اسلام اباد (اردو ٹائمز) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی جانب سے پاکستان اور چین کے درمیان ہر موسم کی تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مضبوط اور وسیع کرنے کے عزم کا اعادہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی اور علاقائی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ چین کے لیے پاکستان کے نامزد سفیر علی اسد گیلانی سے ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم نے تجارت، سرمایہ کاری، رابطہ کاری، چین پاکستان اقتصادی راہداری، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم اور عوامی روابط کو خصوصی اہمیت دی، جو دونوں ممالک کے تعلقات کے مستقبل کی سمت بھی متعین کرتے ہیں۔
پاکستان اور چین کی دوستی محض روایتی سفارتی تعلقات تک محدود نہیں رہی۔ کئی دہائیوں پر محیط یہ رشتہ باہمی اعتماد، خودمختاری کے احترام اور اہم قومی مفادات پر ایک دوسرے کی حمایت کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔ وقت کے ساتھ یہ تعلق اقتصادی تعاون، بنیادی ڈھانچے، توانائی، دفاع، علاقائی رابطہ کاری اور عوامی سطح کے تبادلوں تک وسیع ہوا ہے۔ اب اصل ضرورت اس مثالی سیاسی اعتماد کو زیادہ مؤثر اقتصادی اور تجارتی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ہے۔
اس حوالے سے چین پاکستان اقتصادی راہداری، یعنی CPEC، دونوں ممالک کے اقتصادی تعاون کا مرکزی ستون ہے۔ سی پیک کے تحت پاکستان میں توانائی، شاہراہوں، بندرگاہوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ اب اس منصوبے کے اگلے مرحلے میں صنعت کاری، خصوصی اقتصادی زونز، برآمدی صنعتوں، زراعت، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو ایسی چینی سرمایہ کاری کو ترجیح دینی چاہیے جو روزگار پیدا کرے، جدید ٹیکنالوجی منتقل کرے اور ملک کی برآمدی صلاحیت میں اضافہ کرے۔
دوطرفہ تجارت میں بھی بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ چین پاکستان کا ایک اہم اقتصادی اور تجارتی شراکت دار ہے، لیکن پاکستانی برآمدات کو چینی منڈی میں زیادہ مؤثر انداز میں جگہ بنانے کی ضرورت ہے۔ ٹیکسٹائل کے ساتھ زرعی مصنوعات، پراسیسڈ فوڈ، معدنیات، ادویات، آئی ٹی سروسز اور دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان کو اپنی پیداواری صلاحیت، معیار، لاجسٹکس اور مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانا ہوگا۔
زراعت ایک ایسا شعبہ ہے جہاں چین کے تجربات سے پاکستان بہت فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ جدید زرعی ٹیکنالوجی، زیادہ پیداوار دینے والے بیج، زرعی مشینری، پانی کے مؤثر استعمال اور فوڈ پراسیسنگ میں چین کی ترقی پاکستان کے لیے قابل تقلید ہے۔ مشترکہ منصوبوں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے پاکستان اپنی زرعی پیداوار بڑھانے، فصلوں کے بعد ہونے والے نقصانات کم کرنے اور زرعی برآمدات میں اضافہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرسکتا ہے۔
اسی طرح سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون کو مستقبل کی پاک چین شراکت داری کا نمایاں ستون بننا چاہیے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ٹیلی کمیونیکیشن، قابل تجدید توانائی، بائیوٹیکنالوجی، الیکٹرک گاڑیوں اور جدید صنعتوں میں چین تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ پاکستان اپنی نوجوان آبادی کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرکے اس تجربے سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ دونوں ممالک کی جامعات، تحقیقی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینا وقت کی ضرورت ہے۔
تعلیم اور عوامی روابط بھی اس دوستی کو مستقل بنیادوں پر مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ حکومتوں کے تعلقات اس وقت زیادہ پائیدار ہوتے ہیں جب عوام بھی ان میں براہ راست شریک ہوں۔ طلبہ، اساتذہ، صحافیوں، کاروباری شخصیات، نوجوانوں اور ثقافتی وفود کے تبادلوں کو بڑھانے کے ساتھ چینی اور اردو زبان کی تعلیم، وظائف اور مشترکہ تحقیقی پروگراموں کو بھی فروغ دیا جانا چاہیے۔
چین میں پاکستان کے نامزد سفیر علی اسد گیلانی ایسے وقت میں ذمہ داریاں سنبھالنے جا رہے ہیں جب عالمی طاقتوں کے درمیان مسابقت بڑھ رہی ہے اور عالمی تجارت و معیشت کے روایتی ڈھانچے تبدیل ہو رہے ہیں۔ بطور ایڈیشنل سیکریٹری ایشیا پیسفک ان کا تجربہ یقیناً اس اہم سفارتی ذمہ داری میں معاون ثابت ہوگا۔ ان کے سامنے بنیادی ہدف دونوں ممالک کے درمیان غیر معمولی سیاسی اعتماد کو برقرار رکھتے ہوئے اقتصادی، تجارتی اور تکنیکی تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنا ہونا چاہیے۔
اس کے ساتھ پاکستان پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ ملک میں چینی شہریوں، ماہرین، سرمایہ کاروں اور منصوبوں کی فول پروف سکیورٹی یقینی بنائی جائے۔ پاک چین تعاون کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والے عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کے ساتھ سی پیک اور دیگر مشترکہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے ادارہ جاتی رکاوٹیں بھی دور کرنا ہوں گی۔
پاک چین دوستی نے ہر مشکل دور میں اپنی مضبوطی ثابت کی ہے، لیکن دیرپا دوستی بھی مسلسل توجہ، عملی اقدامات اور نئے امکانات کی تلاش کا تقاضا کرتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک اپنی تاریخی اور آزمودہ دوستی کو تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی، تعلیم اور علاقائی رابطہ کاری پر مبنی مستقبل کی شراکت داری میں تبدیل کریں۔
اگر پاکستان اور چین اس سمت میں مستقل مزاجی سے آگے بڑھتے ہیں تو ہر موسم کی یہ تزویراتی شراکت داری نہ صرف دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرے گی بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام، رابطہ کاری اور مشترکہ خوشحالی کے نئے امکانات بھی پیدا کرے گی۔