اسلام آباد (اردو ٹائمز) عالمی امن کے قیام کے لیے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی رکنیت اور مؤثر کردار پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی کامیابیوں کی عکاسی کرتا ہے,کیا پاکستان بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت اختیار کر سکتا ہے؟یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تاحال حکومت پاکستان کی جانب سے نہیں دیا گیا ہے, پاکستان چاہتا ہے کہ بین الاقوامی امن فورس اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے تحت کام کرے، مکمل طور پر جنگ بندی کا احترام کرے اور یہ فورس علاقے میں اسرائیلی افواج کے انخلا کے بعد ہی کام شروع کرے جبکہ اس فورس کی اولین ترجیح غزہ کے عوام کا تحفظ ہے۔غزہ کے معاملے پر سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد پر جہاں روس اور چین نے تنقید کی ہے وہیں پاکستان نے سلامتی کونسل کی قرارداد کی حمایت کی تھی اس منصوبے سے غزہ میں امن کی اُمید پیدا ہوئی ہے, غزہ میں امن کے معاملے پر پاکستان کا موقف، فلسطین اور عرب ممالک کے مطابق ہے جس کے تحت جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ میں عوام کو نقل مکانی کے بغیر تعمیرِ نو اور آزاد فلسطینی ریاست کی جانب آگے بڑھنا ہےاقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل سے خطاب میں کہاتھا کہ قرارداد کے حق میں ووٹ دینے کا بنیادی مقصد ’غزہ میں فوری طور پر خونریزی روکنا، جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور علاقے سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا اور بڑے پیمانے پر انسانی امداد کو یقینی بنانا ہے۔سلامتی کونسل میں منظور کردہ قرارداد میں غزہ میں مختلف ممالک کی افواج پر مشتمل ’بین الاقوامی استحکام فورس‘ کا قیام بھی شامل ہے سلامتی کونس میں پیش کردہ اس قرارداد کے حق میں برطانیہ اور فرانس سمیت 13 ممالک نے ووٹ دیا تھاجبکہ روس اور چین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیاتھا۔پاکستان نے غزہ کے معاملے پر سلامتی کونسل کی قرارداد حق میں ووٹ دیا تھا اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتھونی گرتیس نے کہاتھا کہ یہ قرارداد جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔غزہ میں قیامِ امن کے لیے دیگر مسودوں کے مقابلے میں اقوام متحدہ کی قرارداد میں فلسطین کی ریاستی حیثیت تسلیم کرنے اور حقِ خود ارادیت کے حوالے سے ایک مصدقہ حوالہ ہے۔ کئی اہم عرب ممالک نے قرارداد کے مسودے پر فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کو متن میں شامل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کی سختی سے مخالفت کرتا ہے جو فلسطین کی ریاستی حیثیت کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ ہے۔اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق بین الاقوامی استحکام فورس اسرائیل، مصر اور نئی تربیت یافتہ مگر تصدیق شدہ فسلطینی پولیس فورس سرحدی علاقوں کی سکیورٹی اور حماس سمیت ریاست مخالف گروہوں کو غیر مسلح کرنے میں مدد کرے گی یاد رہے کہ اب تک غزہ میں پولیسں حماس کے زیر انتظام کام کرتی ہے۔ اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سفیر نے سکیورٹی کونسل کو بتایا تھاکہ ’بین الاقوامی فورس کے اہداف یہ ہوں گے کہ وہ علاقے کو محفوظ بنائیں، غزہ میں غیر عسکری کارروائیوں کی حمایت کریں، دہشت گردوں کا نیٹ ورک ختم کریں، اسلحہ ختم کریں اور فلسطینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائے گی سکیورٹی کونسل نے اپنی قرارداد میں غزہ میں ’بورڈ آف پیس‘ (امن) کے نام سے عبوری حکومت کے قیام کی منظوری دی ہے، جس کا کام فلسطینی ٹیکنوکریٹک پر مشتمل غیر سیاسی کمیٹی کی گورننس کی نگرانی کرنا اور غزہ کی تعمیر نو اور انسانی امداد کی فراہمی پر نظر رکھنا ہے۔ غزہ میں دو سال تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد تعمیرِ نو کے لیے معالی معاونت، عالمی بینک کی حمایت سے بننے والے ٹرسٹ فنڈ سے کی جائے گی۔ قرارداد میں کہا گیا تھا کہ بین الاقوامی استحکام فورس اور بورڈ آف پیس، فلسطینی کمیٹی اور پولیس فورس کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ حماس نے ٹیلی گرام پر جاری پیغام میں کہا تھاکہ ’غزہ میں بین الاقوامی سرپرستی کا جو نظام مسلط کیا جا رہا ہے اسے ہمارے عوام اور مختلف گروہوں نے مسترد کیا ہے غزہ میں بین الاقوامی فورس کو دیے گئے اہداف اور کردار، جیسے مزاحمت کو غیر مسلح کرنا وغیرہ، یہ فورس کی غیرجانبداری کو ختم کر کے علاقے پر اپنا تسلط جمانے کی اس لڑائی میں فریق بناتی ہےپاکستانی مندوب نے تھا کہ مذاکرات میں پاکستان نے نہ صرف عرب ممالک کی تجاویز کی حمایت کی بلکہ اپنی بھی کچھ تجاویز متعارف کروائیں جن میں کچھ کو مان لیا گیا جیسے جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور کونسل کو رپورٹ کرنا وغیرہ لیکن کچھ تجاویز کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ جن تجاویز کو شامل نہیں کیا گیا اس میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے واضح طریقہ کار، فلسطینی اتھارٹی کا مرکزی کردار اور بین الاقوامی استحکام فورس اور بورڈ آف پیس کے بارے میں مکمل وضاحت شامل ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ فلسطین کے عوام کا خقِ خود ارادیت غیر مشروط ہونا چاہیے اور بورڈ آف پیس کی حیثیت عارضی ہو نہ کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کا متبادل بن جائے۔غزہ میں فلسطینی نیشنل اتھارٹی کے زیر انتظام سیاسی عمل کے ذریعے ہی مختلف گروہوں کو غیر مسلح کرنے کا کام شروع کیا جائے پاکستان کا ماننا ہے کہ کسی بھی علاقے کا الحاق یا کسی بھی علاقے سے جبری نقل مکانی نہیں ہونی چاہیے اور ویسٹ بینک یا غربِ اردن اور غزہ کا علاقے آزاد فلسطینی ریاست کا حصہ ہوں۔ پاکستان نے واضح کیاہے کہ پاکستان 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک خودمختار، آزاد فلسطین کے لیے اپنی دیرینہ حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام دو ریاستی حل کے تحت آزادی فلسطینی ریاست کے قیام سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے امن معاہدے کے تحت غزہ اور مغربی کنارے میں قیامِ امن کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس تشکیل دینے کا بھی اعلان کیا ہے اور گذشتہ دنوں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ’رُکن ممالک نے بین الاقوامی استحکام فورس اور مقامی پولیس کے لیے ہزاروں اہلکار فراہم کرنے کا عہد کیا ہے
غزہ میں فورس کی تعیناتی بھی اس بات سے مشروط ہونی چاہیے کہ اب اسرائیل مزید کوئی حملہ نہیں کرے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ دنیا بھر میں مسائل کے خاتمے اور تنازعات روکنے میں اقوام متحدہ فعال کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انھوں نے کئی بار ’بورڈ آف پیس‘ کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے اسے دیگر تنازعات کے حل کے لیے بھی ایک ممکنہ فورم کے طور پھر پیش کیا ہےسابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ ایک متوازی فورم بنانا چاہتے ہیں۔بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے جن ممالک کو دعوت دی گئی تھی اُن میں سے نصف سے زیادہ ممالک ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل نہیں ہوئے کیونکہ انھیں بورڈ کے کردار، قانونی حیثیت اور اس کی افادیت پر تحفظات ہیں۔ بورڈ میں شامل نہ ہونے والے ممالک کو اعتراض ہے کہ صدر ٹرمپ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے طرز پر ایک متوازی ادارہ قائم کر رہے ہیں دوسری جانب یہ تحفظات درست نہیں ہیں کیونکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت ہی بورڈ آف پیس کا قیام ممکن ہوا ہے۔اقوام متحدہ کے موجودگی میں بھی مسائل کے حل کے لیے کئی بین الاقوامی پلیٹ فارمز موجود ہیں اقوام متحدہ کی حمایت کے تحت یہ ایک مشترکہ پلیٹ فورم ہے جس کا اولین مقصد غزہ میں پائیدار امن کا قیام ہے اور پاکستان کی اس میں شمولیت کی وجہ بھی اس فورم کے متعلق اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد ہےتاحال یہ واضح نہیں کہ واشنگٹن کو ہونے والے امن بورڈ کے اجلاس میں کتنے رُکن ممالک شریک ہیں تاہم اب تک پاکستان اور اسرائیل سمیت تقریباً دو درجن ممالک نے اس بورڈ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے پاکستان کے علاوہ مصر، اُردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب اور قطر جیسے مسلم ممالک بھی ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہیں یاد رہے کہ امریکہ کے بڑے یورپی اتحادی، بشمول برطانیہ اور فرانس، اس بورڈ میں شامل نہیں ہوئے ہیں جبکہ کئی یورپی ممالک نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ اقدام (غزہ امن بورڈ کی تشکیل) اقوامِ متحدہ کو پسِ پشت ڈال سکتا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس نے بورڈ آف پیس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ تو فلسطینیوں کے سامنے جواب دہ ہے اور نہ اقوامِ متحدہ کے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ بورڈ واقعی امن قائم کر سکتا کیونکہ اس بورڈ میں فلسطینی نمائندوں کی براہ راست شمولیت کا نہ ہونا، اس کی سنجیدگی پر سوال اُٹھاتا ہے مسلم ممالک سمجھتے ہیں کہ فی الوقت غزہ میں امن قائم کرنے کا کوئی متبادل فورم موجود نہیں ہے۔ پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا فیصلہ اپنے مفادات کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیا ہے, پاکستان اور امریکہ کی قربت بڑھ رہی ہے اور پاکستان کے حلیف اسلامی ممالک بھی اس اتحاد میں شامل ہیں ایسے میں پاکستان کے پاس کوئی اور چوائس نہیں تھی بورڈ آف پیس کے معاملے پر پاکستان کو تنہا نہیں دیکھنا چاہیے، کیونکہ اس معاملے پر پاکستان عرب ممالک کے ساتھ کام کرتا ہے، جو دولت مند بھی ہیں اور اُن کا اثر و رسوخ بھی زیادہ ہے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف امریکی صدر ٹرمپ کی میزبانی میں ’بورڈ آف پیس‘ کے عالمی اجلاس میں شرکت کے لیے واشنگٹن پہنچ گئے ہیں, من بورڈ کے اس اجلاس کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد وہاں پائیدار امن اور استحکام لانا اور جنگ زدہ علاقے کی تعمیر نو پر بات کرنا ہے۔ صدر ٹرمپ اس اجلاس کو عالمی امن اور استحکام کی بحالی کے لیے اہم سفارتی اقدام طور پر پیش کر رہے ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ اجلاس میں کتنے ارکان شریک ہوں گے۔ اب تک تقریباً دو درجن ممالک نے ٹرمپ کی قیادت میں اس اقدام میں شامل ہونے پر اتفاق کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ پاکستان طاہر حسین اندرابی کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل سٹبلائزیشن فورس سے متعلق اپنی ریڈ لائن ظاہر کی ہے، اس کا مینڈیٹ سامنے آنے تک پاکستان فیصلہ نہیں کرسکتا ، پاکستان اپنی فوج امن کیلئے دے سکتا ہے، حماس کو غیر مسلح کرنے کیلئے نہیں۔ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نے سینئر پاکستانی سفارتی تجزیہ کار اصغر علی مبارک کے ایک سوال پر جواب دیا کہ”انٹرنیشنل سٹبلائزیشن فورس ( آئی ایس ایف )کے بھی کچھ ایجنڈے کے نکات ہوں گے، کیا پاکستان نے اس پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے؟ مزید یہ کہ آج بورڈ آف پیس کے سربراہی اجلاس میں کیا غزہ میں فوج بھیجنے کے حوالے سے کوئی بات چیت متوقع ہے؟ اگر ایجنڈے میں ایسا کچھ ہے تو اس پر پاکستان کا موقف کیا ہے؟
غزہ میں قیامِ امن کے منصوبے کے پہلے مرحلے میں اسرائیل اور حماس کے مابین مغویوں کا تبادلہ 10 اکتوبر سے شروع ہوا تھا۔
امریکی صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے اعلان کے بعد سے حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ بند ہوئی تھی۔ سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 251 اسرائیلیوں کو مغوی بنایا گیا تھا جس کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں اسرائیلی افواج کے حملوں میں کم سے کم 69483 فلسطینی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔