( اصغرعلی مبارک )
اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیر اعظم شہبازشریف اور شہزادہ محمد بن سلمان کی ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے اقتصادی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا گیاہےواضح رہے کہ سعودی ولی عہد سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر جاری بیان میں وزیراعظم نےکہا تھاکہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ریاض میں ملاقات ہوئی جس میں باہمی تعاون کے فروغ کے لیے تعمیری گفتگو ہوئی، تجارت ، سرمایہ کاری ، توانائی اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نےکہا تھاکہ سعودی عرب کے پاکستان سے مسلسل تعاون پر ولی عہد کے مشکور ہیں، دوستانہ تعلقات اور خوشحالی کے لیے مشترکہ وژن کی بدولت باہمی تعلقات مستحکم ہورہے ہیں، مضبوط دوطرفہ تعلقات باہمی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل ہورہے ہیں جب کہ مشرق وسطیٰ اور یوکرین میں امن کے لیے سعودی عرب کا کردار قابل ستائش ہے۔وزیراعظم پاکستان بدھ کو وفدکے ہمراہ 4 روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچے تھے جہاں مکہ کے نائب گورنر شہزادہ سعود نے وزیراعظم کا استقبال کیا تھا وزیراعظم شہبازشریف نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی جس میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیاتھا۔آرمی چیف جنرل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی موجود تھیں وزیر اعظم شہبازشریف اور شہزادہ محمد بن سلمان کی ملاقات میں علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر بھی گفتگو کی گئی جب کہ میں پاک سعودی سرمایہ کاری اور تجارتی امور پر بات چیت ہوئی تھی۔ وزیراعظم اور سعودی ولی عہد نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط اور تاریخی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا تھاجب کہ ملاقات میں اقتصادی ، تجارتی ، سرمایہ کاری، توانائی اور دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو کی گئی تھی۔ وزیراعظم نے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے سعودی عرب کے عزم کو سراہا جب کہ دونوں رہنماوں نے دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیاتھا۔ شہباز شریف اور محمد بن سلمان کے درمیان علاقائی صورتحال کے ساتھ ساتھ خطے کی سیاسی منظرنامے پر بھی بات چیت کی گئی اور خطے میں استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ وژن کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیاتھا۔ اس موقع پر شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں پاکستانی کمیونٹی کی نمایاں خدمات کا اعتراف کیاتھا اور سعودی عرب میں پاکستانی کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات بڑھانے پر اتفاق کیا گیاتھا۔اس کے علاوہ ملاقات میں عوام کے درمیان روابط ، ثقافتی تبادلے اور تعلیمی تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور سمیت باہمی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا تھا
وزیراعظم نے اُمت مسلمہ کی اتحاد و یگانگت اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے دعا کی۔ وزیراعظم شہباز شریف اس وقت سعودی عرب کے چار روزہ دورے پر ہیں، جس کے دوران انہوں نے جدہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات بھی کی۔ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب نے دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا اور دونوں ممالک نے باہمی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ سعودی عرب کے کئی شہروں میں ابر رحمت برس پڑا، جس نے نہ صرف موسم کو خوشگوار بنایا بلکہ زائرین کو روحانی طور پر بھی سکون پہنچایا۔ مسجد الحرام میں بارش کے دوران روح پرور مناظر دیکھنے کو ملے، جہاں عمرہ کے زائرین نے انتہائی ذوق و شوق کے ساتھ عبادات اور طواف انجام دیئے۔موسلا دھار بارش کے باوجود عمرہ زائرین کی تعداد میں کمی نہ آئی، اور وہ بارش میں بھی اللہ کے گھر میں عبادت میں مصروف رہے۔ سعودی محکمہ موسمیات نے مکہ مکرمہ اور اس کے اطراف میں شدید بارشوں کا الرٹ جاری کیا ہے اور شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھر سے نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے۔بارش کی یہ رحمت نہ صرف موسم کی زیبائش کا باعث بنی، بلکہ زائرین کے لیے ایک خاص روحانی لمحہ بھی ثابت ہوئی، جہاں عبادت اور اللہ کی رضا میں محو رہنا ایک نیا تجربہ تھا۔واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سعودی دارالحکومت ریاض میں 29 اپریل ، 2024 کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے خصوصی مکالمے اور گالا ڈنر میں شریک ہوئےتھے، تقریب کے دوران وزیر اعظم نے ولی عہد کے ساتھ مختلف امور پر تبادلہ خیال کیاتھا۔
اس موقع پر وزیراعظم نےعالمی اقتصادی فورم کے خصوصی اجلاس کے کامیاب انعقاد پر سعودی قیادت کو مبارک باد بھی پیش کی تھی اور رمضان المبارک کے دوران مکہ مکرمہ میں ہونے والی حالیہ ملاقات کا بھی ذکر کیاتھا۔ وزیر اعظم نے سعودی وزیر خارجہ کی قیادت میں اعلیٰ سربراہی وفد پاکستان بھیجنے پر بھی ولی عہد کا شکریہ ادا کیاتھا۔ وزیراعظم نے کہا تھاکہ وہ ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد کے ساتھ ریاض آئے ہیں جس میں سرمایہ کاری کے اہم ذمہ دار وزرا بھی شامل ہیں۔ ملاقات میں علاقائی صورت حال خاص طور پر غزہ کے بحران پر بھی تبادلہ خیال کیا گیاتھا، وزیراعظم نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو جلد پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت کا اعادہ بھی کیاتھا۔ واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف 28 سے 29 اپریل کو ریاض میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کی تھی,
وزیراعظم شہباز شریف نے صدر اسلامی ترقیاتی بینک ڈاکٹر الجاسر سے ملاقات میں کہا تھا کہ پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری کو صحیح خطوط پراستوار کرنےکیلئے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) فعال ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا اسلامی ترقیاتی بینک پاکستان کو شراکت داری، تعمیرنو اور روزگارمیں مدد فراہم کر رہا ہے۔ صدر اسلامی ترقیاتی بینک ڈاکٹر الجاسر نے اس موقع پر کہا تھاکہ پاکستان اسلامی ترقیاتی بینک کا بانی رکن اور انتہائی اہم ممبر ہے، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کوبھرپور قدرتی و آبی وسائل سے نوازا ہے۔ ڈاکٹر الجاسر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس بہت بڑی افرادی قوت ہے جس سے بھرپور طریقے سے مستفید ہوا جا سکتا ہے، پاکستان کی خوشحالی اور بہتری کے لیے دعاگو ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل 27 اپریل ، 2024 کو دورہ سعودی عرب میں وزیراعظم شہباز شریف سے مشیر شاہی دربار اور جنرل سیکرٹری سعودی پاکستان سپریم کوآرڈینیشن کونسل محمد بن مزیاد آل تویجری کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی تھی۔ اعلامیےکے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی تھی اور دونوں اطراف سے معاشی تعلقات کو مزید فروغ دینےکے حوالے سے غیر معمولی گرم جوشی کا اظہار کیا گیاتھا ,ملاقات میں سعودی وزیر خارجہ کے وفد کے ہمراہ پاکستان کے دورے کے دوران پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری پر ہوئی پیشرفت کا جائزہ لیا گیاتھا، سعودی وفد نے پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کے حوالے سے سعودی حکومت اور کمپنیوں کی طرف سے گہری دلچسپی کا اظہار کیاتھا۔ اس موقع پر محمد بن مزیاد نےکہا تھاکہ سعودی وزیر خارجہ کے پاکستان کے دورے کے بعد پاکستان میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری کی جانب سے ترجیحی بنیادوں پرکام شروع کردیا گیا ہے،جنگی بنیادوں پر پاکستان میں سرمایہ کاری پر کام شروع کر دیا ہے، جس میں سرکاری اور نجی سیکٹر دونوں کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ ملاقات میں وزیر اعظم پاکستان کو سعودی حکومت کے اصلاحات کے ایجنڈے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی تھی۔ وزیراعظم نےکہا کہ ہم پاکستان کی گورننس اسٹرکچرکو جدید خطوط پر استوار کرنےکے حوالے سے سعودی حکومت کی کامیاب اصلاحاتی پالیسی کے تجربے سے مستفید ہونا چاہتے ہیں،سعودی وفد کے دورہ پاکستان کے دوران ہوئی پیشرفت پر برق رفتاری سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ خیال رہے کہ محمد بن مزیاد آل تویجری سعودی عرب کے ویژن 2030 کےانچارج ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان کو ویژن 2030 سے متعلق تفصیلی آگاہ کیاتھا