LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) سفارتکاری جنگ سے بہتر ,مستحکم ایران پاکستان اور خطےکے مفاد میں بہترین

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) سفارتکاری واقعی جنگ سے بہتر حل ہے کیونکہ یہ مسائل کا حل تلاش کرنے کا ایک مسالمہ اور کم نقصان دہ طریقہ ہے۔ جنگ کے نتیجے میں جان و مال کا نقصان ہوتا ہے، جبکہ سفارتکاری کے ذریعے ہم باہمی مفاہمت اور سمجھوتے کے ذریعے مسائل حل کر سکتے ہیں,سفارتکاری ایک ایسا فن ہے جس کے ذریعے ممالک آپس میں مسائل حل کرتے ہیں، تعلقات کو بہتر بناتے ہیں، اور مشترکہ مفادات کو فروغ دیتے ہیں۔ یہ ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں مذاکرات،سفارتکاری, ڈپلومیسی اور حکمت عملی شامل ہوتی ہے۔سفارتکاری کے ذریعے ممالک جنگ سے بچ سکتے ہیں اور مسائل کا حل ڈھونڈ سکتے ہیں۔ یہ ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرتی ہے اور تجارت، معیشت، اور ثقافت کے حوالے سے تعاون کو بڑھاتی ہے۔ سفارتکاری کے ذریعے ممالک تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دے سکتے ہیں، جس سے معاشی ترقی ہوتی ہے۔ سفارتکاری ممالک کو ایک دوسرے کے مسائل اور مفادات کے بارے میں آگاہ کرتی ہے اور مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تعاون کو بڑھاتی ہے۔

 

مستحکم ایران پاکستان اور خطےکے مفاد میں بہترین ہے اقوام متحدہ میں پاکستان نے ایران اور خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفارتکاری اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ایران کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مستقل مندوب عاصم افتخارنے کہا کہ ہم ایران اور خطےکی صورت حال کا قریبی جائزہ لے رہے ہیں۔ تمام تنازعات کے پرامن حل پریقین رکھتے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے بیرونی مداخلت کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ تمام تنازعات پُر امن طریقے اور عالمی قانون کے مطابق حل ہونےچاہیں۔ مستحکم ایران پاکستان اور خطےکے مفاد میں ہے۔ پاکستانی مندوب نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ ایران کی صورتحال جلد نارمل ہوگی اور بیرونی دباو، اندرونی ہنگامہ آرائی بھی ختم ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسائل کے حل کے لیے پاکستان سفارتی کوششیں جاری رکھے گااقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور پرامن اظہار و اجتماع کی آزادی کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم، ایران نے بیرونی مداخلت کی مخالفت کی ہے
ایرانی حکومت نے ملک بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق، تہران سمیت ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ بند ہو گیا ہے اور امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مظاہروں میں موجود عناصر کو بیرون ملک سے کنٹرول کیا جا رہا تھا اور کچھ مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر گولیاں چلائیں اور داعش طرز کی دہشتگردانہ کارروائیاں کیں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کے کسی بھی شہر سے بدامنی یا ہنگامہ آرائی کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ جون جیسی غلطی دوبارہ نہ دہرائی جائے ورنہ وہی نتیجہ نکلے گا جو پہلے نکلا تھا، اور کہا کہ ایران کے عزم کو بمباری سے نہیں توڑا جا سکتا
پاکستان کے نائب وزیر اعظم وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اس رابطے میں دونوں رہنماؤں نے ایران اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے خطے میں امن و استحکام کے لیے عباس عراقچی سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر دوطرفہ مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ایران کی معاشی صورتحال انتہائی نازک ہے، جہاں مہنگائی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ مہنگائی کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ضرورت کی اشیاء کی ذخیرہ اندوزی ہے، جہاں تجار بھلے وقتوں میں کسی چیز کو خرید کر اپنے پاس اس انتظار میں روک لیتے ہیں کہ جب وہ چیز بازار میں مہنگی ہو جائے گی تو اسے فروخت کریں گےجہاں معاشی بدحالی کے خلاف مظاہروں نے سیاسی انقلاب کی شکل اختیار کر لی ہے۔ یہ مظاہرے 28 دسمبر سے جاری ہیں اور اب تک 31 صوبوں کے کم از کم سو شہروں میں پھیل چکے ہیں۔ مہنگائی اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں اچانک بڑھنے کی وجہ سے لوگ سڑکوں پر ہیں

۔ ایران کی حکومت نے ان مظاہروں پر قابو پانے کی کوشش کی ہے، لیکن بین الاقوامی سطح پر اس کی مذمت ہو رہی ہے۔ امریکا نے ایران پر حملے کی دھمکی دی ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری کا دفاع کرے گا.ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران میں مظاہروں کے دوران ہونے والی اموات، نقصانات اور ایرانی عوام پر بہتان لگانے کے لیے امریکی صدر ذمہ دار ہیں۔ اپنے ایک بیان میں آیت اللّٰہ خامنہ ای نے کہا کہ تازہ ہونے والے ایران مخالف فسادات مختلف تھے جس میں امریکی صدر ذاتی طور پر ملوث تھے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ کسی نے انہیں ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل نہیں کیا، میں نے خود اپنے آپ کو قائل کیا ٹرمپ نے مزید کہا کہ گزشتہ روز ایران میں 800 افراد کو پھانسی دی جانی تھی لیکن کسی کو پھانسی نہیں دی گئی، اس کا بہت بڑا اثر پڑا۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان سخت کشیدگی دیکھی گئی تھی، حالات ایران میں ممکنہ امریکی حملوں کی طرف بھی جاتے دکھائی دیے تاہم ایسا ممکن نہیں ہوا۔ ایرانی پاسداران انقلاب کی بری فوج کے کمانڈر محمد کرامی نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیاہے کہ دشمن کی کسی بھی غلطی کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا , ایران کو ایک جامع اور ہائبرڈ جنگ کا سامنا ہے، یہ جنگ معاشی، سماجی، سیاسی شعبوں سمیت کئی محاذوں پر جاری ہے۔ ایران کی مسلح افواج ہائی الرٹ ہیں اور کسی بھی غلطی کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ کمانڈر نے کہا کہ ان کی مسلح افواج ہر طرح کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ کوئی بھی جارحانہ اقدام ہوا تو فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن پر امریکا نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے سخت وارننگ دی تھی جس کے بعد خطے میں جنگ کے سائے مزید گہرے ہونے لگے تاہم اب یہ خطرہ کسی حد تک ٹل چکا ہے۔ برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہےکہ امریکی صدر نے ایران پر حملے کا فیصلہ تبدیل کرلیا اور یہ تبدیلی خلیجی ملکوں کی سفارتی کوششوں کے باعث عمل میں آئی۔ایرانی حکومت احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئی۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق 24 گھنٹوں میں ایران کے کسی شہر سے بے امنی کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔اقوام متحدہ میں ایران کے نائب مستقل مندوب غلام حسین نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ ان کا کشیدگی یا تصادم کاکوئی ارادہ نہیں لیکن جارحیت ہوئی تو بھر پور جواب دیا جائے گا۔ سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی نائب مندوب نے ٹرمپ انتظامیہ کو امریکی رجیم قرار دیا اور کہا کہ جو 12 روزہ جنگ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے، اب وہ وہی اہداف سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 8 اور 10 جنوری کےدوران ایران نے داعش طرز کی دہشتگردی کاسامنا کیا، ایران میں منظم طور پر سرقلم کیےگئے،لوگ زندہ جلائے گئے، اہلکاروں پر تشددکیاگیا، ایران میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھاچڑھا کرمداخلت کابہانہ تلاش کرنےکی کوشش کی گئی۔ ایران کے خلاف کسی بھی مقصد کے تحت طاقت کے استعمال کی دھمکی، چاہے مظاہرین کے تحفظ یا عوام کی حمایت کے بہانے ہی کیوں نہ ہو، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔ ایرانی نائب مندوب نے واضح کیا کہ انسانی ہمدردی کے بہانے طاقت کو جائز ٹھہرانا بین الاقوامی قانون کا جان بوجھ کر غلط استعمال ہے۔ نائب مندوب نے کہا کہ وہ کسی بھی قسم کی کشیدگی یا براہِ راست تصادم کے خواہاں نہیں لیکن کسی بھی براہِ راست ہو یا بالواسطہ جارحانہ عمل کا جواب فیصلہ کن اور قانونی طور پر آرٹیکل 51 کے تحت دیا جائے گا۔ مندوب نے واضح کیا کہ یہ کوئی دھمکی نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی بیان ہے، اور اس کے تمام نتائج کی ذمہ داری صرف ان پر ہوگی جو ایسے غیر قانونی اقدامات کا آغاز کریں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کی واضح، اخلاقی، سیاسی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے غیر قانونی اقدامات کو فوری طور پر مسترد اور مذمت کرے، اس سے قبل کہ دیر ہو جائےادھر ایرانی وزیرخارجہ نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ ملک میں امن و سکون قائم ہے اور صورتحال مکمل قابو میں ہے۔ انہوں نے پیغام دیا کہ جون جیسی غلطی دوبارہ نہ دہرائے ورنہ وہی نتیجہ نکلے گا جو پہلے نکلا تھا۔ ہمارے عزم کو بمباری سے نہیں توڑا جا سکتا۔ایرانی وزیرخارجہ نے دعویٰ کیا کہ مظاہروں میں موجود عناصر کو بیرون ملک سے کنٹرول کیا جارہا تھا، کچھ مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر گولیاں چلائیں، داعش طرز کی دہشتگردانہ کارروائیاں کی گئیں، پولیس اہلکاروں کو زندہ جلایا گیا۔انہوں نے کہا کہ ان کے ملک کو ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی ممالک کی جانب سے مختلف قسم کے خطرات کا سامنا ہے۔ سفارتکاری اچھا راستہ ہے مگر ہمارا امریکا کے ساتھ اچھا تجربہ نہیں، پھر بھی سفارتکاری جنگ سے بہتر ہے۔پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ سروسز بحال کر دی گئی ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ انٹربیٹ سروسز کی بحالی کا اعلان پاسدارانِ انقلاب نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی انٹرنیٹ مانیٹرنگ تنظیم نیٹ بلاکس نے بھی صبح سے انٹرنیٹ کی ٹریفک میں معمولی بہتری رپورٹ کی تھی۔ہفتے کی صبح ایران میں انٹرنیٹ کنیکٹیوٹی میں معمولی سا اضافہ دیکھا گیا ہے، جو 200 گھنٹوں سے زائد تعطل کے بعد سامنے آیا۔ ادارے کے مطابق انٹرنیٹ رسائی میں انتہائی معمولی بہتری آئی ہے، تاہم مجموعی کنیکٹیوٹی اب بھی معمول کے صرف تقریباً 2 فیصد پر برقرار ہے، اور انٹرنیٹ کی مؤثر بحالی کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آ رہے۔ایران نے کہا کہ تشدد اور دہشت گردی میں اسرائیلی کردار کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ ایک بیان میں ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ فلسطینی عوام کی نسل کشی میں G7 ممالک اسرائیل کے ساتھ براہ راست شریک ہیں، ایرانی قوم 2025 میں اسرائیلی حملوں میں شہری ہلاکتوں کو فراموش نہیں کرے گی۔ ایرانی وزارت خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ جی سیون ایران کے داخلی معاملات میں غیرقانونی مداخلت بند کرے، غیرقانونی پابندیاں ختم کی جائیں اور انسانی حقوق کو سیاسی ہتھیار نہ بنایا جائے۔وزارت خارجہ نے کہا کہ انسانی حقوق کے نام پر تشدد اور دہشت گردی کی حوصلہ افزائی ناقابل قبول ہے۔ 8 سے 10 جنوری کے دوران مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کیے گئے۔ امریکی اور اسرائیلی حکام کے بیانات تشدد پر اُکسانے کا واضح ثبوت ہیں، ایران پُرامن احتجاج کے حق کا احترام کرتا ہے، آئین کے تحت شہری حقوق کا پابند ہے، ریاست شہریوں کے تحفظ اور امن وامان برقرار رکھنے کی مکمل ذمے داری نبھائے گی۔ بیرونی سرپرستی میں دہشت گردی کے خلاف قومی سلامتی کا دفاع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ نہ کرنے کے فیصلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی نے انہیں ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل نہیں کیا۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا عرب اور اسرائیلی حکام نے آپ کو ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل کیا؟ اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ کسی نے مجھے قائل نہیں کیا، میں نے خود اپنے آپ کو قائل کیا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ گزشتہ روز ایران میں 800 افراد کو پھانسی دی جانی تھی لیکن کسی کو پھانسی نہیں دی گئی، اس کا بہت بڑا اثر پڑا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کی قدر کرتے ہیں کل جن افراد کو پھانسیاں دی جانی تھیں اب ایرانی قیادت انہیں پھانسی نہیں دے گی۔ گزشتہ روز امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا تھا اسرائیل کے وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر ممکنہ امریکی فوجی حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے بدھ کے روز صدر ٹرمپ سے بات کی، اسی روز امریکی صدر نے یہ بیان دیا کہ انہیں ’دوسری جانب سے انتہائی اہم ذرائع‘ سے معلومات ملی ہیں جن کے مطابق ایران میں مظاہرین کی ہلاکتیں رک گئی ہیں اور مظاہرین کی سزائے موت پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔ اس سے قبل برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ آخری لمحوں میں تبدیل کیا۔ دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی خلیجی ملکوں کی سفارتی کوششوں کے باعث عمل میں آئی۔ سعودی عرب، قطر اور عمان نے واشنگٹن سے ہنگامی مذاکرات کیے اور ٹرمپ کو فوجی کارروائی مؤخر کرنے پر یہ کہہ کر آمادہ کیا کہ تہران کو اپنے ‘اچھے عمل’ کا مظاہرہ کرنےکا موقع دینا چاہیے۔سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ایران سے متعلق کشیدہ صورتحال پر عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ عدم استحکام کسی بھی خطے میں ترقی کے مواقع کو نقصان پہنچاتا ہے۔ سعودی عرب کا موقف ہمیشہ بات چیت اور مسائل کے پرامن حل کے حصول پر مبنی رہا ہے اور رہے گا۔ سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ نے مزید کہا کہ صومالیہ ہو، ایران ہو یا شام، لبنان، سوڈان، افغانستان یا یمن ہو ہماری کوششیں ہیں کہ ڈائیلاگ کو ترجیح دی جائے۔ایران میں گذشتہ دو ہفتوں سے جاری احتجاجی مظاہروں کے سبب گزشتہ چند دنوں ایران سے پاکستان آنے والے افراد کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’انتشار‘ کی صورتحال دیکھی ہے۔ ایران میں حکومت مخالف احتجاج دو ہفتے قبل 28 دسمبر کو شروع ہوا تھا جب تہران میں مقامی تاجر امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں ایک اور بڑی کمی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ ان احتجاجی مظاہروں کے دوران ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق 114 سرکاری اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
سنہ 1979 کے انقلاب کے بعد ایران خطے کا واحد ملک رہا ہے، جو امریکی تسلط والے نظام کو چیلنج کرتا رہا ہے۔ باقی اسلامی ممالک امریکہ کے قریبی اتحادی ہیں، جس کی وجہ سے صورتحال پیچیدہ ہے۔ ایران چین اور روس کے قریب ہے لیکن دونوں ممالک امریکہ کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم سے گریز کرتے ہیں۔گذشتہ سال جب امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تو 21 اسلامی ممالک نے اس کی مذمت کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا تھا۔ ان میں سعودی عرب، ترکی، پاکستان، متحدہ عرب امارات، عمان، مصر، سوڈان، صومالیہ، برونائی، چاڈ، بحرین، کویت لیبیا، الجزائر اور جبوتی جیسے ممالک شامل تھے۔ایران میں اسلامی حکومت کے خاتمے سے خلیجی ممالک کو کافی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے بڑے خلیجی ممالک دسمبر کے آخر سے ایران میں ہونے والے مظاہروں پر خاموش ہیں۔ قطر کے ایران کے ساتھ دیرینہ اور اچھے تعلقات ہیں جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے برسوں کی مخاصمت کے بعد ایران کے ساتھ تعلقات بہتر کیے ہیں۔ ان ممالک نے ایران کے ساتھ سفارتی روابط کو مضبوط کیا۔ لیکن سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اب بھی ایران پر مکمل اعتماد نہیں۔ یہ ممالک ایران کی جانب سے خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کو پسند نہیں کرتے۔ عمان اس خطے میں ایسا ملک ہے جو خلیجی ممالک کے مابین تنازعات کی صورت میں اکثر ثالثی کا کام کرتا ہے۔ عمان، امریکہ اور ایران کے مابین بات چیت کے لیے بھی ایک پل کا کام کرتا ہے۔ 10 جنوری کو عمانی وزیرِ خارجہ نے تہران میں ایرانی وزیرِ خارجہ سے ملاقات بھی کی تھی۔ ملاقات میں فریقین نے تعاون بڑھانے اور ایسی پالیسیوں سے گریز کرنے پر بات چیت کی جو کشیدگی کو بڑھا سکتی ہیں، جس سے امریکہ کو اشارہ دیا گیا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ فریقین نے تعاون بڑھانے اور ایسی پالیسیوں سے گریز کرنے پر بات چیت کی جو کشیدگی کو بڑھا سکتی ہیں، جس سے امریکہ کو ایک طرح سے پیغام دیا گیا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ سعودی عرب اور ایران کی مخاصمت بھی ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ یہ اختلافات شیعہ سنی سے لے کر سعودی عرب کی بادشاہت بمقابلہ ایران کے اسلامی انقلاب تک پھیلے ہوئے ہیں۔ آذربائیجان، شیعہ اکثریتی مسلم ملک ہے لیکن اس کی اسرائیل سے قربتیں ہیں اور ایران سے اس کے اختلافات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا اور صدام حسین کو پھانسی پر لٹکایا گیا تو ایران نے اس معاملے پر امریکہ کی مخالفت نہیں کی تھی۔ سنہ 1979 میں جب ایران میں اسلامی انقلاب آیا تو مصر نے اُسی برس اسرائیل کو تسلیم کیا تھا اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیے تھے۔ اُردن نے سنہ 1994 میں اسرائیل کو تسلیم کیا۔ سنہ 2020 میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیے تھے۔مسلم ممالک امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں اور ساتھ ہی وہ اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے بھی خواہاں ہیں۔ خاص طور پر عرب ممالک کے امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور انھیں بگاڑنے کے متحمل نہیں ہو سکتے پاکستان سرد جنگ کے بعد سے امریکہ کا قریبی اتحادی رہا ہے۔ پاکستان نے امن کے نوبل انعام کے لیے ٹرمپ کی سفارش کی تھی۔ ایران اور پاکستان بھی اکثر ایک دوسرے کی سرزمین پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اسلام آباد ایران میں عدم استحکام نہیں چاہتا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ’اسلام آباد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتا کیونکہ اس کے نتائج بھیانک ہوں گے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان 900 کلومیٹر طویل سرحد مشترک ہے۔ یہ سرحد پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے گزرتی ہے۔ بلوچستان پاکستان کا سب سے غیر محفوظ صوبہ ہے ایران میں کسی قسم کی تبدیلی چاہے اندرونی ہو یا بیرونی، اس کا اثر پاکستان پر پڑے گا۔ پاکستان نے ماضی میں بھی ایران اور مغربی ممالک کے مابین کشیدگی کم کرنے میں مدد کی جبکہ امریکہ میں پاکستانی سفارت خانہ بھی ایرانی مفادات کا خیال رکھتا ہے۔ ’پچھلی بار جب ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ ہوا تو پاکستان نے بہت واضح طور پر ایران کی سرزمین اور خودمختاری کی حمایت کی تھی لیکن میں پاکستان کے ان چند لوگوں میں سے تھا جنھوں نے کہا کہ فوجی تنازع نے ایران کو کمزور کیا آج جو صورتحال ہم دیکھ رہے ہیں، اس سیاسی عدم استحکام کا نتیجہ ہے۔ اب کوئی بھی بیرونی مداخلت چاہے وہ اقتصادی پابندیاں ہوں یا فوجی کارروائی، اس سے ایران میں حالات مزید خراب ہوں گے خانہ فرہنگ ایران کوئٹہ کے ڈائریکٹر جنرل سید ابوالحسن کا کہنا ہے کہ پاکستان ایران میں تناؤکو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے،پاکستان کی جانب سے ایران کے موجودہ حالات میں حمایت پرشکریہ ادا کرتے ہیں، سفارتی سطح پرپاکستان کا مؤقف ہمارے لیے حوصلہ افزا ہے۔ پاکستان ایران میں تناؤ کو کم کرنے میں اہم کردارادا کررہا ہے، امریکا اور اسرائیل کی سازشوں کو ایرانی عوام نے ناکام بنادیا۔ ایران کی 28 دسمبرکی نئی اکنامک پالیسی کو جواز بناکرحالیہ تناؤکوبڑھاوادیاگیا، لاکھوں ایرانی عوام کے حکومتی حمایت میں مظاہرے نے سازش کو ناکام بنایا، ایران میں حالات اب معمول کے مطابق ہیں اور بیرونی قوتوں کی سازشیں ناکام ہوئیں۔ ان کا کہنا تھاکہ اسرائیل کے عزائم ایران تک نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ پر قبضہ کرنےکے ہیں۔ ایران میں تعینات پاکستانی سفیر محمد مدثر ٹیپو نے تہران سے اپنے پیغام میں کہا کہ ہماری درخواست پر تہران نے فوری سہولت فراہم کی۔ 11 جنوری 2026 کو ایران میں احتجاجی مظاہروں کے پیشِ نظر وزارت خارجہ پاکستان نے شہریوں کیلیے ایڈوائزری جاری کی تھی۔ ہم نے اپنے شہریوں کی مدد کیلیے سفارتخانے میں ایک یونٹ قائم کیا ہے جبکہ ان کیلیے ہیلپ لائن نمبرز بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

SLOT GACOR

SALAMJITU

SATGASJITU

SEMOGAJITU

SALAMJITU

Slot Gacor

MAUJP

Slot Gacor

SLOT GACOR

artikel 000000101

artikel 000000102

artikel 000000103

artikel 000000104

artikel 000000105

artikel 000000106

artikel 000000107

artikel 000000108

artikel 000000109

artikel 000000110

artikel 000000111

artikel 000000112

artikel 000000113

artikel 000000114

artikel 000000115

artikel 000000116

artikel 000000117

artikel 000000118

artikel 000000119

artikel 000000120

artikel 000000121

artikel 000000122

artikel 000000123

artikel 000000124

artikel 000000125

artikel 000000126

artikel 000000127

artikel 000000128

artikel 000000129

artikel 000000130

artikel 000000131

artikel 000000132

artikel 000000133

artikel 000000134

artikel 000000135

artikel 000000136

artikel 000000137

artikel 000000138

artikel 000000139

artikel 000000140

artikel 000000141

artikel 000000142

artikel 000000143

artikel 000000144

artikel 000000145

artikel 000000146

artikel 000000147

artikel 000000148

artikel 000000149

artikel 000000150

artikel 000000151

artikel 000000152

artikel 000000153

artikel 000000154

artikel 000000155

artikel 000000156

artikel 000000157

artikel 000000158

artikel 000000159

artikel 000000160

artikel 000000161

artikel 000000162

artikel 000000163

artikel 000000164

artikel 000000165

artikel 000000166

artikel 000000167

artikel 000000168

artikel 000000169

artikel 000000170

artikel 000000171

artikel 000000172

artikel 000000173

artikel 000000174

artikel 000000175

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

informasi terbaru kabupaten belu 00000081

informasi terbaru kabupaten belu 00000082

informasi terbaru kabupaten belu 00000083

informasi terbaru kabupaten belu 00000084

informasi terbaru kabupaten belu 00000085

informasi terbaru kabupaten belu 00000086

informasi terbaru kabupaten belu 00000087

informasi terbaru kabupaten belu 00000088

informasi terbaru kabupaten belu 00000089

informasi terbaru kabupaten belu 00000090

informasi terbaru kabupaten belu 00000091

informasi terbaru kabupaten belu 00000092

informasi terbaru kabupaten belu 00000093

informasi terbaru kabupaten belu 00000094

informasi terbaru kabupaten belu 00000095

informasi terbaru kabupaten belu 00000096

informasi terbaru kabupaten belu 00000097

informasi terbaru kabupaten belu 00000098

informasi terbaru kabupaten belu 00000099

informasi terbaru kabupaten belu 00000100

informasi terbaru kabupaten belu 00000101

informasi terbaru kabupaten belu 00000102

informasi terbaru kabupaten belu 00000103

informasi terbaru kabupaten belu 00000104

informasi terbaru kabupaten belu 00000105

informasi terbaru kabupaten belu 00000106

informasi terbaru kabupaten belu 00000107

informasi terbaru kabupaten belu 00000108

informasi terbaru kabupaten belu 00000109

informasi terbaru kabupaten belu 00000110

informasi terbaru kabupaten belu 00000111

informasi terbaru kabupaten belu 00000112

informasi terbaru kabupaten belu 00000113

informasi terbaru kabupaten belu 00000114

informasi terbaru kabupaten belu 00000115

informasi terbaru kabupaten belu 00000116

informasi terbaru kabupaten belu 00000117

informasi terbaru kabupaten belu 00000118

informasi terbaru kabupaten belu 00000119

informasi terbaru kabupaten belu 00000120

informasi terbaru kabupaten belu 00000121

informasi terbaru kabupaten belu 00000122

informasi terbaru kabupaten belu 00000123

informasi terbaru kabupaten belu 00000124

informasi terbaru kabupaten belu 00000125

informasi terbaru kabupaten belu 00000126

informasi terbaru kabupaten belu 00000127

informasi terbaru kabupaten belu 00000128

informasi terbaru kabupaten belu 00000129

informasi terbaru kabupaten belu 00000130

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download