LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیراعظم پاکستان کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور عراقی پانیوں میں دو آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیاہے۔عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے نرخوں کے پیشِ نظر پیٹرولیم مصنوعات کے مزید مہنگا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔حکومت نے گزشتہ ہفتے ہی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر کا بڑا اضافہ کیا تھا,عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 13 مارچ 2026 تک کے اعداد و شمار کے مطابق 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے تجاوز کر گئی ہیں۔ برطانوی برینٹ کروڈ 100.50ڈالرفی بیرل پرٹریڈہورہا ہے،امریکی کروڈ آئل 95.30ڈالر فی بیرل ہو گیا رپورٹ کے مطابق عراقی سمندری حدود کے قریب دو بین الاقوامی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے۔ ماہرین کے مطابق اگر خلیج اور آبنائے ہرمز کے قریب کشیدگی برقرار رہی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
دوسری طرف وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے عالمی منڈی میں تیل کی مزید قیمتیں بڑھنے کے باوجود عوام سے کئے گئے وعدے کے مطابق اس مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے , وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جمعہ کو جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ عام آدمی پر بوجھ کم کرنے کے لیے، قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جا رہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وعدے کے مطابق جس قدر ہو سکا، ان مشکل حالات میں عوام کو ریلیف پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی معیشت اس وقت دبائو میں ہے جس کے پاکستان کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے تاہم بروقت پالیسی سازی، حکومت کی جانب سے بچت کے اقدامات اور مالی نظم و ضبط کی بدولت اس صورتحال سے احسن طریقے سے انسانی حد تک نمٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بطور خادم پاکستان ان مشکل حالات میں غریب آدمی پر بوجھ کم کرنے کیلئے اس ملک کی اشرافیہ اور حکومت سے شروعات کا عزم کیا۔ وفاقی حکومت میں بچت اقدامات کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتیں بھی ان اقدامات میں وفاقی حکومت کا بھرپور ساتھ دے رہی ہیں جو خوش آئند ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے سفارتی اور معاشی ٹیم کی کوششوں کی بدولت خام تیل کی ملکی ضرویات کیلئے مناسب مقدار میسر ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں مل کر کسی کو بھی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ قیمت سے زائد قیمت کی وصولی کی روک تھام یقینی بنا رہی ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ عالمی سطح پر حالات بہتر ہوں اور عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام آئے۔
اس دوران آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ وائس چیئرمین پی پی ڈی اے طارق حسن نے کہا کہ حکومت نے رات کے اندھیرے میں تیل مہنگا کیا، 21 روپے پیٹرولیم لیوی بڑھائی گئی باقی کے 36 روپے فی لیٹر کس کی جیب میں گئے؟ 55روپے اضافے پر شفاف تحقیقات کی جائیں, کہا کہ ہمارے مارجن کو2سال قبل بڑھانے کا وعدہ کیا گیا تھاجواب تک نہیں بڑھا، 55 روپے فی لیٹرتیل مہنگا ہونے سے تیل خریدنے کیلئے ہماری لاگت بڑھ گئی جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیز کواربوں روپے کا فائدہ پہنچایا گیا۔ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی شفاف تحقیقات اور ہمارا مارجن نہ بڑھا تو 26 مارچ سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کریں گے۔ یاد رہے کہ پاکستان کے پاس مارچ کے لیے تیل کا مناسب ذخیرہ موجود ہے، تاہم عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے باعث پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، عالمی منڈی میں برینٹ آئل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے،حکومت نے کفایت شعاری اقدامات پر عمل درآمد بھی شروع کر دیا ہے۔ ایندھن کے کم استعمال کے لیے اسلام آبا د میں سرکاری تعطیل دی گئی ہے،اس کے علاوہ پاکستان نے جیٹ فیول اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمد پر بھی پابندی عائد کر دی ہے،گزشتہ روز وزیرِ پیٹرولیم نے بتایا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا اور نئی قیمتوں کا تعین اوسط عالمی نرخوں کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا،واضح رہے کہ خطے کی کشیدہ صورتحال اور عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث حکومت گزشتہ ہفتے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر چکی ہے۔ امریکا نے عارضی طور پر دیگر ممالک کو پابندیوں کے تحت آنے والے روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات خریدنے کی اجازت دے دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی محکمۂ خزانہ کے سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ یہ ایک عارضی اقدام ہے جس کا مقصد جنگ کے دوران ’عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام کو فروغ دینا‘ ہے۔صدر ٹرمپ کی یہ اجازت 11 اپریل تک برقرار رہے گی۔ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ’یہ محدود اور قلیل مدتی اقدام صرف اس تیل پر لاگو ہوتا ہے جو پہلے سے ترسیل کے مراحل میں ہے اور اس سے روسی حکومت کو کوئی نمایاں مالی فائدہ نہیں پہنچے گا۔یاد رہے کہ جمعرات کو تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی تھیں اور سٹاک مارکیٹس میں کمی دیکھی گئی۔اسکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ تیل کی قیمتوں میں یہ عارضی اضافہ ایک مختصر اور وقتی خلل ہے، جو طویل مدت میں ہمارے ملک اور معیشت کے لیے بڑے فائدے کا باعث بنے گا۔ایل این جی کی قیمت میں 2.26 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک اضافہ ہوگیا، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے مارچ کے لیے ایل این جی کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سوئی سدرن کے سسٹم پر ایل این جی کی قیمت میں 2.26 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ ہوگیا۔ سوئی ناردرن کے سسٹم پر ایل این جی 2.22 ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو مہنگی کی گئی ہے سوئی ناردرن کےلیے ایل این جی کی نئی قیمت 13.55 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے جبکہ سوئی سدرن کےلیے ایل این جی کی نئی قیمت 12.53 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔ اس دوران سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ اگر حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھاتی تو سپلائی معطل ہو جاتی، قلت پیدا ہوتی ، بڑا گردشی قرض بنتا اورآئل ڈپو پر حملے شروع ہو جاتے، پٹرول کی راشننگ کرنے سے بہت نقصان کا خدشہ ہے ، اس وقت عالمی مارکیٹ میں پریمیئم اور انشورنس دستیاب نہیں، سعودی عرب سے بڑا جہاز پہلے عمان اور پھر چھوٹے جہازوں سے تیل پاکستان آئے گا، ملک میں ایل این جی گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز نہیں، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان جنگ جیسی صورتحال سے دوچار ہے اور خطے میں کشیدگی کے اثرات معیشت پر پڑ سکتے ہیں ،عالمی مالیاتی اداروں کی ہدایات پر عمل نہ کیا گیا تو پاکستان دوبارہ گرے لسٹ میں جا سکتا ہے۔ وزیر مملکت خزانہ بلال کیانی نے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ آج لیا جائے گا، حکومت کی کوشش ہوگی عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے ۔خزانہ کمیٹی کا اجلاس سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا جس میں وزیر خزانہ اور وزیر پٹرولیم نے خطے میں کشیدگی سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بریفنگ دی۔ وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ ہے ۔ قطر نے جنگ کے باعث پاکستان کو ایل این جی کی فراہمی روک دی ہے اور 25 ملین ڈالر کا کارگو 100 ملین ڈالر میں دستیاب ہے ۔ سعودی عرب تیل کی فراہمی میں تعاون کر رہا ہے تاہم وہاں سے تیل کی ترسیل میں 15 سے 20 دن لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں کھاد کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے اور چھ پلانٹس بند کرنے پر غور کیا جا رہا ہے ۔ وزیر پٹرولیم نے کہا کہ اگر حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھاتی تو سپلائی معطل ہو جاتی اور فیول کی قلت پیدا ہو جاتی۔ قیمتیں نہ بڑھانے کی صورت میں کمپنیاں بڑھتی لاگت کے باعث درآمد روک دیتیں اور ملک میں فیول ڈرائی آؤٹ کی صورتحال پیدا ہو سکتی تھی۔کمیٹی رکن فاروق نائیک نے کہا کہ حکومت نے پرانے سٹاک کی بنیاد پر پٹرولیم کی قیمت 55 روپے لٹر بڑھا دی۔ غریب سے پیسہ لے کر امیر کو دے دیا گیا، اسرائیل نے میزائل مارے اور آپ نے پاکستان میں پٹرول میزائل مار دیا ۔ انہوں نے سوال کیا کہ عالمی قیمتیں کم ہونے پر کیا حکومت عوام کو ریلیف دے گی۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان جنگ جیسی صورتحال سے دوچار ہے اور خطے میں کشیدگی کے اثرات معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔ وزیر پٹرولیم نے کہا کہ قیمتیں نہ بڑھانے سے فیول درآمد رک جاتی اور نقصان کا خطرہ ہوتا۔ پٹرول کی راشننگ کرنے سے بہت نقصان کا خدشہ ہے، پٹرولیم ذخائر جو 70 ڈالرفی بیرل میں خریدے گئے وہ اب 120 ڈالر فی بیرل پر حاصل کیے جائیں گے ، اگر قیمت نہ بڑھاتے تو فرق ایک بڑا گردشی قرض بن جاتا، اگر سبسڈی دی جاتی تو پٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا ہو جاتی، اس صورتحال میں آئل ڈپو پر حملے شروع ہو جاتے ، بھارت ابھی تک فیول پر سبسڈی دے رہا ہے ، تاہم وہاں ایل این جی کی قیمت میں اضافہ کیا جا رہا ہے ، وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ ملک میں ایل این جی گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز نہیں، ایل این جی کی قیمت سال میں دو بار جنوری اور جولائی میں بڑھائی جاتی ہے ، ایران سے ایل پی جی گیس کی فراہمی میں کوئی کمی نہیں آئی۔
چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ جنگ جاری رہی تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمت 500 روپے لٹر جانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے جس پر وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں اوپر جارہی ہیں، وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق قیمتیں مینج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وزیر پٹرولیم نے کہا کہ آج جمعہ کو عالمی نئی قیمت دیکھ کر کوئی فیصلہ کریں گے ۔وزیر مملکت برائے خزانہ بلال کیانی نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا دوبارہ جائزہ آج جمعہ کو لیا جائے گا اور کوشش ہوگی کہ عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے ۔ وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف نے فروری 2026 تک کیے گئے اقدامات کو سراہا ہے اور اگر کشیدگی جاری رہی تو بیرونی فنانس، مہنگائی، ریونیو اور کرنٹ اکاؤنٹ پر اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اجلاس میں سٹیٹ بینک اور ایف بی آر کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ کو ہراساں کرنے کے معاملے کا بھی نوٹس لیا گیا۔ ارکان نے کہا کہ پولیٹیکل ایکسپوزڈ پرسنز کے نام پر سیاستدانوں، ججوں اور بیوروکریٹس کو مشکلات کا سامنا ہے اور یہ کاروباری ماحول متاثر کر رہا ہے ۔ڈپٹی گورنرسٹیٹ بینک ڈاکٹر عنایت حسین نے کہا کہ یہ ریگولیشنز فیٹف اور آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں کی ہدایات پر عمل نہ کیا گیا تو پاکستان دوبارہ گرے لسٹ میں جا سکتا ہے ۔چیئرمین پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن ظفر مسعود نے کہا کہ اس مسئلے پر بات چیت کے ذریعے حل نکالا جا سکتا ہے ۔ کمیٹی نے اس معاملے کے لیے ذیلی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ رکن کمیٹی فیصل سبزواری نے کہا کہ انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن نئے بینک اکاؤنٹس کھلوانے کا کہتا ہے ، مگر کمرشل بینک اکاؤنٹس کھولنے میں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، لہٰذا جب تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو ہمیں بہت زیادہ منافع ہوتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی بڑھتی قیمتوں اور مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کو معمولی قرار دیا اور کہا کہ امریکا تیل کی قیمتوں میں اضافے سے فائدہ اٹھاتا ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر بیان دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، لہٰذا جب تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تو ہم بہت زیادہ کماتے ہیں، لیکن میرے لیے سب سے اہم اور زیادہ اہمیت کا حامل مقصد یہ ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے اور مشرقِ وسطیٰ و دنیا کو تباہ کرنے سے روکا جائے۔امریکی صدر نے کہا کہ وہ کبھی ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، اپنے بیان میں ٹرمپ نے ایران کو بدی کی سلطنت قرار دیا اور کہا کہ میں کبھی بھی مشرق وسطیٰ اور دنیا کو تباہ نہیں ہونے دوں گا۔خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب بین الاقوامی ایجنسی برائے توانائی (آئی ای اے) نے خبردار کیا کہ ایران کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث دنیا کو عالمی تیل کی مارکیٹ میں تاریخ کی سب سے بڑی سپلائی رکاوٹ کا سامنا ہو سکتا ہے۔دوسری جانب امریکی جریدے ایکسیوز کے مطابق صدر ٹرمپ کا ایران سے جنگ اگلے تین چار ہفتے جاری رکھنے کا ارادہ ہے۔ جس کے بعد وہ اگلے اقدامات کا کوئی فیصلہ کریں گے۔اسی دوران امریکی جریدے ایکسیوز کے مطابق ٹرمپ کے مشیروں نے ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش کا سلسلہ جاری رکھا تو وہ جنگ کو طول دے کر تیل کی قیمتوں کو ناقابل برداشت حد پر پہنچادیں گے۔ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے خلیجی عرب ممالک کو ایک مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر کمال خرازی نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک پر حملے جاری رہیں گے تاکہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کریں۔دوسری جانب امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے بھی خلیجی اتحادیوں پر دباؤ ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہیں ہوتے تو امریکہ کو ان کے دفاع پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔خلیجی ریاستیں اس جنگ میں براہِ راست شامل ہونے سے گریز کر رہی ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اس کے طویل مدتی اثرات انہیں ہی بھگتنا پڑیں گے، ایک اماراتی عہدیدار کے مطابق ایران خطے کا مستقل ہمسایہ ہے اور بالآخر تعلقات کو بحال کرنا پڑے گا۔
جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی بھی متاثر ہو رہی ہے، خلیج کو عالمی منڈیوں سے ملانے والی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل تقریباً رک گئی ہے، جس سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی خطرے میں پڑ گئی ہے۔اسی دوران قطر انرجی نے بھی اپنے کچھ گیس منصوبوں کی پیداوار روک دی ہے جس کے بعد یورپ میں گیس کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔قطر کے توانائی وزیر کے مطابق اگر جنگ جاری رہی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔حالیہ دنوں میں ایران کے قشم جزیرہ پر واقع پانی صاف کرنے کے پلانٹ پر حملہ ہوا جس کے جواب میں ایران نے بحرین میں ایک ڈی سیلینیشن پلانٹ کو ڈرون حملے سے نقصان پہنچایا، اس واقعے کے بعد خلیجی ممالک میں پانی کی فراہمی کے نظام کو لاحق خطرات پر تشویش بڑھ گئی ہے۔خلیجی ممالک دنیا کی ڈی سیلینیشن صلاحیت کا تقریباً نصف حصہ رکھتے ہیں، اس لیے پانی کے انفرا اسٹرکچر پر حملے خطے کے لیے سنگین بحران پیدا کر سکتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی حکومتیں ابھی تک جنگ میں شامل ہونے سے گریز کر رہی ہیں، لیکن مسلسل حملوں کی صورت میں ان کے لیے غیر جانبدار رہنا بھی مشکل ہو سکتا ہےاوگرا کے ترجمان عمران غزنوی کا کہنا ہے کہ ملک میں اس وقت پیٹرول اور ڈیزل وافر ہے، کوئی قلت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ قیمت بڑھنے سے پہلے زیادہ سے زیادہ تیل خریدنا چاہتے تھے، مارکیٹ میں اب افواہیں دم توڑ گئیں، افراتفری ختم ہو چکی۔
ترحمان اوگرا کا کہنا ہے کہ ملک بھر کے پیٹرول پمپس کی سخت مانیٹرنگ کی جا رہی ہے، آئل کمپنیوں پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قلت، ذخیرہ اندوزی یا زائد قیمت میں ملوث پیٹرول پمپس کی فوری اطلاع دیں۔حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کیا ، پٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 55روپے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا ہے‘اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 321روپے 17پیسے اور ڈیزل کی نئی قیمت 335 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہےجس کا اطلاق جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب سے ہوگیا ہے‘اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن کر دیا ہے۔ نائب وزیراعظم اوروزیرخارجہ سینیٹر اسحاق ڈار‘وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت ہمارے پاس پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی بھی اچھی تعداد ہے تاہم اگر یہ سلسلہ زیادہ چلا تو صورت حال تبدیل ہوسکتی ہے‘عالمی صورت حال کو دیکھتے ہوئے حکومت مزیدسخت فیصلے بھی کرے گی‘وزیراعظم چاہتے ہیں عوام پرکم ازکم بوجھ ڈالاجائے ‘ جیسے ہی معاملات بہتر ہوں گے اسی پھرتی کے ساتھ قیمتیں کم کریں گے‘ موجودہ صورتحال ختم ہونے کی کوئی تاریخ متعین نہیں‘کشیدگی میں کمی کیلئے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل بھی دوسرے ممالک سے رابطے میں ہیں‘سعودی آرامکونے بھی ینبع پورٹ سے بڑے جہاز کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کو ہمارے سمندروں میں لا کر کھڑا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔اسحاق ڈار نے کہا کہ خطے میں جنگ کی صورتحال ہے‘ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں‘ وزیراعظم اس متعلق بہت فکر مند ہیں، وزیراعظم نے جمعہ کو خود میٹنگ کی ہےجس میں صورتحال کاجائزہ لیا،انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھنا ہے کہ کتنا اضافہ کرنا ہے، ،متوازن کرکے ہم نے کوئی راستہ نکالنا تھا‘ہم نے دیگر ملکوں کےوزرائے خارجہ سے رابطے کیے ‘ پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ ساتھیوں کو ساتھ ملا کر کشیدگی کم کرائی جائے، اس کشیدگی کو کم کرنے میں کتنی دیر لگے گی دیکھنا ہے، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل بھی دوسرے ممالک سے اپنے ہم منصبوں سے رابطے میں ہیں‘پانچ روز گزر چکے ہیں روز جائزہ لیتے ہیں‘قیمتوں میں ہر روز خطیر اضافہ ہورہا ہے۔وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ کوئی شک نہیں کہ ہم غیر معمولی حالات سے گزر رہے ہیں‘پڑوس میں شروع ہونے والی صورتحال نے پورےخطےکو لپیٹ میں لے لیا ہے‘ہم نے صورتحال کے مطابق اپنے ذخائر کو بڑھا لیا تھا اور ہماری کوشش ہےکہ بطور ریاست اس کام کو حکمت کے تحت آگےلےکر چلیں ۔ انہوں نے علان کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کا مشکل فیصلہ کیا ہے‘پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 55 روپے اضافے کا فیصلہ کیا گیا جیسے ہی معاملات بہتر ہوں گے اسی پھرتی کے ساتھ قیمتیں کم کریں گے اور ہم ہفتہ وار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیں گے۔ وزیر خزانہ اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم نے جو کمیٹی تشکیل دی وہ پانچ روز سے کام کررہی ہے اور عالمی سطح پر بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خطیر اضافہ ہورہا ہے اور اس حوالے سے ہماری روزانہ میٹنگ ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ توانائی کا براہ راست تعلق پاکستانی معیشت سے ہے جس کو ہم دیکھ رہے ہیں۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہم اس وقت مستحکم پوزیشن میں ہیں اور پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی بھی اچھی تعداد ہے تاہم اگر یہ سلسلہ زیادہ چلا تو صورت حال تبدیل ہوسکتی ہے، صورت حال کو دیکھتے ہوئے حکومت مزید فیصلے بھی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی کمیٹی اگلے دو روز میں وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکریٹریز کے ساتھ بھی ملاقات کرے گی اور حالات کا جائزہ لیا جائے گا اور ہم صوبوں کو ریلیف دیں گے۔ وفاقی حکومت نے پیٹرول پر لیوی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔حکومتی فیصلے کے مطابق پیٹرول پر فی لیٹر لیوی میں 20 روپے 97 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول پر لیوی بڑھ کر 105 روپے 37 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔حکام کے مطابق پیٹرول پر لیوی میں اضافے کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔اس سے قبل پیٹرول پر فی لیٹر لیوی 84 روپے 40 پیسے مقرر تھی، تاہم نئے اضافے کے بعد اس میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

yakinjp

maujp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

article 48666670301

article 48666670302

article 48666670303

article 48666670304

article 48666670305

article 48666670306

article 48666670307

article 48666670308

article 48666670309

article 48666670310

article 48666670311

article 48666670312

article 48666670313

article 48666670314

article 48666670315

article 48666670316

article 48666670317

article 48666670318

article 48666670319

article 48666670320

article 48666670321

article 48666670322

article 48666670323

article 48666670324

article 48666670325

article 48666670326

article 48666670327

article 48666670328

article 48666670329

article 48666670330

article 48666670331

article 48666670332

article 48666670333

article 48666670334

article 48666670335

article 48666670336

article 48666670337

article 48666670338

article 48666670339

article 48666670340

article 48666670341

article 48666670342

article 48666670343

article 48666670344

article 48666670345

article 48666670346

article 48666670347

article 48666670348

article 48666670349

article 48666670350

article 48666670351

article 48666670352

article 48666670353

article 48666670354

article 48666670355

article 48666670356

article 48666670357

article 48666670358

article 48666670359

article 48666670360

noticias 000000031

noticias 000000032

noticias 000000033

noticias 000000034

noticias 000000035

noticias 000000036

noticias 000000037

noticias 000000038

noticias 000000039

noticias 000000040

noticias 000000041

noticias 000000042

noticias 000000043

noticias 000000044

noticias 000000045

noticias 000000046

noticias 000000047

noticias 000000048

noticias 000000049

noticias 000000050

noticias 000000051

noticias 000000052

noticias 000000053

noticias 000000054

noticias 000000055

noticias 000000056

noticias 000000057

noticias 000000058

noticias 000000059

noticias 000000060

noticias 000000061

noticias 000000062

noticias 000000063

noticias 000000064

noticias 000000065

noticias 000000066

noticias 000000067

noticias 000000068

noticias 000000069

noticias 000000070

noticias 000000071

noticias 000000072

noticias 000000073

noticias 000000074

noticias 000000075

noticias 000000076

noticias 000000077

noticias 000000078

noticias 000000079

noticias 000000080

noticias 000000081

noticias 000000082

noticias 000000083

noticias 000000084

noticias 000000085

noticias 000000086

noticias 000000087

noticias 000000088

noticias 000000089

noticias 000000090

noticias 000000091

noticias 000000092

noticias 000000093

noticias 000000094

noticias 000000095

noticias 000000096

noticias 000000097

noticias 000000098

noticias 000000099

noticias 000000100

noticias 000000101

noticias 000000102

noticias 000000103

noticias 000000104

noticias 000000105

noticias 000000106

noticias 000000107

noticias 000000108

noticias 000000109

noticias 000000110

noticias 000000111

noticias 000000112

noticias 000000113

noticias 000000114

noticias 000000115

noticias 000000116

noticias 000000117

noticias 000000118

noticias 000000119

noticias 000000120

komunitas praya menyoroti perubahan pembahasan putaran gratis mahjong ways

selong tren diskusi mahjong wins tengah munculnya game digital baru

kreator konten tanjung mengangkat cerita perkembangan mahjong ways media sosial

sumbawa besar membahas tiga elemen visual mahjong wins 3 ubin emas naga scatter

komunitas digital semarang menelaah pengaruh animasi terhadap identitas game mahjong modern

yogyakarta menjadi sorotan diskusi perpaduan tradisi asia teknologi game

pengamat surabaya mengulas perubahan gaya ilustrasi seri mahjong digital

makassar membahas peran komunitas online menyebarkan tren konten mahjong

medan hingga palembang perbedaan perspektif penggemar terhadap visual mahjong ways

denpasar menyoroti perkembangan narasi budaya asia desain game mahjong kontemporer

sweet bonanza kabupaten pangkajene kepulauan mengenal mekanisme fitur putaran gratis

gates of olympus kabupaten muara enim perpaduan kisah mitologi teknologi animasi modern

lucky neko kota langsa cara simbol tradisional menyesuaikan diri selera generasi digital

wild bandito mahjong ways kabupaten garut perbandingan dua karakter visual berbeda

warga kabupaten lebak mengkaji cara membedakan klaim permainan informasi memiliki bukti

mahjong wins kota tanjungbalai menelaah fungsi simbol membentuk pengalaman visual

mengapa efek cahaya sering muncul fitur bonus pengamatan kabupaten tapanuli utara

lucky neko kabupaten hulu sungai selatan kombinasi karakter animasi ornamen bernuansa emas

gates of olympus kabupaten aceh besar memahami konsep peluang tanpa bergantung ramalan

sweet bonanza kota gorontalo menelusuri peran desain ceria membentuk identitas game

wild bandito kabupaten halmahera utara eksplorasi tema petualangan format interaktif

mahjong pgsoft kabupaten musi banyuasin perubahan pengalaman pengguna saat bermain melalui layar ponsel

princess starlight kota palangka raya mengulas fungsi cahaya elemen penceritaan

lucky neko sweet bonanza perbedaan pendekatan warna membangun identitas desain

warga kabupaten ende menelusuri pengaruh cerita budaya terhadap pembentukan karakter game digital

mengapa pemain lebih mudah mengingat kemenangan besar penjelasan bias ingatan kota madiun

bukan hanya hiburan warga kabupaten bekasi membahas pentingnya memahami batas pengeluaran digital

mahjong ways kabupaten magetan contoh memahami fenomena ilusi pola hasil acak

gates of olympus kota pagar alam menguraikan kesalahpahaman prediksi hasil permainan

warga kabupaten flores timur mengamati pengaruh notifikasi terhadap perhatian pengguna ponsel

sweet bonanza kota sukabumi membahas perbedaan ekspektasi pengguna peluang

wild bandito mahjong wins mengapa perbedaan desain bisa menarik kelompok pengguna beragam

lucky neko kabupaten tanah laut mengkaji simbol keberuntungan perspektif lintas budaya

literasi digital kabupaten sumbawa memahami rtp agar tidak terjebak penafsiran keliru

princess starlight kota tegal menelaah kontribusi tokoh pengalaman hiburan interaktif

article 88666670351

article 88666670352

article 88666670353

article 88666670354

article 88666670355

article 88666670356

article 88666670357

article 88666670358

article 88666670359

article 88666670360

article 88666670361

article 88666670362

article 88666670363

article 88666670364

article 88666670365

article 88666670366

article 88666670367

article 88666670368

article 88666670369

article 88666670370

informasi terbaru kabupaten belu 00000021

informasi terbaru kabupaten belu 00000022

informasi terbaru kabupaten belu 00000023

informasi terbaru kabupaten belu 00000024

informasi terbaru kabupaten belu 00000025

informasi terbaru kabupaten belu 00000026

informasi terbaru kabupaten belu 00000027

informasi terbaru kabupaten belu 00000028

informasi terbaru kabupaten belu 00000029

informasi terbaru kabupaten belu 00000030

informasi terbaru kabupaten belu 00000031

informasi terbaru kabupaten belu 00000032

informasi terbaru kabupaten belu 00000033

informasi terbaru kabupaten belu 00000034

informasi terbaru kabupaten belu 00000035

informasi terbaru kabupaten belu 00000036

informasi terbaru kabupaten belu 00000037

informasi terbaru kabupaten belu 00000038

informasi terbaru kabupaten belu 00000039

informasi terbaru kabupaten belu 00000040

informasi terbaru kabupaten belu 00000041

informasi terbaru kabupaten belu 00000042

informasi terbaru kabupaten belu 00000043

informasi terbaru kabupaten belu 00000044

informasi terbaru kabupaten belu 00000045

informasi terbaru kabupaten belu 00000046

informasi terbaru kabupaten belu 00000047

informasi terbaru kabupaten belu 00000048

informasi terbaru kabupaten belu 00000049

informasi terbaru kabupaten belu 00000050

informasi terbaru kabupaten belu 00000051

informasi terbaru kabupaten belu 00000052

informasi terbaru kabupaten belu 00000053

informasi terbaru kabupaten belu 00000054

informasi terbaru kabupaten belu 00000055

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download