اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی موجودہ معاشی اور علاقائی صورتحال کے پیش نظر “قومی کفایت شعاری پالیسی” کی منظوری دی ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی لانا اور عوام پر بوجھ کم کرنا ہے۔زیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ موجودہ بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر ملک میں معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے بروقت اقدامات ناگزیر ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف کا قوم سے اہم خطاب میں کہنا ہےکہ پاکستان آزمائش کی گھڑی میں ان ملکوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑا ہے، پاکستان ان ملکوں کی سلامتی کو اپنی سلامتی کا حصہ سمجھتا ہے خطے کو درپیش سنجیدہ اور پر خطر مسئلے پر آپ سے مخاطب ہوں، امن کو لاحق خطرات ہم سب کےلیے تشویش کا باعث ہیں۔ پاکستان کو مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کا سامنا ہے، مسلح افواج بہادر سپہ سالار کی قیادت میں وطن کی سلامتی اور خود مختاری کا تحفظ یقینی بنانے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی شہادت پر پاکستان گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے۔وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین اور دیگر ملکوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، خلیجی ملکوں پر حملوں سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
موجودہ مشکل حالات میں قومی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ جب مشکل مرحلہ گزر جائے گا اور معیشت مزید مضبوط ہو جائے گی تو حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ممکنہ ریلیف فراہم کرے گی۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ کفایت شعاری، سادگی اور بچت سے متعلق ہدایات کا اطلاق صنعتی اور زرعی شعبوں پر نہیں ہوگا تاکہ قومی پیداوار، برآمدات اور غذائی تحفظ متاثر نہ ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بچت اور کفایت شعاری کا بوجھ منصفانہ طور پر سب کو برداشت کرنا چاہیے۔ انہوں نے بالخصوص معاشرے کے بااثر اور صاحب حیثیت طبقات پر زور دیا کہ وہ رضاکارانہ طور پر ضروری ایڈجسٹمنٹ برداشت کر کے مثال قائم کریں۔وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں قومی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے سادگی اور کفایت شعاری سے متعلق متعدد تجاویز اجلاس میں پیش کی گئیں بتایا گیا کہ ملک میں ڈیزل، پیٹرول اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کے مناسب ذخائر موجود ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات کر لیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے محتاط استعمال اور ایندھن کے دانشمندانہ استعمال کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ وزارت آئی ٹی طلب اور رسد کی مسلسل نگرانی کے لیے ایک نظام فراہم کرے گی تاکہ سرکاری وسائل میں بچت اور توانائی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے اور متعلقہ ادارے بروقت فیصلے کر سکیں۔دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خطے میں جنگ کے باعث معاشی مشکلات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ فیصلے کے مطابق پیٹرولیم بحران کے خاتمے تک صوبائی وزرا کے لیے سرکاری فیول بند کر دیا گیا ہے۔ سرکاری افسران کی گاڑیوں کے لیے پیٹرول اور ڈیزل الاؤنس میں فوری 50 فیصد کمی کر دی گئی ہے۔ صوبائی وزرا اور اعلیٰ سرکاری افسران کے ہمراہ پروٹوکول گاڑیوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کے فیصلے کے مطابق ناگزیر سیکیورٹی کے لیےصوبائی وزرا اور اعلیٰ سرکاری افسر کے ہمراہ صرف ایک گاڑی ہوگی۔ سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم کا بھی فیصلہ کیا گیا اور صرف ضروری عملہ ہی دفتر آئے گا۔ دریں اثنا اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں، 10 مارچ سے 31 مارچ تک بند رہیں گی۔ امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے، اسکول اور تعلیمی ادارے آن لائن کلاسز لے سکیں گے۔ اعلامیہ کے مطابق سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے آن لائن اجلاس اور ٹیلی کانفرنسز منعقد ہوں گی، سرکاری آؤٹ ڈور تقریبات پر پابندی لگا دی گئی۔ اعلامیہ کے مطابق ہارس اینڈکیٹل شوکاثقافتی تہوار بھی ملتوی کر دیا گیا، پیٹرولیم مصنوعات کی مانیٹرنگ کے لیے ہرضلع میں ڈسٹرکٹ پیٹرولیم مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پی آئی ٹی بی کو پیٹرولیم مصنوعات کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر اداروں کے نمائندے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیار کرنے والی ٹیم میں شامل ہوں گے۔ وزیراعلی مریم نواز نے ہدایت کی کہ ورک فرام ہوم کے تحت صرف اضافی سپورٹ اسٹاف کی آمد ورفت بند کی جا رہی ہے، دفاتر میں کام بند نہیں ہوگا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ نجی شعبے کو ورک فرام ہوم اور غیر ضروری تقریبات نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نجی شعبہ کو صرف ضروری اسٹاف بلانے کی ایڈوائزری جاری کی جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہا تمام اضلاع میں ٹرانسپورٹ کرایوں کی سخت نگرانی کی جائے، زائد اور ناجائز کرائے وصول کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، پنجاب میں اشیائے خورونوش کی طلب و رسد کی سخت نگرانی کی جائے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے اپیل کی کہ بحرانی صورتحال کے پیش نظر عوام آؤٹ ڈورفنکشن نہ کریں، ہنگامی حالات کے پیش نظر عوام لیٹ نائٹ شاپنگ سے گریز کریں۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ ضروری اشیا کی غیرضروری خریداری یا ذخیرہ نہ کریں۔ انھوں نے کہا ہم وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو مشکل ترین بحران میں جراتمندانہ فیصلوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں، مشکل حالات میں قوم کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے والوں سے آہنی ہاتھوں سےنمٹیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا بہادر قومیں مشکل حالات کا اتحاد، صبر اور دانش مندی سے مقابلہ کرتی ہیں۔
علاقائی اور عالمی صورتحال کے تناظر میں وزیراعظم کی قومی کفایت شعاری پالیسی سے متعلق اجلاس میں حتمی لائحہ عمل طے کرلیا گیاہے ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاقی کابینہ کے اراکین نے دو ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا اجلاس میں کفایت شعاری اورسادگی پر مبنی تجاویز اور سفارشات کی بنیاد پرحتمی لائحہ عمل طے کیا گیا اور تمام سرکاری ملازمین اور وزرا کو سادگی اور کفایت شعاری اختیار کرنے کی تلقین کی گئی۔اجلاس میں کفایت شعاری اور بچت سے متعلق ہدایات صنعتی اور زرعی شعبوں پر لاگو نہ کرنے کا پلان تیار کیا گیا ہے جبکہ سرکاری وسائل کی بچت اور توانائی کے موثر استعمال کے لیے طلب اور رسد کی مسلسل نگرانی کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر اعظم نے ورک فرام ہوم اور ڈیجیٹل کنیکٹی ویٹی میں تعطل نہ لانے اور آن لائن کام کرنے والوں کو بلا رکاوٹ انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وزیراعظم آزادکشمیر نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔وزیراعظم نے معاشی ترقی، سادگی اور بچت پر مبنی لائحہ عمل تشکیل دینے اور عوام پر بوجھ کم سے کم رکھنے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعظم کی زیرصدارت حالیہ عالمی تناظر میں ملکی معاشی صورتحال پر جائزہ اجلاس میں حالیہ کشیدگی اور اس کے خطے پر پڑنے والے معاشی اثرات پر بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا ک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ کمیٹی کی تجویز پر ہوا جس میں عالمی سطح پر اضافے کا کم سے کم بوجھ صارفین پر منتقل کیا گیا۔ وزیراعظم نے کمیٹی کو مزید فعال طور پرکام کرنے اور جلد ازجلد عوام کیلئے سہل اورقابل عمل سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی۔ شہباز شریف نے کہا کہ جو پیٹرول پمپس یا کمپنی بھی مصنوعی قلت پیدا کرنے یا ذخیرہ اندوزی میں ملوث پائی گئی ہو، اس کو فوراً بند کیا جائے، ایسے پیٹرول پمپ یا کمپنی کا لائسنس منسوخ کرکے قانونی کارروائی کی جائے۔ وزیراعظم نے وزیر خزانہ اور وزیر پیٹرولیم کو چاروں صوبوں کا دورہ کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ صوبائی حکومتوں سے مل کر پیٹرولیم مصنوعات کی بچت، عوام کو بلاتعطل فراہمی کے بارے میں لائحہ عمل و منصوبہ بندی تیار کریں۔
حکومت کا رائٹ سائزنگ پروگرام جاری رکھنے کا فیصلہ ہے، آئندہ بجٹ میں حقیقی مالی بچت کے اہداف مقرر کیے جانے کا امکان ہے، اخراجات کم کرنے کے لیے ٹیلی کانفرنسنگ اور ورچوئل میٹنگز کو فروغ دیا جائے گا، سرکاری ضیافتوں پر پابندی عائد ہوگی صرف غیر ملکی وفود کے اعزاز کے لیے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ سرکاری سیمینارز، ٹریننگز اور کانفرنسز سے قبل خصوصی کمیٹی کی منظوری لازمی ہوگی، کمیٹی تقریب کی ضرورت اور ترجیح کا جائزہ لے گی، ایسی تقریبات کے لیے حکومتی آڈیٹوریم اور سرکاری سہولیات استعمال کرنے کی ہدایت کردی گئی۔ وزیراعظم نے جنگی صورتحال کے باعث کفایت شعاری کے اضافی اقدامات کی منظوری دے دی، کیے گئے فیصلے تمام وزارتوں، محکموں، خود مختار اداروں، عدلیہ اور پارلیمنٹ میں یکساں لاگو ہوں گے۔
حکومت نے جون 2026ء تک نئی پائیدار اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ آئی ٹی خریداری صرف این آئی ٹی بی کی جانچ اور آسٹریٹی کمیٹی کی منظوری کے بعد ممکن ہوگی۔
کابینہ ارکان، ارکانِ پارلیمان اور سرکاری افسران کے غیر ملکی سرکاری دوروں پر پابندی عائد کر دی گئی، پابندی کا اطلاق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تمام عہدے داروں پر ہوگا۔ ناگزیر سرکاری دوروں کے سوا کسی بھی قسم کے بیرونِ ملک سرکاری سفر کی اجازت نہیں ہوگی، بیرونِ ملک سفر کی صورت میں تمام حکومتی عہدے دار صرف اکانومی کلاس میں سفر کریں گے، یہ پابندی سرکاری یا ڈونر فنڈنگ سے ہونے والے تمام دوروں پر لاگو ہوگی۔
تمام سرکاری گاڑیوں کو اگلے 2 ماہ کے لیے ایندھن کی فراہمی میں 50 فیصد کمی کی جائے گی، ایندھن کی کمی سرکاری بسوں، ایمبولینس، موٹر بائیکس وغیرہ جیسی آپریشنل گاڑیوں کے لیے نہیں ہوگی، ایندھن کی کمی سے وفاقی سطح پر ساڑھے چار ارب روپے کی بچت متوقع ہے
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ساٹھ فیصد سرکاری گاڑیاں دو ماہ کے لیے گراوٴنڈ کی جائیں گی جب کہ جون 2026ء تک تمام قسم کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔
حکومت کا رائٹ سائزنگ پروگرام جاری رکھنے کا فیصلہ ہے، آئندہ بجٹ میں حقیقی مالی بچت کے اہداف مقرر کیے جانے کا امکان ہے، اخراجات کم کرنے کے لیے ٹیلی کانفرنسنگ اور ورچوئل میٹنگز کو فروغ دیا جائے گا، سرکاری ضیافتوں پر پابندی عائد ہوگی صرف غیر ملکی وفود کے اعزاز کے لیے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ سرکاری سیمینارز، ٹریننگز اور کانفرنسز سے قبل خصوصی کمیٹی کی منظوری لازمی ہوگی، کمیٹی تقریب کی ضرورت اور ترجیح کا جائزہ لے گی، ایسی تقریبات کے لیے حکومتی آڈیٹوریم اور سرکاری سہولیات استعمال کرنے کی ہدایت کردی گئی
وزیراعظم نے جنگی صورتحال کے باعث کفایت شعاری کے اضافی اقدامات کی منظوری دے دی، نئی اشیا اور سرکاری گاڑیوں کی خریداری، سرکاری دوروں، سرکاری ضیافتوں پر پابندی ہوگی، سرکاری گاڑیوں کا پیٹرول آدھا کردیا گیا، وزرا و مشیران دو ماہ کی تنخواہ و الاؤنسز چھوڑ دیں گے، سرکاری افسران کی تنخواہوں میں دو دن کی کٹوتی ہوگی قومی کفایت شعاری پالیسی اجلاس میں چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر کو بھی مدعو کیا گیا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام شعبوں میں اخراجات پوری طرح کنٹرول میں رہیں اور صنعت و زراعت کی ترقی کے ذریعہ روزگار سمیت ضروریات زندگی کی فراہمی یقینی بنائی جائے