کراچی (اردو ٹائمز) کراچی مری اور کوٹلی ستیاں کی کمیونٹیز نے ایک سالہ اقدام سے فائدہ اٹھایا جس کا مقصد پانی، صفائی اور حفظانِ صحت (واش) سے متعلق آگاہی میں اضافہ اور پانی کی قلت سے متاثرہ ان علاقوں میں بارش کے پانی کو محفوظ بنانے (رین واٹر ہارویسٹنگ) کو ماحولیاتی تبدیلی کے مقابلے کے لیے ایک پائیدار حل کے طور پر فروغ دینا تھا کمیونٹی موبلائزیشن اینڈ واش ایجوکیشن انڈر روف ٹاپ رین واٹر ہارویسٹنگ اِن مری ڈسٹرکٹ“کے عنوان سے جاری اس منصوبے کے فیز اوّل کے اختتام کی باضابطہ تقریب آغا خان یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ (آئی ای ڈی) کی جانب سے این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے اشتراک سے، اے کے یو کے کریم آباد کیمپس میں منعقد کی گئی اگرچہ مری اور کوٹلی ستیاں میں بارشیں زیادہ ہوتی ہیں تاہم پہاڑی اور ڈھلوانی جغرافیہ، پانی کے تیز بہاؤ (رن آف)، سیاحت کا دباؤ اور محدود انفراسٹرکچر کے باعث یہ علاقے طویل عرصے سے پانی کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ حکومتِ پنجاب کے اربن یونٹ نے چھتوں پر بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کا پروگرام شروع کیا جس کے تحت ایک ہزار سے زائد (فیز اوّل میں 1,100 سے زیادہ) گھروں میں محفوظ ذخیرہ اور فلٹریشن سسٹمز نصب کیے گئے۔ اس اقدام کے ساتھ کمیونٹی ایجوکیشن کی سرگرمیاں آئی ای ڈی اور این ای ڈی یونیورسٹی کی قیادت میں انجام دی گئیں۔
اس منصوبے کے ذریعے اسکولوں پر مبنی تعلیم، عملی سرگرمیوں اور کمیونٹی انگیجمنٹ کے ذریعے حفظانِ صحت کے طریقوں، پانی کے بچاؤ سے متعلق شعور اور ماحولیاتی ذمہ داری کو فروغ دیا گیا۔ اس اقدام میں براہِ راست 4,726 طلبہ اور 220 کمیونٹی اراکین نے شرکت کی، جو تعلیم پر مبنی حکمتِ عملی کی مؤثریت کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ منصوبہ پاکستان میں پائیدار اور مؤثر موسمیاتی ردِعمل پر مبنی واش حل کے لیے مقامی شراکت داری کی ایک مضبوط مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ منتظمین نے مری اور کوٹلی ستیاں میں اس اہم اقدام کی قیادت کا موقع فراہم کرنے پر حکومتِ پنجاب کے اربن یونٹ کا شکریہ ادا کیا۔