LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش ;ایران امریکااسلام آباد مذاکرات پر سوالیہ نشان

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جلد متوقع ہے، تاہم آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش سے ایران امریکااسلام آباد مذاکرات پر سوالیہ نشان لگ گیاہے . سینئر پاکستانی سفارتی تجزیہ کار , صدر ڈپلومیٹک کرسپانڈنٹس فورم آف پاکستان (ڈی سی ایف پی) اصغر علی مبارک کے مطابق دو ہفتے کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے, یاد رہے کہ ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اس اہم بحری گزرگاہ کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا تاہم ایران کی سینٹرل ملٹری کمانڈ نے ہفتے کی صبح امریکی بحری ناکہ بندی کے جواب میں آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا دوسری جانب پاکستان اس وقت ان مذاکرات میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں تین روزہ مذاکرات مکمل کر کے واپس پہنچ چکے ہیں، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف بھی قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کے دورے مکمل کر چکے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی اس بیٹھک سے ایک ابتدائی مفاہمتی یادداشت سامنے آ سکتی ہے، جس کے بعد ساٹھ دنوں کے اندر مکمل امن معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ آیا رواں ہفتے کے آخر میں دونوں ممالک کے درمیان کوئی براہِ راست اعلیٰ سطح کی ملاقات ہو سکے گی یا نہیں۔ ایٹمی پروگرام اب بھی مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکا ایران سے افزودہ یورینیم کا ذخیرہ نکال لے جائے گا، جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دو ٹوک کہا ہے کہ یہ مواد کسی صورت ملک سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا۔ ایران میں جمعہ کے اجتماعات کے دوران سینیئر علماء نے بھی سخت لہجہ اختیار کیا ہے، علامہ احمد خاتمی کا کہنا تھا کہ ہماری قوم ذلت کی بنیاد پر مذاکرات نہیں کرتی۔ ان اختلافات کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دس فیصد کمی دیکھی گئی ہے پاکستان اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز ہے کیونکہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہے, جس کے لیے اسلام آباد میں تیاریاں عروج پر پہنچ گئی ہیں,
سفارتی ذرائع کے ذریعے انہوں نے بتایا کہ اگرچہ امریکا اور ایران کی حکومتوں نے باضابطہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی ہے، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ہی اشارہ دے دیا تھا کہ ہفتے کے اختتام پر مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے اسلام آباد مذاکرات کئی گھنٹے جاری رہنے کے باوجود کسی معاہدے پر ختم نہیں ہو سکے تھے، تاہم اب دوسرے دور سے عالمی سطح پر بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ اچھی بات چیت ہورہی ہے، جس میں امریکا نے سخت مؤقف اپنا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنا چاہتا ہے لیکن اب وہ ہمیں بلیک میل نہیں کرسکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے ایران کی اعلیٰ قیادت، نیوی اور ایئرفورس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ کہا کہ ہم ایران سے اب بھی بات چیت کر رہے ہیں، معاہدے کے حوالے سے جو بھی صورتِ حال ہوگی وہ دن کے آخر تک واضح ہوجائے گی، آپ اسے ایک جبری حکومت کی تبدیلی کہہ سکتے ہیں، ایران ہمیں مزید بلیک میل نہیں کرسکتا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایا گیا، رجیم کی قیادت کو ختم کیا گیا، سلیمانی بہت سے امریکی فوجیوں کے معذور ہونے اورہلاکتوں کا ذمہ دارتھا، نہ ان کی نیوی بچی، نہ ائیرفورس اور نہ ہی کوئی لیڈر۔ اس دوران پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے آغاز پر ایران نے یومیہ بنیاد پر مخصوص تعداد میں جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ تاہم لبنان میں جنگ بندی پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث ایران نے اس معاہدے کو معطل کر دیا تھا، جسے اب دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی تاحال منظوری نہیں دی۔ متعلقہ حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حالیہ صورتِ حال میں کسی نئے مذاکراتی مرحلے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق یہ تعطل امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکا بندی کے اعلان اور مذاکرات میں سخت مطالبات کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں پیغامات کا تبادلہ ہوا، تاہم اس کے باوجود کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی آئندہ ہفتے 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے اسلام آباد مذاکرات انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں ,ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ امریکا غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات سے گریز کرے، بصورت دیگر ایران طویل اور غیر نتیجہ خیز مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔

تسنیم کے مطابق ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ایران نے اپنا مؤقف امریکی حکام تک پاکستان کے ذریعے پہنچا دیا ہے، جب کہ آئندہ صورتِ حال کا دارومدار دونوں جانب کے فیصلوں پر ہوگا۔

اس حوالے سے ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک مذاکرات کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی، اس وقت فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر توجہ ہے، نہیں چاہتے کہ ایسے مذاکرات ہوں جو ناکامی کی طرف جائیں، جب تک فریم ورک طے نہیں ہوتا، مذاکرات کی تاریخ نہیں دے سکتے۔ اسلام آباد مذاکرات کے لیے وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں اور پورے شہر کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ اسلام آباد پولیس کو پنجاب پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت حاصل ہے اور شہر بھر میں سات ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں, خاص طور پر ریڈ زون کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں کی چیکنگ جا رہی ہے,سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انتظامیہ نے اندرونِ شہر کے تمام بس اڈے تاحکم ثانی بند کر دیے ہیں دوسری طرف شہرِ اقتدار کو اس اہم سفارتی مشن کے لیے سجایا بھی جا رہا ہے ,ایران کی پہلی شرط کے مطابق اس بحری راستے سے صرف تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہوگی جب کہ فوجی جہازوں کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔ دشمن ملک کے جہازوں یا ایسے جہاز جن پر دشمن ممالک کا سامان لدا ہوگا، انہیں یہ راستہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ دوسری شرط کے مطابق تمام بحری جہاز ایران کے متعین کردہ راستے سے ہی گزرنے کے پابند ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے تیسری شرط کے تحت ان جہازوں کے پاسدارانِ انقلاب سے رابطے کو لازمی قرار دیا ہے۔ ایران کے مطابق آبنائے ہرمز کا استعمال کرنے والے جہازوں کو ایرانی فورسز کے ساتھ مستقل رابطے میں رہنا ہوگا۔سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے قریبی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ اگر خطے میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا سلسلہ جاری رہا تو اسے جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت پر دوبارہ پابند ی عائد کی جاسکتی ہے۔اس سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق دیے گئے بیان میں واضح کیا تھا کہ یہ راستہ جنگ بندی کے عرصے تک ’تجارتی جہازوں‘ کے لیے کھولا گیا ہے اور ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن تجارتی جہازوں کے گزرنے کا روٹ بھی وضع کرچکی ہے۔ اس حوالے سے ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک مذاکرات کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی، اس وقت فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر توجہ ہے، نہیں چاہتے کہ ایسے مذاکرات ہوں جو ناکامی کی طرف جائیں، جب تک فریم ورک طے نہیں ہوتا، مذاکرات کی تاریخ نہیں دے سکتے۔ سعید خطیب زادہ کے مطابق درحقیقت بڑی اچھی پیش رفت ہوئی تھی، لیکن پھر زیادہ سے زیادہ والی سوچ نے معاہدہ نہ ہونے دیا، بین الاقوامی قوانین سے بالاتر کوئی چیز تسلیم نہیں کریں گے، جو بھی وعدہ کریں گے وہ بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں کریں گے۔ اس سے قبل، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سے متعلق دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹ پر مبنی قرار دیا تھا۔ باقر قالیباف نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام سات دعوے غلط ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹے بیانات کے ذریعے نہ ماضی میں کوئی نتیجہ حاصل کیا جا سکا اور نہ ہی مستقبل میں ایسا ممکن ہوگا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کے تسلسل کی صورت میں اس آبی گزرگاہ کو کھلا نہیں رکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق اس راستے سے گزرنے کے لیے ایران کی اجازت اور مقررہ ضوابط کی پابندی ضروری ہوگی۔ مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق فیصلے زمینی حقائق کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں نہ کہ سوشل میڈیا پر۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ میڈیا کے ذریعے رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوششیں جنگی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ خیال رہے کہ ہفتے کے روز آبنائے ہرمز میں بحری آمد ورفت شدید الجھن اور کشیدگی کا شکار ہو گئی ہے ہزاروں جہاز پھنسے ہوئے ہیں جب کہ کئی جہاز راستہ بدل کر واپس جا رہے ہیں۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے مشترکہ فوجی کمانڈ نے امریکی ناکا بندی کو بنیاد بناتے ہوئے آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ ایران نے ایک روز قبل کہا تھا کہ وہ تجارتی جہازوں کے لیے راستہ کھلا رکھے گا، تاہم متعدد بحری جہاز، جو آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے، خاص طور پر لراک جزیرے کے قریب پہنچ کر واپس پلٹ گئے۔ کچھ جہاز خلیج عمان کی طرف آگے بڑھنے میں کامیاب ہوئے، تاہم ان میں سے بعض ایسے جہاز بھی شامل تھے جن پر پابندیاں عائد ہیں، بحری ٹریکنگ کے مطابق بڑی تعداد میں جہاز فی الحال راستہ بدل کر مغربی سمت میں واپس جا رہے ہیں، جب کہ ہزاروں بحری جہاز پھنسے ہوئے ہیں اور زیادہ تر کمپنیاں کسی بھی خطرے سے بچنے کے لیے انتظار کی پالیسی اختیار کر رہی ہیں۔ ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کم از کم دو تجارتی جہازوں پر فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئیں۔ یہ معلومات بحری سلامتی اور شپنگ کے تین مختلف ذرائع نے فراہم کیں، ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی مشترکہ فوجی کمانڈ نے امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کو قزاقی اور وعدہ خلافی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ سخت کر دیا گیا ہے۔ ہفتے کے روز اس راستے سے گزرنے والے دو تجارتی جہازوں پر فائرنگ کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایرانی بحریہ کی جانب سے بعض جہازوں کو ریڈیو پیغام بھی موصول ہوا جس میں آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ اب کسی بھی جہاز کو اس گزرگاہ کے استعمال کی اجازت نہیں ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے آپ کو خبردار کیا تھا لیکن آپ نے ہمیں نظرانداز کیا۔ اب آبنائے ہرمز کی بندش کا مزہ لیں‘ اس سے قبل بحری ٹریکنگ ڈیٹا کے ذریعے 8 آئل ٹینکرز پر مشتمل ایک قافلے کی نقل و حرکت دیکھی گئی تھی، جو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد اس راستے پر پہلی بڑی بحری سرگرمی تھی۔
ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ صورتِ حال اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکا ایرانی جہازوں کی نقل و حرکت پر عائد رکاوٹیں ختم نہیں کر دیتا۔دوسری جانب امریکی فوج نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کی تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد خلیج میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکا ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے جہازوں کے خلاف اپنی اعلان کردہ ’بحری ناکہ بندی‘ پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھارتی پرچم بردار دو جہازوں کو آبنائے ہرمز عبور کرنے سے روک دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ایرانی گن بوٹس نے بھارتی جہازوں پر فائرنگ کی، تاہم واقعے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ بھارت نے اس واقعے پر سخت احتجاج کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو طلب کر لیا ہے۔ بھارتی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کے روز ایرانی گن بوٹس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو بھارتی بحری جہازوں کو روکا اور ان پر فائرنگ کی، جس کی وجہ سے انہیں واپس لوٹنا پڑا۔ اس واقعے کے فوراً بعد بھارت نے ایرانی سفیر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ بین الاقوامی شپنگ ڈیٹا اور ٹینکر ٹریکنگ سروس کے مطابق بھارت جانے والے دو جہاز ’جگ ارنَو‘ اور ’سنمار ہیرالڈ‘ آبنائے ہرمز کے شمال میں عمان کے قریب پہنچنے کے بعد واپس پلٹ گئے۔ سنمار ہیرالڈ ایک سُپر ٹینکر ہے جس پر 20 لاکھ بیرل عراقی تیل لدا ہوا تھا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دونوں بحری جہازوں پر موجود عملہ محفوظ ہے، تاہم حملے کی نوعیت اور تفصیلات تاحال واضح نہیں ہوسکی ہیں, واضح رہے کہ ایران نے جمعہ کے روز تین شرائط کے تحت آبنائے ہرمز کو عالمی تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے بحری ناکہ بندی جاری رکھی تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کرتے ہوئے اس راستے کو دوبارہ بند کیا جا سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے جنگ کے عرصے تک تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ تمام نکات پر سو فیصد نہ ہونے تک امریکی بحریہ ایرانی سمندری حدود کی مکمل ناکہ بندی جاری رکھے گی۔ دوسری طرف اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے باوجود صہیونی افواج نے حملے جاری ہیں۔ جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن پر حملے میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز ’ایکس‘ پر جاری بیان میں جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں متعدد حملوں کا اعتراف کیا ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب جنوبی لبنان کے کئی علاقوں پر صیہونی فوج کا قبضہ برقرار ہے۔ بیان میں اِن حملوں کو دفاعی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُسے جنگ بندی کے باوجود اپنے فوجیوں اور اسرائیلی شہریوں کی حفاظت کے تحت کارروائیاں کرنے کا اختیار حاصل ہے۔مزید حملوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے شہریوں اور فوجیوں کو ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی ,

آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو تجارتی جہازوں پر فائرنگ کے واقعات کی تصدیق کی تھی۔یاد رہے کہ ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اس اہم بحری گزرگاہ کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا تاہم ایران کی سینٹرل ملٹری کمانڈ نے ہفتے کی صبح امریکی بحری ناکہ بندی کے جواب میں آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو تجارتی جہازوں پر فائرنگ کے واقعات کی تصدیق کی تھی۔ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے آغاز پر ایران نے یومیہ بنیاد پر مخصوص تعداد میں جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ تاہم لبنان میں جنگ بندی پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث ایران نے اس معاہدے کو معطل کر دیا تھا، جسے اب دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔

ایران کی پہلی شرط کے مطابق اس بحری راستے سے صرف تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہوگی جب کہ فوجی جہازوں کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔ دشمن ملک کے جہازوں یا ایسے جہاز جن پر دشمن ممالک کا سامان لدا ہوگا، انہیں یہ راستہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

دوسری شرط کے مطابق تمام بحری جہاز ایران کے متعین کردہ راستے سے ہی گزرنے کے پابند ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے تیسری شرط کے تحت ان جہازوں کے پاسدارانِ انقلاب سے رابطے کو لازمی قرار دیا ہے۔ ایران کے مطابق آبنائے ہرمز کا استعمال کرنے والے جہازوں کو ایرانی فورسز کے ساتھ مستقل رابطے میں رہنا ہوگا۔

تسنیم نیوز کے مطابق سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے قریبی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ اگر خطے میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا سلسلہ جاری رہا تو اسے جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت پر دوبارہ پابنید عائد کی جاسکتی ہے۔
اس سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق دیے گئے بیان میں واضح کیا تھا کہ یہ راستہ جنگ بندی کے عرصے تک ’تجارتی جہازوں‘ کے لیے کھولا گیا ہے اور ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن تجارتی جہازوں کے گزرنے کا روٹ بھی وضع کرچکی ہے۔ تاہم اس کے کچھ دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگرچہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے کھل چکا ہے لیکن ایران پر امریکی بحریہ کی ناکہ بندی اس وقت تک پوری طاقت سے برقرار رہے گی جب تک امریکا کی ایران کے ساتھ ڈیل 100 فیصد مکمل نہیں ہو جاتی۔ ایرانی صدر کے ترجمان نے بھی ٹرمپ کے مستقبل میں آبنائے ہرمز کو بند نہ کرنے کی یقین دہائی کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر امریکا نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

SLOT GACOR

SALAMJITU

SATGASJITU

SEMOGAJITU

SALAMJITU

Slot Gacor

MAUJP

Slot Gacor

SLOT GACOR

artikel 000000121

artikel 000000122

artikel 000000123

artikel 000000124

artikel 000000125

artikel 000000126

artikel 000000127

artikel 000000128

artikel 000000129

artikel 000000130

artikel 000000131

artikel 000000132

artikel 000000133

artikel 000000134

artikel 000000135

artikel 000000136

artikel 000000137

artikel 000000138

artikel 000000139

artikel 000000140

artikel 000000141

artikel 000000142

artikel 000000143

artikel 000000144

artikel 000000145

artikel 000000146

artikel 000000147

artikel 000000148

artikel 000000149

artikel 000000150

artikel 000000151

artikel 000000152

artikel 000000153

artikel 000000154

artikel 000000155

artikel 000000156

artikel 000000157

artikel 000000158

artikel 000000159

artikel 000000160

artikel 000000161

artikel 000000162

artikel 000000163

artikel 000000164

artikel 000000165

artikel 000000166

artikel 000000167

artikel 000000168

artikel 000000169

artikel 000000170

artikel 000000171

artikel 000000172

artikel 000000173

artikel 000000174

artikel 000000175

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

informasi terbaru kabupaten belu 00000081

informasi terbaru kabupaten belu 00000082

informasi terbaru kabupaten belu 00000083

informasi terbaru kabupaten belu 00000084

informasi terbaru kabupaten belu 00000085

informasi terbaru kabupaten belu 00000086

informasi terbaru kabupaten belu 00000087

informasi terbaru kabupaten belu 00000088

informasi terbaru kabupaten belu 00000089

informasi terbaru kabupaten belu 00000090

informasi terbaru kabupaten belu 00000091

informasi terbaru kabupaten belu 00000092

informasi terbaru kabupaten belu 00000093

informasi terbaru kabupaten belu 00000094

informasi terbaru kabupaten belu 00000095

informasi terbaru kabupaten belu 00000096

informasi terbaru kabupaten belu 00000097

informasi terbaru kabupaten belu 00000098

informasi terbaru kabupaten belu 00000099

informasi terbaru kabupaten belu 00000100

informasi terbaru kabupaten belu 00000101

informasi terbaru kabupaten belu 00000102

informasi terbaru kabupaten belu 00000103

informasi terbaru kabupaten belu 00000104

informasi terbaru kabupaten belu 00000105

informasi terbaru kabupaten belu 00000106

informasi terbaru kabupaten belu 00000107

informasi terbaru kabupaten belu 00000108

informasi terbaru kabupaten belu 00000109

informasi terbaru kabupaten belu 00000110

informasi terbaru kabupaten belu 00000111

informasi terbaru kabupaten belu 00000112

informasi terbaru kabupaten belu 00000113

informasi terbaru kabupaten belu 00000114

informasi terbaru kabupaten belu 00000115

informasi terbaru kabupaten belu 00000116

informasi terbaru kabupaten belu 00000117

informasi terbaru kabupaten belu 00000118

informasi terbaru kabupaten belu 00000119

informasi terbaru kabupaten belu 00000120

informasi terbaru kabupaten belu 00000121

informasi terbaru kabupaten belu 00000122

informasi terbaru kabupaten belu 00000123

informasi terbaru kabupaten belu 00000124

informasi terbaru kabupaten belu 00000125

informasi terbaru kabupaten belu 00000126

informasi terbaru kabupaten belu 00000127

informasi terbaru kabupaten belu 00000128

informasi terbaru kabupaten belu 00000129

informasi terbaru kabupaten belu 00000130

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download