معروف مصنفہ ،ہدایت کارہ و ڈولفن کمیونیکیشن کی چئیرپرسن محترمہ عاصمہ بٹ نے کہا کہ ہیر وارث شاہ کا کلام ہر دور میں مقبول رہا،صدیاں گزر جانے کے باوجود آج بھی پیار ومحبت کی یہ انوکھی داستان ہیر وارث شاہ پنجاب میں نہایت شوق سے سنی اور پڑھی جاتی ہے،ہیر صوفی شاعر وارث شاہ کی عمدہ اور جُداگانہ تخلیق ثابت ہوئی،جو ہر دور میں مختلف مصنفوں اور ہدایت کاروں کی کاوشوں سے دہرائی گئی۔ ہم جس طرح اپنی ثقافت اور روایات کو بھلا بیٹھے ہیں،اسے یاد دلانے کے لئے یہ علاقائی کہانی اپنا خاص مقام رکھتی ہے۔اس طرح کےڈرامہ ہماری نوجوان نسل کو اپنی ثقافت سے روشناس کروانے کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔
انھوں نے یہ بات گزشتہ روز راولپنڈی آرٹس کونسل میں معروف تاریخی رومانی داستان “ہیر وارث شاہ” پر مشتمل اسٹیج ڈرامہ کے اختتام پر صحافیوں سے گفتگو میں کہی۔اس موقع پر سیکریٹری اسلام آباد نیشنل پریس کلب نئیر علی ،طارق مہناس،طارق مغل راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری،صدر یوتھ ونگ پاکستان مسلم لیگ ن نعیم پاشا،کنٹونمنٹ بورڈ کی ممبر مسز ممتاز ملک،شاعر حسن عباس رضا،سمیت راولپنڈی اسلام آباد کی ادبی شخصیات ،فنکارو،صحافیوں اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔عاصمہ بٹ نے بتایا کہ اپنی ثقافت اور روایات کو زندہ و جاوید رکھنے کے لیے میں نے تاریخ کے نامور کرداروں دلا بھٹی، شاہ حسین مادھو لال پر ڈرامے بنائے ،جو پاکستان سمیت دیگر ممالک میں بھی نہایت مقبول ہوئے۔ہیر وارث شاہ صوفہ ازم کی لڑی کی ایک کڑی ہے۔ہیر وارث شاہ فقط ایک رومانی داستان ہی نہیں،بلکہ یہ اللہ پاک کی وحدانیت ،یقین اور ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے کا پیغام دیتی ہے۔ہمارا لوک ورثہ ہماری ثقافت کی پہچان ہے۔عاصمہ بٹ نے کہا کہ اس ڈرامہ کو