LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان , چین کیٰ مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے 5 نکاتی منصوبے کی تجویز

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان اور چین نے خلیج اور مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے 5 نکاتی منصوبے کی تجویز پیش کردی ہے,اسحاق ڈار کا اہم دورہ سعودی عرب، ترکی اور مصر کے ہم منصبوں کے ساتھ مشرق وسطیٰ پر ایک چار فریقی اجلاس کے بعد ہوا ہےوزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کے روز بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کی جبکہ اس دوران پاکستان اور چین نے خلیج اور وسیع مشرق وسطیٰ میں ابھرتے ہوئے حالات کا جائزہ لینے کے لیے 5 نکاتی منصوبہ پیش کیا اسحاق ڈار ایک روزہ سرکاری دورے پر چین میں ہیں، جس کی دعوت وانگ یی نے دی تھی، اور اس دوران دونوں فریقین نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور خطے اور عالمی امور پر باہمی دلچسپی کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ اسحاق ڈار کا رواں سال بیجنگ کا دوسرا دورہ ہے اور اس سے قبل ہی انہوں نے سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ایک چار فریقی اجلاس کی صدارت کی تھی تاکہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کے طریقے تلاش کیے جا سکیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق وانگ یی، جو سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن بھی ہیں، نے بیجنگ میں اسحاق ڈار سے ملاقات کی، جہاں دونوں فریقین نے خلیج اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے پانچ نکاتی اقدام مشترکہ طور پر پیش کیا۔ پانچ نکات درج ذیل ہیں:

فوری جنگ بندی;…..
دونوں ممالک نے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے زیادہ سے زیادہ احتیاط کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے انسانی ہمدردی کی مدد کو تمام متاثرہ علاقوں تک پہنچانے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔

مذاکرات کا جلد از جلد آغاز;…..
دونوں فریقین نے ایران اور خلیج ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیکیورٹی کے تحفظ پر زور دیا اور دہرایا کہ تنازعات کو حل کرنے کا واحد مؤثر راستہ مذاکرات اور سفارتکاری ہے۔ انہوں نے امن مذاکرات کے جلد آغاز کی حمایت کی، جس میں تمام فریقین نے طاقت کے استعمال یا اس کے خدشے سے گریز کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کا تحفظ;…..
بیان میں بین الاقوامی انسانی قوانین کی پابندی پر زور دیا گیا اور تمام فریقین سے کہا گیا کہ وہ شہریوں اور غیر فوجی اہداف پر حملے روکیں۔ اس کے علاوہ توانائی کے وسائل، پانی صاف کرنے کے پلانٹس، بجلی کے اسٹیشنز اور پرامن جوہری مقامات سمیت اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا۔

سمندری راستوں کی حفاظت;….
آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں فریقین نے اس علاقے میں جہازوں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے تجارتی شپنگ کے لیے سمندری آمد و رفت کی بحالی اور محفوظ گذرگاہ کے جلد از جلد قیام پر زور دیا۔

اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری;……
پانچ نکاتی اقدام میں کثیر الجہتی نظام کو مضبوط کرنے اور اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کو مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔ اس میں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق جامع امن فریم ورک کے قیام کی کوششوں کی حمایت کی گئی۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے پاکستان اور چین کو ”تمام موسموں کے لیے اسٹریٹجک شراکت دار“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک اہم علاقائی اور عالمی مسائل پر قریبی ہم آہنگی برقرار رکھتے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اس دورے سے اسٹریٹجک رابطے مزید مضبوط ہوں گے، خاص طور پر ایران سے متعلق پیش رفت پر۔

پاکستان کی سفارتی کوششیں;….
یہ سفارتی اقدام امریکی-اسرائیلی حملوں اور بعد میں ایران کی جوابی کارروائیوں کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد سامنے آیا، جس نے خطے میں وسیع تنازع کے خدشات بڑھا دیے اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثر ڈالا۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ حالیہ چار فریقی اجلاس کے شرکاء نے اسلام آباد میں امریکی-ایران مذاکرات کے امکان کی حمایت کی اور اعلیٰ حکام کی ایک کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا تاکہ طریقہ کار طے کیا جا سکے۔ انہوں نے دوہرایا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور دیرپا امن کو یقینی بنانے کا واحد عملی راستہ مذاکرات ہیں۔ حالیہ دنوں میں دار اور وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی قیادت، بشمول صدر مسعود پزیشکین اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقاتیں کی ہیں، جبکہ امریکہ کے ساتھ رابطے کو برقرار رکھا گیا وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان تہران اور واشنگٹن کے اعتماد کی قدر کرتا ہے اور دونوں فریقین کے درمیان بامعنی مذاکرات کی سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان کے سفیر برائے امریکہ رضوان سعید شیخ نے کہا کہ مذاکرات ضروری ہیں، حالانکہ یہ ایک تدریجی عمل ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ”مذاکرات وقت اور صبر لیتے ہیں، لیکن خطے کے استحکام کے مفاد میں پیش رفت کو تیز کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔“ انہوں نے جاری کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر امید کا اظہار بھی کیا۔.
پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی حالیہ پیش رفت میں پاکستان کا کردار ایک کلیدی ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔مجموعی طور پر، پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان ایک سفارتی پل کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خطے میں جنگ کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
امریکا اسرائیل ایران جنگ کا مستقبل کیا ہے؟ اس کا پتا 2 اپریل سے 8 سے 12 اپریل کے درمیان چلے گا۔ پاکستان کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے،اس حوالے سے مثبت پیغامات کا تبادلہ ہواہے, جلد ڈیل ہوسکتی ہے، وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کےلیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ کشیدگی سے قیمتی جانوں، معیشت اور املاک کا نقصان ہورہا ہے۔ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے وزیرِاعظم ہاؤس میں وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔ نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک، معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ بھی ملاقات میں موجود تھے۔وزیراعظم نے معزز مہمانوں کو پاکستان کی سفارتی کاوشوں سے آگاہ کیا، وزیراعظم نے رہنماؤں کے ساتھ اپنی حالیہ گفتگو کا بھی ذکر کیا۔ وزیراعظم نے طیب اردوان،عبدالفتاح السیسی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔وزرائے خارجہ نے وزیرِاعظم کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری صورتحال پر اپنے اپنے ممالک کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے اور اگر ایران اور امریکا آمادہ ہوں تو مذاکرات کیلئے پلیٹ فارم فراہم کرنا پاکستان کیلئے باعثِ اعزاز ہوگا۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ رابطوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان 15 نکات پر مشتمل ایک معاہدہ طے پا چکا ہے، جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔قبل ازیں اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ممکنہ طور پر اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ حکام کی اہم ملاقات ہو سکتی ہے تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان پسِ پردہ سفارتی کوششوں میں بھی سرگرم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں میں سہولت کاری کا کردار ادا کر رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے ذریعے ایران کے ساتھ مثبت اور مضبوط پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔ امریکی ایلچی کے مطابق، ایران کی جانب سے ایک 15 نکاتی ایکشن لسٹ پر مثبت ردعمل سامنے آیا ہے، جو سفارتی کوششوں کی کامیابی کا اشارہ ہے, پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کو مذاکرات کے لیے اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے, انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے بھی اشارہ دیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے یہ مذاکرات وسیع امور پر محیط ہوں گے جہاں کچھ رپورٹس میں پیش رفت کا ذکر ہے، وہیں پاکستانی دارالحکومت میں مقیم ایرانی سفیر نے بعض مواقع پر براہِ راست مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کے دعووں پر سوالات بھی اٹھائے ہیں, پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان مذاکرات کے حوالے سے ہونے والی بعض خبروں کو “غیر ضروری قیاس آرائیاں” قرار دیتے ہوئے محتاط رہنے کی تلقین کی ہےاس 15 نکاتی ایکشن لسٹ کے ذریعے ایران کی جانب سے بھی مثبت ردعمل سامنے آیا ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارتکاروں کےذریعےبالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت ہورہی ہےامریکی صدر ٹرمپ نے برطانوی اخبارسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کے تیل کو قبضے میں لے سکتا ہے، امریکا خارگ جزیرے پر قبضہ کرسکتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے کئی پاکستانی پرچم بردار جہاروں کو ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی، آبنائے ہرمز سے گزرنے والےجہازوں کی تعداد 20 ہوگئی۔ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ۔نائب وزیراعظم ووزیرخارجہ اسحاق ڈار نےسوشل میڈیا پلیٹ فارم (ایکس) پر اپنے پیغام میں کہا مشرقِ وسطیٰ تنازع ،امن مذاکرات کےحوالے سے میڈیا میں غیرضروری قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں،حقیقت میں امریکہ اور ایران کےدرمیان بالواسطہ مذاکرات پاکستان کے ذریعے پیغامات کے تبادلے سے جاری ہیں۔مزید لکھا کہ اس تناظرمیں امریکہ نے 15 نکات شیئر کیے ہیں جن پر ایران غور کر رہا ہے،برادر ممالک ترکی اورمصرسمیت دیگربھی اس اقدام میں اپنی حمایت فراہم کر رہے ہیں،پاکستان امن کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے،پاکستان خطے سمیت دنیا بھرمیں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے ہوئے ہے،مذاکرات اورسفارتکاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں،وزیرخارجہ اسحاق ڈار نےپوسٹ مارکو روبیو، اسٹیووٹکوف اور عباس عراقچی کو ٹیگ کر دی۔
جرمنی کے صدر فرینک والٹر نے امریکا کی ایران جنگ کو تباہ کن سیاسی غلطی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ برلن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس سے با آسانی بچا جا سکتا تھا۔ اگر جنگ کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا تھا تو یہ غیر ضروری جنگ ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے انقرہ کابینہ اجلاس میں کہا کہ اگرچہ یہ جنگ اسرائیل کی جنگ ہے لیکن اس کا خمیازہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔امریکا کئی دہائیوں سے اپنے مفادات کے تحفظ کے نام پر دُنیا کے نقشے بدلنے کی کوشش کرتا رہا ہے، صدیوں سے سپر پاورز کرہ ارض پر اپنی مرضی سے تبدیلی لاتی رہی ہیں، ایران جسے امریکا بارہا بدلنا چاہتا رہا، کبھی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے، کبھی اقتصادی پابندیوں سے اور کبھی اسرائیل جیسے حلیفوں کے کندھے پر بندوق رکھ کر، لیکن ایران کبھی بھی نرم موم نہیں تھا؟ 1953 میں ایران کے وزیراعظم محمد مصدق کی منتخب حکومت کا تختہ گرا کر امریکا نے تاریخ کی ایک تلخ مثال قائم کی تھی، مگر اب کئی عشروں میں نہ صرف ایرانی عوام نے شعور کی آنکھ کھول لی ہے بلکہ امریکی چالوں کو بھی خوب پہچاننا بھی سیکھ لیا ہے۔ حالیہ اسرائیلی جارحیت کے دوران امریکا نے ایک بار پھر پرانی بساط بچھانے کی کوشش کی، لیکن اب تک کچھ ہاتھ نہیں آسکا۔اکتوبر1951 میں تہران میں ایران کے وزیراعظم محمد مصدق نے پارلیمنٹ کے باہر برطانیہ کے خلاف مظاہرین سے خطاب کیا تو عوام نے بھی “برطانیہ مردہ باد” کا پرجوش نعرہ لگا دیا، لیکن محض دو سال بعد یعنی 19 اگست 1953 میں خفیہ “آپریشن ایجیکس” کے ذریعے اُن کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ محمد مصدق نے آئل انڈسٹری کو قومیانے کی کوشش کی تھی جو اس وقت برطانوی اینگلو۔ایرانین آئل کمپنی کے کنٹرول میں تھی۔ یہ فیصلہ ایران میں تو بے حد مقبول تھا، لیکن مغربی طاقتیں ناراض ہو گئیں۔ اس آپریشن کی نگرانی اور سرپرستی امریکا اور برطانیہ نے کی تھی۔ یہ واقعہ 1979 میں انقلاب ایران سے پہلے پیش آیا تھا۔ بعد میں شاہ محمد رضا پہلوی جلاوطنی سے لوٹ آئے۔ 11 فروری 1979 کو ایران میں اسلامی انقلاب آیا جس کی قیادت سید روح‌ اللہ موسوی خمینی نے کی۔ 1989 میں امام خمینی کے انتقال کے بعد علی خامنہ ای ایران کے دوسرے سپریم لیڈر بنےپھر 13 جون 2025 آیا جب اسرائیل نے بلااشتعال ایران پر حملہ کر دیا۔ اس حملے کے ساتھ ہی 72 سال بعد دوبارہ ایران میں رجیم چینج کی گونج سنائی دی۔ایران میں رجیم چینج کا پہلا اشارہ 17 جون 2025 کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ٹویٹ سے ملا جس میں انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو “آسان ہدف” قرار دیا۔22 جون کو دوبارہ صدر ٹرمپ نے مخصوص لہجے میں کہا،”بہت سے اہداف باقی ہیں”امن جلد نہیں قائم ہوا تو ہم درستگی، رفتار اور مہارت کے ساتھ ان دوسرے اہداف تک جائیں گے”۔یہ وارننگ “آپریشن مڈنائٹ ہیمر” کی تکمیل کےبعد سامنے آئی تھی۔ اس مشن کے لئے امریکا کے بی 2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے رات 12 بجے وائٹمین فضائی اڈے سے اڑان بھری، 18 گھنٹے طویل پرواز کر کے ایران میں داخل ہوئے اور بمباری کر کے واپس چلے گئے، تاہم دنیا کو اس کی خبر تک نہ ہو سکی۔ آواز کی رفتار سے قدرے کم رفتار پر پرواز کی صلاحیت رکھنے والے طیارے بحرِ اوقیانوس کے اوپر سے اڑے جن میں طاقتور بنکر شکن بم نصب تھے جو زیرِ زمین 18 میٹر گہرائی تک تباہی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ایران پہنچ کر ان طیاروں نے فردو، نطنز اوراصفہان پر بنکر بسٹربم برسائے۔ فردو پر30 ٹن دھماکا خیزمواد گرایا گیا۔ 30 ٹاما ہاک میزائلوں کا استعمال بھی کیا گیا جنہیں 400 میل دور سے داغا گیا۔ ایران نے بھی فوردو سمیت تین ایٹمی تنصیبات پر حملے کی تصدیق کی,ایران اسرائیل جنگ میں اگرچہ امریکی حکومت نے بھی کافی کیلکولیشن کی، لیکن مبصرین نے کسی بھی موقع پر رجیم چینج کے آئیڈیا کو میچور نہیں سمجھا اور زمینی حملے تک ایرانی حکومت گرنے کے امکانات رد کرتے رہے۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ایران ایک مضبوط نظریاتی ملک ہے۔ وہاں کوئی مضبوط اپوزیشن بھی نہیں کہ جس پر امریکا یا یورپ اعتماد کر کے اس تصوراتی آئیڈیا کو آگے بڑھا سکیں۔ امریکا یا یورپ میں اٹھتی رجیم چینج کی آوازیں محض حالیہ واقعات تک محدود نہیں تھیں بلکہ اس کی جڑیں کئی دہائیوں پرانی ہیں اور آج بھی “نظام کی تبدیلی” کا خوف، بیانات اور حملے اسی تاریخ کی گونج محسوس ہوتے ہیں۔ مغربی تجزیہ کار ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملوں کو حکومت گرانے کی سازش سمجھتے رہے، اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایران کی غیر معمولی مزاحمت اور پھر امریکی حملے کے بھرپور جواب سے امریکا اور اسرائیل بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ اس ایشو پر یک زبان نہ ہونا بھی امریکی انتظامیہ میں یکسو نہ ہونے کا اشارہ تھا۔ حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ رجیم چینج کی گونج محض توجہ ہٹانے کیلئے ہے اور درحقیقت امریکا اور اس کے اتحادیوں کے پاس جھوٹا پروپیگنڈے، جھوٹے الزامات اور افرا تفری پھیلانے کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔یادرہےکہ ترک صدر نے کہا ہےکہ علاقائی امن اور انسانیت کی خاطر نیتن یاہو کی قیادت میں قتل عام کے نیٹ ورک کو فوری طور پر روکنا ہوگا۔ جس کے لیے ہر ملک کو دلیرانہ فعال موقف اختیار کرنا چاہیے۔ دوسری طرف ایرانی صدر مسعود پز شکیان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان سمیت کئی ممالک کے عوام کی بیداری کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ پاکستان، ترکی، عراق، لبنان ، مصر اور عرب ممالک کے عوام امریکا ، اسرائیل اور ان کے جرائم کے خلاف ببانگ دہل نفرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ایک امریکی پروفیسر کاکہناہےکہ امریکا 1971سے لے کر 2021 تک 3 کروڑ 80 لاکھ انسانوں کو قتل کر چکا ہے۔ اس سے پہلے امریکا اپنے قیام سے لے کر اب تک مجموعی طور پر کروڑوں افراد کو قتل کر چکا ہے۔ ویت نام کی جنگ میں امریکا نے 33 لاکھ ویت نامیوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ اسرائیل کے قیام سے پہلے اور اس کے بعد ہزاروں فلسطینیوں کا قتل عام اپنی جگہ ہے۔ غزہ میں امریکی سرپرستی میں اسرائیل نے 80 ہزار سے زائد بے گناہ انسانوں کو قتل کیا جس میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہے۔ امریکی سرپرستی میں آٹھ لاکھ انسان خلیج کی جنگ کا ایندھن بنے۔سال 2025 امریکی صدر ٹرمپ کے بغیر کبھی اتنا ہنگامہ خیز نہ ہوتا ، جنوری میں اپنے دوسرے دور کے آغاز کے ساتھ ہی ری پبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف جنگ شروع کرنے، ملک میں پروٹیکشنزم کی پالیسی، غیر قانونی تارکین وطن کی بڑی تعداد میں ملک بدری اور وفاقی حکومت کے کئی محکموں کی دوبارہ تشکیل پر کام شروع کیاتھا۔ ان سب کارناموں کے ساتھ ساتھ امریکی صدر نے دنیا میں جنگیں رکوانے کا فریضہ بھی انجام دیا تھاجس میں سب سے نمایاں اقدام پاک بھارت جنگ کو رکوانا اور غزہ میں جنگ بندی تھا جبکہ ایران اسرائیل جنگ میں بھی امریکی صدر کا کردار نہایت اہم رہا تھاجبکہ اس جنگ کے بعد پاکستان اور ایران کے درمیان قربتیں شدید بڑھیں کیونکہ پاکستان نے کھل کر عالمی سطح پر سفارتی محاذ پر اپنے برادر ملک ایران کی حمایت کی تھی۔امریکہ صدر کے دباؤ پر اسرائیل اور حماس کے درمیان فائر بندی عمل میں آئی، جس سے اسرائیلی اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی ممکن ہوئی۔اس دوران غزہ میں انسانی امداد کا سلسلہ بڑھا جہاں 70 ہزار کے قریب فلسطینی شہریوں کو اسرائیل نے شہید کیا جن میں بیشتر تعداد بچوں کی شامل ہے۔فائر بندی معاہدے کے بعد بھی اسرائیل نے حالیہ ہفتوں میں غزہ پر کئی فضائی حملے کیے اور خطے میں کشیدگی برقرار رہی۔روس کے 2022 میں حملے کے بعد یوکرین میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔صدر ٹرمپ نے مختلف مواقع پر یوکرینی صدر وولودی میر زیلنسکی اور روسی صدر ولادی میر پوتن کے درمیان تعلقات میں توازن قائم کرنے کی کوشش کی مگر مذاکرات ناکام رہے۔امریکی جریدے ٹائم کا کہنا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات اور سائنسدانوں پر حملوں کے باوجود تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایران اب مزید پرعزم ہو کر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی راہ اختیار کر سکتا ہے تا کہ وہ اپنے وجود کو محفوظ بنا سکے۔ امریکی سامراج کی غنڈہ گردی نے دنیا کے دیگر ممالک کو بھی ایسا ہی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اپنی آزادی خودمختاری اور بقا کے لیے ایٹمی ہتھیار بنانا ناگزیر ہے۔وینزویلا کی مثال سامنے ہے جب صدر اور ان کی بیوی کو امریکا نے اغوا کیا کیونکہ امریکی صدر ٹرمپ صاحب فرماتے تھے کہ وینزویلا کا 80 فیصد تیل میں اپنی مرضی سے فروخت کرونگا جب کہ وینز ویلا کے پاس دنیا کے بہت بڑے تیل کے ذخائر ہیں۔ایرانی سلامتی کونسل کے ترجمان نے یہ بیان دیا کہ ہم این پی ٹی سے نکلنے کا سوچ رہے ہیں کیونکہ اس میں شمولیت سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ نقصان ہی ہوا ہے۔ خلیجی ملکوں میں تئیس امریکی فوجی اڈے ہیں جہاں امریکا اسرائیل کے بیک وقت 600 طیارے دن رات حملہ کرتے رہے ہیں۔امریکا اسرائیل ایران جنگ پر پوری دنیا میں تجزیہ اور تبصرے ہو رہے ہیں۔ العربیہ ٹی وی کے پروگرام کی خاتون میزبان جس میں امریکی مصنف اور سینئر نیشنل سیکیورٹی ایڈیٹر برانڈن نے بتایا کہ اسرائیل اپنے ایرو انٹر سیپٹر ختم ہونے سے محض چند دن کے فاصلے پر ہے۔ برانڈن نے کہا کہ ایران نے ایک شاندار حکمت عملی دکھائی ہے۔ امریکا اسرائیل کو اتنا تھکا دینا کہ ان کے ذخائر ختم ہو جائیں اور امریکا داخلی، سیاسی، معاشی دباؤ کے تحت گھٹنے ٹیک دے۔حالات واقعی خراب ہو رہے ہیں اسرائیل محض چند دنوں کے فاصلے پر ہے اپنے انٹرو سیپٹر ختم کرنے میں اور امریکا نے بھی اپنے تھاڈ ذخائر کا چالیس فیصد استعمال کر لیا ہے اور صرف تین ہفتے کا اسٹاک باقی ہے۔ اگر جنگ کی رفتار بڑھی تو یہ مزید جلد ختم ہو جائیں گے۔ایرانی حکمت عملی دھیرے دھیرے تھکا دینا شروع سے ہی تھی۔ اور ہم نے ان کے میزائل ذخائر کو قلیل اور کم سمجھا تھا ۔ جس کی قیمت اب ادا کر رہے ہیں۔ اور میرا خیال ہے کہ نہ ٹرمپ نہ ایران نہ اسرائیل کوئی بھی سنجیدہ مذاکرات کے موڈ میں نہیں۔ لہذا ہم مزید خطرناک سطح پر جا رہے ہیں اور شائد امریکا کو آبنائے ہرمز میں ’’گیلی پولی‘‘ جیسا منظر دوبارہ دیکھنا پڑے۔ یہ اچھا انجام نہیں ہوگا۔ چند دن پیشتر امریکا میں ڈھائی لاکھ افراد نے صدر ٹرمپ کی امپیچمنٹ کا مطالبہ کیا ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیز اضافے کے باعث پاکستان کی معیشت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق توانائی کے شعبے میں حالیہ برسوں میں ہونیوالی تبدیلیاں اس اثر کو کسی حد تک کم کر سکتی ہیں۔ ماضی میں 2008 اور 2022 میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے نے پاکستان کی معیشت کو سخت متاثر کیا تھا، جس سے مہنگائی میں اضافہ، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور معاشی عدم استحکام پیدا ہوا لیکن اب توانائی کے ذرائع میں تنوع کے باعث صورتحال نسبتاً بہتر دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان میں شمسی توانائی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو اب مجموعی بجلی کے استعمال کا تقریباً 20 سے 25 فیصد حصہ بن چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس رجحان نے تیل اور گیس کی درآمدات میں نمایاں کمی کی ہے اور اربوں ڈالر کی بچت ممکن بنائی ہے۔ اسی طرح فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے کا حصہ گزشتہ دہائی میں تقریباً 35 فیصد سے کم ہو کر ایک فیصد سے بھی نیچے آ چکا ہے، جبکہ ایل این جی کا استعمال بڑھا ہے۔ مجموعی طور پر درآمدی ایندھن پر انحصار میں تقریباً 40 فیصد کمی آئی ہے۔ہائیڈرو پاور کی پیداوار میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم بڑے منصوبوں میں تاخیر کے باعث اس شعبے کی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کی جا سکی۔ تھر کول منصوبے کے تحت مقامی کوئلے کا استعمال بڑھا ہے، جو اب بجلی پیداوار میں 11 فیصد سے زائد حصہ ڈال رہا ہے اور مستقبل میں کھاد کی تیاری کیلیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ نیوکلیئر توانائی بھی پاکستان کیلیے مستحکم ذریعہ بن کر ابھری ہے، جس کا حصہ 2015 میں 5 فیصد سے کم ہونے کے مقابلے میں اب 16 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس کے باوجود، توانائی کی ترسیل کے نظام میں خامیاں، ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تیل پر انحصاراورتوانائی کے مؤثر استعمال میں کمی جیسے مساء ل بدستور موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے جبکہ جنگ کے پھیلاؤ نے دنیا بھر میں توانائی بحران کے خدشات کو شدت دے دی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت 3.09 ڈالر اضافے کے ساتھ 115.66 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 102.56 ڈالر فی بیرل تک بڑھ گیا۔ صرف ایک ماہ کے دوران برینٹ میں 59 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو خلیجی جنگ 1990 کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہے۔ اس ہوشربا اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے۔ جنگ کے باعث اب خطرہ صرف خلیج تک محدود نہیں رہا بلکہ بحیرہ احمر اور باب المندب جیسے اہم تجارتی راستے بھی خطرے کی زد میں آ گئے ہیں۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب یمن کے حوثی باغیوں نے پہلی بار اسرائیل پر حملے کیے جس سے جنگ کا دائرہ وسیع ہو کر پورے مشرقِ وسطیٰ تک پھیل گیا۔ ان حملوں کے بعد عالمی شپنگ روٹس اور تیل کی ترسیل شدید خطرات سے دوچار ہو گئی ہے دوسری جانب سعودی عرب نے اپنی تیل برآمدات کا رخ تبدیل کرتے ہوئے ینبع پورٹ کے ذریعے یومیہ 46 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل شروع کر دی ہے تاہم اگر یہ راستہ بھی متاثر ہوا تو سپلائی مزید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ ادھر عمان کے سلالہ ٹرمینل کو بھی حملوں میں نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ نے زمینی حملہ کیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ جبکہ پاکستان کی جانب سے بھی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں، جنگ کی آگ بجھانے کے لیے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار گزشتہ روز پاکستان میں ملاقات کی۔ چاروں وزرائے خارجہ نے خطے میں جنگ کے خاتمے اور ممکنہ امریکہ ایران مذاکرات کے لیے اقدامات پر بات چیت کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ مزید پھیلا تو تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح کو چھو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت پر شدید انداز میں مرتب ہوں گے

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

SLOT GACOR

SALAMJITU

SATGASJITU

SEMOGAJITU

SALAMJITU

Slot Gacor

MAUJP

Slot Gacor

SLOT GACOR

artikel 000000121

artikel 000000122

artikel 000000123

artikel 000000124

artikel 000000125

artikel 000000126

artikel 000000127

artikel 000000128

artikel 000000129

artikel 000000130

artikel 000000131

artikel 000000132

artikel 000000133

artikel 000000134

artikel 000000135

artikel 000000136

artikel 000000137

artikel 000000138

artikel 000000139

artikel 000000140

artikel 000000141

artikel 000000142

artikel 000000143

artikel 000000144

artikel 000000145

artikel 000000146

artikel 000000147

artikel 000000148

artikel 000000149

artikel 000000150

artikel 000000151

artikel 000000152

artikel 000000153

artikel 000000154

artikel 000000155

artikel 000000156

artikel 000000157

artikel 000000158

artikel 000000159

artikel 000000160

artikel 000000161

artikel 000000162

artikel 000000163

artikel 000000164

artikel 000000165

artikel 000000166

artikel 000000167

artikel 000000168

artikel 000000169

artikel 000000170

artikel 000000171

artikel 000000172

artikel 000000173

artikel 000000174

artikel 000000175

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

informasi terbaru kabupaten belu 00000081

informasi terbaru kabupaten belu 00000082

informasi terbaru kabupaten belu 00000083

informasi terbaru kabupaten belu 00000084

informasi terbaru kabupaten belu 00000085

informasi terbaru kabupaten belu 00000086

informasi terbaru kabupaten belu 00000087

informasi terbaru kabupaten belu 00000088

informasi terbaru kabupaten belu 00000089

informasi terbaru kabupaten belu 00000090

informasi terbaru kabupaten belu 00000091

informasi terbaru kabupaten belu 00000092

informasi terbaru kabupaten belu 00000093

informasi terbaru kabupaten belu 00000094

informasi terbaru kabupaten belu 00000095

informasi terbaru kabupaten belu 00000096

informasi terbaru kabupaten belu 00000097

informasi terbaru kabupaten belu 00000098

informasi terbaru kabupaten belu 00000099

informasi terbaru kabupaten belu 00000100

informasi terbaru kabupaten belu 00000101

informasi terbaru kabupaten belu 00000102

informasi terbaru kabupaten belu 00000103

informasi terbaru kabupaten belu 00000104

informasi terbaru kabupaten belu 00000105

informasi terbaru kabupaten belu 00000106

informasi terbaru kabupaten belu 00000107

informasi terbaru kabupaten belu 00000108

informasi terbaru kabupaten belu 00000109

informasi terbaru kabupaten belu 00000110

informasi terbaru kabupaten belu 00000111

informasi terbaru kabupaten belu 00000112

informasi terbaru kabupaten belu 00000113

informasi terbaru kabupaten belu 00000114

informasi terbaru kabupaten belu 00000115

informasi terbaru kabupaten belu 00000116

informasi terbaru kabupaten belu 00000117

informasi terbaru kabupaten belu 00000118

informasi terbaru kabupaten belu 00000119

informasi terbaru kabupaten belu 00000120

informasi terbaru kabupaten belu 00000121

informasi terbaru kabupaten belu 00000122

informasi terbaru kabupaten belu 00000123

informasi terbaru kabupaten belu 00000124

informasi terbaru kabupaten belu 00000125

informasi terbaru kabupaten belu 00000126

informasi terbaru kabupaten belu 00000127

informasi terbaru kabupaten belu 00000128

informasi terbaru kabupaten belu 00000129

informasi terbaru kabupaten belu 00000130

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download