LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) مستقبل کے معمار, معاشی استحکام, وزیراعظم یوتھ پروگرام

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام نوجوانوں کو معاشی طور پر خودمختار بنانے ملک میں معاشی استحکام لانے کے لیے ایک کلیدی اقدام اور ترقی کا سفرہے وزیرِاعظم پاکستان کے ویژن کے مطابق نوجوان ملک کا قیمتی ترین سرمایہ ہیں اور ان کو باصلاحیت اور معاشی طور پر مضبوط بنانے کے لئے جوانوں کی ترقی پر مرتکز وسیع پیمانے پر مفصل پروگرام کی ضرورت تھی۔ جوانوں کی تعمیر و ترقی کے اس سفر کا آغاز حکومتی سطح پر یوتھ افیئرزونگ کی تشکیل سے ہوا جس کے ذریعے وزیرِاعظم جوان پروگرام کا اجراء کیا گیا تاکہ نوجوانوں کو معاشی اور سماجی طور پرتمام شعبوں میں مضبوط اور خودمختار بنایا جا سکے۔ وزیرِ اعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کے ذریعے نوجوانوں کو کاروبار اور زراعت کے فروغ کے لیے آسان شرائط پر قرضے دیے جا رہے ہیں تاکہ وہ خود کفیل ہو سکیں۔ وزیراعظم یوتھ سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو جدید پیشہ ورانہ مہارتیں، فنی تربیت اور سافٹ سکلز فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ ملکی و غیر ملکی مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کیا جا سکےبیرونِ ملک روزگار کے مواقع کے لیے نوجوانوں کو مختلف بین الاقوامی زبانوں کی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔ وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام نوجوانوں کو معاشی طور پر خودمختار بنانے اور ملک میں معاشی استحکام لانے کے لیے ایک کلیدی اقدام ہے

عزم اور ترقی کا نیا سفرپاکستان کی نصف سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان نہ صرف ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں بلکہ معاشی ترقی کا وہ انجن بھی ہیں جو اگر درست سمت میں چلے تو ملک کو بحرانوں کے بھنور سے نکال سکتا ہے۔ اسی وژن کے تحت گذشتہ روز وزیراعظم آفس میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران وزیراعظم یوتھ پروگرام (PMYP) اور سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (SMEDA) کے درمیان مفاہمت کی ایک اہم یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے۔ چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کی زیرِ صدارت منعقدہ اس اجلاس کا بنیادی مقصد ملک بھر میں نوجوانوں کو بااختیار بنانا، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانا ہے۔اس باوقار تقریب میں وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، سمیڈا کی چیف ایگزیکٹو آفیسر محترمہ نادیہ جہانگیر سیٹھ، جنرل مینیجر پالیسی اینڈ ایکو سسٹم گروپ شہریار طاہر اور جوائنٹ سیکریٹری وزیراعظم یوتھ پروگرام ڈاکٹر محمد علی ملک سمیت دونوں اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ یہ محض ایک دستخطی تقریب نہیں تھی، بلکہ پاکستان کے معاشی مستقبل کو نوجوانوں کی صلاحیتوں سے جوڑنے کا ایک جامع عہد تھا۔ادارہ جاتی مہارت کا شاندار ملاپوزیراعظم یوتھ پروگرام کا بنیادی فلسفہ نوجوانوں کو تعلیم، ہنرمندی، روزگار اور خود روزگاری کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس پروگرام کے تحت نوجوانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے “وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم” جیسے بڑے مالیاتی منصوبے کامیابی سے چل رہے ہیں۔ دوسری طرف، سمیڈا (SMEDA) وزارتِ صنعت و پیداوار کے تحت ایک خود مختار اور نہایت فعال ادارہ ہے، جس کا خاصہ ہی ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے پالیسی سازی اور تکنیکی معاونت فراہم کرنا ہے۔ان دونوں اداروں کا ایک میز پر آنا اس بات کی نوید ہے کہ اب نوجوانوں کے پاس صرف قرض لینے کا ذریعہ ہی نہیں ہوگا، بلکہ اس سرمائے کو ایک کامیاب اور منافع بخش کاروبار میں کیسے بدلنا ہے، اس کے لیے سمیڈا کی مینیجریئل اور تکنیکی مہارت بھی دستیاب ہوگی۔ یہ شراکت داری ادارہ جاتی وسائل اور رسائی کو یکجا کرتے ہوئے ملک میں کاروباری ماحول (Entrepreneurial Ecosystem) کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرے گی۔جامع معاشی ترقی اور پسماندہ طبقات کی شمولیتاس ایم او یو (MoU) کی سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ اس میں “جامع ترقی” (Inclusive Growth) پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ پاکستان کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، لیکن وہاں وسائل اور درست رہنمائی کی شدید قلت ہے۔ اس نئے اشتراک کے ذریعے پسماندہ اور کم سہولیات رکھنے والے طبقات، بالخصوص خواتین کاروباری افراد (Women Entrepreneurs) کو معاشی دھارے میں لانے کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام اور مالیاتی پیکیجز وضع کیے جائیں گے۔ جب ملک کی خواتین اور دیہی نوجوان علم، تربیت اور مالی شمولیت تک براہِ راست رسائی حاصل کریں گے، تو اس کے اثرات براہِ راست مقامی معیشت پر مثبت انداز میں مرتب ہوں گے۔روایتی ملازمتوں سے کاروباری ذہنیت کی طرف منتقلی موجودہ دور میں معاشی چیلنجز کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو صرف ‘ملازمت تلاش کرنے والا’ بنانے کے بجائے ‘ملازمت دینے والا’ بنائیں۔ سمیڈا اور وزیراعظم یوتھ پروگرام کا یہ تال میل اسی سوچ کو عملی جامہ پہناتا ہے۔ جب ایک نوجوان کو جدید کاروباری تربیت, مارکیٹ تک رسائی اور آسان شرائط پر سرمایہ کاری یکجا ملے گی، تو وہ اپنا نیا اسٹارٹ اپ یا مائیکرو بزنس شروع کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ یہ قدم نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا بلکہ ملک میں مینوفیکچرنگ اور سروسز کے شعبے کو بھی نئی توانائی دے گا۔حکومتی وژن کا عکاسیہ سٹریٹجک شراکت داری حکومتِ پاکستان کے اس وسیع تر معاشی وژن کی عکاسی کرتی ہے جس کا مقصد پائیدار ترقی، روزگار کی فراہمی اور نچلی سطح تک معاشی فوائد پہنچانا ہے۔ رانا مشہود احمد خان اور ہارون اختر خان کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ قیادت نوجوانوں کی ترقی کو ملکی بقا اور خوشحالی کے لیے ناگزیر سمجھتی ہے۔امید واثق ہے کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام اور سمیڈا کا یہ تاریخی اتحاد کاغذی کارروائیوں سے آگے بڑھ کر فیلڈ میں کام کرے گا، جس سے نہ صرف مائیکرو، سمال اور میڈیم انٹرپرائزز (MSMEs) کو فروغ ملے گا بلکہ پاکستان کا نوجوان معاشی طور پر مستحکم ہو کر عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرنے کے قابل ہو سکے گا۔وزیراعظم یوتھ پروگرام اور سمیڈا کے مابین ہونے والا یہ حالیہ معاشی اشتراک دراصل حکومتِ پاکستان کے اس وسیع تر معاشی وژن کا عکاس ہے جس کا محور ملکی بقا، خود انحصاری اور پائیدار معاشی ترقی ہے۔ دورِ حاضر کے کڑے معاشی چیلنجز اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ملک کو بیرونی امداد یا قرضوں کے سہارے چلانے کے بجائے اندرونی وسائل اور افرادی قوت کو متحرک کیا جائے۔ اس تناظر میں رانا مشہود احمد خان اور مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کا یہ اقدام محض ایک وقتی منصوبہ نہیں بلکہ ملکی معیشت کی جڑوں کو مضبوط کرنے کی ایک طویل مدتی سٹریٹجی کا حصہ ہے۔یہ شراکت داری مندرجہ ذیل بنیادی اصولوں پر مبنی حکومتی سوچ کی عکاسی کرتی ہے:ملازمتیں دینے والے ذہن کی آبیاری: حکومت کا یہ واضح وژن ہے کہ تمام نوجوانوں کو روایتی نوکریوں کی لائن میں کھڑا کرنے کے بجائے انہیں خود روزگاری کی طرف لایا جائے۔ جب ایک ہنرمند نوجوان سمیڈا کی تربیت اور یوتھ پروگرام کے سرمائے سے اپنا کاروبار شروع کرے گا، تو وہ ‘ملازمت تلاش کرنے والا’ (Job Seeker) نہیں بلکہ مارکیٹ میں مزید 5 افراد کو ‘ملازمت فراہم کرنے والا’ (Job Creator) بن جائے گا۔ادارہ جاتی ہم آہنگی (Institutional Synergy): ماضی میں پاکستان کے اندر مختلف محکمے الگ الگ سمتوں میں کام کرتے تھے جس سے وسائل ضائع ہوتے تھے۔ موجودہ حکومتی وژن اس بات پر زور دیتا ہے کہ مالیاتی وسائل رکھنے والے ادارے (PMYP) اور تکنیکی مہارت رکھنے والے ادارے (SMEDA) ایک میز پر آئیں تاکہ نوجوانوں کو فنڈز کے ساتھ ساتھ مکمل کاروباری لائحہ عمل اور رہنمائی بھی یکجا میسر آ سکے۔خواتین اور کم سہولیات یافتہ طبقات کی شمولیت: پسماندہ اضلاع، دیہی علاقوں کے باصلاحیت نوجوانوں اور خصوصاً خواتین کاروباری افراد (Women Entrepreneurs) کو ملکی معیشت کے مرکزی دھارے میں شامل کیے بغیر جامع ترقی کا خواب ادھورا ہے۔ حکومت کا وژن ہے کہ پائیدار ترقی کے ثمرات نچلی سطح تک پہنچیں اور معاشی دھارے میں سب کو برابر کے مواقع ملیں۔امید واثق ہے کہ یہ سٹریٹجک شراکت داری کاغذی کارروائیوں سے آگے بڑھ کر عملی طور پر گراؤنڈ پر اثرات دکھائے گی، جس سے نہ صرف مائیکرو، سمال اور میڈیم انٹرپرائزز (MSMEs) کو فروغ ملے گا بلکہ پاکستان کا نوجوان معاشی طور پر خودمختار ہو کر ملکی معیشت کا سب سے مضبوط ستون بنے گا۔وزیراعظم یوتھ پروگرام اور سمیڈا کے مابین ہونے والا یہ حالیہ معاشی اشتراک دراصل حکومتِ پاکستان کے اس وسیع تر معاشی وژن کا عکاس ہے جس کا محور ملکی بقا، خود انحصاری اور پائیدار معاشی ترقی ہے۔ دورِ حاضر کے کڑے معاشی چیلنجز اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ملک کو بیرونی امداد یا قرضوں کے سہارے چلانے کے بجائے اندرونی وسائل اور افرادی قوت کو متحرک کیا جائے۔ اس تناظر میں رانا مشہود احمد خان اور مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کا یہ اقدام محض ایک وقتی منصوبہ نہیں بلکہ ملکی معیشت کی جڑوں کو مضبوط کرنے کی ایک طویل مدتی سٹریٹجی کا حصہ ہے۔یہ شراکت داری مندرجہ ذیل بنیادی اصولوں پر مبنی حکومتی سوچ کی عکاسی کرتی ہے:ملازمتیں دینے والے ذہن کی آبیاری: حکومت کا یہ واضح وژن ہے کہ تمام نوجوانوں کو روایتی نوکریوں کی لائن میں کھڑا کرنے کے بجائے انہیں خود روزگاری کی طرف لایا جائے۔ جب ایک ہنرمند نوجوان سمیڈا کی تربیت اور یوتھ پروگرام کے سرمائے سے اپنا کاروبار شروع کرے گا، تو وہ ‘ملازمت تلاش کرنے والا’ (Job Seeker) نہیں بلکہ مارکیٹ میں مزید 5 افراد کو ‘ملازمت فراہم کرنے والا’ (Job Creator) بن جائے گا۔ادارہ جاتی ہم آہنگی (Institutional Synergy): ماضی میں پاکستان کے اندر مختلف محکمے الگ الگ سمتوں میں کام کرتے تھے جس سے وسائل ضائع ہوتے تھے۔ موجودہ حکومتی وژن اس بات پر زور دیتا ہے کہ مالیاتی وسائل رکھنے والے ادارے (PMYP) اور تکنیکی مہارت رکھنے والے ادارے (SMEDA) ایک میز پر آئیں تاکہ نوجوانوں کو فنڈز کے ساتھ ساتھ مکمل کاروباری لائحہ عمل اور رہنمائی بھی یکجا میسر آ سکے۔خواتین اور کم سہولیات یافتہ طبقات کی شمولیت: پسماندہ اضلاع، دیہی علاقوں کے باصلاحیت نوجوانوں اور خصوصاً خواتین کاروباری افراد (Women Entrepreneurs) کو ملکی معیشت کے مرکزی دھارے میں شامل کیے بغیر جامع ترقی کا خواب ادھورا ہے۔ حکومت کا وژن ہے کہ پائیدار ترقی کے ثمرات نچلی سطح تک پہنچیں اور معاشی دھارے میں سب کو برابر کے مواقع ملیں۔امید واثق ہے کہ یہ سٹریٹجک شراکت داری کاغذی کارروائیوں سے آگے بڑھ کر عملی طور پر گراؤنڈ پر اثرات دکھائے گی، جس سے نہ صرف مائیکرو، سمال اور میڈیم انٹرپرائزز (MSMEs) کو فروغ ملے گا بلکہ پاکستان کا نوجوان معاشی طور پر خودمختار ہو کر ملکی معیشت کا سب سے مضبوط ستون بنے گا۔پاکستان کی حقیقی معاشی ترقی اس وقت تک ممکن ہی نہیں جب تک ترقی کے ثمرات ملک کے دور دراز، پسماندہ اور محروم طبقات تک نہ پہنچیں۔ ماضی میں معاشی پالیسیاں اکثر بڑے شہروں اور مراعات یافتہ طبقوں تک محدود رہیں، جس کی وجہ سے دیہی علاقوں اور چھوٹے اضلاع میں غربت اور احساسِ محرومی میں اضافہ ہوا۔ تاہم، وزیراعظم یوتھ پروگرام اور سمیڈا (SMEDA) کے مابین حالیہ شراکت داری اس روایتی ڈھانچے کو توڑنے اور ایک “جامع معاشی ماڈل” (Inclusive Economic Model) متعارف کروانے کی جانب ایک انقلابی قدم ہے۔اس مشترکہ وژن کے تحت معاشی ترقی اور پسماندہ طبقات کی شمولیت کو مندرجہ ذیل اہم نکات کے ذریعے یقینی بنایا جائے گا:دیہی ٹیلنٹ کی معاشی دھارے میں شمولیت: پاکستان کے دیہی علاقوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور دور افتادہ اضلاع (مثلاً بلوچستان اور جنوبی پنجاب) کے نوجوانوں میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں، لیکن وہ سرمایہ اور تکنیکی رہنمائی نہ ہونے کے باعث پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس نئے اشتراک کے ذریعے سمیڈا ان علاقوں میں موبائل ٹریننگ یونٹس اور بزنس انکیوبیشن سینٹرز قائم کرے گا، تاکہ وہاں کے نوجوانوں کو مقامی سطح پر ہی جدید کاروباری گُر سکھائے جا سکیں اور انہیں وزیراعظم یوتھ بزنس لون اسکیم کے تحت آسان قرضے فراہم کیے جائیں۔خواتین کاروباری افراد (Women Entrepreneurs) کی سرپرستی: کسی بھی ملک کی 50 فیصد آبادی کو معاشی عمل سے باہر رکھ کر ترقی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔ اس پالیسی کے تحت پسماندہ طبقات کی خواتین، بالخصوص جو گھر بیٹھے دستکاری، لائیوسٹاک یا چھوٹے پیمانے پر مائیکرو انٹرپرائزز چلا رہی ہیں، انہیں مارکیٹ تک براہِ راست رسائی (Market Access) فراہم کی جائے گی۔ سمیڈا ان خواتین کو ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ای کامرس کی تربیت دے گا تاکہ وہ اپنے گھروں سے ہی قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنا مال بیچ سکیں اور معاشی طور پر خودمختار ہو سکیں۔مالیاتی شمولیت (Financial Inclusion): پسماندہ طبقات کے لیے سب سے بڑا چیلنج بینکنگ نظام تک رسائی اور کاغذی کارروائیوں کی پیچیدگی ہوتی ہے۔ اس تاریخی معاہدے کا ایک بنیادی مقصد یہ ہے کہ مالیاتی شمولیت کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے۔ آسان ترین شرائط پر بلا سود اور کم شرحِ سود پر قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنا کر مائیکرو اور اسمال بزنسز (MSMEs) کو وہ آکسیجن فراہم کی جائے گی جس سے دیہی معیشت کا پہیہ تیزی سے گھومنے لگے گا۔جب نچلے طبقے کا ایک چھوٹا دکاندار، ایک ہنرمند خاتون، یا ایک دیہی کاشتکار معاشی طور پر مستحکم ہوگا، تو ملک میں غربت کی لکیر نیچے جائے گی اور حقیقی معاشی استحکام جنم لے گا۔ وزیراعظم یوتھ پروگرام اور سمیڈا کا یہ باہمی تعاون اسی پائیدار اور مساوی معاشی ترقی کا ضامن ہے۔اس مشترکہ وژن کے تحت معاشی ترقی اور پسماندہ طبقات کی شمولیت کو مندرجہ ذیل اہم نکات کے ذریعے یقینی بنایا جائے گا:دیہی ٹیلنٹ کی معاشی دھارے میں شمولیت: پاکستان کے دیہی علاقوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور دور افتادہ اضلاع (مثلاً بلوچستان اور جنوبی پنجاب) کے نوجوانوں میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں، لیکن وہ سرمایہ اور تکنیکی رہنمائی نہ ہونے کے باعث پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس نئے اشتراک کے ذریعے سمیڈا ان علاقوں میں موبائل ٹریننگ یونٹس اور بزنس انکیوبیشن سینٹرز قائم کرے گا، تاکہ وہاں کے نوجوانوں کو مقامی سطح پر ہی جدید کاروباری گُر سکھائے جا سکیں اور انہیں وزیراعظم یوتھ بزنس لون اسکیم کے تحت آسان قرضے فراہم کیے جائیں۔خواتین کاروباری افراد (Women Entrepreneurs) کی سرپرستی: کسی بھی ملک کی 50 فیصد آبادی کو معاشی عمل سے باہر رکھ کر ترقی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔ اس پالیسی کے تحت پسماندہ طبقات کی خواتین، بالخصوص جو گھر بیٹھے دستکاری، لائیوسٹاک یا چھوٹے پیمانے پر مائیکرو انٹرپرائزز چلا رہی ہیں، انہیں مارکیٹ تک براہِ راست رسائی (Market Access) فراہم کی جائے گی۔ سمیڈا ان خواتین کو ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ای کامرس کی تربیت دے گا تاکہ وہ اپنے گھروں سے ہی قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنا مال بیچ سکیں اور معاشی طور پر خودمختار ہو سکیں۔مالیاتی شمولیت (Financial Inclusion): پسماندہ طبقات کے لیے سب سے بڑا چیلنج بینکنگ نظام تک رسائی اور کاغذی کارروائیوں کی پیچیدگی ہوتی ہے۔ اس تاریخی معاہدے کا ایک بنیادی مقصد یہ ہے کہ مالیاتی شمولیت کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے۔ آسان ترین شرائط پر بلا سود اور کم شرحِ سود پر قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنا کر مائیکرو اور اسمال بزنسز (MSMEs) کو وہ آکسیجن فراہم کی جائے گی جس سے دیہی معیشت کا پہیہ تیزی سے گھومنے لگے گا۔جب نچلے طبقے کا ایک چھوٹا دکاندار، ایک ہنرمند خاتون، یا ایک دیہی کاشتکار معاشی طور پر مستحکم ہوگا، تو ملک میں غربت کی لکیر نیچے جائے گی اور حقیقی معاشی استحکام جنم لے گا۔ وزیراعظم یوتھ پروگرام اور سمیڈا کا یہ باہمی تعاون اسی پائیدار اور مساوی معاشی ترقی کا ضامن ہے۔ سماجی کارکن اور کاروباری شخصیت زوہیب خان نیازی کو وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت نوجوانوں کی معاشی خودمختاری اور مالی شمولیت کے لیے فوکل پرسن مقرر کر دیا گیا ہے۔ زوہیب خان نیازی کی نامزدگی پاکستان کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے، مالی شمولیت کے فروغ اور نوجوانوں کے لیے معاشی و مالی مواقع پیدا کرنے کے عزم کا اعتراف ہے۔اپنے نئے کردار میں زوہیب خان نیازی ایسی سرگرمیوں اور اقدامات میں معاونت کریں گے جن کا مقصد نوجوانوں کے لیے معاشی مواقع میں اضافہ، مالیاتی شعور اور شمولیت کا فروغ اور نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہے، تاکہ پاکستان کی نوجوان نسل ملکی ترقی میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے زوہیب خان نیازی نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کی جانب سے اعتماد کے اظہار پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان کے نوجوان ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا ایک مضبوط، خود انحصار اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے پاکستان کے نوجوانوں کے لیے معاشی مواقع، مالی شمولیت اور بااختیار بنانے کے فروغ کے لیے غیر جانب دارانہ اور مثبت انداز میں کام کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔مختلف حلقوں نے زوہیب خان نیازی کی نامزدگی کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ وہ نوجوانوں کی ترقی کے لیے اپنے تجربے اور دیرینہ وابستگی کو بروئے کار لاتے ہوئے اس اہم ذمہ داری میں مؤثر کردار ادا کریں گے

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

SLOT GACOR

SALAMJITU

SATGASJITU

SEMOGAJITU

SALAMJITU

Slot Gacor

MAUJP

Slot Gacor

SLOT GACOR

artikel 000000121

artikel 000000122

artikel 000000123

artikel 000000124

artikel 000000125

artikel 000000126

artikel 000000127

artikel 000000128

artikel 000000129

artikel 000000130

artikel 000000131

artikel 000000132

artikel 000000133

artikel 000000134

artikel 000000135

artikel 000000136

artikel 000000137

artikel 000000138

artikel 000000139

artikel 000000140

artikel 000000141

artikel 000000142

artikel 000000143

artikel 000000144

artikel 000000145

artikel 000000146

artikel 000000147

artikel 000000148

artikel 000000149

artikel 000000150

artikel 000000151

artikel 000000152

artikel 000000153

artikel 000000154

artikel 000000155

artikel 000000156

artikel 000000157

artikel 000000158

artikel 000000159

artikel 000000160

artikel 000000161

artikel 000000162

artikel 000000163

artikel 000000164

artikel 000000165

artikel 000000166

artikel 000000167

artikel 000000168

artikel 000000169

artikel 000000170

artikel 000000171

artikel 000000172

artikel 000000173

artikel 000000174

artikel 000000175

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

informasi terbaru kabupaten belu 00000081

informasi terbaru kabupaten belu 00000082

informasi terbaru kabupaten belu 00000083

informasi terbaru kabupaten belu 00000084

informasi terbaru kabupaten belu 00000085

informasi terbaru kabupaten belu 00000086

informasi terbaru kabupaten belu 00000087

informasi terbaru kabupaten belu 00000088

informasi terbaru kabupaten belu 00000089

informasi terbaru kabupaten belu 00000090

informasi terbaru kabupaten belu 00000091

informasi terbaru kabupaten belu 00000092

informasi terbaru kabupaten belu 00000093

informasi terbaru kabupaten belu 00000094

informasi terbaru kabupaten belu 00000095

informasi terbaru kabupaten belu 00000096

informasi terbaru kabupaten belu 00000097

informasi terbaru kabupaten belu 00000098

informasi terbaru kabupaten belu 00000099

informasi terbaru kabupaten belu 00000100

informasi terbaru kabupaten belu 00000101

informasi terbaru kabupaten belu 00000102

informasi terbaru kabupaten belu 00000103

informasi terbaru kabupaten belu 00000104

informasi terbaru kabupaten belu 00000105

informasi terbaru kabupaten belu 00000106

informasi terbaru kabupaten belu 00000107

informasi terbaru kabupaten belu 00000108

informasi terbaru kabupaten belu 00000109

informasi terbaru kabupaten belu 00000110

informasi terbaru kabupaten belu 00000111

informasi terbaru kabupaten belu 00000112

informasi terbaru kabupaten belu 00000113

informasi terbaru kabupaten belu 00000114

informasi terbaru kabupaten belu 00000115

informasi terbaru kabupaten belu 00000116

informasi terbaru kabupaten belu 00000117

informasi terbaru kabupaten belu 00000118

informasi terbaru kabupaten belu 00000119

informasi terbaru kabupaten belu 00000120

informasi terbaru kabupaten belu 00000121

informasi terbaru kabupaten belu 00000122

informasi terbaru kabupaten belu 00000123

informasi terbaru kabupaten belu 00000124

informasi terbaru kabupaten belu 00000125

informasi terbaru kabupaten belu 00000126

informasi terbaru kabupaten belu 00000127

informasi terbaru kabupaten belu 00000128

informasi terbaru kabupaten belu 00000129

informasi terbaru kabupaten belu 00000130

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download