LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیراعظم کا ملک میں حاصل ہونے والا معاشی استحکام ٹیم ورک کا نتیجہ قرار .

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان میں معاشی استحکام حاصل کرنے کے بعد وفاقی حکومت کی تمام تر توجہ اب روایتی کھپت کے بجائے برآمدات پر مبنی پائیدار معاشی ترقی اور نجی شعبے کی بھرپور حوصلہ افزائی پر مرکوز ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کے حالیہ خطاب کے مطابق ملک میں حاصل ہونے والا معاشی استحکام ٹیم ورک اور سیاسی و مالیاتی قیادت کی مسلسل اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہے، اور اب قومی معیشت صنعت کاری، برآمدات میں اضافے اور روزگار کی فراہمی پر مبنی پائیدار ترقی کی متقاضی ہے۔ حکومت کا اب اگلا ہدف اس استحکام کو مستقل معاشی نمو میں تبدیل کرنا ہے۔

اس اجتماعی اور پائیدار ترقی کے لائحہ عمل کے تحت درج ذیل اہم ترجیحات پر کام کیا جا رہا ہے:

* ٹیم ورک اور اصلاحات کا تسلسل: وزیراعظم نے معاشی ٹیم (وزارتِ خزانہ، کابینہ کے ارکان، اور ایف بی آر) کی تعریف کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اصلاحات پر کامیاب عملدرآمد اور مالیاتی نظم و ضبط ہی معیشت کی بحالی کی بنیاد ہے۔

* صنعت کاری اور تعمیراتی شعبے کا فروغ: ملکی معیشت کو پائیدار بنانے اور بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کرنے کے لیے صنعت کاری اور تعمیراتی صنعت کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

* نجی شعبے اور سرمایہ کاروں کا کلیدی کردار: معاشی بحالی کے اس مرحلے پر حکومت نجی شعبے کو معیشت کا انجن قرار دے رہی ہے، جہاں مقامی اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے ماحول کو مکمل سازگار بنایا جا رہا ہے۔

* تیزی اور مندی کے چکر کا خاتمہ: حکومت ایسی معاشی ترقی کے لیے کوشاں ہے جو درآمدات پر انحصار کرنے کے بجائے برآمدات پر مبنی ہو، تاکہ ملک دوبارہ ماضی کی طرح ادائیگیوں کے توازن کے بحران یا معاشی اتار چڑھاؤ کا شکار نہ ہو دنیا کی دوسری بہترین کارکردگی کی حامل سٹاک ایکسچینج کا اعزاز حاصل کرنے پر پاکستان سٹاک مارکیٹ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اپنے سیاسی سفر کے دوران پہلی بار سٹاک ایکسچینج کا دورہ کرنے پر خوشی ہوئی۔ سٹاک ایکسچینج کی بہترین کارکردگی دکھانے پر آپ سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہ اللہ کی مہربانی اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ ملک میں معاشی استحکام آیا ہے، پاکستان کی معیشت دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑی ہو رہی ہے، ہمارا ہدف معاشی نمو ہے، ہمیں معاشی نمو کی طرف بڑھنا ہے، معاشی نمو کیلئے بہترین ٹیم ورک اور سخت محنت کی ضرورت ہے، اس وقت شرح سود 13 فیصد پر ہے، خواہش ہے شرح سود 6 فیصد پر آ جائے، مزید 8 پوائنٹس کمی کی گنجائش موجود ہے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ اڑان پاکستان پروگرام سے ملک کو معاشی ترقی ملے گی اور سماجی خوشحالی آئے گی، اب ہمیں ترقی کی طرف بڑھنا ہے۔ معیشت میں مزید بہتری کیلئے تجربہ کار معیشت دان ہماری رہنمائی فرمائیں، مجھے معیشت کی مزید بہتری کیلئے قابل عمل سفارشات چاہئیں، حقیقت پر مبنی اعدادو شمار کی بنیاد پر کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ معاشی ترقی کیلئے سب کے ساتھ مل بیٹھنے کو تیار ہوں، ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنا ہے، آئی ایم ایف سے کئے گئے وعدوں کی پاسداری ہماری ذمہ داری ہے، وقت آنے پر آئی ایم ایف کو خیرباد کہیں گے، محصولات میں اضافہ خوش آئند ہے۔ سرمایہ کار پاکستان کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں صنعتیں لگانے کیلئے تیار ہیں، معیشت کی بہتری میں نجی شعبے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ ہمارے ٹریلین ڈالرز کے معدنی ذخائر مدفن ہیں، آگے بڑھنے کیلئے خود احتسابی ضروری ہے، نجکاری کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا ہے، پی آئی اے کی مثال سب کے سامنے ہے۔ مجموعی طور پر، حکومت کا عزم ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اور کاروباری برادری کے ساتھ مل کر ان اجتماعی کوششوں کو آگے بڑھایا جائے تاکہ پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک طاقتور اور خود انحصار معیشت بن کر ابھرے, وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی سمیت حکومتی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ساختی اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے۔

اس پالیسی کے تحت حکومت درج ذیل اہم ترین اقدامات اور ترجیحات پر کام کر رہی ہے:

* ساختی اصلاحات کا تسلسل: حکومت ٹیکس نظام میں جدت، توانائی کے شعبے میں بہتری، سرکاری اداروں کی نجکاری اور عوامی مالیات میں نظم و ضبط لانے کے لیے بنیادی ساختی اصلاحات پر عملدرآمد کر رہی ہے۔

* برآمدی بنیاد میں توسیع اور ویلیو ایڈیشن: معیشت کو پائیدار بنانے کے لیے برآمدات کی بنیاد کو وسیع کیا جا رہا ہے۔ اس میں مصنوعات کی کوالٹی بڑھانے ، ٹیکنالوجی، زراعت، ٹیکسٹائل اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) سمیت ڈیجیٹل خدمات کی برآمدات کو خصوصی فروغ دیا جا رہا ہے۔

* نجی شعبے اور سرمایہ کاری کی قیادت: ملکی معیشت میں ریاست کے فعال کردار کو محدود کر کے نجی شعبے کو آگے لایا جا رہا ہے۔ کاروباری برادری اور برآمد کنندگان کی تجاویز کی روشنی میں پالیسیوں کا تسلسل یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ مقامی و بیرونی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو۔

* میکرو اکنامک استحکام کی منتقلی: معاشی ڈیفالٹ کے خطرات سے نکلنے کے بعد پاکستان کا مالیاتی خسارہ بائیس سال کی کم ترین سطح پر آ چکا ہے اور بنیادی بجٹ سرپلس حاصل کیا گیا ہے۔ حکومت کا ہدف اب اس استحکام کو براہِ راست برآمدات اور روزگار دوست معاشی نمو میں تبدیل کرنا ہے۔

حکومت کا حتمی ہدف پاکستان کو درآمدی متبادل پر انحصار کرنے والی معیشت سے نکال کر ایک ایسی عالمی مسابقتی معیشت بنانا ہے جو بین الاقوامی مارکیٹ کی طلب کے مطابق مصنوعات تیار کر سکے۔وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں معاشی استحکام کے لیے ساختی اصلاحات پر عملدرآمد جاری ہے اور حکومت کی توجہ برآمدات پر مبنی پائیدار معاشی ترقی، ٹیکس نظام کی بہتری، توانائی کی لاگت میں کمی اور نجی شعبے کی حوصلہ افزائی پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال آئی ٹی برآمدات 5.5 ارب ڈالر اور ترسیلات زر 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے جبکہ ملک کے زرمبادلہ ذخائر تین ماہ سے زائد کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ ایک نجی یونیورسٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کو ماضی کے بوم اینڈ بسٹ معاشی چکر سے نکل کر ایسی ترقی کی راہ اختیار کرنا ہوگی جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور معاشی ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچیں۔ انہوں نے کہا کہ درآمدات پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے باعث ماضی میں پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کے بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد معیشت کو دوبارہ مستحکم کرنے میں چار سے پانچ سال لگ جاتے تھے۔ اس صورت حال سے بچنے کے لیے برآمدات میں اضافے، پیداواری صلاحیت بہتر بنانے اور معاشی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ مسلسل کوششوں کے نتیجے میں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں گزشتہ سال اپریل سے اب تک تین مرتبہ بہتری آئی ہے۔ عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ پاکستان نے رواں سال اپریل میں نجی پلیسمنٹ کی، پانڈا بانڈز کے اجرا کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی کی کوششیں آگے بڑھائیں اور ستمبر کے پہلے ہفتے میں تین ارب یورو کے بانڈز جاری کیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی یورو بانڈز کے لیے سرمایہ کاروں کی جانب سے موصول ہونے والے آرڈرز جاری کردہ حجم سے دوگنا تھے، جبکہ ایشیا، مشرق وسطی، یورپ اور امریکا کے سرمایہ کاروں نے بھی دلچسپی ظاہر کی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں اور تین ماہ سے زائد کی درآمدات کے لیے کافی ہیں، جبکہ ماضی میں یہ ذخائر صرف دو ہفتوں کی درآمدات کے برابر رہ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سرمایہ کار اب آئی ایم ایف پروگرام کے بعد پاکستان کی معاشی صورت حال کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ پاکستان کا موجودہ آئی ایم ایف پروگرام آئندہ سال اکتوبر میں ختم ہونا ہے، اس لیے معاشی استحکام برقرار رکھنے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے اور پالیسیوں میں تسلسل یقینی بنانے کے لیے اصلاحات پر عملدرآمد ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس نظام میں بہتری، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور برآمدات کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ برآمدات بڑھانے کے لیے سپر ٹیکس کے خاتمے اور ٹیکس سلیب میں کمی سمیت مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ برآمد کنندگان کو ساڑھے چار فیصد شرح سود پر قرضوں کی فراہمی کی سہولت بھی بجٹ میں شامل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی منڈیوں میں مسابقت بڑھانے کے لیے ٹیرف اور توانائی کی لاگت میں کمی ضروری ہے، جبکہ صنعتوں کو اضافی بجلی تقریبا 23 روپے فی یونٹ کے نرخ پر فراہم کرنے کے حوالے سے بھی بات کی گئی ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کو ایسی معاشی ترقی کی ضرورت ہے جو سرمایہ کاری اور پیداوار میں اضافے کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے۔ محض سات سے آٹھ فیصد معاشی ترقی کافی نہیں، بلکہ اس کے ثمرات عوام تک پہنچنا اور ان کے معیار زندگی میں بہتری آنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کی حوصلہ افزائی، سرمایہ کاروں کو سہولیات کی فراہمی اور کاروباری ماحول بہتر بنانے کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی آئی ٹی خدمات کی برآمدات ایک ارب ڈالر سے بڑھ کر 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ رواں مالی سال ان کے 5.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ پاکستان کے نوجوان، بالخصوص فری لانسرز، گھروں سے کام کرتے ہوئے عالمی منڈیوں کو آئی ٹی خدمات فراہم کر رہے ہیں اور آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ تقریبا 1.6 ارب ڈالر ہے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل معیشت میں ترقی سے زرمبادلہ کے حصول، روزگار کی فراہمی اور عالمی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقت بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔رواں مالی سال ترسیلات زر 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ علاقائی جنگ کے باعث ترسیلات زر میں کمی کا خدشہ تھا، تاہم اس کے باوجود ان میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم ملکی معیشت اور زرمبادلہ کی دستیابی کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔توانائی کی صورت حال کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ علاقائی تنازعات کے باوجود پاکستان میں توانائی کی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی اور پیٹرول پمپس پر ایندھن کے حصول کے لیے طویل قطاریں نہیں لگیں۔ خام تیل سمیت توانائی کے دیگر ذرائع کی فراہمی کی صورت حال تسلی بخش ہے اور نومبر تک ضروریات پوری کرنے کے مناسب انتظامات موجود ہیں، جبکہ موسم سرما کے لیے بھی منصوبہ بندی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیس اور مائع قدرتی گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بروقت اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ گھریلو اور صنعتی صارفین کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے عمومی سبسڈی کے بجائے ہدفی سبسڈی کا طریقہ اختیار کیا ہے تاکہ امداد حقیقی ضرورت مند طبقات تک پہنچائی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ موٹر سائیکلوں، تین پہیوں والی گاڑیوں اور 800 سی سی سے کم انجن کی حامل گاڑیوں کے لیے ہدفی سبسڈی فراہم کی گئی، جس سے اب تک ایک کروڑ 20 لاکھ منفردافراد فائدہ اٹھا چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر تقریبا چار سے پانچ کروڑ افراد اس ریلیف سے مستفید ہوئے ہیں۔ ہدفی امداد کے ذریعے محدود سرکاری وسائل زیادہ مستحق افراد تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔وزیر خزانہ نے موسمیاتی تبدیلی اور آبادی میں تیز رفتار اضافے کو پاکستان کے بڑے چیلنجز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں آبادی بڑھنے کی سالانہ شرح تقریبا 2.55 فیصد ہے اور موجودہ رفتار برقرار رہنے کی صورت میں آبادی 39 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی سے تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات پر دبائوبڑھ سکتا ہے، اس لیے طویل المدتی منصوبہ بندی اور ساختی اقدامات ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ایران نے ایک دہائی کے دوران آبادی میں اضافے کی شرح ایک فیصد سے کم کرنے میں پیش رفت کی ہے۔پاکستان میں بھی خواتین کی تعلیم، افرادی قوت میں ان کی شرکت اور عوامی آگاہی کے فروغ کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کی افرادی قوت میں شرکت کی شرح تقریبا 22.7 فیصد ہے، جس میں اضافے سے ملکی پیداواری صلاحیت اور معاشی ترقی کو تقویت مل سکتی ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ عالمی معیشت غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے اور علاقائی تنازعات کے اثرات اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور توانائی کی فراہمی پر پڑ سکتے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ معاشی اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھا جائے، برآمدات کو وسعت دی جائے، نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے اور مالیاتی نظم و ضبط بہتر بنایا جائے تاکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرکے روزگار دوست ترقی کی راہ ہموار کی جا سکے۔ گورنر جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان کی معاشی صورتِ حال اور بیرونی مالیاتی تحفظات میں بہتری آئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کا اہتمام جے پی مورگن، سٹی بینک، ڈوئچے بینک، بارکلیز، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ اور مٹسوبشی فنانشل گروپ نے کیا تھا۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے 2023 کے بعد معاشی ترقی میں ہونے والی پیش رفت اور زرمبادلہ ذخائر میں اضافے کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ذخائر میں بہتری بڑی حد تک اسٹیٹ بینک کی جانب سے ڈالر کی خریداری کے باعث ممکن ہوئی جس میں جاری کھاتے کا متوازن ہونا معاون ثابت ہوا۔ اس کے علاوہ مرکزی بینک کی جانب سے متعارف کرائی گئی ضابطہ جاتی اصلاحات، جن میں ایکسچینج کمپنیوں سے متعلق اقدامات بھی شامل تھے اور ترسیلاتِ زر کی باضابطہ ذرائع سے آمد نے بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ان کے بیان میں 2023 کا حوالہ اس دور کی جانب اشارہ کرتا ہے جب ناقص پالیسیوں پر عملدرآمد کے باعث اہم معاشی اشاریوں کی کارکردگی انتہائی خراب ہوگئی تھی۔ ان پالیسیوں میں سرکاری سطح پر ڈالر اور روپے کی شرحِ تبادلہ کو غیر پائیدار سطح پر برقرار رکھنے کے لیے زرمبادلہ کی مارکیٹ میں مداخلت بھی شامل تھی۔ اس کے نتیجے میں شرحِ تبادلہ کے متعدد نرخ رائج ہوئے جبکہ ترسیلاتِ زر کی باضابطہ ذرائع سے آمد میں تقریباً 4 ارب ڈالر کی کمی ہوئی اور 2023 کے اوائل میں زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 3 ارب ڈالر سے بھی نیچے آگئے۔اس صورتِ حال کے باعث اس وقت جاری آئی ایم ایف قرض پروگرام معطل ہوگیا۔ بعد ازاں نو ماہ پر مشتمل اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) کی منظوری کیلئے ضروری تھا کہ زرمبادلہ کی مارکیٹ میں مداخلت ترک کی جائے اور ضابطہ جاتی اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔ ستمبر کے اواخر تک پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 21.4 ارب ڈالر کی تسلی بخش سطح پر پہنچ چکے ہیں، تاہم تیل کی عالمی قیمتوں میں بھاری اضافے، مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث خلیجی ممالک کے ساتھ تجارت میں رکاوٹوں اور روس یوکرین جنگ کے تناظر میں یہ ذخائر بمشکل تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ درآمدات کے لیے کم از کم تین ماہ کے ذخائر برقرار رکھنا بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی مقرر کردہ بنیادی ضرورت ہے۔ برآمدات میں اضافہ درآمدات کے مقابلے میں کہیں سست رفتار سے ہورہا ہے جبکہ ملکی تجارتی توازن مسلسل اتار چڑھاؤ کے اس چکر کا شکار ہے جس میں انتظامی اقدامات کے ذریعے درآمدات محدود کرکے جاری کھاتے کا خسارہ تو کم کیا جاتا ہے، لیکن اس سے معاشی نمو متاثر ہوتی ہے۔ خام مال اور نیم تیار مصنوعات پر انحصار کرنے والی صنعتوں کی پیداوار سست پڑجاتی ہے، یہاں تک کہ درآمدی پابندیاں ہٹا دی جاتی ہیں۔ اس کے بعد درآمدات دوبارہ بڑھنے لگتی ہیں اور جاری کھاتے کا خسارہ پھر بڑھ جاتا ہے۔ حکام کے لیے یہ صورتِ حال باعثِ تشویش ہونی چاہیے کہ مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر 2026) میں جاری کھاتے کا خسارہ بڑھ کر 874 ملین ڈالر ہوگیا جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ 755 ملین ڈالر تھا۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ جاری کھاتے کے خسارے میں اضافے کے باعث متعدد ممالک کو کثیرالجہتی مالیاتی اداروں سے قرض لینا پڑتا ہے اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ رپورٹس کے مطابق، روپے کے مقابلے میں ڈالر کی شرحِ تبادلہ حیران کن حد تک مستحکم رہی ہے، حالانکہ اس استحکام کی وجوہات واضح نہیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں بھی برقرار رہی جب ان بیشتر کرنسیوں کی قدر میں کمی ہو رہی ہے جن کے ساتھ روپے کی شرحِ تبادلہ منسلک سمجھی جاتی ہے۔ اس حوالے سے پاکستان سے متعلق اپنی تمام دستاویزات اور پریس ریلیزوں میں آئی ایم ایف کی مسلسل تاکید بھی اس کے خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔ 7 اکتوبر 2026 کو جاری بیان میں بھی فنڈ نے کہا تھا کہ شرحِ تبادلہ میں لچک کو معاشی جھٹکوں کے اثرات زائل کرنے کے ایک اہم ذریعے کے طور پر برقرار رہنا چاہیے جبکہ زرمبادلہ ذخائر میں مزید اضافہ، زرمبادلہ نظام کو بتدریج آزاد بنانا اور ملکی مالیاتی منڈیوں کو مزید گہرا کرنا معیشت کی مضبوطی میں اضافہ اور نجی شعبے کی ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔ گزشتہ مالی سال پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی محض 1.6723 ارب ڈالر رہی جبکہ پورٹ فولیو سرمایہ کاری کا خالص حجم منفی 1.186 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اس کے باوجود ملکی اسٹاک مارکیٹ کا انڈیکس 3.51 فیصد بڑھا۔ نتیجتاً گزشتہ سال خالص سرمایہ کاری کی آمد صرف 486.1 ملین ڈالر رہی۔ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کا سرمایہ کاری کے لیے موزوں درجے سے نیچے رہنا بھی بلاشبہ اسی صورتِ حال کی عکاسی کرتا ہے۔ جی ڈی پی کے مقابلے میں سرکاری قرضوں کا تناسب مسلسل کم ہورہا ہے۔ یہ بات درست ہے، تاہم اس کمی کی وجہ قلیل مدتی قرضوں کو طویل مدتی قرضوں میں تبدیل کرنا ہے جس پر شرحِ سود زیادہ ہے، البتہ ادائیگی کی مدت آگے بڑھ گئی ہے۔ اس کے علاوہ، حکومت قرض کے حصول کے لیے قرضی سیکیورٹیز پر زیادہ انحصار کر رہی ہے۔ حال ہی میں حکومت نے دو مرحلوں پر مشتمل 3 ارب ڈالر کا یورو بانڈ جاری کیا جس کی ادائیگی ڈالر میں کرنا ہوگی۔ اس میں سے 1.75 ارب ڈالر کے بانڈ ساڑھے پانچ سال کے لیے 7.5 فیصد منافع پر، جبکہ 1.25 ارب ڈالر کے بانڈ 10 سال کے لیے 7.9 فیصد منافع پر جاری کیے گئے۔ اگر روپے کی قدر میں کمی ہوتی ہے تو اس قرض کی ادائیگی مالیاتی گنجائش کو مزید محدود کردے گی۔ سرکاری قرضوں کے اعدادوشمار میں چینی بجلی گھروں (آئی پی پیز) کے واجب الادا 498 ارب روپے اور توانائی کے شعبے کا 2 ہزار ارب روپے سے زائد کا گردشی قرضہ بھی شامل نہیں ہے منزل تک پہنچنے سے پہلے کئی رکاوٹیں حائل ہو سکتی ہیں، اس لیے امید کی جانی چاہیے کہ حکومت محض آئی ایم ایف کی شرائط قبول کرنے کے بجائے اپنی معاشی صورتِ حال کے بہتر ادراک کی بنیاد پر روایتی طریقوں سے ہٹ کر مؤثر پالیسیاں مرتب کرے گی۔

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

yakinjp

maujp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

article 48666670301

article 48666670302

article 48666670303

article 48666670304

article 48666670305

article 48666670306

article 48666670307

article 48666670308

article 48666670309

article 48666670310

article 48666670311

article 48666670312

article 48666670313

article 48666670314

article 48666670315

article 48666670316

article 48666670317

article 48666670318

article 48666670319

article 48666670320

article 48666670321

article 48666670322

article 48666670323

article 48666670324

article 48666670325

article 48666670326

article 48666670327

article 48666670328

article 48666670329

article 48666670330

article 48666670331

article 48666670332

article 48666670333

article 48666670334

article 48666670335

article 48666670336

article 48666670337

article 48666670338

article 48666670339

article 48666670340

article 48666670341

article 48666670342

article 48666670343

article 48666670344

article 48666670345

article 48666670346

article 48666670347

article 48666670348

article 48666670349

article 48666670350

article 48666670351

article 48666670352

article 48666670353

article 48666670354

article 48666670355

article 48666670356

article 48666670357

article 48666670358

article 48666670359

article 48666670360

noticias 000000031

noticias 000000032

noticias 000000033

noticias 000000034

noticias 000000035

noticias 000000036

noticias 000000037

noticias 000000038

noticias 000000039

noticias 000000040

noticias 000000041

noticias 000000042

noticias 000000043

noticias 000000044

noticias 000000045

noticias 000000046

noticias 000000047

noticias 000000048

noticias 000000049

noticias 000000050

noticias 000000051

noticias 000000052

noticias 000000053

noticias 000000054

noticias 000000055

noticias 000000056

noticias 000000057

noticias 000000058

noticias 000000059

noticias 000000060

noticias 000000061

noticias 000000062

noticias 000000063

noticias 000000064

noticias 000000065

noticias 000000066

noticias 000000067

noticias 000000068

noticias 000000069

noticias 000000070

noticias 000000071

noticias 000000072

noticias 000000073

noticias 000000074

noticias 000000075

noticias 000000076

noticias 000000077

noticias 000000078

noticias 000000079

noticias 000000080

noticias 000000081

noticias 000000082

noticias 000000083

noticias 000000084

noticias 000000085

noticias 000000086

noticias 000000087

noticias 000000088

noticias 000000089

noticias 000000090

noticias 000000091

noticias 000000092

noticias 000000093

noticias 000000094

noticias 000000095

noticias 000000096

noticias 000000097

noticias 000000098

noticias 000000099

noticias 000000100

noticias 000000101

noticias 000000102

noticias 000000103

noticias 000000104

noticias 000000105

noticias 000000106

noticias 000000107

noticias 000000108

noticias 000000109

noticias 000000110

noticias 000000111

noticias 000000112

noticias 000000113

noticias 000000114

noticias 000000115

noticias 000000116

noticias 000000117

noticias 000000118

noticias 000000119

noticias 000000120

komunitas praya menyoroti perubahan pembahasan putaran gratis mahjong ways

selong tren diskusi mahjong wins tengah munculnya game digital baru

kreator konten tanjung mengangkat cerita perkembangan mahjong ways media sosial

sumbawa besar membahas tiga elemen visual mahjong wins 3 ubin emas naga scatter

komunitas digital semarang menelaah pengaruh animasi terhadap identitas game mahjong modern

yogyakarta menjadi sorotan diskusi perpaduan tradisi asia teknologi game

pengamat surabaya mengulas perubahan gaya ilustrasi seri mahjong digital

makassar membahas peran komunitas online menyebarkan tren konten mahjong

medan hingga palembang perbedaan perspektif penggemar terhadap visual mahjong ways

denpasar menyoroti perkembangan narasi budaya asia desain game mahjong kontemporer

sweet bonanza kabupaten pangkajene kepulauan mengenal mekanisme fitur putaran gratis

gates of olympus kabupaten muara enim perpaduan kisah mitologi teknologi animasi modern

lucky neko kota langsa cara simbol tradisional menyesuaikan diri selera generasi digital

wild bandito mahjong ways kabupaten garut perbandingan dua karakter visual berbeda

warga kabupaten lebak mengkaji cara membedakan klaim permainan informasi memiliki bukti

mahjong wins kota tanjungbalai menelaah fungsi simbol membentuk pengalaman visual

mengapa efek cahaya sering muncul fitur bonus pengamatan kabupaten tapanuli utara

lucky neko kabupaten hulu sungai selatan kombinasi karakter animasi ornamen bernuansa emas

gates of olympus kabupaten aceh besar memahami konsep peluang tanpa bergantung ramalan

sweet bonanza kota gorontalo menelusuri peran desain ceria membentuk identitas game

wild bandito kabupaten halmahera utara eksplorasi tema petualangan format interaktif

mahjong pgsoft kabupaten musi banyuasin perubahan pengalaman pengguna saat bermain melalui layar ponsel

princess starlight kota palangka raya mengulas fungsi cahaya elemen penceritaan

lucky neko sweet bonanza perbedaan pendekatan warna membangun identitas desain

warga kabupaten ende menelusuri pengaruh cerita budaya terhadap pembentukan karakter game digital

mengapa pemain lebih mudah mengingat kemenangan besar penjelasan bias ingatan kota madiun

bukan hanya hiburan warga kabupaten bekasi membahas pentingnya memahami batas pengeluaran digital

mahjong ways kabupaten magetan contoh memahami fenomena ilusi pola hasil acak

gates of olympus kota pagar alam menguraikan kesalahpahaman prediksi hasil permainan

warga kabupaten flores timur mengamati pengaruh notifikasi terhadap perhatian pengguna ponsel

sweet bonanza kota sukabumi membahas perbedaan ekspektasi pengguna peluang

wild bandito mahjong wins mengapa perbedaan desain bisa menarik kelompok pengguna beragam

lucky neko kabupaten tanah laut mengkaji simbol keberuntungan perspektif lintas budaya

literasi digital kabupaten sumbawa memahami rtp agar tidak terjebak penafsiran keliru

princess starlight kota tegal menelaah kontribusi tokoh pengalaman hiburan interaktif

article 88666670351

article 88666670352

article 88666670353

article 88666670354

article 88666670355

article 88666670356

article 88666670357

article 88666670358

article 88666670359

article 88666670360

article 88666670361

article 88666670362

article 88666670363

article 88666670364

article 88666670365

article 88666670366

article 88666670367

article 88666670368

article 88666670369

article 88666670370

informasi terbaru kabupaten belu 00000021

informasi terbaru kabupaten belu 00000022

informasi terbaru kabupaten belu 00000023

informasi terbaru kabupaten belu 00000024

informasi terbaru kabupaten belu 00000025

informasi terbaru kabupaten belu 00000026

informasi terbaru kabupaten belu 00000027

informasi terbaru kabupaten belu 00000028

informasi terbaru kabupaten belu 00000029

informasi terbaru kabupaten belu 00000030

informasi terbaru kabupaten belu 00000031

informasi terbaru kabupaten belu 00000032

informasi terbaru kabupaten belu 00000033

informasi terbaru kabupaten belu 00000034

informasi terbaru kabupaten belu 00000035

informasi terbaru kabupaten belu 00000036

informasi terbaru kabupaten belu 00000037

informasi terbaru kabupaten belu 00000038

informasi terbaru kabupaten belu 00000039

informasi terbaru kabupaten belu 00000040

informasi terbaru kabupaten belu 00000041

informasi terbaru kabupaten belu 00000042

informasi terbaru kabupaten belu 00000043

informasi terbaru kabupaten belu 00000044

informasi terbaru kabupaten belu 00000045

informasi terbaru kabupaten belu 00000046

informasi terbaru kabupaten belu 00000047

informasi terbaru kabupaten belu 00000048

informasi terbaru kabupaten belu 00000049

informasi terbaru kabupaten belu 00000050

informasi terbaru kabupaten belu 00000051

informasi terbaru kabupaten belu 00000052

informasi terbaru kabupaten belu 00000053

informasi terbaru kabupaten belu 00000054

informasi terbaru kabupaten belu 00000055

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download