اسلام آباد (اردو ٹائمز) انٹرنیشنل مانیٹری فنڈمانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ پاکستان میں 2025 کے بعد مزید ترقی کرے گا عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 13 ارب 92 کروڑ 10 لاکھ ڈالرز رہنے کا تخمینہ ہے، جبکہ آئندہ مالی سال 26-2025 میں ذخائر 17 ارب 68 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز رہنے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف نے رپورٹ میں کہا ہے کہ آئندہ مالی سال 26-2025 کے دوران پاکستان کی معاشی شرح نمو میں اضافے ہو سکتا ہے جبکہ رواں مالی سال معاشی نمو 2.6 فیصد رہنےکی توقع ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے رواں مالی سال کے لیے معاشی شرح نمو کا ہدف 3.6 فیصد مقررکر رکھا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق آئندہ مالی سال پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے نے رواں مالی سال کے مقابلے میں آئندہ مالی سال پاکستان میں مہنگائی میں اضافےکا امکان ظاہر کر دیا، رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال اوسط مہنگائی 5.1 فیصد رہنےکا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگلے مالی سال پاکستان میں اوسط مہنگائی کا تخمینہ 7.7 فیصد لگایا گیا ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال پاکستان میں اوسط مہنگائی 23.4 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
پاکستان نے معیشت کو مستحکم کرنے اور اعتماد کی بحالی میں نمایاں پیش رفت کی ہے جس پر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے تقریباً ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی نئی قسط کی منظوری دے دی ہے، جو اس کے دوہری نوعیت کے بیل آؤٹ (37 ماہ کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) اور موسمیاتی توجہ کی حامل ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی سہولت (آر ایس ایف) کے تحت جاری کی جا رہی ہے رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ پیر کو واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بعد سامنے آیا۔ بورڈ کے بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان کی مضبوط پروگرام عمل درآمد نے حالیہ تباہ کن سیلاب کے باوجود، استحکام کو برقرار رکھا ہے اور مالیاتی و بیرونی شعبے کی صورتِ حال میں بہتری آئی ہے‘ بیان میں زور دیا گیا کہ پاکستان کی پالیسی ترجیحات بدستور میکرواکنامک استحکام کے تحفظ اور اُن اصلاحات کے فروغ پر مرکوز ہیں، جو سرکاری مالیات کو مضبوط بنائیں، مسابقت کو بڑھائیں، پیداواری صلاحیت اور مقابلے کی اہلیت میں اضافہ کریں، سماجی تحفظ اور انسانی وسائل میں بہتری لائیں، سرکاری اداروں (ایس او ایز) میں اصلاحات کریں، اور عوامی خدمات کی فراہمی اور توانائی کے شعبے کی پائیداری کو بہتر بنائیں یہ منظوری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مشکل عالمی حالات کے باوجود پاکستان نے معیشت کو مستحکم کرنے اور اعتماد کی بحالی میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ بورڈ نے نوٹ کیا کہ پاکستان کی مالی کارکردگی مضبوط رہی ہے، اور مالی سال 2025 میں 1.3 فیصد جی ڈی پی کا پرائمری سرپلس حاصل ہوا، جو پروگرام اہداف کے مطابق ہے۔ مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر مالی سال 25 کے اختتام پر ساڑھے 14 ارب ڈالر رہے، جو ایک سال قبل 9 ارب 40 کروڑ ڈالر تھے، اور توقع ہے کہ مالی سال 26 اور درمیانی مدت میں یہ مزید بہتر ہوں گے بورڈ نے یہ بھی کہا کہ ’مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، جو خوراک کی قیمتوں پر سیلاب کے اثرات کا نتیجہ ہے، تاہم یہ اضافہ عارضی ہونے کی توقع ہے‘ آئی ایم ایف کے ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر اور قائم مقام چیئرمین نائیجل کلارک نے اپنے بیان میں کہا کہ غیر یقینی عالمی ماحول کے پیشِ نظر پاکستان کو چاہیے کہ وہ محتاط پالیسیوں پر عمل جاری رکھے تاکہ میکرواکنامک استحکام کو مزید مضبوط کیا جا سکے، اور ان اصلاحات میں تیزی لائی جائے جو نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار اور مضبوط درمیانی مدت کی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے ٹیکس پالیسی میں سادگی اور ٹیکس اس بیس کے پھیلاؤ کے ذریعے محصولات بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا، جسے مالی پائیداری کے حصول اور موسمیاتی ریزیلینس، سماجی تحفظ، انسانی وسائل کی ترقی اور عوامی سرمایہ کاری کے لیے مالی گنجائش پیدا کرنے کے لیے کلیدی قرار دیا گیا ہے۔ کلارک نے مزید کہا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات اس کی پائیداری کے تحفظ اور پاکستان کی مسابقتی صلاحیت میں بہتری کے لیے نہایت اہم ہیں انہوں نے بتایا کہ بجلی کے نرخوں میں بروقت ایڈجسٹمنٹ سے گردشی قرضے کے بہاؤ اور ذخائر میں کمی آئی ہے، جب کہ اس بات پر زور دیا کہ آئندہ کوششیں بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے اخراجات میں پائیدار کمی لانے اور توانائی و گیس کے شعبوں کی نااہلیوں کے ازالے پر مرکوز ہونی چاہئیں بورڈ نے کہا کہ آر ایس ایف کی قسط پاکستان کے موسمیاتی موافقت اور آفات سے نمٹنے کی استعداد بڑھانے کے ایجنڈے کی معاونت کے لیے ہے یہ قسط ایسے اقدامات کی حمایت کرتی ہے جو قدرتی آفات سے نمٹنے اور مالی تعاون کی کوآرڈی نیشن کو مضبوط کریں، پانی کے محدود وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنائیں، منصوبوں کے انتخاب اور بجٹ سازی میں موسمیاتی عوامل کو شامل کریں، اور مالیاتی فیصلوں میں موسمیاتی خطرات سے متعلق معلومات کو بہتر بنائیں۔ بورڈ نے نوٹ کیا کہ حالیہ سیلاب اس بات کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کو موسمیاتی اصلاحات پر تیزی سے عملدرآمد کرنا ہوگا تاکہ وہ بار بار آنے والی قدرتی آفات کے مقابلے میں اپنی ریزیلینس کو بڑھا سکے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کی جانب سے گورننس اور کرپشن ڈائگناسٹک اسیسمنٹ کی اشاعت کا خیرمقدم کیا، اور اسے گورننس اصلاحات میں پیش رفت کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔
کلارک نے مزید کہا کہ اضافی کوششوں کو ایس او ایز کی گورننس اصلاحات اور نجکاری، کاروباری ماحول کی بہتری، اور معاشی اعداد و شمار و شماریات کی مضبوطی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ بورڈ نے اس بات کو اجاگر کیا کہ پاکستان نے ڈھانچہ جاتی اصلاحات میں قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے۔ ’اسٹرکچرل اصلاحات کو آگے بڑھانے کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں تاکہ ترقی کی صلاحیت کو کھولا جا سکے اور نجی شعبے کی ہائی امپیکٹ سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے‘ اس قسط کے بعد، ای ایف ایف اور آر ایس ایف کے تحت پاکستان کو اب تک تقریباً 3 ارب 30 کروڑ ڈالر فراہم کیے جا چکے ہیں، جو میکرواکنامک استحکام اور طویل مدتی ساختی اصلاحات، خصوصاً موسمیاتی ریزیلینس کے لیے معاون ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ فنڈز قرضوں کی ادائیگی کے دباؤ میں کمی، درآمدی گنجائش میں بہتری، اور اہم سرمایہ کاری (بشمول انفرااسٹرکچر اپ گریڈ، پانی کے انتظام، اور آر ایس ایف روڈمیپ کے تحت موسمیاتی موافقت کے اقدامات) کی حمایت میں مدد دیں گے۔ پاکستان کے حکام نے اس منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں اور معاشی نظم و نسق پر اعتماد کا اظہار قرار دیا، تاہم یہ بھی کہا کہ اصل امتحان ان وعدوں کو حقیقی معاشی بحالی میں تبدیل کرنا ہے۔ ماہرین نے نشاندہی کی کہ مالیاتی اور توانائی پالیسی میں نظم و ضبط، گورننس اصلاحات، اور موسمیاتی موافقت مستقبل میں پائیدار معاشی ریلیف اور جھٹکوں کے مقابلے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے کلیدی ہوں گے۔عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، سخت مالیاتی حالات، اور بار بار آنے والی موسمیاتی آفات کے پس منظر میں آئی ایم ایف کی یہ منظوری محض مالی سہارا نہیں بلکہ اس بات کا اشارہ ہے کہ منظم اصلاحات اور فنڈز کا مؤثر استعمال پاکستان کی معاشی بنیادوں اور مستقبل کے جھٹکوں کے مقابلے کی صلاحیت کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ 15 اکتوبر 2025 کوپاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان 7 ارب ڈالرز سے زائد کے قرض پروگرام کے دوسرے جائزے کے لیے اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا، ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط جاری کی گئی، آئی ایم ایف نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کے ساتھ قرض پروگراموں پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔منظوری مل گئی ہےتو آئی ایم ایف، پاکستان کو ایک ارب ڈالر اپنی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت اور 20 کروڑ ڈالر اپنی لچک اور پائیداری سہولت (آر ایس ایف) کے تحت فراہم کرے گا، جس سے ان دونوں پروگراموں کے تحت مجموعی ادائیگیاں تقریباً 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ایوا پیٹرووا کی زیر قیادت آئی ایم ایف کے مشن نے پاکستانی حکام کے ساتھ ای ایف ایف کے دوسرے جائزے اور آر ایس ایف کے پہلے جائزے کے سلسلے میں مذاکرات مکمل کیے تھے، یہ معاہدے 2024 میں شدید مالی بحران کے بعد معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کیے گئے تھے۔ اگرچہ مشن نے پاکستان سے روانگی کے وقت کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں کیا تھا، لیکن فنڈ نے کہا تھا کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے ’نمایاں پیش رفت‘ ہوئی ہے، ایک روز قبل واشنگٹن میں موجود وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی امید ظاہر کی تھی کہ یہ معاہدہ اسی ہفتے طے پا جائے گا۔آئی ایم ایف کے بیان میں مشن کی سربراہ ایوا پیٹرووا نے کہا تھاکہ اسٹاف لیول کا معاہدہ ابھی بھی آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔ ’ای ایف ایف کی معاونت سے پاکستان کا اقتصادی پروگرام معاشی استحکام کو مضبوط کر رہا ہے اور منڈی کے اعتماد کو بحال کر رہا ہے ایوا پیٹرووا کے مطابق ’پاکستان کی معاشی بحالی درست سمت میں گامزن ہے، مالی سال 25-2024 میں جاری کھاتوں کا توازن 14 سال بعد پہلی بار سرپلس (فاضل) رہا، مالیاتی خسارہ پروگرام کے ہدف سے بہتر رہا، مہنگائی قابو میں ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے اور مالیاتی حالات بہتر ہو رہے ہیں کیونکہ خود مختار بانڈز کے اسپریڈ میں نمایاں کمی آئی ہے‘ حالیہ سیلاب نے معیشت کے منظرنامے خاص طور پر زرعی شعبے پر منفی اثر ڈالا ہے، جس کے نتیجے میں مالی سال 26-2025 کے لیے مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا تخمینہ کم ہو کر تقریباً 3.25 سے 3.5 فیصد رہ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سیلاب اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ پاکستان قدرتی آفات اور ماحولیاتی خطرات کے لحاظ سے نہایت کمزور ہے، اور اس کے لیے موسمیاتی لچک پیدا کرنے کی مستقل ضرورت ہے‘ ایوا پیٹرووا نے سیلاب سے متاثرہ افراد سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فنڈ پاکستانی حکام، نجی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے مذاکرات کے دوران بھرپور تعاون اور میزبانی کی۔ان کے مطابق پاکستانی حکام مالی سال 26-2025 کے لیے مجموعی ملکی پیداوار کے 1.6 فیصد کے بنیادی سرپلس کے ہدف پر قائم ہیں، جسے محصولات میں اضافے اور ٹیکس نظام کی مؤثر عملداری کے ذریعے حاصل کیا جائے گا اگر محصولات میں کمی کے باعث پروگرام کے اہداف کو خطرہ لاحق ہوا تو حکام بروقت اقدامات کے لیے تیار ہیں‘ ایوا پیٹرووا نے کہا کہ حکام متاثرہ صوبوں میں سیلاب زدگان کے لیے فوری امدادی اقدامات کر رہے ہیں اور وفاقی و صوبائی بجٹ میں ازسرنو مختص رقم کے ذریعے ریلیف فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’سماجی تحفظ ای ایف ایف پروگرام کا ایک بنیادی ستون ہے، اور حکام بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی مالی وسعت، دائرہ کار اور انتظامی صلاحیت کو بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں‘ وفاقی اور صوبائی سطح پر بی آئی ایس پی سے ہٹ کر صحت اور تعلیم کے اخراجات میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ شمولیتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے اور کمزور طبقات کا تحفظ کیا جا سکے‘۔ محصولات میں اضافے، وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی بوجھ کی منصفانہ تقسیم اور عوامی مالیاتی نظم و نسق کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔اسٹیٹ بینک مہنگائی کو 5 سے7 فیصد تک رکھنے کے اقدامات کرے گا‘
انہوں نے وضاحت کی کہ ’چونکہ محصولات میں صوبوں کا کردار اہم ہے، اس لیے وفاقی حکومت صوبائی حکام کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت کرے گی ’ٹیکس پالیسی کے ڈیزائن کو بہتر بنانے میں بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے، نیا ٹیکس پالیسی دفتر قائم کر دیا گیا ہے جو درمیانی مدت میں اصلاحات کی قیادت کرے گا، تاکہ ٹیکس نظام کو سادہ بنایا جائے اور عارضی اقدامات پر انحصار کم کیا جا سکے‘ اسٹیٹ بینک آف پاکستان محتاط مالیاتی پالیسی جاری رکھے گا جو آنے والے معاشی اعداد و شمار، حالیہ سیلاب کے اثرات اور معاشی بحالی کے رجحان کو مدنظر رکھے گی تاکہ مہنگائی 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر برقرار رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر سیلاب کے باعث قیمتوں پر عارضی دباؤ بڑھا تو اسٹیٹ بینک اپنی پالیسی میں ردوبدل کے لیے تیار ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ خوش آئند ہے، لیکن اب بھی فارن ایکسچینج مارکیٹ کو مزید فعال اور شفاف بنانے کے اقدامات درکار ہیں تاکہ لین دین میں سہولت ہو، قیمتوں کا درست تعین ممکن ہو اور بیرونی جھٹکوں کا مقابلہ کیا جا سکے‘ ایوا پیٹرووا نے گردشی قرضے کے حوالے سے کہا کہ پاکستان اسے مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے پرعزم ہے، جس کے لیے بروقت ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور لاگت کی وصولی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ ساختی اصلاحات بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی، گورننس اور اثر انگیزی کو بہتر بنانے پر مرکوز ہیں جن میں نجکاری، ترسیلی نظام کی اپ گریڈیشن، غیر مؤثر پیداواری یونٹس کی نجکاری اور مسابقتی مارکیٹ کی تکمیل شامل ہے‘ حکام پیداوار میں بہتری، گورننس کے استحکام اور کاروباری ماحول کی اصلاح کے ذریعے نجی شعبے کی ترقی کے لیے ساختی اصلاحات پر پیش رفت کر رہے ہیں سرکاری اداروں میں اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اب بھی ضرورت ہے کہ سرکاری اداروں میں اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جائے اور معیشت میں ریاست کے کردار کو محدود کیا جائے‘ ان کے مطابق حکام زرعی شعبے میں حکومتی مداخلت کم کرنے کے لیے اصلاحات پر بھی کام کر رہے ہیں تاکہ یہ شعبہ زیادہ مؤثر، متنوع اور عالمی سطح پر مسابقتی بن سکے اور غذائی تحفظ کے تقاضے پورے کر سکے ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی تجارت کو فروغ دینے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں، جن میں نئی نیشنل ٹیرف پالیسی کا نفاذ شامل ہے ’حالیہ اور 2022 کے سیلابوں نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ پاکستان کے لیے موسمیاتی لچک پیدا کرنا ناگزیر ہے‘ آر ایس ایف کے تحت قومی وعدوں سے ہم آہنگ پالیسیاں موسمیاتی مزاحمت کو مضبوط بنا رہی ہیں جن میں حالیہ سبز نقل و حمل (گرین موبیلٹی) اور ٹرانسپورٹ میں کاربن کے اخراج میں کمی کے اقدامات شامل ہیں‘ ان کے مطابق ’پاکستانی حکام مستقبل کی اصلاحات پر بھی کاربند ہیں، جن میں موسمیاتی معلوماتی نظام اور مالی خطرے کے انتظام کو مضبوط بنانا، پانی کے نظام کی پائیداری بہتر کرنا، قدرتی آفات سے متعلق مالیاتی فریم ورک تیار کرنا اور توانائی کے شعبے کی اصلاحات کو قومی ماحولیاتی اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کرنا شامل ہے