LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظرعوام کو شدید مشکلات

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) ممکنہ احتجاجی مظاہروں اور لانگ مارچ کے اعلانات کے باعث جڑواں شہروں کے عوام کو شدید سفری مشکلات اور ذہنی

کو فت کاسامنا ہے۔

حکومت کی رٹ نظر آنی چاہیےاورشہروں کو لاک ڈاؤن کرنے اور شاہراہوں کو بلاک کرنے پر سخت قانونی پابندیاں عائد کرنا ہی اس دیرینہ مسئلے کا واحد مستقل حل نظر آتا ہے۔

حکومت کی رٹ (Writ of the State) قائم ہونا اور قانون کی حکمرانی نظر آنا کسی بھی منظم معاشرے کے لیے سب سے بنیادی ضرورت ہے۔ جب ریاست اپنی رٹ کھو دیتی ہے، تو پورا نظامِ زندگی مفلوج ہو جاتا ہے اور عوام کا تحفظ خطرے میں پڑ جاتا ہے۔تاہم، موجودہ جمہوری اور قانونی نظام میں “سخت کارروائی” اور “رٹ قائم کرنے” کے لیے درج ذیل اصولوں کو مدنظر رکھنا بے حد ضروری ہے

حکومتی رٹ کے بنیادی تقاضےبلاتفریق کارروائی: حکومت کی رٹ تب ہی مضبوط مانی جاتی ہے جب قانون کا نفاذ سب پر برابر ہو۔ اگر سخت کارروائی صرف ایک مخصوص گروہ یا سیاسی حریفوں کے خلاف ہو اور دوسرے گروہ کو کھلی چھٹی دی جائے، تو اسے رٹ نہیں بلکہ سیاسی انتقام کہا جاتا ہے۔

آئینی حدود میں طاقت کا استعمال: ریاست کو امن و امان قائم کرنے اور راستے کھلوانے کے لیے طاقت کے استعمال کا پورا حق حاصل ہے، لیکن یہ کارروائی قانون اور انسانی حقوق کے دائرے کے اندر ہونی چاہیے۔ اندھا دھند لاٹھی چارج، آنسو گیس کا بے دریغ استعمال یا پرامن شہریوں کی گرفتاریاں الٹا عوامی غصے کو بڑھاتی ہیں۔

انتظامیہ کی اپنی رٹ: حکومت کی رٹ کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرے۔ جب انتظامیہ خود پورے شہر کو کنٹینرز لگا کر بلاک کر دیتی ہے، تو وہ لاشعوری طور پر خود اپنی رٹ کی کمزوری کا اعتراف کر رہی ہوتی ہے۔ اصل رٹ یہ ہے کہ راستے کھلے رکھے جائیں اور قانون توڑنے والوں سے سڑکوں پر نمٹنے کے بجائے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

موجودہ حالات میں، اعلیٰ عدالتوں نے بھی حکومت کو یہی واضح گائیڈ لائنز دی ہیں جو بھی عناصر احتجاج کی آڑ میں جلاؤ گھیراؤ کریں، املاک کو نقصان پہنچائیں یا زبردستی کاروبار بند کروائیں، ان کے خلاف دہشت گردی اور نقصِ امن کے قوانین کے تحت سخت ترین کارروائی ہونی چاہیے۔

حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مظاہرین کو مخصوص جگہ پبلک آرڈر ایکٹ 2024 کے تحت محدود رکھے اور شہر کی مرکزی شاہراہوں کو ہر صورت کھلا رکھے۔جب تک حکومت سیاسی مصلحتوں کو چھوڑ کر قانون شکنوں کے خلاف سخت اور غیر جانبدارانہ قانونی کارروائی نہیں کرے گی، تب تک نہ تو ریاست کی رٹ قائم ہو سکے گی اور نہ ہی عام شہریوں کو اس روز روز کے عذاب سے نجات ملے گی۔

انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کے نام پر سڑکوں کو بند کرنے کے روایتی طریقوں نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔

عوام کو درپیش اہم ترین مشکلات اور زمینی صورتحال درج ذیل ہے

کنٹینرز کی بھرمار اور راستوں کی بندش

ریڈ زون اور ڈی چوک سیل: اسلام آباد کے ڈی چوک اور ایمبیسی روڈ کو مکمل طور پر سیل کرنے کے لیے سینکڑوں کنٹینرز پہنچا دیے گئے )داخلی و خارجی راستے بلاک: فیض آباد، ترنول، سنگجانی اور موٹروے (M-1) سمیت راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والے تمام بڑے راستوں پر کنٹینرز کھڑے کر کے پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

متبادل راستوں کا فقدان: مری روڈ اور ایکسپریس وے کی بندش کی وجہ سے لنک روڈز پر بدترین ٹریفک جام ہے، جس سے راجہ بازار، صدر اور ملحقہ علاقوں کے رہائشی گلیوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں,

پبلک ٹرانسپورٹ کی معطلی;جڑواں شہروں کے درمیان چلنے والی میٹرو بس سروس اور شہر کے اندر چلنے والی گرین الیکٹرک بس سروس کو سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر جزوی یا مکمل طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

نجی ٹرانسپورٹ کے من مانے کرائے: پبلک بسیں نہ ہونے کی وجہ سے سوزوکی، ویگنوں اور آن لائن بائیک سروسز نے کرائے دگنے تگنے کر دیے ہیں، جس سے دیہاڑی دار طبقہ اور غریب شہری شدید مالی بوجھ تلے آ گئے ہیں,

تعلیمی اور کاروباری سرگرمیوں کی بندش: راستوں کی بندش اور غیریقینی صورتحال کے باعث جڑواں شہروں میں نجی اسکولوں کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا ہے۔

کاروبار کی تباہی: گڈز ٹرانسپورٹرز کے مطابق سڑکیں بلاک کرنے کے لیے زبردستی کنٹینرز قبضے میں لینے سے اربوں روپے کا تجارتی سامان خراب ہو رہا ہے اور کاروباری مراکز سنسان پڑے ہیں,

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں مسئلہ نئے قوانین کی کمی کا نہیں، بلکہ موجودہ قوانین پر سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر “بلاتفریق اور سخت عملدستی” کا ہے۔پارلیمنٹ نے حال ہی میں وفاقی دارالحکومت کے لیے ایک خصوصی قانون

Peaceful Assembly and Public Order Act 2024 پاس کیا ہے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد ہی یہی ہے کہ احتجاج کو شہر مفلوج کرنے کے بجائے مخصوص مقامات (جیسے سنگجانی) تک محدود رکھا جائے۔ لیکن اس کے باوجود زمینی صورتحال تبدیل نہیں ہوئی,

جب کوئی سیاسی جماعت حکومت میں ہوتی ہے، تو وہ احتجاج روکنے کے لیے پورے شہر میں خود کنٹینرز لگا کر راستے بلاک کر دیتی ہے۔جب وہی جماعت اپوزیشن میں آتی ہے، تو وہ احتجاج کے نام پر شاہراہیں بلاک کرنے کو اپنا آئینی حق قرار دیتی ہے۔

انتظامیہ اور پولیس قانون کے مطابق ایک آزاد ادارے کے طور پر کام کرنے کے بجائے سیاسی حکومتوں کے احکامات کے تحت کام کرتی ہے، جس سے قانون بے اثر ہو جاتا ہے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے حالیہ کیسز میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی جماعت یا عوامی عہدے دار کو سڑکیں بلاک کرنے کا کوئی حق نہیں عدالت نے انتظامیہ کو حکم دیا کہ احتجاج کے دوران شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

ادارے آزاد نہ ہونے کی وجہ سے نظام کو درج ذیل تین بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے

“سیاسی ہتھیار” کے طور پر استعمال ;

جب پولیس آزاد نہیں ہوتی، تو اسے اپوزیشن کو کچلنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے افسران خود سڑکیں بلاک کرنے، کنٹینرز لگانے اور انٹرنیٹ معطل کرنے جیسے عوامی دشمن اقدامات کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں انہیں فوری طور پر تبدیل یا معطل کر دیا جاتا ہے۔

میرٹ اور تحفظِ ملازمت کا فقدان;

بیوروکریسی اور پولیس میں اچھے اور ایماندار افسران کی کمی نہیں ہے، لیکن مسئلہ تحفظِ ملازمت کا ہے۔ اگر کوئی آئی جی یا ڈپٹی کمشنر قانون کے مطابق مظاہرین کو پرامن احتجاج کے لیے مخصوص جگہ دینے اور شہر کو کھلا رکھنے کا فیصلہ کرے، تو سیاسی مالکان اسے اپنی “کمزوری” سمجھ کر عہدے سے ہٹا دیتے ہیں۔ جب تک افسران کا تبادلہ سیاسی اثر و رسوخ کے بجائے ایک آزاد بورڈ کے تحت نہیں ہوگا، وہ کھل کر قانون کا نفاذ نہیں کر سکیں گے۔۔ملکی بیوروکریسی اور پولیس کو سیاسی دباؤ سے مکمل آزاد کیے بغیر قوانین پر شفاف اور غیر جانبدارانہ عمل درآمد بالکل ناممکن ہے۔

جب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے سیاسی حکومتوں کے تابع رہیں گے، وہ عوامی تحفظ کے بجائے حکمران وقت کے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرتے رہیں گے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی احتجاج کی کال آتی ہے، تو پولیس اور بیوروکریسی قانون کی کتاب دیکھنے کے بجائے حکومتِ وقت کے سیاسی اشاروں پر چلتی ہے، جس کا نقصان عام عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے ممکنہ احتجاج کے اعلان کے پیشِ نظر حکام نے راولپنڈی میں میٹرو بس اور گرین لائن بس سروسز کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ امن و امان برقرار رکھنے اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، دن کے آغاز میں ہی بسوں کی آمدورفت روک دی گئی جس سے روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں افراد متاثر ہوئے۔ شہر کے اہم علاقوں کو ملانے والے بڑے راستے بند رہے، جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے لیے حساس مقامات پر اضافی پولیس نفری تعینات کی گئی۔

ٹریفک پولیس نے شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے اور اسی کے مطابق اپنے سفر کا منصوبہ بنانے کا مشورہ دیا ہے۔ شہر بھر میں، بالخصوص اہم چوراہوں اور عوامی اجتماعات کے مقامات کے قریب سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے

حکام کا کہنا ہے کہ یہ معطلی عارضی ہے اور صورتحال معمول پر آتے ہی سروسز بحال کر دی جائیں گی۔ دریں اثنا، مسافروں نے اچانک پیدا ہونے والی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے بروقت معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے

جب تک قانون کے ذریعے حدود کا تعین نہیں ہوگا، تب تک سیاسی طاقت کا مظاہرہ معصوم شہریوں کی زندگیوں پر بھاری پڑتا رہے گا۔ موجودہ صورتحال پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی وزارتِ داخلہ کو احکامات جاری کیے ہیں کہ احتجاج کے حق اور عوامی تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے تاکہ پورا شہر مفلوج نہ ہو اور شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔

عالمی جمہوری ممالک اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں اس پابندی کو درج ذیل طریقوں سے لاگو کیا جا سکتا ہے:

مخصوص مقامات کا قانون (Red Zone Protection): عدالتوں کے احکامات کے مطابق، احتجاج کے لیے شہر کے کاروباری مراکز اور اہم شاہراہوں کے بجائے ایک مخصوص جگہ (جیسے پریڈ گراؤنڈ یا پارک) قانوناً لازمی قرار دی جائے۔

نقصان کا ازالہ : اگر کوئی جماعت قانون ہاتھ میں لے کر سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچاتی ہے یا کاروبار بند کرواتی ہے، تو اس کا جرمانہ اور مالی نقصان اسی سیاسی جماعت سے وصول کیا جائے۔

انتظامیہ کے اختیارات پر نظرِ ثانی: قانون صرف سیاسی جماعتوں پر ہی نہیں، بلکہ ضلعی انتظامیہ پر بھی لاگو ہونا چاہیے تاکہ وہ بھی احتجاج روکنے کے بہانے پورے شہر میں کنٹینرز لگا کر راستے بلاک کرنے کی روش ترک کریں۔

جب تک ریاست قانون کی بالادستی قائم کر کے عام شہری کے حقِ زندگی اور حقِ روزگار کو ہر چیز پر مقدم نہیں رکھے گی، یہ دائرہ اسی طرح چلتا رہے گا۔

پاکستان کا آئین کسی ایک شہری یا گروہ کے حق کو دوسرے شہری کے حق پر ترجیح نہیں دیتا، بلکہ یہ دونوں حقوق کا ایک ساتھ تحفظ کرتا ہے۔

یہی وہ آئینی اور اخلاقی توازن ہے جہاں ریاست، عدلیہ اور سیاسی جماعتیں اکثر ناکام نظر آتی ہیں۔

اہم ترین نقطہ یہ ہے جب بھی احتجاج اور راستوں کی بندش ہوتی ہے، تو آئین کے دو بنیادی اصولوں کے درمیان ایک شدید تصادم جنم لیتا ہے: ایک طرف پرامن احتجاج کا حق (Right to Protest) ہے اور دوسری طرف عام شہریوں کے بنیادی حقوق (Fundamental Rights) جیسے کہ نقل و حرکت کی آزادی، روزگار اور تعلیم کا حق ہے

آئینِ پاکستان کے تحت اس تصادم کی قانونی اور سماجی صورتحال کچھ یوں ہے:

آئین کے تحت حقوق کی حدود

(Reasonable Restrictions)پاکستان کا آئین بنیادی حقوق تو دیتا ہے، لیکن ان کے ساتھ کچھ منطقی پابندیاں (Reasonable Restrictions) بھی عائد کرتا ہے:

آرٹیکل 16 (پرامن اجتماع کا حق): ہر شہری کو پرامن طریقے سے جمع ہونے اور احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن یہ حق عوامی امن و امان (Public Order) اور قانون کے دائرے کے تابع ہے۔ یعنی احتجاج کا حق تب تک قائم رہتا ہے جب تک وہ دوسروں کی زندگیوں میں خلل نہ ڈالے۔

آرٹیکل 15 (نقل و حرکت کی آزادی): ہر شہری کو پورے ملک میں آزادانہ سفر کرنے کا حق ہے۔ جب راستے بند کیے جاتے ہیں، تو احتجاج کرنے والے (یا کنٹینرز لگانے والی انتظامیہ) براہِ راست لاکھوں شہریوں کے اس آئینی حق پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔ عوامی ردعمل اور سماجی المیہ ;

جب یہ توازن بگڑتا ہے تو پورا معاشرہ اس کی قیمت چکاتا ہے:

بیماروں اور بزرگوں کی بے بسی:

ٹریفک بلاک ہونے کی وجہ سے ایمبولینسوں کا پھنس جانا اور بروقت علاج نہ ملنے سے اموات ہونا ایک ایسا سنگین جرم ہے جس کا کوئی سیاسی جواز نہیں ہو سکتا۔

معاشی قتل: دیہاڑی دار مزدور، ریڑھی بان اور چھوٹے تاجر، جن کا چولہا روز کی کمائی سے جلتا ہے، شہر بند ہونے سے فاقہ کشی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس نے بارہا اپنے فیصلوں میں واضح کیا ہے کہ احتجاج کے لیے شہر کے اندر ایک مخصوص جگہ (جیسے پارک یا پریڈ گراؤنڈ) مختص ہونی چاہیے، جہاں سیاسی جماعتیں اپنا ریکارڈ کروائیں لیکن عام شہریوں کی زندگی، اسکول، اور کاروبار معطل نہ ہوں۔ جب تک اس قانون پر سختی سے عمل نہیں ہوگا، معصوم شہری اسی طرح سیاسی کھینچا تانی کی قربانی بنتے رہیں گے۔

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

SLOT GACOR

SALAMJITU

SATGASJITU

SEMOGAJITU

SALAMJITU

Slot Gacor

MAUJP

Slot Gacor

SLOT GACOR

artikel 000000121

artikel 000000122

artikel 000000123

artikel 000000124

artikel 000000125

artikel 000000126

artikel 000000127

artikel 000000128

artikel 000000129

artikel 000000130

artikel 000000131

artikel 000000132

artikel 000000133

artikel 000000134

artikel 000000135

artikel 000000136

artikel 000000137

artikel 000000138

artikel 000000139

artikel 000000140

artikel 000000141

artikel 000000142

artikel 000000143

artikel 000000144

artikel 000000145

artikel 000000146

artikel 000000147

artikel 000000148

artikel 000000149

artikel 000000150

artikel 000000151

artikel 000000152

artikel 000000153

artikel 000000154

artikel 000000155

artikel 000000156

artikel 000000157

artikel 000000158

artikel 000000159

artikel 000000160

artikel 000000161

artikel 000000162

artikel 000000163

artikel 000000164

artikel 000000165

artikel 000000166

artikel 000000167

artikel 000000168

artikel 000000169

artikel 000000170

artikel 000000171

artikel 000000172

artikel 000000173

artikel 000000174

artikel 000000175

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

informasi terbaru kabupaten belu 00000081

informasi terbaru kabupaten belu 00000082

informasi terbaru kabupaten belu 00000083

informasi terbaru kabupaten belu 00000084

informasi terbaru kabupaten belu 00000085

informasi terbaru kabupaten belu 00000086

informasi terbaru kabupaten belu 00000087

informasi terbaru kabupaten belu 00000088

informasi terbaru kabupaten belu 00000089

informasi terbaru kabupaten belu 00000090

informasi terbaru kabupaten belu 00000091

informasi terbaru kabupaten belu 00000092

informasi terbaru kabupaten belu 00000093

informasi terbaru kabupaten belu 00000094

informasi terbaru kabupaten belu 00000095

informasi terbaru kabupaten belu 00000096

informasi terbaru kabupaten belu 00000097

informasi terbaru kabupaten belu 00000098

informasi terbaru kabupaten belu 00000099

informasi terbaru kabupaten belu 00000100

informasi terbaru kabupaten belu 00000101

informasi terbaru kabupaten belu 00000102

informasi terbaru kabupaten belu 00000103

informasi terbaru kabupaten belu 00000104

informasi terbaru kabupaten belu 00000105

informasi terbaru kabupaten belu 00000106

informasi terbaru kabupaten belu 00000107

informasi terbaru kabupaten belu 00000108

informasi terbaru kabupaten belu 00000109

informasi terbaru kabupaten belu 00000110

informasi terbaru kabupaten belu 00000111

informasi terbaru kabupaten belu 00000112

informasi terbaru kabupaten belu 00000113

informasi terbaru kabupaten belu 00000114

informasi terbaru kabupaten belu 00000115

informasi terbaru kabupaten belu 00000116

informasi terbaru kabupaten belu 00000117

informasi terbaru kabupaten belu 00000118

informasi terbaru kabupaten belu 00000119

informasi terbaru kabupaten belu 00000120

informasi terbaru kabupaten belu 00000121

informasi terbaru kabupaten belu 00000122

informasi terbaru kabupaten belu 00000123

informasi terbaru kabupaten belu 00000124

informasi terbaru kabupaten belu 00000125

informasi terbaru kabupaten belu 00000126

informasi terbaru kabupaten belu 00000127

informasi terbaru kabupaten belu 00000128

informasi terbaru kabupaten belu 00000129

informasi terbaru kabupaten belu 00000130

article 48666670361

article 48666670362

article 48666670363

article 48666670364

article 48666670365

article 48666670366

article 48666670367

article 48666670368

article 48666670369

article 48666670370

article 48666670371

article 48666670372

article 48666670373

article 48666670374

article 48666670375

article 48666670376

article 48666670377

article 48666670378

article 48666670379

article 48666670380

article 48666670381

article 48666670382

article 48666670383

article 48666670384

article 48666670385

article 48666670386

article 48666670387

article 48666670388

article 48666670389

article 48666670390

article 48666670391

article 48666670392

article 48666670393

article 48666670394

article 48666670395

article 48666670396

article 48666670397

article 48666670398

article 48666670399

article 48666670400

article 48666670401

article 48666670402

article 48666670403

article 48666670404

article 48666670405

article 48666670406

article 48666670407

article 48666670408

article 48666670409

article 48666670410

article 58666670411

article 58666670412

article 58666670413

article 58666670414

article 58666670415

article 58666670416

article 58666670417

article 58666670418

article 58666670419

article 58666670420

article 58666670421

article 58666670422

article 58666670423

article 58666670424

article 58666670425

article 58666670426

article 58666670427

article 58666670428

article 58666670429

article 58666670430

article 58666670431

article 58666670432

article 58666670433

article 58666670434

article 58666670435

article 58666670436

article 58666670437

article 58666670438

article 58666670439

article 58666670440

article 58666670441

article 58666670442

article 58666670443

article 58666670444

article 58666670445

article 58666670446

article 58666670447

article 58666670448

article 58666670449

article 58666670450

article 58666670451

article 58666670452

article 58666670453

article 58666670454

article 58666670455

article 58666670456

article 58666670457

article 58666670458

article 58666670459

article 58666670460

article 58666670461

article 58666670462

article 58666670463

article 58666670464

article 58666670465

article 58666670466

article 58666670467

article 58666670468

article 58666670469

article 58666670470

article 58666670471

article 58666670472

article 58666670473

article 58666670474

article 58666670475

article 58666670476

article 58666670477

article 58666670478

article 58666670479

article 58666670480

article 58666670481

article 58666670482

article 58666670483

article 58666670484

article 58666670485

article 58666670486

article 58666670487

article 58666670488

article 58666670489

article 58666670490

article 58666670491

article 58666670492

article 58666670493

article 58666670494

article 58666670495

article 58666670496

article 58666670497

article 58666670498

article 58666670499

article 58666670500

article 58666670501

article 58666670502

article 58666670503

article 58666670504

article 58666670505

article 58666670506

article 58666670507

article 58666670508

article 58666670509

article 58666670510

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download