لاہور (اردو ٹائمز) پاکستان میں بجلی کے آلات کی مقامی تیاری بڑھانے، درآمدات پر انحصار کم کرنے اور ملکی صنعت کو فروغ دینے کے لیے لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام دوسری قومی مشاورتی ورکشاپ منعقد ہوئی۔ ورکشاپ میں وزارتِ توانائی، واپڈا، نیشنل گرڈ کمپنی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور مقامی صنعت کے نمائندوں نے شرکت کی
Share
لاہور (اردو ٹائمز) لاہور میں منعقدہ ورکشاپ میں بجلی کے شعبے میں استعمال ہونے والے آلات کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے روڈ میپ پر غور کیا گیا۔ شرکا نے بجلی کے شعبے کی آئندہ ضروریات اور پاکستان میں موجود پیداواری صلاحیت کا جائزہ لیا۔
وزارتِ توانائی کے مشیر فیضان علی شاہ نے لمز کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ محض تیس فیصد مقامی ویلیو ایڈیشن انڈیجنائزیشن کے مقاصد کے حصول کے لیے کافی نہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ قومی بجلی منصوبہ 2023 تا 2027 کے تحت انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کو 2024 میں باضابطہ پاور سیکٹر انڈیجنائزیشن پلان حکومت کو پیش کرنا تھا، تاہم یہ ذمہ داری مقررہ وقت پر پوری نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ توانائی اب تمام متعلقہ اداروں کی مشاورت سے اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر تیار کرے گی۔
لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری نے کہا کہ مقامی صنعت کاروں، بجلی کے آلات خریدنے والے اداروں اور پالیسی سازوں کے درمیان تعاون سے درآمدی مصنوعات کے متبادل تیار کرنے اور ملکی پیداواری صلاحیت بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے پروگرام لیڈ، انجینئر فیصل جاوید مغل نے بجلی کے آلات کی مقامی تیاری کے امکانات، آئندہ دس سال کی متوقع طلب اور پاکستان کی موجودہ صنعتی صلاحیت پر بریفنگ دی۔
ورکشاپ میں قابلِ تجدید توانائی، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم، بجلی کی ترسیلی لائنوں اور گرڈ اسٹیشنز سے متعلق آلات کی مقامی تیاری کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مقامی صنعت کاروں نے ترجیحی مصنوعات کی تیاری میں دلچسپی ظاہر کی، جبکہ متعلقہ اداروں نے اپنی متوقع ضروریات سے آگاہ کیا۔
ورکشاپ میں سامنے آنے والی تجاویز پاکستان پاور سیکٹر انڈیجنائزیشن پالیسی کو حتمی شکل دینے میں معاون ثابت ہوں گی۔ اس پالیسی کا مقصد بجلی کے آلات کی مقامی تیاری کے لیے واضح لائحۂ عمل مرتب کرنا، درآمدات کا متبادل تیار کرنا اور ملکی صنعت کو عالمی معیار کے مطابق ترقی دینا ہے۔

