضاحتی بیان اور پاکستان کی امن کاوشوں کا اعتراف ایک مثبت پیشرفت ہے جو خطے میں امن کے امکانات کو تقویت دیتا ہے۔ متحارب فریقین سنجیدگی‘ صبر اور اصولی مؤقف کیساتھ مذاکرات کی راہ اپناتے ہیں تو یہ نہ صرف موجودہ کشیدگی کو کم کر سکتا ہے بلکہ پائیدار امن کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے‘ جو خطے کیلئے استحکام اور امن کا سبب بنے۔ مشرقِ وسطیٰ توانائی کا مرکز ہونے کے ناتے عالمی معیشت کیلئے خاص اہمیت رکھتا ہے۔حالیہ دنوں آبنائے ہر مز کی بند ش نے توانائی کی قیمتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ایران امریکہ کشیدگی کی طوالت کا مطلب عالمی معیشت کی تباہی ہے۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ پاکستان اور دیگر اہم ممالک سفارتی کوششوں کو فعال اور مؤثر بنائیں تاکہ اس بدامنی کا خاتمہ یقینی بنایا جاسکے جس نے عالمی امن اور معیشت کیلئے سنجیدہ خطرات پیدا کر دیے ہیں.
آبنائے ہرمز کی بندش اور توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران نے عالمی طاقتوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ پاکستان کی ثالثی کے ذریعے جلد از جلد کسی تصفیے تک پہنچیں۔
اگرچہ پاکستان، مصر، ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ جنگ بندی کے لیے روڈ میپ تیار کرنے کے لیے اسلام آباد میں ملاقات کر چکے ہیں، لیکن پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ملک کی قیادت ملٹری ڈپلومیسی (Military Diplomacy) کے ساتھ ساتھ جنگی سفارت کاری (War Diplomacy) میں بھی توازن پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس سلسلے میں چند اہم پہلو یہ ہیں:
تزویراتی توازن (Strategic Balance): پاکستان نے خود کو کسی ایک بلاک (امریکہ یا ایران) کا حصہ بننے کے بجائے ایک “پل” کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ مہارت فوجی سفارت کاری کا خاصہ ہے، جہاں دفاعی تعلقات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
خلیجی ممالک کا اعتماد: پاکستان کی قیادت (سویلین اور ملٹری) نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے تحفظات کو دور کیا ہے اور انہیں باور کرایا ہے کہ کشیدگی کا خاتمہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔
بیک چینل مواصلات: پاکستانی قیادت نے بیک چینل کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کے درمیان اہم پیغامات پہنچا کر غلط فہمیوں کو دور کرنے میں کردار ادا کیا ہے، جو جدید ترین جنگی سفارت کاری کی بہترین مثال ہے۔
علاقائی اتحاد کی قیادت: اسلام آباد میں حالیہ سربراہی اجلاس (پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب) نے یہ ظاہر کیا کہ پاکستان صرف اپنی سرحدوں تک محدود نہیں ہے بلکہ بڑے علاقائی بحرانوں کو حل کرنے کی سفارتی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کامیاب سفارت کاری پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو تقویت دے سکتی ہے اور ثالثی کے عمل میں اس کی قیادت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دیرپا علاقائی امن کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔
دریں اثناء ایرانی شہریوں نے تہران میں پاکستانی پرچم اٹھائے ریلی میں شرکت کی اور پاکستان کے حق میں نعرے لگائے۔
پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ریلی کے شرکاء نے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو سراہتے ہوئے “شکریہ پاکستان” کے نعرے بھی لگائے۔ ایرانی شہریوں نے کہا کہ ایران پاکستانی عوام کی محبت کو کبھی فراموش نہیں کرے گا اور دونوں ممالک کی دوستی مزید مضبوط ہوگی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں ریلی میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ میں عوام کے حوصلے بلند کرنے کے لیے ریلیوں میں آتا ہوں۔ عوام کا جوش و خروش عروج پر ہے۔ میری شرکت سمندر میں ایک قطرہ کی طرح ہے۔ ۔
دوسری طرف ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مشروط جنگ بندی پر رضا مندی ظاہر کردی ہے, ایرانی صدر نے کہا ہےکہ ایران کے پاس جنگ ختم کرنے کا ’ضروری ارادہ‘ موجود ہے، بشرطیکہ کچھ شرائط پوری کی جائیں، مطالبات پورے کرو، دوبارہ حملہ نہ کرنے کی ضمانت دو تو جنگ ختم کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے، لیکن اس کے لیے کچھ تقاضے پورے ہونا ضروری ہیں۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال دشمنی کے اقدامات کا نتیجہ ہے , آبنائے ہرمز صرف امریکا اور ان کے اتحادیوں کے لیے بند ہےجنگ میں کسی بھی بہانے سے بیرونی مداخلت کے سنگین نتائج ہوں گے مزید کہا کہ یورپی یونین کی امریکی اور صہیونی جرائم پر خاموشی افسوسناک ہے، کہا ہمارا خطے کے ممالک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، خطے میں امریکی فوجی اڈے ہونے کی وجہ سے حملے کئے گئے,اسی طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اپنے اختتام کے قریب ہے اور امریکا کسی بھی صورت میں اپنا مشن مکمل کر کے پیچھے ہٹ جائے گا چاہے ایران مذاکرات کی میز پر آئے یا نہ آئے, دعویٰ کیا کہ ایران کو اس حد تک نقصان پہنچایا جا چکا ہے کہ وہ 20 سال پیچھے جا چکا ہے اور اگر امریکا کو یقین ہوگیا کہ ایرانی ایٹمی خطرہ ختم ہوچکا ہے تو وہ بغیر کسی معاہدے کے بھی جنگ سے نکل جائے گا۔,عندیہ دیا کہ آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں جنگ مکمل طور پر ختم ہوسکتی ہے تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر ڈیل ہوتی ہے تو ٹھیک ورنہ امریکا کو اس کی ضرورت نہیں کیونکہ ایران کو ڈیل کی زیادہ ضرورت ہے ہمیں نہیں,واضح رہے کہ نومبر 2025ء میں سعودی عرب اور پاکستان کے مابین ہونے والے اسٹرٹیجک دفاعی معاہدے سے پاکستان مشرق وسطیٰ میں ہونے والی پیش رفت سے جڑا ہوا ہے۔ اس حوالے سے درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہےدوسری طرف اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل عبداللّٰہ درداری نے کہا ہےکہ ایران جنگ کے ایک مہینے میں عرب ممالک کو 186 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے، اور مشرقی بُحیرۂ روم کے خطے میں یہ نقصان تقریباً 30 ارب ڈالر تک ہو سکتا ہے جنگ بندی میں ہر دن کی تاخیر عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے، پاکستان پر جہاں سعودی عرب اعتماد کرتا ہے وہیں دیگر خلیجی ممالک سمیت ایران بھی پاکستان کو ایک دوست ملک کے طور پر دیکھتا ہے۔ پاکستان اس وقت سعودی عرب ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان ایک درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کی سیاسی عسکری قیادت مسلسل سعودی عرب سے رابطے میں ہے اور کوشش کی جا رہی ہے ایران کو ان ممالک پر حملہ کرنے سے روکا جا سکے۔پاکستان نے دنیا میں امن و استحکام کیلئے کامیاب سیاسی اور ملٹری ڈپلومیسی کا لوہا منوالیاہے۔امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے امریکی کابینہ میں پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کا اعتراف کرتے ہوئے اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ امن معاہدے کے فریم ورک کیلئے 15 نکالتی ایکشن لسٹ پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچائی ہے پاکستان ایران اور امریکا میں بطور ایک ثالث کے اہم کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان کے ذریعے ایران کیساتھ مضبوط اور مثبت پیغامات اور مذاکرات سامنے آئے ہیں۔ عالمی ماہرین کے مطابق پاکستان اپنی مدبرانہ پالیسیوں اور بہترین حکمت عملی کے باعث پوری دنیا کو متاثر کرنے والی جنگ کو رکوا رہا ہے، امریکا ایران جنگ میں پاکستان کی جانب سے ثالثی کا کردار پاکستان کی اہمیت اور عالمی سطح پر بھر پور اعتماد کا عکاس ہے۔ پاکستان متوازن تعلقات اور کامیاب سیاسی و ملٹری ڈپلومیسی کے باعث اپنی عالمی ساکھ کو مزید مستحکم کر رہا ہے

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

SLOT GACOR

SALAMJITU

SATGASJITU

SEMOGAJITU

SALAMJITU

Slot Gacor

MAUJP

Slot Gacor

SLOT GACOR

article 48666670301

article 48666670302

article 48666670303

article 48666670304

article 48666670305

article 48666670306

article 48666670307

article 48666670308

article 48666670309

article 48666670310

article 48666670311

article 48666670312

article 48666670313

article 48666670314

article 48666670315

article 48666670316

article 48666670317

article 48666670318

article 48666670319

article 48666670320

article 48666670321

article 48666670322

article 48666670323

article 48666670324

article 48666670325

article 48666670326

article 48666670327

article 48666670328

article 48666670329

article 48666670330

article 48666670331

article 48666670332

article 48666670333

article 48666670334

article 48666670335

article 48666670336

article 48666670337

article 48666670338

article 48666670339

article 48666670340

article 48666670341

article 48666670342

article 48666670343

article 48666670344

article 48666670345

article 48666670346

article 48666670347

article 48666670348

article 48666670349

article 48666670350

article 48666670351

article 48666670352

article 48666670353

article 48666670354

article 48666670355

article 48666670356

article 48666670357

article 48666670358

article 48666670359

article 48666670360

noticias 000000031

noticias 000000032

noticias 000000033

noticias 000000034

noticias 000000035

noticias 000000036

noticias 000000037

noticias 000000038

noticias 000000039

noticias 000000040

noticias 000000041

noticias 000000042

noticias 000000043

noticias 000000044

noticias 000000045

noticias 000000046

noticias 000000047

noticias 000000048

noticias 000000049

noticias 000000050

noticias 000000051

noticias 000000052

noticias 000000053

noticias 000000054

noticias 000000055

noticias 000000056

noticias 000000057

noticias 000000058

noticias 000000059

noticias 000000060

noticias 000000061

noticias 000000062

noticias 000000063

noticias 000000064

noticias 000000065

noticias 000000066

noticias 000000067

noticias 000000068

noticias 000000069

noticias 000000070

noticias 000000071

noticias 000000072

noticias 000000073

noticias 000000074

noticias 000000075

noticias 000000076

noticias 000000077

noticias 000000078

noticias 000000079

noticias 000000080

noticias 000000081

noticias 000000082

noticias 000000083

noticias 000000084

noticias 000000085

noticias 000000086

noticias 000000087

noticias 000000088

noticias 000000089

noticias 000000090

noticias 000000091

noticias 000000092

noticias 000000093

noticias 000000094

noticias 000000095

noticias 000000096

noticias 000000097

noticias 000000098

noticias 000000099

noticias 000000100

noticias 000000101

noticias 000000102

noticias 000000103

noticias 000000104

noticias 000000105

noticias 000000106

noticias 000000107

noticias 000000108

noticias 000000109

noticias 000000110

noticias 000000111

noticias 000000112

noticias 000000113

noticias 000000114

noticias 000000115

noticias 000000116

noticias 000000117

noticias 000000118

noticias 000000119

noticias 000000120

komunitas praya menyoroti perubahan pembahasan putaran gratis mahjong ways

selong tren diskusi mahjong wins tengah munculnya game digital baru

kreator konten tanjung mengangkat cerita perkembangan mahjong ways media sosial

sumbawa besar membahas tiga elemen visual mahjong wins 3 ubin emas naga scatter

komunitas digital semarang menelaah pengaruh animasi terhadap identitas game mahjong modern

yogyakarta menjadi sorotan diskusi perpaduan tradisi asia teknologi game

pengamat surabaya mengulas perubahan gaya ilustrasi seri mahjong digital

makassar membahas peran komunitas online menyebarkan tren konten mahjong

medan hingga palembang perbedaan perspektif penggemar terhadap visual mahjong ways

denpasar menyoroti perkembangan narasi budaya asia desain game mahjong kontemporer

sweet bonanza kabupaten pangkajene kepulauan mengenal mekanisme fitur putaran gratis

gates of olympus kabupaten muara enim perpaduan kisah mitologi teknologi animasi modern

lucky neko kota langsa cara simbol tradisional menyesuaikan diri selera generasi digital

wild bandito mahjong ways kabupaten garut perbandingan dua karakter visual berbeda

warga kabupaten lebak mengkaji cara membedakan klaim permainan informasi memiliki bukti

mahjong wins kota tanjungbalai menelaah fungsi simbol membentuk pengalaman visual

mengapa efek cahaya sering muncul fitur bonus pengamatan kabupaten tapanuli utara

lucky neko kabupaten hulu sungai selatan kombinasi karakter animasi ornamen bernuansa emas

gates of olympus kabupaten aceh besar memahami konsep peluang tanpa bergantung ramalan

sweet bonanza kota gorontalo menelusuri peran desain ceria membentuk identitas game

wild bandito kabupaten halmahera utara eksplorasi tema petualangan format interaktif

mahjong pgsoft kabupaten musi banyuasin perubahan pengalaman pengguna saat bermain melalui layar ponsel

princess starlight kota palangka raya mengulas fungsi cahaya elemen penceritaan

lucky neko sweet bonanza perbedaan pendekatan warna membangun identitas desain

warga kabupaten ende menelusuri pengaruh cerita budaya terhadap pembentukan karakter game digital

mengapa pemain lebih mudah mengingat kemenangan besar penjelasan bias ingatan kota madiun

bukan hanya hiburan warga kabupaten bekasi membahas pentingnya memahami batas pengeluaran digital

mahjong ways kabupaten magetan contoh memahami fenomena ilusi pola hasil acak

gates of olympus kota pagar alam menguraikan kesalahpahaman prediksi hasil permainan

warga kabupaten flores timur mengamati pengaruh notifikasi terhadap perhatian pengguna ponsel

sweet bonanza kota sukabumi membahas perbedaan ekspektasi pengguna peluang

wild bandito mahjong wins mengapa perbedaan desain bisa menarik kelompok pengguna beragam

lucky neko kabupaten tanah laut mengkaji simbol keberuntungan perspektif lintas budaya

literasi digital kabupaten sumbawa memahami rtp agar tidak terjebak penafsiran keliru

princess starlight kota tegal menelaah kontribusi tokoh pengalaman hiburan interaktif

article 88666670351

article 88666670352

article 88666670353

article 88666670354

article 88666670355

article 88666670356

article 88666670357

article 88666670358

article 88666670359

article 88666670360

article 88666670361

article 88666670362

article 88666670363

article 88666670364

article 88666670365

article 88666670366

article 88666670367

article 88666670368

article 88666670369

article 88666670370

informasi terbaru kabupaten belu 00000021

informasi terbaru kabupaten belu 00000022

informasi terbaru kabupaten belu 00000023

informasi terbaru kabupaten belu 00000024

informasi terbaru kabupaten belu 00000025

informasi terbaru kabupaten belu 00000026

informasi terbaru kabupaten belu 00000027

informasi terbaru kabupaten belu 00000028

informasi terbaru kabupaten belu 00000029

informasi terbaru kabupaten belu 00000030

informasi terbaru kabupaten belu 00000031

informasi terbaru kabupaten belu 00000032

informasi terbaru kabupaten belu 00000033

informasi terbaru kabupaten belu 00000034

informasi terbaru kabupaten belu 00000035

informasi terbaru kabupaten belu 00000036

informasi terbaru kabupaten belu 00000037

informasi terbaru kabupaten belu 00000038

informasi terbaru kabupaten belu 00000039

informasi terbaru kabupaten belu 00000040

informasi terbaru kabupaten belu 00000041

informasi terbaru kabupaten belu 00000042

informasi terbaru kabupaten belu 00000043

informasi terbaru kabupaten belu 00000044

informasi terbaru kabupaten belu 00000045

informasi terbaru kabupaten belu 00000046

informasi terbaru kabupaten belu 00000047

informasi terbaru kabupaten belu 00000048

informasi terbaru kabupaten belu 00000049

informasi terbaru kabupaten belu 00000050

informasi terbaru kabupaten belu 00000051

informasi terbaru kabupaten belu 00000052

informasi terbaru kabupaten belu 00000053

informasi terbaru kabupaten belu 00000054

informasi terbaru kabupaten belu 00000055

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download