اسلام آباد (اردو ٹائمز) کُلُّ یَوْمٍ عَاشُورَا و کُلُّ اَرْضٍ کَرْبَلاء..یومِ عاشورکو آج ہی کے دن دس محرم سنہ 61 ہجری کو فرزند رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کو کربلا کے میدان میں ان کے اصحاب و انصار کے ساتھ شہید کر دیا گیا تھا, یاد رکھیں کہ محرم کی چوتھی اور آٹھویں کے درمیان ابن زیاد نے اضافی سپاہیوں کو کمک کے طور پر بھیجنا جاری رکھا۔ آٹھویں محرم کی صبح تک ایک لاکھ چالیس ہزار مسلح افراد کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے خلاف جمع ہو گئے۔ جب بھی ابن زیاد کی فوجیں کربلا پہنچتی تھیں تو خوشی کا سماں ہوتا تھا اور ڈھول پیٹتے تھے اور صور پھونکتے تھے۔ جب بھی ایسا ہوا امام حسین علیہ السلام کی بہن حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے دریافت کیا کہ کیاامام حسین علیہ السلام کے خط کے جواب میں کوئی لاش آئی ہے؟ منفی جواب سن کر وہ اداس ہو جاتی تھی۔ آخر کار اسے حبیب ابن مظاہر یاد آیا جو امام حسین علیہ السلام کے بچپن کے دوست تھے۔ اس نے امام حسین علیہ السلام سے کہا کہ وہ اسے لکھیں۔ یزید اور اس کے کمانڈروں کی شیطانی قوتوں کے ایک لاکھ سے زیادہ سپاہیوں کو تلاش کرتے ہوئے،امام حسین علیہ السلام کی بہن حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اصرار کیا کہ وہ اپنے کچھ دوستوں کو بھی خط لکھیں۔امام حسین علیہ السلام نے اپنے بچپن کے دوست حبیب بن مظاہر کو ایک خط درج ذیل الفاظ میں لکھا: حسین بن علی سے لے کر عظیم فقیہ حبیب تک۔ میں اب کربلا میں یزید کی فوجوں میں گھرا ہوا ہوں۔
جب امام حسین علیہ السلام کا قاصد خط لے کر آیا تو مورخین کے مطابق حبیب بازار میں مہندی خرید رہے تھے۔ خط دیکھ کر حبیب نے دکاندار کو یہ کہتے ہوئے مہندی واپس کردی کہ ’’اب مہندی میرے کسی کام کی نہیں ۔ میری سفید داڑھی میرے ہی خون سے سرخ ہو جائے گی۔‘‘ حبیب اپنی بیوی کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کے کیمپ میں ذمہ داری ادا کرنے کے لیے پہنچے۔
“کیا تم نہیں جانتے کہ میں اللہ کے رسول کا نواسہ ہوں؟ کیا تم نہیں جانتے کہ میں رسول اللہ کی اکلوتی اولاد فاطمہ کا بیٹا ہوں؟ شہید حمزہ میرے والد کے چچا تھے۔ شہید جعفر میرے والد کے بھائی تھے۔ کیا آپ نے اللہ کے رسول کو اہل بیت سے اپنی محبت کا اعلان کرتے اور اس پر زور دیتے ہوئے نہیں سنا ہے، اور یہ کہ قرآن اور اہل بیت وہ لازم و ملزوم میراث ہیں جو اللہ کے رسول اپنے پیچھے چھوڑ کر جا رہے تھے۔ اور یہ کہ میں اور میرا بھائی حسن جنت کے جوانوں کے سردار ہیں؟ اگر آپ کو یہ سب باتیں معلوم نہیں ہیں تو پوچھ لیں اور تصدیق کر لیں، اگر آپ چاہتے ہیں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زندہ بچ جانے والے صحابہ، جیسے جابر بن عبداللہ الانصاری، ابو سعید رضی اللہ عنہ سے جو کچھ کہا ہے اس کی سچائی دریافت کر لیں۔ خدری، سہل بن سعد ساعدی، زید بن ارقم، انس بن مالک وغیرہ۔” امام حسین علیہ السلام نے پھر ان لوگوں سے خطاب کیا جو کوفہ سے تعلق رکھتے تھے اور اب عمر بن سعد کی فوج میں تھے۔
’’کیا تم نے مجھے خط لکھ کر شکایت نہیں کی کہ تمہارا کوئی امام نہیں ہے اس لیے مجھے کوفہ آنے اور دینی معاملات میں رہنمائی کرنے کی دعوت دی ہے؟‘‘ جب انہوں نے اس طرح کے خطوط سے لاعلمی کا بہانہ کیا تو امام حسین علیہ السلام نے اپنے خیمے سے خطوط لائے اور ان میں لکھنے والوں کے ناموں کے ساتھ پڑھنا شروع کیا۔ جب اس کا کوئی جواب نہ ملا تو امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:’’اگر تم نے ان خطوط کو لکھنے سے انکار کر دیا اور فرض کر لیا کہ یہ خط جعلی ہیں تو مجھے بتاؤ کہ تم نے ہمیں کیوں گھیر لیا ہے اور جانے کی اجازت نہیں دی ہے۔‘‘ اس پر قیس بن زیاد نے جواب دیا کہ پہلے تم یزید کو خلیفہ اور حاکم تسلیم کرو پھر ہم تمہاری بات سنیں گے۔ امام حسین علیہ السلام نے جواب دیا: میں یزید کی بیعت کرنے کے بجائے اپنی جان قربان کر دوں گا جو ظالم اور جابر ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے جواب دیا: میں یزید کی بیعت کرنے کے بجائے اپنی جان قربان کر دوں گا جو ظالم اور جابر ہے۔جو دنیاوی، جسمانی لذتوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ ڈھٹائی سے احکام الٰہی کی نافرمانی کرتا ہے اور کھلی عدالت میں پیغمبر اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مذاق اڑاتا ہے۔ میں یہاں سے جانے کو ترجیح دوں گا لیکن اگر میں مجبور ہوں تو میں کسی منافق اور غاصب کی دھمکیوں کے آگے سر تسلیم خم نہیں کروں گا۔ جواب میں دشمنوں میں سے ایک نے کہا کہ ہم آپ کو جانے نہیں دیں گے اور نہ ہی آپ کو پانی کا ایک قطرہ پینے دیں گے یہاں تک کہ آپ کو قتل کر کے آپ کا سر یزید کے سامنے پیش کر دیا جائے۔
حضرت امام حسین علیہ السلام نے لشکر کے دائیں بازو کو زہیر بن قین اور بائیں بازو کو حبیب بن مظاہر کے سپرد کیا اور پرچم حسینی اپنے بھائی ابوالفضل العباسؑ کے حوالے کیا۔میدان کے دوسری جانب عمر سعد نے اپنے لشکر کے،جو 4000 افراد پر مشتمل تھا،صفوں کو منظم کیا، عمرو بن حجاج زبیدی کو میمنہ، شمر بن ذی الجوشن کو میسرہ، عزرة بن قیس احمسی کو سوار دستے اور شبث بن ربعی کو پیادہ دستے کی کمانڈ دے دی،اسی عبداللہ بن زہیر اسدی کو کوفیوں، عبدالرحمن بن ابی اسیرہ کو مذحج اور بنو اسد، قیس بن اشعث بن قیس کو بنی ربیعہ اور کندہ اور حر بن یزید ریاحی کو بنی تمیم اور ہمدان کی امارت دی اور پرچم کو اپنے غلام زوید یا درید کے سپرد کر کےحضرت امام حسین علیہ السلام کے خلاف صف آرا ہوا۔
حضرت امام حسین علیہ السلام نے اتمامِ حجت کی خاطر اپنے کچھ ساتھیوں سمیت دشمن کی طرف تشریف لے گئے اوران کو وعظ و نصیحت فرمائی،حضرت امام حسین علیہ السلام کی گفتگو کے بعد زہیر بن قین نے آپؑ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے دشمن کو وعظ و نصیحت کی، روز عاشورا کے اہم واقعات میں سے ایک حُر بن یزید ریاحی کا لشکر عمر بن سعد سے نکل کرحضرت امام حسین علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہونا ہے۔ شروع میں دونوں لشکر گروہی شکل میں ایک دوسرے پر حملے کرتے رہے،بعض تاریخی مصادر کے مطابق پہلے ہی حملے میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے 50 اصحاب شہید ہو گئے۔ اس کے بعد انفرادی طور پر تن بہ تن لڑائی شروع ہوئی۔حضرت امام حسین علیہ السلام کے با وفا اصحاب دشمن کو امام کے نزدیک ہونے نہیں دیتے تھے۔غیر ہاشمی اصحاب اور ساتھیوں کی شہادت کے بعد بنی ہاشم کے جوان یکے بعد دیگرے میدان میں جانے لگے اور بنی ہاشم میں سے سب سے پہلے میدان میں جانے والا جوان حضرت علی اکبر تھا۔ ان کے بعد ایک ایک کر کے امام بنی ہاشم کے جوانوں نے اپنی اپنی قربانی پیش کیں۔ ابوالفضل العباسؑ جو لشکر کے علمدار اور خیموں کے محافظ تھے، نہر فرات سے خیمہ گاہ حسینی میں پانی لاتے ہوئے دشمن کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ بنیہاشم کے جوانوں کی شہادت کے بعد حضرت امام حسین علیہ السلام خود جنگ کیلئے تیار ہوئے لیکن دشمن کے لشکر سے آپ کے ساتھ مقابلہ کرنے کیلئے کوئی میدان میں آنے کیلئےتیار نہ تھا۔ جنگ کے دوران باوجود اس کہ آپؑ تنہا تھے اور آپ کا بدن زخموں سے چور چور تھا، آپ نہایت بہادری کے ساتھ تلوار چلاتے تھے۔آپ کی شہادت کے بعد دشمن کی فوج آپ کے جسم مبارک پرموجود ہر چیز لوٹ کر لے گئی؛ قیس بن اشعث اور بحر بن کعب نے آپ کی قمیص ، اسود بن خالد اودی نے آپ کے نعلین، جمیع بن خلق اودی نے آپ کی تلوار شمشیر، اخنس بن مرثد نے آپ کا عمامہ، بجدل بن سلیم نے آپ کی انگوٹھی اور عمر بن سعد نے آپ کا زرہ لُوٹ لیا۔اس کے بعد دشمن نے خیموں پر حملہ کیا اور ان میں موجود تمام سامان لوٹ لیا اور اس کام میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے تھے۔ شمر امام سجادؑ کو قتل کرنے کی خاطر دشمن کے ایک گروہ کے ساتھ خیموں میں داخل ہوئے لیکنحضرت زینب سلام اللہ علیہا اس کام میں رکاوٹ بنیں۔ ابن سعد نے اہل حرم کو ایک خیمے میں جمع کرنے کا حکم دیا پھر ان پر بعض سپاہیوں کی پہرے لگا دیا گیا۔ابن زیاد کے حکم پر عمر سعد نے اپنی فوج کے سپاہیوں کے ذریعے امام حسین علیہ السلام اور ان کے با وفا اصحاب کے جنازوں پر گھوڑے دوڑائے جس سے شہداء کے جنازے پامال ہو گئے،اسحاق بن حویہ، اخنس بن مرثدحکیم بن طفیل، عمرو بن صبیح، رجاء بن منقذ عبدی، سالم بن خیثمہ جعفی، واحظ بن ناعم، صالح بن وہب جعفی، ہانی بن ثبیت حضرمی اور اسید بن مالک ان افراد میں شامل تھے جنہوں نے شہداء کے بدن پر گھوڑے دوڑائے۔عمر بن سعد نے اسی دن امام حسین علیہ السلام کے سر مبارک کو خولی اورحمید ابن مسلم کے ساتھ کوفہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس بھیج دیا۔ اسی طرح اس نے اپنے سپاہیوں کو لشکرِ حسینی کے دیگر شہداء کے سروں کو بھی ان کےجسم سےجدا کرنے کا حکم دیا اوراس سب کو جن کی تعداد 72 تھیں، شمر بن ذی الجوشن، قیس بن اشعث، عمرو بن حجاج اور عزره بن قیس کے ساتھ کوفہ روانہ کیا۔ واقعہ عاشورا کے دن امام زین العابدینؑ سخت بیمار تھے۔ اسی وجہ سے آپ جنگ میں شرکت نہ کر سکے یوں مردوں میں سے صرف آپ زندہ بچ گئے اور حضرت زینب سلام اللہ علیہاسمیت اہل حرم کے دوسرے افراد کے ساتھ دشمن کے ہاتھوں اسیر ہوئے۔ عمر بن سعد اور اسکے سپاہی اسرا کو کوفہ میں ابن زیاد کے پاس لے گئے پھر وہاں سے انہیں یزید بن معاویہ کے پاس شام میں لے جایا گیا۔یومِ عاشورحقیقت کے ذریعے طاقت پر غلبے، انصاف کے ذریعے استبداد پر فتح اور ایثار و فداکاری کے ذریعے ظلم پر کامیابی کا ابدی ثبوت ہے۔حضرت امام حسین علیہ السلام کی ذات اقدس اور ان کا مقصد شہادت اتنا بلند ہے کہ ضروری نہیں ہر ذہن ان فضائل، مراتب اور راہ خدا میں اس بے مثال قربانی کا احاطہ کرسکے، جو خاندان نبوت نے میدان کربلا میں پیش کی۔
یومِ عاشور جہاں امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے عظیم رفقاء کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے وہیں یہ دن ہمیں اس بات کا بھی احساس دلاتا ہے کہ ہم واقعہ کربلا کی اصل روح اور پیغام کو دلی طور پر سمجھیں اورحضرت امام حسین علیہ السلام کی جانب سے ایثار و قربانی کی لازوال مثال پر حقیقی معنوں میں عمل پیرا ہونے کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کریں