LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیرِاعظم شہباز شریف کادورہ روس ,سفارتی توازن کی بہترین حکمتِ عملی

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ روس، پاکستان کی بہترین سفارتی توازن کی حکمت عملی ہے
پاکستان اور روس کے تعلقات 2026 میں ایک نئے اور مستحکم دور میں داخل ہو چکے ہیں، جس کا محور اقتصادی شراکت داری، توانائی کے منصوبے اور علاقائی سلامتی ہے
روس نے حالیہ پاک افغان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش بھی کی ہے روس کے ساتھ پیش رفت پاکستان کیلئے سفارتی توازن کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے ایسے میں وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف کا روس کا سرکاری دورہ محض ایک سفارتی مصروفیت نہیں بلکہ بدلتے عالمی منظرنامے میں پاکستان کی عملی حکمتِ عملی کا اظہار ہے دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ خاص طور پر داعش کے خلاف اور افغانستان کی صورتحال پر قریبی تعاون کر رہے ہیں, دورہ روس میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی صدر پوتن کے ساتھ پانچویں ملاقات ہوگی,اس دورے کے موقع پر ایک بڑے بزنس فورم کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں 100 سے زائد پاکستانی کمپنیاں شرکت کریں گی فروری 2026 میں ماسکو میں پہلا پاک روس میڈیا فورم منعقد ہوا جس کا مقصد عوامی سطح پر روابط کو مضبوط بنانا ہے روس نے پاکستان کو مطلع کیا ہے کہ اس کے ایل این جی ٹرمینلز 2026 تک فعال ہو جائیں گے جس سے دونوں ممالک کے درمیان گیس کی تجارت کی راہ ہموار ہوگی جنوری 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی اور توسیع کے حوالے سے اہم اتفاق رائے ہوا ہے روس پاکستان کی آئل ریفائنریز کو اپ گریڈ کرنے اور خام تیل کی فراہمی میں اضافے 10 ملین ٹن تک کے لیے بات چیت کر رہا ہے ماسکو اور اسلام آباد کے درمیان براہ راست فضائی روابط شروع کرنے کے لیے عملی اقدامات پر اتفاق کیا گیا ہے پاکستان روس کے اس اسٹریٹجک کوریڈور کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتا ہے تاکہ وسطی ایشیا اور روس تک رسائی حاصل کی جا سکے پاکستان ان تعلقات کو اپنی خارجہ پالیسی میں “یوریشیائی شراکت داری” کے طور پر دیکھتا ہے، جس کا مقصد روایتی اتحادیوں سے ہٹ کر اقتصادی بنیادوں کو وسیع کرنا ہے۔ پاکستان کی خارجہ حکمتِ عملی اب یک رخی نہیں رہی، چین، امریکا اور روس، تینوں کے ساتھ تعلقات کو متوازن انداز میں آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے، امریکا کے ساتھ تعلقات ایک کثیرالجہتی اور حساس نوعیت کے حامل ہیں، ,یوکرین میں جاری فوجی آپریشن کے بعد عالمی سیاست میں جو تبدیلیاں آئی ہیں، انہوں نے توانائی، تجارت اور سفارتی توازن کے نئے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں، ایسے ماحول میں اسلام آباد اور ماسکو کے درمیان بڑھتا رابطہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ماسکو میں کریملن کی راہداریوں تک پہنچنا آسان نہیں ہوتا اور روسی صدرولادیمیر پوتن سے ملاقات رسمی تبادلۂ خیال سے کہیں بڑھ کر ہوگی، اس کے پس منظر میں دوطرفہ مفادات، توانائی ضروریات، مالیاتی انتظامات اور علاقائی استحکام جیسے عملی معاملات شامل ہیں، پاکستان کو سستی توانائی اور مستحکم سپلائی لائن درکار ہے، جبکہ روس نئی منڈیوں اور شراکت داروں کی تلاش میں ہے۔ پاکستان، روس تعلقات کی تاریخ محض سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہی، 1970 کی دہائی میں سوویت تعاون سے قائم ہونے والی پاکستان سٹیل ملز دونوں ممالک کے صنعتی اشتراک کی نمایاں علامت تھی، یہی منصوبہ اس بات کا ثبوت تھا کہ پاکستان اورروس کے تعلقات عملی بنیادوں پر بھی استوار ہو سکتے ہیں۔ یہ امکان بھی زیرِگردش ہے کہ پاکستان سٹیل ملز کے حوالے سے کسی مفاہمتی یادداشت یا تعاون کے نئے فریم ورک پر پیشرفت ہو سکتی ہے، اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ نہ صرف ایک تاریخی باب کی تجدید ہوگا بلکہ صنعتی بحالی اور دوطرفہ اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ ممکنہ معاہدہ کاغذی اعلانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات میں ڈھل سکے۔روس اور پاکستان کے سفارتی تعلقات مئی 1948ء کو قائم ہوئے تھے، جب پاکستان نے سوویت یونین کے ساتھ سفارتی تعلقات کا آغاز کیاتھا ان تعلقات نے وقت کے ساتھ مختلف مراحل طے کیے ہیں، جن میں سرد جنگ کے دوران تناؤ اور بعد ازاں اقتصادی و دفاعی تعاون شامل ہیں۔ آج کل دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھ رہا ہے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد، روس اور پاکستان کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی۔ 1990ء کی دہائی میں دونوں ممالک نے تعلقات کو نئے سرے سے ترتیب دیا اور اقتصادی و تجارتی شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا۔ 2000ء کی دہائی میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بھی بڑھا، جس میں روس کی طرف سے پاکستان کو ہتھیاروں کی فروخت شامل تھی حال ہی میں، روس اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری آئی ہے۔ دونوں ممالک نے توانائی کے شعبے میں بھی تعاون کو فروغ دیا ہے، جس میں شمال-جنوب گیس پائپ لائن منصوبہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں بھی منعقد ہو چکی ہیں، جو ان کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کا ثبوت ہیں, روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعلقات میں بھی بہتری آئی ہے۔ دونوں ممالک نے مختلف تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن کا مقصد باہمی تجارت کو بڑھانا ہے۔ ثقافتی تعلقات کے ضمن میں دونوں ممالک نے تعلیمی اور ثقافتی تبادلوں کو بھی فروغ دیا ہے، جس سے عوامی سطح پر تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں,روس اور پاکستان کے تعلقات میں بعض چیلنجز بھی موجود ہیں، جن میں علاقائی سیاست اور عالمی سطح پر ابھرتے ہوئے مسائل شامل ہیں۔ تاہم، دونوں ممالک نے سفارتی مذاکرات کے ذریعے ان چیلنجز کا سامنا کرنے کی کوشش کی ہے اور اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں , اسی تناظر میں پاک، روس گیس پائپ لائن منصوبہ بھی قابلِ ذکر ہے، جو توانائی شعبے میں دیرینہ تعاون کی ایک اور مثال بن سکتا ہے، اگر ان دونوں منصوبوں میں ٹھوس پیشرفت ہوتی ہے تو موجودہ دورہ محض سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ عملی اقتصادی شراکت داری کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اس دورے کی سفارتی تیاریوں میں ماسکو میں پاکستان کے سفیرفیصل نیاز ترمذی کا کردار بھی نمایاں ہے، اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے شیڈول، کاروباری نمائندوں کی شمولیت اور دوطرفہ ایجنڈے کی ترتیب میں سفارتخانے کی متحرک سفارت کاری اس دورے کو عملی نتائج سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ دورے کا ایک اہم پہلو پاکستان، روس بزنس فورم بھی ہے، جس میں ‌پاکستان سے 90 کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں، جو سرکاری مذاکرات کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کو براہِ راست جوڑنے کا پلیٹ فارم فراہم کرے گا، اس فورم میں توانائی، زراعت، فارماسیوٹیکل، آئی ٹی اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر گفتگو متوقع ہے، اگر کاروباری برادری کو قابلِ عمل فریم ورک فراہم کیا گیا تو یہ فورم محض تصویری سرگرمی نہیں بلکہ دوطرفہ تجارت میں حقیقی اضافے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تجارت اب بھی اپنی اصل صلاحیت سے کم ہے، بزنس فورم اسی خلا کو پُر کرنے کی ایک کوشش ہے تاکہ حکومتی سطح کے معاہدے نجی سرمایہ کاری اور عملی منصوبوں میں تبدیل ہو سکیں۔ ایک اہم مگر کم زیرِبحث پہلو پاکستان اور روس کے درمیان ری ایڈمیشن معاہدہ بھی ہے، جو تاحال حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا، اس معاہدے کی تکمیل قانونی اور امیگریشن تعاون کے حوالے سے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کو مضبوط بنا سکتی ہے۔ اسی طرح ویزا پالیسی ایک بڑا عملی مسئلہ ہے، روس میں پاکستانی کاروباری افراد کے لیے بزنس ویزا کے اجرا میں درپیش رکاوٹیں اور طلبہ ویزا کی سختی تجارت اور تعلیمی روابط کی رفتار کو متاثر کر رہی ہیں،اگر بزنس فورم کے اہداف کو عملی جامہ پہنانا ہے تو ویزا سہولت کاری کو ترجیح دینا ہوگی،
ماسکو میں مقیم پاکستانی طلبہ سے وزیرِاعظم کی ملاقات اور افطار بھی نرم سفارت کاری کا پہلو رکھتی ہے، روسی جامعات میں زیرِتعلیم پاکستانی نوجوان مستقبل کے سفارتی اور تجارتی پل ثابت ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ پالیسی سطح پر سہولت کاری کو یقینی بنایا جائے۔یہ دورہ امکانات سے بھرپور ضرور ہے، مگر اصل امتحان معاہدوں کو عملی شکل دینے کا ہوگا، توانائی، تجارت، بزنس فورم، ری ایڈمیشن معاہدہ اور ویزا پالیسی، یہی وہ نکات ہیں جو پاک، روس تعلقات کی حقیقی سمت کا تعین کریں گے۔ماسکو کی سرد فضاؤں میں ہونے والی یہ ملاقاتیں مستقبل کی سمت کا تعین کر سکتی ہیں، اگر توانائی، صنعت اور تجارت کے شعبوں میں عملی پیشرفت ہوئی تو یہ دورہ تاریخ ساز ثابت ہو سکتا ہے اور پاک، روس تعلقات کو ایک نئی جہت دے سکتا ہے۔
روس میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کے متوقع دورۂ ماسکو سے قبل سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی۔روسی وزارتِ خارجہ کی سرکاری ترجمان ماریہ زخارووا نے کہا ہےکہ ماسکو میں روسی، پاکستانی میڈیا فورم منعقد ہورہاہےجو وزیراعظم پاکستان کے طے شدہ دورے کے پس منظر میں ترتیب دیا گیا ہے یہ فورم بین الاقوامی ملٹی میڈیا پریس سینٹر ”روسیا سیوودنیا“ کے پلیٹ فارم پرترتیب دیا گیا ہے، جس میں روسی اور پاکستانی صحافی، سفارتکار، ماہرینِ سیاسیات اور تجزیہ کار شریک ہیں, فورم کے دوران بین الاقوامی تعلقات کے نظام میں جاری بنیادی تبدیلیوں، عالمی صحافت کے جدید رجحانات اور دونوں ممالک کے میڈیا اداروں کے درمیان عملی تعاون پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، اس کا بنیادی مقصد روس اور پاکستان کے عوام کو ایک دوسرے کے بارے میں براہِ راست اور مستند معلومات کی فراہمی ہے۔ بتایا کہ یہ محض ایک مقامی تقریب نہیں بلکہ ماسکو اور اسلام آباد کے درمیان ٹیلی برج کے ذریعے براہِ راست نشریات بھی کی جائیں گی، جو روسی اور پاکستانی میڈیا پلیٹ فارمز پر نشر ہوں گی میڈیا فورم کا انعقاد اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ماسکو میں پاک، روس تعلقات کے حوالے سے سرگرمیاں عملی مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں اسلام آباد میڈیا فورم میں پاکستان اور روس کے درمیان تیزی سے فروغ پاتے تعلقات، علاقائی سلامتی اور اطلاعاتی تعاون پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، میڈیا فورم سے خطاب کرتے ہوئے روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات مثبت پیش رفت کی جانب گامزن ہیں اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے خواہشمند ہیں، حالیہ برسوں میں سیاسی، اقتصادی، دفاعی، تعلیمی اور عوامی روابط میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ہونے والی متعدد ملاقاتیں اعلیٰ سطحی سفارتی روابط کے تسلسل کی عکاسی کرتی ہیں جبکہ آئندہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان پانچواں اہم سربراہی رابطہ ہوگی سفیرپاکستان نے اعلان کیا کہ وزیرِاعظم کے دورے کے موقع پر پاکستان، روس بزنس فورم منعقد کیا جائے گا جس میں 100 سے زائد پاکستانی کمپنیاں روسی ہم منصب اداروں سے ملاقاتیں کریں گی تاکہ تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں عملی پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔ قدرتی آفات کے شعبے میں تعاون کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ روس نے 2005 کے زلزلے اور 2022 کے سیلاب کے بعد پاکستان کو بروقت انسانی امداد فراہم کی، نومبر 2025 میں روسی ایمرجنسی سروسز کے وفد نے اسلام آباد کا دورہ کیا جبکہ حال ہی میں روسی وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ سطحی وفد نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) سمیت متعلقہ اداروں سے ملاقاتیں کیں، دونوں ممالک نے قدرتی آفات کی پیشگوئی، تدارک اور بحالی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ سفیر پاکستان نے مزید کہا ہے کہ روس جنوبی ایشیا میں پاکستان کو وسیع تر یوریشیائی خطے کا اہم شراکت دار سمجھتا ہے اور کثیر القطبی عالمی نظام میں علاقائی تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔ علاوہ ازیں، روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے ماسکو،اسلام آباد میڈیا فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ فورم دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ یہاں نہ صرف سیاسی رہنما اور سفارتکار بلکہ صحافی بھی شریک ہوتے ہیں جو معلوماتی اور ثقافتی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ ماریہ زخارووا نے کہا ہے کہ آج کے عالمی منظر نامے میں معلومات ایک نئی عالمی طاقت بن گئی ہیں اور میڈیا کے ذریعے دنیا میں اثر و رسوخ اور قومی مفادات کے تحفظ کی نئی جہتیں سامنے آئی ہیں، صحیح معلومات تک رسائی اور شفاف تبادلہ خیالات سے ہم ایک مضبوط اور متوازن عالمی نظام قائم کر سکتے ہیں، جہاں مختلف ثقافتیں اور تہذیبیں اپنے منفرد کردار کے ساتھ ترقی کر سکیں۔ مزید کہا ہے کہ موجودہ دور میں معلومات کا غلط استعمال یا پروپیگنڈا، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل وسائل کے ذریعے قوموں کے سیاسی اور معاشرتی استحکام پر اثر انداز ہو سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ میڈیا فورمز جیسے ماسکو، اسلام آباد فورم نہایت اہم ہیں کیونکہ یہ ایک تعمیری اور باہمی معلوماتی مکالمہ فراہم کرتے ہیں جو عالمی تعلقات میں اعتماد اور تعاون کو فروغ دیتا ہے۔ روس اور پاکستان کے درمیان میڈیا، تعلیم، ثقافت اور معلوماتی شعبوں میں تعلقات کی مضبوطی نہ صرف دوطرفہ روابط کو فروغ دیتی ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک مستحکم، متوازن اور متنوع عالمی نظام کے قیام میں بھی معاون ہے۔ پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ خوریف نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ میڈیا فورم اور دیگر مشترکہ سرگرمیاں دونوں ممالک کے ماہرین کو ایک دوسرے کے نظریات اور قومی مفادات کو بہتر سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں اور دوطرفہ تعلقات کے مزید فروغ کے لیے راہیں متعین کرتی ہیں, کہا کہ آج کے عالمی منظر نامے میں ایک قطبی عالمی نظام ختم ہو چکا ہے اور عالمی تعلقات میں کثیرالمرکزی نظام مضبوط ہو رہا ہے، جنوبی ممالک کی اہمیت بڑھ رہی ہے لیکن اسی دوران نئے چیلنجز، خطے میں تنازعات، غیر قانونی یکطرفہ پابندیوں اور انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے خطرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ سفیر نے زور دیا کہ ایسے میں پاکستان اور روس کے درمیان تعاون اہم ہے تاکہ علاقائی استحکام، اقتصادی روابط اور انسانی شعبوں میں باہمی مفاد کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ جیوپولیٹیکل ماہر روکسولانا زیگون نے کہا کہ ماسکو اور اسلام آباد کے درمیان حالیہ تعاون عوامی سفارت کاری اور روایتی سفارت کاری کے مضبوط امتزاج کا نتیجہ ہے، اگرچہ سرد جنگ کے دوران تعلقات میں اتار چڑھاؤ رہا، تاہم عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی اور علاقائی حالات نے دونوں ممالک کو مشترکہ سٹریٹجک اہداف کے قریب لایا۔ افغانستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2010 کی دہائی کے اوائل میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں نے روس اور پاکستان کو تعلقات کی بحالی کا موقع فراہم کیا، جس کے بعد مختلف شعبوں میں تعاون میں تیزی آئی۔ روکسولانا زیگون کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو اکثر تنہا کھڑا ہونا پڑا اور بین الاقوامی میڈیا میں پاکستان کے حوالے سے منفی بیانیے بھی دیکھنے میں آئے، جو زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ میڈیا فورم سے سینیٹر مشاہد حسین سید، ڈائریکٹر جنرل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد اعزاز احمد چوہدری اور دیگر ممتاز مقررین نے بھی خطاب کیا۔ فورم کا مشترکہ اہتمام روسیا سیوودنیا میڈیا گروپ، وزارتِ اطلاعات و نشریات پاکستان، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان اور دیگر اداروں نے کیا۔ تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اور روس باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور علاقائی استحکام کی بنیاد پر اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے۔پاک روس تعلقات نہ ہی کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے ہیں نہ ہی کسی کے مفاد کے خلاف ہیں۔ پاکستان روس سے تعلقات سے دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہے، پاکستان روس تعلقات پر مغرب کو ناراض نہیں ہونا چاہیے۔ تیسری دنیا کے ممالک کی ترقی کے لیے عالمی طاقتوں کے درمیان مؤثر اور مسلسل رابطہ ناگزیر ہے، پاکستان روس کے ساتھ ثقافتی تعلقات، کھیل اور انسانی وسائل کی ترقی کے میدانوں میں تعلقات بہتر بنانا چاہتا ہے مارچ سے پاکستان اور روس کے درمیان آزمائشی مال بردار ٹرین چلے گی اور پاکستان اور روس کے درمیان براہِ راست فضائی سروسز بھی ہے فضائی سروس سے عوام کے درمیان رابطے بڑھیں گے اور کاروبار کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کو برکس فریم ورک کے اندر رکن ممالک کے ساتھ بہتر اور قریبی علاقائی تعاون کا فائدہ ہوسکتاہے۔یاد رہے کہ حال ہی میں انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اسلام آباد نے اپنے سینٹر فار سٹریٹجک پرسپیکٹیو کے ذریعے اپنی نئی ترمیم شدہ کتاب پاکستان-روس ریلیشنز: ایک جامع تاریخی اور تزویراتی تجزیہ کی تقریب رونمائی کی تھی سفیر سہیل محمود نے اپنے تعارفی کلمات میں کہا تھا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات گزشتہ 75 سالوں میں سرد جنگ سے ہٹ کر سفارتی، اقتصادی اور تزویراتی شعبوں میں بڑھتے ہوئے ہم آہنگی کی طرف ایک اہم ارتقاء سے گزرے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ابتدائی جغرافیائی سیاسی رکاوٹوں کے باوجود، تعلقات کبھی بھی مکمل طور پر نہیں ٹوٹے، جیسا کہ پاکستان کی صنعت کاری، توانائی کے منصوبوں، اور ثالثی کی کوششوں جیسے تاشقند اعلامیے سے ظاہر ہوتا ہے اعلیٰ سطح کے تبادلے سفارتی تعلقات کو برقرار رکھے اور انسداد دہشت گردی، دفاعی مکالمے، توانائی، زراعت اور پارلیمانی رابطوں جیسے شعبوں میں تعاون باہمی افہام و تفہیم کے ایک نئے دور کی نشاندہی کرتے ہیں پاکستان بدلتے ہوئے بین الاقوامی نظام میں روس کے اہم کردار اور مقام کو تسلیم کرتا ہے اور اس تعلقات کو تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات کے وسیع عزم کا حصہ سمجھتا ہے۔ سفیر سہیل محمود نے تعاون کرنے والے مصنفین کو خراج تحسین پیش کیا اور کتاب کو اس شراکت داری میں ایک قیمتی شراکت قرار دیا جو دونوں ممالک کے باہمی فائدے کے لیے جاری ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل اسٹڈیز، رشین اکیڈمی آف سائنسز میں مشرق وسطیٰ کے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر ویاچسلاو بیلوکرینٹسکی نے کہا کہ روسی ادارے روس کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی مطابقت پر وسیع تحقیق کر رہے ہیں اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پائیدار علمی تعاون باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دے گا۔ روس میں پاکستان کے سابق سفیر، نے سوویت اور جدید روسی دونوں ادوار کے دوران ماسکو میں اپنے سفارتی تجربے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ عصری تعلقات باہمی احترام، خیر سگالی اور دفاع، توانائی، سفارت کاری اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے کثیر جہتی فورمز میں تعاون کو وسعت دینے پر منحصر ہیں۔ 2014 کے دفاعی تعاون کے معاہدے اور پاکستان سٹریم گیس پائپ لائن سمیت اہم سنگ میلوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیمی اور ادارہ جاتی روابط بڑھ رہے ہیں، انہوں نے نوٹ کیا کہ بینکنگ اور پابندیوں سے متعلق رکاوٹوں سے قبل دوطرفہ تجارت 1 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی تھی، اور انہوں نے دفاعی تعاون، افغانستان پر ہم آہنگی، اور دونوں معاشروں کے درمیان ثقافتی دلچسپی کو وسعت دینے کی توثیق کی۔ سفیر البرٹ پی خوریف نے کہا کہ عالمی چیلنجوں اور ’غیر قانونی مغربی پابندیوں‘ کے باوجود پاکستان اور روس کے درمیان توانائی، تجارت، انسداد دہشت گردی، سیکیورٹی کوآرڈینیشن، انسانی ہمدردی کے تبادلے اور پارلیمانی سفارت کاری کے شعبوں میں تعاون وسیع ہوا ہے۔ انہوں نے بیرونی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود یوکرین تنازع سمیت اہم عالمی مسائل پر پاکستان کی ‘متوازن اور دوستانہ غیر جانبداری’ کو سراہا۔سفیر نے پیشرفت کے ٹھوس شعبوں کا خاکہ پیش کیا انہوں نے پاکستان میں روسی زبان کے مراکز کی ترقی اور علمی اور ثقافتی روابط کے گہرے ہونے پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ روس پاکستان کو جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے سنگم پر ایک اہم علاقائی اداکار کے طور پر دیکھتا ہے، جو صدر پوتن کے ‘گریٹر یوریشین پارٹنرشپ’ کے وژن کے مطابق کنیکٹوٹی اقدامات، تجارتی راہداریوں اور توانائی کے منصوبوں کے لیے مرکزی ہے۔ سفیر خوریف نے علاقائی استحکام کی حمایت کے لیے روس کی آمادگی کا اعادہ کیا

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

SLOT GACOR

SALAMJITU

SATGASJITU

SEMOGAJITU

SALAMJITU

Slot Gacor

Slot Gacor

SLOT GACOR

article 48666670301

article 48666670302

article 48666670303

article 48666670304

article 48666670305

article 48666670306

article 48666670307

article 48666670308

article 48666670309

article 48666670310

article 48666670311

article 48666670312

article 48666670313

article 48666670314

article 48666670315

article 48666670316

article 48666670317

article 48666670318

article 48666670319

article 48666670320

article 48666670321

article 48666670322

article 48666670323

article 48666670324

article 48666670325

article 48666670326

article 48666670327

article 48666670328

article 48666670329

article 48666670330

article 48666670331

article 48666670332

article 48666670333

article 48666670334

article 48666670335

article 48666670336

article 48666670337

article 48666670338

article 48666670339

article 48666670340

article 48666670341

article 48666670342

article 48666670343

article 48666670344

article 48666670345

article 48666670346

article 48666670347

article 48666670348

article 48666670349

article 48666670350

article 48666670351

article 48666670352

article 48666670353

article 48666670354

article 48666670355

article 48666670356

article 48666670357

article 48666670358

article 48666670359

article 48666670360

noticias 000000031

noticias 000000032

noticias 000000033

noticias 000000034

noticias 000000035

noticias 000000036

noticias 000000037

noticias 000000038

noticias 000000039

noticias 000000040

noticias 000000041

noticias 000000042

noticias 000000043

noticias 000000044

noticias 000000045

noticias 000000046

noticias 000000047

noticias 000000048

noticias 000000049

noticias 000000050

noticias 000000051

noticias 000000052

noticias 000000053

noticias 000000054

noticias 000000055

noticias 000000056

noticias 000000057

noticias 000000058

noticias 000000059

noticias 000000060

noticias 000000061

noticias 000000062

noticias 000000063

noticias 000000064

noticias 000000065

noticias 000000066

noticias 000000067

noticias 000000068

noticias 000000069

noticias 000000070

noticias 000000071

noticias 000000072

noticias 000000073

noticias 000000074

noticias 000000075

noticias 000000076

noticias 000000077

noticias 000000078

noticias 000000079

noticias 000000080

noticias 000000081

noticias 000000082

noticias 000000083

noticias 000000084

noticias 000000085

noticias 000000086

noticias 000000087

noticias 000000088

noticias 000000089

noticias 000000090

noticias 000000091

noticias 000000092

noticias 000000093

noticias 000000094

noticias 000000095

noticias 000000096

noticias 000000097

noticias 000000098

noticias 000000099

noticias 000000100

noticias 000000101

noticias 000000102

noticias 000000103

noticias 000000104

noticias 000000105

noticias 000000106

noticias 000000107

noticias 000000108

noticias 000000109

noticias 000000110

noticias 000000111

noticias 000000112

noticias 000000113

noticias 000000114

noticias 000000115

noticias 000000116

noticias 000000117

noticias 000000118

noticias 000000119

noticias 000000120

komunitas praya menyoroti perubahan pembahasan putaran gratis mahjong ways

selong tren diskusi mahjong wins tengah munculnya game digital baru

kreator konten tanjung mengangkat cerita perkembangan mahjong ways media sosial

sumbawa besar membahas tiga elemen visual mahjong wins 3 ubin emas naga scatter

komunitas digital semarang menelaah pengaruh animasi terhadap identitas game mahjong modern

yogyakarta menjadi sorotan diskusi perpaduan tradisi asia teknologi game

pengamat surabaya mengulas perubahan gaya ilustrasi seri mahjong digital

makassar membahas peran komunitas online menyebarkan tren konten mahjong

medan hingga palembang perbedaan perspektif penggemar terhadap visual mahjong ways

denpasar menyoroti perkembangan narasi budaya asia desain game mahjong kontemporer

sweet bonanza kabupaten pangkajene kepulauan mengenal mekanisme fitur putaran gratis

gates of olympus kabupaten muara enim perpaduan kisah mitologi teknologi animasi modern

lucky neko kota langsa cara simbol tradisional menyesuaikan diri selera generasi digital

wild bandito mahjong ways kabupaten garut perbandingan dua karakter visual berbeda

warga kabupaten lebak mengkaji cara membedakan klaim permainan informasi memiliki bukti

mahjong wins kota tanjungbalai menelaah fungsi simbol membentuk pengalaman visual

mengapa efek cahaya sering muncul fitur bonus pengamatan kabupaten tapanuli utara

lucky neko kabupaten hulu sungai selatan kombinasi karakter animasi ornamen bernuansa emas

gates of olympus kabupaten aceh besar memahami konsep peluang tanpa bergantung ramalan

sweet bonanza kota gorontalo menelusuri peran desain ceria membentuk identitas game

wild bandito kabupaten halmahera utara eksplorasi tema petualangan format interaktif

mahjong pgsoft kabupaten musi banyuasin perubahan pengalaman pengguna saat bermain melalui layar ponsel

princess starlight kota palangka raya mengulas fungsi cahaya elemen penceritaan

lucky neko sweet bonanza perbedaan pendekatan warna membangun identitas desain

warga kabupaten ende menelusuri pengaruh cerita budaya terhadap pembentukan karakter game digital

mengapa pemain lebih mudah mengingat kemenangan besar penjelasan bias ingatan kota madiun

bukan hanya hiburan warga kabupaten bekasi membahas pentingnya memahami batas pengeluaran digital

mahjong ways kabupaten magetan contoh memahami fenomena ilusi pola hasil acak

gates of olympus kota pagar alam menguraikan kesalahpahaman prediksi hasil permainan

warga kabupaten flores timur mengamati pengaruh notifikasi terhadap perhatian pengguna ponsel

sweet bonanza kota sukabumi membahas perbedaan ekspektasi pengguna peluang

wild bandito mahjong wins mengapa perbedaan desain bisa menarik kelompok pengguna beragam

lucky neko kabupaten tanah laut mengkaji simbol keberuntungan perspektif lintas budaya

literasi digital kabupaten sumbawa memahami rtp agar tidak terjebak penafsiran keliru

princess starlight kota tegal menelaah kontribusi tokoh pengalaman hiburan interaktif

article 88666670351

article 88666670352

article 88666670353

article 88666670354

article 88666670355

article 88666670356

article 88666670357

article 88666670358

article 88666670359

article 88666670360

article 88666670361

article 88666670362

article 88666670363

article 88666670364

article 88666670365

article 88666670366

article 88666670367

article 88666670368

article 88666670369

article 88666670370

informasi terbaru kabupaten belu 00000021

informasi terbaru kabupaten belu 00000022

informasi terbaru kabupaten belu 00000023

informasi terbaru kabupaten belu 00000024

informasi terbaru kabupaten belu 00000025

informasi terbaru kabupaten belu 00000026

informasi terbaru kabupaten belu 00000027

informasi terbaru kabupaten belu 00000028

informasi terbaru kabupaten belu 00000029

informasi terbaru kabupaten belu 00000030

informasi terbaru kabupaten belu 00000031

informasi terbaru kabupaten belu 00000032

informasi terbaru kabupaten belu 00000033

informasi terbaru kabupaten belu 00000034

informasi terbaru kabupaten belu 00000035

informasi terbaru kabupaten belu 00000036

informasi terbaru kabupaten belu 00000037

informasi terbaru kabupaten belu 00000038

informasi terbaru kabupaten belu 00000039

informasi terbaru kabupaten belu 00000040

informasi terbaru kabupaten belu 00000041

informasi terbaru kabupaten belu 00000042

informasi terbaru kabupaten belu 00000043

informasi terbaru kabupaten belu 00000044

informasi terbaru kabupaten belu 00000045

informasi terbaru kabupaten belu 00000046

informasi terbaru kabupaten belu 00000047

informasi terbaru kabupaten belu 00000048

informasi terbaru kabupaten belu 00000049

informasi terbaru kabupaten belu 00000050

informasi terbaru kabupaten belu 00000051

informasi terbaru kabupaten belu 00000052

informasi terbaru kabupaten belu 00000053

informasi terbaru kabupaten belu 00000054

informasi terbaru kabupaten belu 00000055

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download