اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کامیابی کا عزم کیا ہے اور کہا ہے کہ دہشتگردی کے خطرے کو مکمل طور پر ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں امن و امان سے متعلق ایک اجلاس میں کی یاد رہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد میں کہا تھا کہ دہشت گردی کا نیا خطرہ افغان سرزمین سے سر اٹھا رہا ہے، عالمی برادری افغان حکومت پر ذمے داریوں کی ادائیگی کیلیے زور ڈالے۔پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی بہت جامع ہے، جس میں تمام قومی اداروں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کو بڑھانا۔ قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانا اور امن و امان کو برقرار رکھنا۔عوام کی معاشی بہتری کے لیے اقدامات کرنا تاکہ دہشت گردی کی گروہوں میں شامل ہونے کے رجحان کو روکا جا سکے۔ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد میں افغان حکومت کے ساتھ تعاون کو بڑھانا۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جدوجہد میں پاکستان کا کردار ادا کرناشامل ہیں۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ (آئی سی جی) کا کہنا ہے کہ افغانستان میں 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، ادارے کے مطابق اگرچہ فی الحال جنگ بندی برقرار ہے، تاہم اگر عسکریت پسندوں کی کارروائیاں جاری رہیں تو پاکستان دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔ برسلز میں قائم آزاد اور غیر منافع بخش عالمی شخصیات کے تھنک ٹینک نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات شدید خراب ہو چکے ہیں، جس کی بنیادی وجہ افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی سے انکار ہے۔2022 کے بعد پاکستان میں تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صرف 2025 میں عسکریت پسندوں نے 600 سے زائد پاکستانی فوج اور پولیس کے اہلکاروں کو شہید کیا، جن میں زیادہ تر ہلاکتیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئیں جو افغانستان سے متصل صوبے ہیں۔
افغانستان نے اس کے جواب میں پاکستانی فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔ جاری جھڑپوں میں دونوں جانب فوجی اور شہری جانوں کا ضیاع ہوا۔رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ اگر کسی اور حملے کا سراغ افغانستان سے ملا تو پاکستان دوبارہ سخت ردعمل دے سکتا ہے۔ اگرچہ طالبان حکومت عسکری لحاظ سے کمزور ہے، تاہم اس کا ردعمل بھی مہلک ہو سکتا ہے۔ کابل کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو پاکستانی شہروں تک پہنچ سکتے ہیں، جن کے استعمال سے پاکستان کی جانب سے بہت زیادہ سخت جواب متوقع ہوگا۔جنوبی ایشیا میں پاکستان کے خارجی تعلقات کافی پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ 2025 میں افغانستان اور بھارت دونوں کے ساتھ مختصر جنگوں کے بعد کسی بڑے عسکریت پسند حملے کی صورت میں پاکستان اور اس کے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان قائم عاضی امن برقرار نہیں رہ سکتا۔
رپورٹ میں 2026 کے لیے جن 10 تنازعات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے ان میں افغانستان پاکستان، میانمار، اسرائیل اور امریکا بمقابلہ ایران، اسرائیل فلسطین، شام، یوکرین، مالی اور برکینا فاسو، ایتھوپیا اریٹریا، سوڈان اور وینزویلا شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دنیا ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی سے پہلے ہی ایک خطرناک دور میں داخل ہو چکی تھی۔ اب تک ان کی دوسری مدت نے حالات کو سست کرنے کے بجائے مزید تیز کر دیا ہے۔ 2025 ایک خونریز سال ثابت ہوا اور 2026 کے بھی زیادہ بہتر ہونے کے آثار نہیں.صدر ٹرمپ کی واپسی کا پہلا سال عالمی سیاست اور بین الاقوامی بحرانوں کے نظم و نسق کو یکسر بدل چکا ہے۔ وہ ایک جلتی ہوئی دنیا میں امن لانے کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں واپس آئے اور متعدد جنگوں اور تنازع زدہ علاقوں میں خود کو مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے برسوں سے ناکام سفارتی کوششوں کے بعد امن سازی کی جانب نئی توجہ ضرور دلائی، مگر وہ عالمی انتشار کو کم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے بلکہ بعض معاملات میں صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ ان کے معاہدے جو اکثر دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں پر مبنی ہوتے ہیں، چند محاذوں پر عارضی سکون تو لائے مگر کہیں بھی پائیدار امن قائم نہ ہو سکا۔ ٹرمپ کی ڈیل سازی کا مقصد امریکی طاقت کا استعمال ہے، خواہ غزہ میں اسرائیل کے واشنگٹن پر انحصار کو بروئے کار لا کر ہو یا دیگر علاقوں میں، جہاں زیادہ تر دباؤ ٹیرف کی دھمکیوں یا کاروباری مواقع کے لالچ کے ذریعے ڈالا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی سودے بازی کو اس تناظر میں بھی دیکھنا ہوگا کہ ان کی واپسی سے پہلے کہیں امن معاہدے نہیں ہوئے تھے جبکہ جن علاقوں میں وہ خود مداخلت نہیں کرتے وہاں بھی کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔یورپی رہنما جو اپنے دروازے پر منڈلاتے خطرات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں دیگر خطوں میں قیام امن کے لیے محدود گنجائش رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ افغانستان پوری دنیا کے دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے القاعدہ، داعش وہاں ہیں، بی ایل اے بھی وہیں ہے۔ شام سے بھی ڈھائی ہزار غیر ملکی دہشتگرد افغانستان پہنچے ہیں جو وہاں لڑ رہے تھے۔‘فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے اور تمام دہشتگرد تنظیمیں افغانستان میں ہیں اور وہاں ان کی پرورش کی جا رہی ہے ڈی جی آئی ایس پی آر نے جعفر ایکسپریس، ایف سی ہیڈکوارٹرز بنوں، کیڈٹ کالج وانا سمیت دہشتگردی کے دیگر حملوں کا نام لیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ برس 2597 دہشتگرد مارے گئے پاکستان میں ہونے والے دہشتگردی کے 10 بڑے واقعات میں افغان شہری شامل تھے۔ پریس بریفنگ میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گذشتہ برس پاکستانی فوج نے دہشتگردی کے خلاف ملک بھر میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر 75 ہزارکامیاب آپریشنز کیے گئے اور دہشتگردی کے 5400 واقعات ہوئے جبکہ 1235 قانون نافذ کرنے والے اہلکار اور عام شہری ہلاک ہوئے۔ یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک رپورٹ نے طالبان کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ افغان سرزمین سرحد پار دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو رہی اور اسے ’ناقابلِ اعتبار‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ہمسایہ ممالک افغانستان کو تیزی سے علاقائی عدم استحکام کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں۔ یہ جائزہ سلامتی کونسل کو پیش کی گئی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی 16 ویں رپورٹ میں شامل ہے، جو اگست 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے چار سال سے زائد عرصے بعد افغانستان کی سکیورٹی صورتحال پر بڑھتی عالمی تشویش کے تناظر میں تیار کی گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا، ’ڈی فیکٹو حکام مسلسل یہ انکار کرتے ہیں کہ کسی بھی دہشت گرد گروہ کی ان کے علاقے میں موجودگی یا وہاں سے کارروائیاں ہیں۔ یہ دعویٰ قابلِ اعتبار نہیں۔‘ طالبان نے 2020 کے دوحہ معاہدے کے تحت یہ وعدہ کیا تھا کہ افغانستان کو دیگر ممالک کے خلاف خطرہ بننے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ تاہم اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اگرچہ انہوں نے داعش خراسان کے خلاف سخت کارروائیاں کیں، لیکن دیگر دہشت گرد گروہوں کے بارے میں ان کا رویہ نمایاں طور پر مختلف رہا، جیسا کہ اقوامِ متحدہ کی مختلف رپورٹس میں بتایا گیا ہے رپورٹ کے مطابق، ’رکن ممالک کی ایک بڑی تعداد مسلسل یہ رپورٹ کر رہی ہے کہ داعش خراسان، تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ، مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ جسے ترکستان اسلامک پارٹی بھی کہا جاتا ہے، جماعت انصاراللہ، اتحاد المجاہدین پاکستان اور دیگر گروہ افغانستان میں موجود ہیں۔ بعض گروہوں نے افغانستان کو بیرونی حملوں کی منصوبہ بندی اور تیاری کے لیے استعمال کیا ہے یا کر رہے ہیں ,اقوامِ متحدہ کے مطابق القاعدہ طالبان کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھے ہوئے ہے اور متعدد صوبوں میں اس کی مستقل موجودگی ہے۔ اگرچہ اس کی سرگرمیاں کم نمایاں رکھی جاتی ہیں، مگر یو این مانیٹرز کے مطابق گروہ کو ایک ایسا ماحول میسر ہے جو تربیت اور تنظیمِ نو کی اجازت دیتا ہے۔ اس کے برعکس داعش خراسان کو طالبان کا بنیادی حریف سمجھا جاتا ہے۔ طالبان کی کارروائیوں سے اس کے علاقائی کنٹرول کو نقصان پہنچا ہے، تاہم گروہ نے لچک برقرار رکھی اور افغانستان کے اندر اور باہر حملے جاری رکھے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقائی استحکام کے لیے سب سے شدید خطرہ ٹی ٹی پی ہے، جسے اقوامِ متحدہ نے طالبان کے اندر بعض عناصر کی مضبوط حمایت سے مستفید ہوتے ہوئے محفوظ افغان ٹھکانوں سے کارروائیاں کرنے والا قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا، ’طالبان حکام ٹی ٹی پی کو قابو میں رکھنے میں ناکامی کی ذمہ داری سے انکار اور توجہ ہٹاتے رہتے ہیں۔ طالبان کے اندر ٹی ٹی پی کے لیے ہمدردی اور وفاداری موجود ہے۔‘ مزید کہا گیا، ‘کچھ سینئر ارکان ٹی ٹی پی کو ایک بوجھ سمجھنے لگے ہیں جو پاکستان کے ساتھ تعلقات میں غیر ضروری خلل اور کشیدگی پیدا کر رہا ہے، جبکہ دیگر اب بھی اس کے حامی ہیں۔‘ پاکستان کے دباؤ پر طالبان کے اس گروہ سے تعلقات ختم کرنے کے امکان کا جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا، ‘تاریخی روابط کے پیشِ نظر طالبان کا ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنا بعید از قیاس ہے مزید کہا گیا، ‘حتیٰ کہ اگر وہ چاہیں بھی تو ممکن ہے ان میں اس کی صلاحیت نہ ہو ,رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی نے ‘افغان سرزمین سے پاکستان میں متعدد ہائی پروفائل حملے کیے ہیں‘ جس کے باعث یہ کابل اور اسلام آباد کے تعلقات کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے 2025 کے دوران پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق 2025 میں اب تک پاکستان میں 600 سے زائد حملے ہو چکے ہیں۔ بتایا گیا کہ ‘کئی حملے پیچیدہ نوعیت کے تھے، جن میں گاڑیوں میں نصب خودکش دھماکا خیز مواد کے ساتھ پیدل خودکش حملہ آوروں کی ٹیمیں شامل تھیں‘ اور یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ ’پاکستان میں خودکش حملے کرنے والوں کی اکثریت افغان شہریوں پر مشتمل بتائی گئی۔ پاکستان طویل عرصے سے طالبان پر ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا آ رہا ہے، جن کی تعداد اقوامِ متحدہ کے مطابق تقریباً 6 ہزار ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ جنگجو صوبہ خوست، کنڑ، ننگرہار، پکتیکا اور پکتیا میں مقیم ہیں جبکہ گروہ کا سربراہ نور ولی محسود مبینہ طور پر کابل میں رہتا ہے ایک رکن ملک کے مطابق نور ولی محسود کے خاندان کو طالبان کی جانب سے ماہانہ 30 لاکھ افغانی (تقریباً 43 ہزار ڈالر) ادا کیے جاتے ہیں۔ افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی پر تنازع نے دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات کو شدید متاثر کیا ہے، حالانکہ ماضی میں افغان طالبان کو پاکستان کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا، ‘ان حملوں کے نتیجے میں سرحد پار فوجی جھڑپیں ہوئیں، جانی نقصان ہوا اور دوطرفہ تجارت میں خلل پڑا۔‘ مزید کہا گیا، ‘رپورٹ لکھے جانے کے وقت، انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ، پاکستان کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے افغان معیشت کو یومیہ تقریباً 10 لاکھ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔‘ مانیٹرنگ ٹیم کے مطابق ٹی ٹی پی نے اپنے اہداف کا دائرہ بھی بڑھایا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا، ‘جنوری میں ٹی ٹی پی نے ایک نیا ہدایت نامہ جاری کیا جس میں حملوں کے اہداف میں فوج کی ملکیت والے کاروبار بھی شامل کیے گئے، جس سے پاکستان کی فوج اور پاکستان میں چینی اداروں کے معاشی مفادات کو نشانہ بنانے کی مہم میں نمایاں اضافہ ہوا۔‘ رپورٹ میں ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے درمیان تعاون کی نشاندہی بھی کی گئی۔ وسیع تر عسکری موجودگی کے باوجود رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی میں بعض پیش رفت کا بھی ذکر کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ‘پاکستانی حکام نے کئی ہائی پروفائل گرفتاریاں کیں، جن میں 16 مئی 2025 کو داعش خراسان کے ترجمان سلطان عزیز اعظم کی گرفتاری شامل ہے۔
مزید کہا گیا، ‘مجموعی طور پر، ڈی فیکٹو حکام اور پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے نتیجے میں داعش خراسان کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے‘ اور یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ ‘2025 کے وسط میں ترک اور پاکستانی حکام کی جانب سے اوزگور آلتون المعروف ابو یاسر الترکی جو گروہ کے میڈیا اور لاجسٹک آپریشنز کی ایک اہم شخصیت تھا، کی گرفتاری ممکنہ طور پر ‘وائس آف خراسان‘ کی معطلی کا سبب بنی۔ القاعدہ کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا، ‘مارچ 2025 میں اسامہ محمود کو باضابطہ طور پر القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کا ‘امیر’ مقرر کیا گیا۔ ان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ سے ہے۔‘ قبل ازیں اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیموں کی ایک تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان ہتھیاروں میں سے کچھ پہلے ہی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) تک پہنچ چکے ہیں، جس سے پاکستان میں حملوں میں شدت آئی ہے۔جاری کی گئی 137 صفحات پر مشتمل رپورٹ کو ’اسپیشل انسپیکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن‘ نے جاری کیا ، جو افغانستان میں دو دہائیوں تک امریکی منصوبے کی تفصیل بیان کرتی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ کانگریس نے 2002 سے 2021 تک افغانستان کی تعمیر نو اور جمہوری منتقلی کے لیے تقریباً 144 ارب 70 کروڑ ڈالر فراہم کیے، لیکن آخرکار نہ تو تعمیر نو ہوئی اور نہ ہی جمہوری منتقلی ہوئی۔اقوام متحدہ کے ایک پینل نے رپورٹ کیا ہے کہ افغان طالبان اب بھی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو لاجسٹک اور آپریشنل مدد فراہم کر رہے ہیں، جب کہ واشنگٹن پوسٹ نے دستاویزی طور پر یہ ظاہر کیا ہے کہ درجنوں امریکی ساختہ ہتھیار اب پاکستان میں دہشت گردوں کے ہاتھوں میں ہیں، جو ریاست کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی ایک وجہ طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان میں نگرانی کی کمی ہے۔کہا گیا کہ طالبان کے قبضے کی وجہ سے سگار کو افغان نیشنل ڈیفنس اور سیکیورٹی فورسز (اے این ڈی ایس ایف) کو فراہم کیے گئے کسی بھی سامان یا بنائے گئے سہولتوں کی تفتیش کرنے کا موقع نہیں ملا۔امریکی محکمہ دفاع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تقریباً 7 ارب ڈالر 10 کروڑ مالیت کا امریکی فراہم کردہ سامان چھوڑا گیا تھا، جس میں ہزاروں گاڑیاں، لاکھوں چھوٹے ہتھیار، نائٹ ویژن ڈیوائسز اور 160 سے زیادہ طیارے شامل ہیں۔اس منتقلی کے اثرات اب پاکستان میں ظاہر ہو رہے ہیں۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، پاکستان میں پکڑے گئے کم از کم 63 ہتھیاروں کے سیریل نمبرز افغان فورسز کو فراہم کیے گئے ہتھیاروں سے میل کھاتے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ نےحکام کے حوالے سے بتایا کہ ان میں سے کچھ رائفلز اور کاربائنس ’اس سے کہیں زیادہ بہتر’ ہیں جو 2021 سے پہلے ٹی ٹی پی کے جنگجو استعمال کرتے تھے۔اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس بھی اس تشویش کی بازگشت کرتی ہیں، 36ویں مانیٹرنگ رپورٹ (2025) میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے تقریباً 6 ہزار جنگجو افغانستان کے غزنی، ہلمند، قندھار، کنڑ، اوروزگان، اور زابل صوبوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور القاعدہ کے ساتھ تربیتی سہولتوں کا اشتراک کرتے ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے ڈنمارک کی نائب مستقل نمائندہ، ساندرا جینسن لینڈی نے کہا تھا کہ ٹی ٹی پی کو کابل میں حکام کی طرف سے لاجسٹک اور اہم مدد مل رہی ہے۔اقوام متحدہ کے رپورٹس میں طالبان کی طرف سے ٹی ٹی پی کے رہنماؤں کو مہمان خانوں کی فراہمی، ہتھیاروں کی اجازت، نقل و حرکت کی اجازت، اور گرفتاری سے آزادی جیسے انتظامات کی تفصیل دی گئی ہے، جنہوں نے گروپ کو افغان علاقے میں مزید گہرا اثر رسوخ حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔ 2025 کی رپورٹ میں بھی سرحد پار حملوں کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں جنوبی وزیرستان میں ایک حملہ بھی شامل ہے جس میں 16 پاکستانی سیکیورٹی اہلکار مارے گئے۔رپورٹ امریکی سرمایہ کاری کے حجم اور افغانستان کے سیکیورٹی شعبے میں اس کی بے کار ہونے کا دوبارہ جائزہ بھی پیش کرتی ہے۔2002 سے جون 2025 تک، واشنگٹن نے اے این ڈی ایس ایف کے بنیادی ڈھانچے، نقل و حمل، اور سامان کے لیے 13 ارب 20کروڑ ڈالر کی رقم مختص کی۔امریکا نے افغان فورسز کے لیے 96 ہزار زمینی گاڑیاں، 4 لاکھ 27 ہزار سے زیادہ ہتھیار، 17 ہزار 400 نائٹ ویژن ڈیوائسز، اور کم از کم 162 طیارے خریدے تھے، جولائی 2021 تک (جب افغان حکومت کا سقوط ہوا) افغان فضائیہ کے پاس 131 آپریشنل امریکی فراہم کردہ طیارے تھے، جن میں سے تقریباً تمام اب طالبان کے زیر قبضہ ہیں۔مزید 11 ارب 50 کروڑ ڈالر افغان بیسوں، ہیڈکوارٹرز، اور تربیتی سہولتوں کی تعمیر پر خرچ کیے گئے تھے، جن میں سے زیادہ تر یا تو طالبان کے قبضے میں ہیں یا امریکی معائنہ کاروں کے لیے مکمل طور پر ناقابل رسائی ہیں۔رپورٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ امریکا کی افغانستان میں ایک مستحکم اور جمہوری حکومت بنانے کی خواہش شروع ہی سے غلط مفروضوں اور غیر ہم آہنگ شراکت داریوں کی وجہ سے ناکام ہوئی۔ ابتدائی امریکی فیصلوں نے ’کرپٹ، حقوق کی پامالی کرنے والے طاقتور افراد‘ کی حمایت کی، جس سے حکمرانی کو نقصان پہنچا، اور باغی گروپوں کی بھرتی کو تقویت ملی، اور آخرکار وہ ادارے جو امریکا تعمیر کرنا چاہتا تھا، وہ کمزور ہو گئے، نگرانی کا اندازہ ہے کہ 29 ارب ڈالر ضیاع، دھوکا دہی اور بدعنوانی کی نذر ہوئے۔انسانی قیمت کہیں زیادہ تھی، دسیوں ہزار افغان اور 2 ہزار 450 سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہوئے، اور اس کے باوجود طالبان کا اقتدار بحال ہو گیا، جو اب وہی سامان استعمال کر رہے ہیں جو امریکا نے اپنے حریفوں کے لیے خریدا تھا۔
اس ناکامی کے باوجود، امریکا افغانستان کا سب سے بڑا معاون رہا ہے، جس نے اگست 2021 کے بعد سے 3 ارب 83 کروڑ ڈالر سے زائد کی انسانی امداد اور ترقیاتی معاونت فراہم کی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن اب بھی انسانی ذمہ داریوں اور سیکیورٹی کے خدشات کے درمیان توازن قائم کرنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔جیسے ہی سگار اپنے مشن کا اختتام کرتا ہے، یہ حتمی رپورٹ ایک پُر اعتماد انتباہ فراہم کرتی ہے کہا گیا ہے کہ افغانستان کا تجربہ کسی بھی مستقبل میں کمزور ریاستوں کی تعمیر نو کے لیے ایک احتیاطی سبق ہونا چاہیے، یہ ایک ناکامی ہے جس کے اثرات اب وسیع تر علاقے کی سیکیورٹی منظرنامے کو نئی شکل دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ گذشتہ برس امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بلوچستان میں جعفر ایکسپریس ٹرین پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد چھوڑے گئے ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی صنعت کار کولٹ کی بنائی ہوئی ایک ’ایم4اےون کاربائن رائفل‘ حملے کی جگہ سے ملی تھی ، رائفل کے سیریل نمبر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ افغانستان میں امریکی افواج کو بھیجے گئے اربوں ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کا حصہ تھا، جنہوں نے 2021 میں انخلاء کے وقت اپنا زیادہ تر سامان چھوڑ دیا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا تھاکہ بہت سے ہتھیار سرحد پار سے پاکستان میں، اسلحے کے بازاروں میں اور باغیوں کے ہاتھوں لگ گئے، جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کس طرح امریکا کی ناکام جنگ کے سنگین نتائج طالبان کے ہاتھوں کابل کے زوال کے برسوں بعد بھی سامنے آرہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے، جہاں جنگجو امریکی ہتھیاروں اور سامان سے لیس ہیں۔دی واشنگٹن پوسٹ نے ہتھیاروں کے تاجروں کے حوالے سے رپورٹ کیا تھاکہ امریکی رائفلوں، مشین گنوں اور نائٹ ویژن چشموں کا اصل مقصد افغانستان کو مستحکم کرنے میں مدد کرنا تھا، لیکن اب اس کا استعمال کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر گروپ حملے کرنے کے لیے کیا جا رہا ہےخیبرپختونخوا میں رات کے وقت ہونے والے حملے میں شدید زخمی ہونے والے اسپیشل فورسز کے 35 سالہ کانسٹیبل احمد حسین نے دی واشنگٹن پوسٹ کو بتایا تھاکہ ’ان (دہشتگردوں) کے پاس جدید ترین امریکی ساختہ ہتھیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہاتھا کہ ’وہ ہمیں دیکھ سکتے تھے، لیکن ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے تھے۔ واشنگٹن پوسٹ نے مزید لکھا تھاکہ مئی 2024 میں پاکستانی حکام نے دستاویزات تک رسائی دی، جس کے تحت گرفتار یا ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے درجنوں امریکی ہتھیار برآمد ہوئے تھے۔ مہینوں کی انکوائریز کے بعد امریکی فوج اور پینٹاگون نے دی پوسٹ کو تصدیق کی تھی کہ صحافیوں کو دکھائے گئے ہتھیاروں میں سے 63 امریکی حکومت نے افغان نیشنل فورسز کو فراہم کیے تھے، جن میں زیادہ تر ہتھیار ایم 16 رائفلز کے ساتھ ساتھ جدید ایم 4 کاربائنز شامل تھے۔ حکام نے پی وی ایس 14 نائٹ ویژن ڈیوائسز بھی دکھائیں تھی، جو امریکی فوج کے ذریعے بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں، تاہم دی واشنگٹن پوسٹ آزادانہ طور پر ان کی سابق امریکی حکومت کی ملکیت کے طور پر تصدیق نہیں کر سکی تھی ۔ دی واشنگٹن پوسٹ نے لکھا تھاکہ ’جعفر ایکسپریس حملے کے بعد پاکستانی حکام نے مبینہ طور پر حملہ آوروں کے زیر استعمال تین امریکی رائفلوں کے سیریل نمبر فراہم کیےتھے‘۔ اخبار نے فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کے ذریعے حاصل کردہ ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا گیا تھا کہ کم از کم 2 امریکی اسٹاک سے آئے تھے اور افغان فورسز کو فراہم کیے گئے تھے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے جنوری 2024میں ایک بیان میں کہا تھا کہ’افغانستان میں جدید امریکی ہتھیاروں کی موجودگی پاکستان کی سلامتی کیلئے باعث تشویش ہے۔’واشنگٹن پوسٹ نے مزید کہاتھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر طالبان فوجی سازوسامان واپس نہیں کرتے تو افغانستان کے لیے معطل کردہ امداد کو مستقل طور پر روک دیا جائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری میں پہلے کابینہ اجلاس کے دوران کہا تھا کہ ہم نے اربوں ڈالرز مالیت کا سامان چھوڑ دیاتھا، تمام جدید ترین چیزیں، مجھے لگتا ہے کہ ہمیں سامان واپس ملنا چاہئے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ان کے تبصروں نےپاکستان میں امید کو پھر سے جگایا کہ امریکا اپنے فوجی سامان کے جواب میں مزید فیصلہ کن انداز میں آگے بڑھے گا، تاہم زیادہ تر کا خیال ہے کہ غیر قانونی اسلحے کے بہاؤ کو روکنے میں پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے۔
انہوں نے 2025 میں پاکستان میں دس بڑے دہشت گرد حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حملے کرنے والے تمام افغان شہری تھے، پریس کانفرنس میں گرفتار کیے گئے ان افغان شہریوں کے ویڈیو بیانات بھی سنائے گئے جنہوں نے پاکستان میں حملوں کا اعتراف کیا ترجمان پاک فوج نے مزید کہا تھاکہ امریکا 7.2 ارب ڈالر مالیت کا جدید فوجی سازوسامان افغانستان میں چھوڑ گیا تھا، اس میں نائٹ وژن آلات، طویل فاصلے تک مار کرنے والی اسنائپر رائفلیں، بلٹ پروف جیکٹس، حفاظتی آلات، ایم فور اور ایم سولہ رائفلیں شامل تھیں یہ سازوسامان افغان طالبان کے لیے دستیاب تھا اور بلیک مارکیٹ کے ذریعے مختلف دہشت گرد تنظیموں تک پہنچا۔ 2023 میں پشاور کے پولیس لائنز کی مسجد میں دھماکے کے بعد آرمی چیف کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُس موقع پر دہشت گردی کے بارے میں واضح مؤقف دیا گیاتھا، اور اب پورے پاکستان میں یہ وضاحت موجود ہے۔اس وضاحت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے سخت الفاظ میں کہاتھا کہ دہشت گردوں کا دین سے کوئی تعلق نہیں، انہیں ختم کرنا ہوگا اور ان کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے انہوں نے کہاتھا کہ تاہم اس میں وقت لگتا ہے، کیونکہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے خود کو مسلح کرنا، تربیت حاصل کرنا، درست ٹیکنالوجی اپنانا، بیانیہ تشکیل دینا اور قوم کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہوتا ہے