LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاک فوج کا افغان طالبان رجیم کی بلا اشتعال جارحیت کے خلاف آپریشن غضب للحق جاری ہے

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاک فوج کا افغان طالبان رجیم کی بلا اشتعال جارحیت کے خلاف آپریشن غضب للحق جاری ہے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ یکم مارچ کو شام 4 بجے تک افغان طالبان کے 415 کارندے ہلاک اور 580 زخمی ہوچکے ہیں اس دوران افغان طالبان کی 182 پوسٹیں’186 ٹینک اور مسلح گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی اور من گھڑت خبریں پھیلائی جارہی ہیں کہ پاکستان نے افغانستان کے خلاف اپنی کارروائیاں روک دی ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے موجودہ علاقائی صورت حال کے پیش نظر صرف عارضی طور پر پی اے ایف اور ڈرون کی فوٹیجز میڈیا کے ساتھ شیئر کرنے سے روکی گئی ہیں اس فیصلے کا مقصد قومی سلامتی اور آپریشنل حکمت عملی کو محفوظ رکھنا ہے نہ کہ کارروائیوں کو روکنا کارروائیاں بدستور جاری ہیں سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم کے خلاف پاکستان کا بھرپور عمل جاری ہے افغان طالبان رجیم کو ہر محاذ پر پاک فوج کے ہاتھوں پسپائی کا سامنا ہے افغانستان کی جانب سے پاک افغان سرحد پر پیدا شدہ صورت حال اور اس کے جواب میں پاکستان کی بھر پور کارروائی نے واضح کردیا ہے کہ ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں پاکستان موثر جواب دے کر یہ پیغام د ے رہا ہے کہ اس کی دفاعی حکمت عملی کمزوری نہیں بلکہ طاقت کی علامت ہے تاہم سوال یہ ہے کہ افغان طالبان نے ایسی پیش قدمی کیوں کی اور اس کے پس منظر میں کون سے عوامل کارفرما ہیں؟ حالیہ کشیدگی کو خطے کی وسیع تر صورت حال سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا بھارت خطے میں پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لئے افغان سرزمین کو استعمال کرنا چاہتا ہے سرحدی جھڑپوں کے انداز سے بھی منظم منصوبہ بندی کی جھلک واضح دکھائی دیتی ہے مگر پاک فوج کی بر وقت اور موثر کارروائی نے صورت حال کا رخ موڑ دیا اصل مسئلہ صرف سرحدی خلاف ورزی نہیں بلکہ دہشت گردی کا وہ چیلنج ہے جس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کلیدی عنصر ہے افغانستان سے بہت عرصے سے دہشت گردی ایکسپورٹ ہورہی ہے افغانستان اور اسکی عبوری حکومت اپنا فرض نبھانا نہیں چاہتے دوحہ معاہدے میں افغانستان نے پوری دنیا کو باور کرایا تھا کہ افغان سرزمین کسی کیلئے بھی دہشت گردی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی لیکن افغانستان دہشت گردی روکنے میں ناکام رہا افغان جریدہ ہشت صبح نے طالبان رجیم اور دہشت گرد وں کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتے ہوئے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ طالبان نے صوبہ غزنی میں القاعدہ اور فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی)کیلئے 4 رہائشی کمپلیکس تعمیر کیے ہیں افغان جریدہ کے مطابق افغانستان پر قابض طالبان رجیم نے 30 لاکھ سے زائد افراد کو یرغمال لاکھوں افغانوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا طالبان ہر تباہی کے ذمہ دار ہیں اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی اتھارٹی دہشت گرد گروہوں بشمول القاعدہ اور اس کے اتحادیوں کو کھلی چھوٹ دئیے ہوئے ہے یہ گروہ افغانستان کے چھ صوبوں غزنی، ہلمند، قندھار، کنڑ، ارزگان اور زابل میں سرگرم ہیں افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں نے سب کچھ ہلا کر رکھ دیا ہے نئی پیدا شدہ صورت حال میں اب پاکستان کی سول و عسکری قیادت کابل کے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل سے صرف نظر کرنے کے لئے تیار نہیں پاک افغان کشیدگی میں بھارتی کردار بھی پوری دنیا کے سامنے ہے رواں سال ماہ مئی میں پاکستان کے ہاتھوں بد ترین اور ذلت آمیز شکست کے بعد سے مودی سرکار بدلے کی آگ میں جل رہی ہے دنیا بھر میں ہونے والی جگ ہنسائی نے اسے بوکھلاہٹ کا شکار کردیا ہے معرکہ حق میں ہزیمت اٹھانے کے بعد کیونکہ وہ اب پاکستان پر براہ راست جارحیت مسلط کرنے کی جرات نہیں رکھتی لہذا حسب روایت افغان سر زمین کو اپنے مذموم اور مکروہ مقاصد کے لئے استعمال کر ر ہی ہے اور افغان حکومت کے بعض عناصر اس کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں جو پاکستان کے لئے حقیقی معنوں میں باعث تشویش ہے پاکستان افغانستان کو نشانہ بنانا نہیں چاہتا تھا اس کی حتی الوسع کوشش تھی کہ معاملہ بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے اور افغان طالبان دوحا معاہدے پر اس کی حقیقی روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنائیں مگر دوسرے فریق نے پاکستان کی کسی شکایت کو درخور اعتناء نہیں سمجھا اور دہشت گردی اور دراندازی کا سلسلہ بجائے کم ہونے کے بڑھتا چلا گیا اور پہلے جو تھوڑا بہت پردہ تھا طالبان رجیم نے اسے بھی ختم کرکے براہ راست پاکستان کے دشمنوں کے ساتھ صف آرائی شروع کردی سول وعسکری قیادت دہشت گردی کے معاملے پر کوئی بھی لچک نہ دکھانے پر یکسو ہے پاک فوج کے ترجمان کا کہنا کہ افغانستان سے ہونیوالی دہشت گردی ہر صورت ختم کریں گے جہاں دہشت گرد حملہ ہوگا وہاں جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں اس بات کا مظہر ہے کہ پاک فوج سلامتی کے معاملات اور دہشت گردی کے خلاف اپنے عزم پر قائم ہے ملک میں انتہاء پسندی اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والی دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لئے پاکستان میں ہم آہنگی تعاون اور باہمی افہام وتفہیم کا ایسا ماحول ضروری ہے جس میں کم از کم قومی سلامتی کے معاملہ پر فریقین اپنے تمام تر سیاسی نظریاتی اور شخصی اختلافات سے قطع نظر مل کر مقابلہ کرنے کے لئے دل وجان سے تیار ہوں ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ قومیں ہمیشہ عزت ووقار کے ساتھ ہی اپنی آزادی سلامتی اور خود مختاری کا تحفظ کرسکتی ہیں افغانستان سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے انخلاء کے باوجود بدی کے ثلاثہ کی جاری سر گرمیاں پاکستان کے لئے جن خدشات و خطرات کو جنم دے رہی ہیں ہمیں ان سے ا یک لمحہ کے لئے بھی آنکھیں بند نہیں کرنی چاہیے دہشت گردوں نے ملک بھر میں اپنا نیٹ ورک دوبارہ قائم کرلیا ہے غلطی ہماری ہے ہم نے مذاکرات اور سیز فائر کے نام پر انہیں دوبارہ سنبھلنے اور نیٹ ورک بنانے کا موقع فراہم کیا ہے ہم ان سے امن کی بات کرتے رہے وہ جنگ کی تیاری کر رہے تھے ہم نے جو غلطیاں کرنی تھیں کر لی ہیں ہم مزید غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہمیں دہشت گردی کے عفر یت سے ملک وقوم کو نجات دلانے کے لئے یہ جنگ دوبارہ پوری قوت سے لڑنی ہوگی اسی میں ہماری بقاء ہے آپریشن غضب للحق سے پاکستان کے خلاف سازشوں کا جال بننے والوں کو ایک بار پھر واضح پیغام مل چکا ہے یہ سرزمین کمزور نہیں افغانستان میں بھارتی سرپرستی میں پلنے والے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان رجیم کے خلاف بھرپور اور موثر کارروائی دراصل ان معصوم جانوں کا بدلہ ہے جو دہشت گردی کی آگ میں جھونک دی گئی ہیں یہ صرف ایک آپریشن نہیں بلکہ ہر اس ماں کے آنسوؤں کا جواب ہے جس نے اپنے بیٹے کو وطن پر قربان کیا’ یہ ہر اس بچے کے خوابوں کا دفاع ہے جو ایک محفوظ پاکستان چاہتا ہے پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں شدید متاثر ہونے کے باوجود امن مصالحت’ تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے تمام اقدامات کی حمایت جاری رکھتے ہوئے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی اس کے باوجود افغان حکومت پر کالعدم ٹی ٹی پی کی سوچ غالب آچکی ہے پاکستان کے حالیہ اقدامات اپنی عوام کوسرحد پار سے آنے والی دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے فطری حقِ دفاع پر مبنی ہیں جو متعدد بار انتباہ کے بعد کئے گئے ہیں جنہیں نظر انداز کیا جاتا رہا یہ امر قابل ذکر ہے کہ افغانستان کی جانب سے مسلسل حملوں اور اشتعال انگیزیوں کے باوجود پاکستان نے محتاط اور ذمہ درانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا مگر تحمل اور کمزوری میں فرق کو سمجھنا ضروری ہوتا اگر ریاستی خود مختاری اور عوام کے جان ومال کو خطرات لاحق رہیں تو محدود اور ہدفی کارروائیاں ناگزیر ہوجاتی ہیں افغان حکومت اگر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتی تو پاکستان کو ان کارروائیوں کی ضرورت پیش نہ آتی مگر ان حالات میں جب طالبان کی عبوری حکومت خود دہشت گردوں کے ساتط مل چکی ہے پاکستان کو اپنے دفاع کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کرنا چاہیے افغانستان پاکستان کا قریب ترین ہمسایہ ملک ہے کہتے ہیں کہ دوست بدلے جاسکے ہیں مگر ہمسائے نہیں تاہم ہمارے مغربی ہمسائے کا رویہ اور اقدامات کچھ ایسے نوعیت کے ہیں کہ انہیں گوارہ کرنا پاکستان تو کیا دنیا کے لئے کسی بھی ملک کے لئے ممکن نہیں ہو گا افغانستان میں پیدا ہونے والے علاقائی اور عالمی خطرات پاکستان سمیت پورے خطے کے امن کے لئے خطرہ ہیں حالات کا تقاضا ہے کہ علاقائی اور عالمی سطح پر اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے ورنہ افغانستان جس راستے پر ہے بعید نہیں کہ دنیا کو ایک بار پھر اس ملک سے ابھرنے والی دہشت گردی کے مضمرات کو بھگتنا پڑے’ پائیدار عالمی اور علاقائی امن اسی صورت ممکن ہے جب دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کو عملی جامہ پہنایا جائے اور افغانستان میں موجود خطرات کا بر وقت اور موثر سدباب کیا جائے**

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

yakinjp

maujp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

article 48666670301

article 48666670302

article 48666670303

article 48666670304

article 48666670305

article 48666670306

article 48666670307

article 48666670308

article 48666670309

article 48666670310

article 48666670311

article 48666670312

article 48666670313

article 48666670314

article 48666670315

article 48666670316

article 48666670317

article 48666670318

article 48666670319

article 48666670320

article 48666670321

article 48666670322

article 48666670323

article 48666670324

article 48666670325

article 48666670326

article 48666670327

article 48666670328

article 48666670329

article 48666670330

article 48666670331

article 48666670332

article 48666670333

article 48666670334

article 48666670335

article 48666670336

article 48666670337

article 48666670338

article 48666670339

article 48666670340

article 48666670341

article 48666670342

article 48666670343

article 48666670344

article 48666670345

article 48666670346

article 48666670347

article 48666670348

article 48666670349

article 48666670350

article 48666670351

article 48666670352

article 48666670353

article 48666670354

article 48666670355

article 48666670356

article 48666670357

article 48666670358

article 48666670359

article 48666670360

noticias 000000031

noticias 000000032

noticias 000000033

noticias 000000034

noticias 000000035

noticias 000000036

noticias 000000037

noticias 000000038

noticias 000000039

noticias 000000040

noticias 000000041

noticias 000000042

noticias 000000043

noticias 000000044

noticias 000000045

noticias 000000046

noticias 000000047

noticias 000000048

noticias 000000049

noticias 000000050

noticias 000000051

noticias 000000052

noticias 000000053

noticias 000000054

noticias 000000055

noticias 000000056

noticias 000000057

noticias 000000058

noticias 000000059

noticias 000000060

noticias 000000061

noticias 000000062

noticias 000000063

noticias 000000064

noticias 000000065

noticias 000000066

noticias 000000067

noticias 000000068

noticias 000000069

noticias 000000070

noticias 000000071

noticias 000000072

noticias 000000073

noticias 000000074

noticias 000000075

noticias 000000076

noticias 000000077

noticias 000000078

noticias 000000079

noticias 000000080

noticias 000000081

noticias 000000082

noticias 000000083

noticias 000000084

noticias 000000085

noticias 000000086

noticias 000000087

noticias 000000088

noticias 000000089

noticias 000000090

noticias 000000091

noticias 000000092

noticias 000000093

noticias 000000094

noticias 000000095

noticias 000000096

noticias 000000097

noticias 000000098

noticias 000000099

noticias 000000100

noticias 000000101

noticias 000000102

noticias 000000103

noticias 000000104

noticias 000000105

noticias 000000106

noticias 000000107

noticias 000000108

noticias 000000109

noticias 000000110

noticias 000000111

noticias 000000112

noticias 000000113

noticias 000000114

noticias 000000115

noticias 000000116

noticias 000000117

noticias 000000118

noticias 000000119

noticias 000000120

komunitas praya menyoroti perubahan pembahasan putaran gratis mahjong ways

selong tren diskusi mahjong wins tengah munculnya game digital baru

kreator konten tanjung mengangkat cerita perkembangan mahjong ways media sosial

sumbawa besar membahas tiga elemen visual mahjong wins 3 ubin emas naga scatter

komunitas digital semarang menelaah pengaruh animasi terhadap identitas game mahjong modern

yogyakarta menjadi sorotan diskusi perpaduan tradisi asia teknologi game

pengamat surabaya mengulas perubahan gaya ilustrasi seri mahjong digital

makassar membahas peran komunitas online menyebarkan tren konten mahjong

medan hingga palembang perbedaan perspektif penggemar terhadap visual mahjong ways

denpasar menyoroti perkembangan narasi budaya asia desain game mahjong kontemporer

sweet bonanza kabupaten pangkajene kepulauan mengenal mekanisme fitur putaran gratis

gates of olympus kabupaten muara enim perpaduan kisah mitologi teknologi animasi modern

lucky neko kota langsa cara simbol tradisional menyesuaikan diri selera generasi digital

wild bandito mahjong ways kabupaten garut perbandingan dua karakter visual berbeda

warga kabupaten lebak mengkaji cara membedakan klaim permainan informasi memiliki bukti

mahjong wins kota tanjungbalai menelaah fungsi simbol membentuk pengalaman visual

mengapa efek cahaya sering muncul fitur bonus pengamatan kabupaten tapanuli utara

lucky neko kabupaten hulu sungai selatan kombinasi karakter animasi ornamen bernuansa emas

gates of olympus kabupaten aceh besar memahami konsep peluang tanpa bergantung ramalan

sweet bonanza kota gorontalo menelusuri peran desain ceria membentuk identitas game

wild bandito kabupaten halmahera utara eksplorasi tema petualangan format interaktif

mahjong pgsoft kabupaten musi banyuasin perubahan pengalaman pengguna saat bermain melalui layar ponsel

princess starlight kota palangka raya mengulas fungsi cahaya elemen penceritaan

lucky neko sweet bonanza perbedaan pendekatan warna membangun identitas desain

warga kabupaten ende menelusuri pengaruh cerita budaya terhadap pembentukan karakter game digital

mengapa pemain lebih mudah mengingat kemenangan besar penjelasan bias ingatan kota madiun

bukan hanya hiburan warga kabupaten bekasi membahas pentingnya memahami batas pengeluaran digital

mahjong ways kabupaten magetan contoh memahami fenomena ilusi pola hasil acak

gates of olympus kota pagar alam menguraikan kesalahpahaman prediksi hasil permainan

warga kabupaten flores timur mengamati pengaruh notifikasi terhadap perhatian pengguna ponsel

sweet bonanza kota sukabumi membahas perbedaan ekspektasi pengguna peluang

wild bandito mahjong wins mengapa perbedaan desain bisa menarik kelompok pengguna beragam

lucky neko kabupaten tanah laut mengkaji simbol keberuntungan perspektif lintas budaya

literasi digital kabupaten sumbawa memahami rtp agar tidak terjebak penafsiran keliru

princess starlight kota tegal menelaah kontribusi tokoh pengalaman hiburan interaktif

article 88666670351

article 88666670352

article 88666670353

article 88666670354

article 88666670355

article 88666670356

article 88666670357

article 88666670358

article 88666670359

article 88666670360

article 88666670361

article 88666670362

article 88666670363

article 88666670364

article 88666670365

article 88666670366

article 88666670367

article 88666670368

article 88666670369

article 88666670370

informasi terbaru kabupaten belu 00000021

informasi terbaru kabupaten belu 00000022

informasi terbaru kabupaten belu 00000023

informasi terbaru kabupaten belu 00000024

informasi terbaru kabupaten belu 00000025

informasi terbaru kabupaten belu 00000026

informasi terbaru kabupaten belu 00000027

informasi terbaru kabupaten belu 00000028

informasi terbaru kabupaten belu 00000029

informasi terbaru kabupaten belu 00000030

informasi terbaru kabupaten belu 00000031

informasi terbaru kabupaten belu 00000032

informasi terbaru kabupaten belu 00000033

informasi terbaru kabupaten belu 00000034

informasi terbaru kabupaten belu 00000035

informasi terbaru kabupaten belu 00000036

informasi terbaru kabupaten belu 00000037

informasi terbaru kabupaten belu 00000038

informasi terbaru kabupaten belu 00000039

informasi terbaru kabupaten belu 00000040

informasi terbaru kabupaten belu 00000041

informasi terbaru kabupaten belu 00000042

informasi terbaru kabupaten belu 00000043

informasi terbaru kabupaten belu 00000044

informasi terbaru kabupaten belu 00000045

informasi terbaru kabupaten belu 00000046

informasi terbaru kabupaten belu 00000047

informasi terbaru kabupaten belu 00000048

informasi terbaru kabupaten belu 00000049

informasi terbaru kabupaten belu 00000050

informasi terbaru kabupaten belu 00000051

informasi terbaru kabupaten belu 00000052

informasi terbaru kabupaten belu 00000053

informasi terbaru kabupaten belu 00000054

informasi terbaru kabupaten belu 00000055

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download