تحریر: ریحان خان
اسلام آباد، اتوار، 16 مارچ 2025 (اردو ٹائمز): کولیشن فار انکلو سیو پاکستان (سی-آئ-پی) نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کریں اور معذور افراد کے لیے عوامی بنیادی ڈھانچے کو قابل رسائی بنائیں۔
2017 میں ٹرسٹ فار ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی – فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (TDEA-FAFEN) کی معاونت سے قائم ہونے والی (سی-آئ-پی)، معذور افراد، خواتین اور خواجہ سرا کمیونٹی سمیت محروم طبقات کی سیاسی، سماجی اور اقتصادی شمولیت کے لیے کام کر رہی ہے۔ وقت کے ساتھ، یہ نیٹ ورک ملک بھر میں 100 سے زائد سول سوسائٹی تنظیموں تک پھیل چکا ہے۔
پاکستان کا قانونی فریم ورک، جس میں ایکسسیسبلیٹی کوڈ آف پاکستان 2006 اور مختلف وفاقی و صوبائی قوانین شامل ہیں، جسمانی اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی رسائی کو لازمی قرار دیتا ہے۔ تاہم، (سی-آئ-پی) کی جانب سے 19 اضلاع میں واقع 316 سرکاری عمارتوں – جن میں ہسپتال، نادرا رجسٹریشن سینٹرز اور سوشل ویلفیئر دفاتر شامل ہیں – کے تجزیے میں معلوم ہوا کہ یہ عمارتیں بنیادی ایکسیسبلیٹی معیارات پر بھی پورا نہیں اترتیں۔ رپورٹ میں شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان نمایاں تفاوت کا انکشاف بھی کیا گیا، جہاں ریمپ، ٹیکٹائل پاتھ وے، اور بریل سائن ایج جیسے اہم سہولیات کی عدم موجودگی پائی گئی۔
ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے، (سی-آئ-پی) نے تمام صوبوں میں ایکسیسبلیٹی کوڈ کو یکساں طور پر اپنانے اور قانونی فریم ورک کو ڈیجیٹل ایکسیسبلیٹی معیارات، جیسے ویب کنٹینٹ ایکسیسبلیٹی گائیڈ لائنز، تک وسعت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اتحاد نے معذوری کے حقوق کے کونسلز کو مزید اختیارات دینے پر بھی زور دیا ہے تاکہ وہ معائنہ کر سکیں، جرمانے عائد کر سکیں، اور عملدرآمد کی رپورٹس طلب کر سکیں۔ پاکستان انجینئرنگ کونسل اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی جیسے اداروں کے ساتھ مل کر انفراسٹرکچر منصوبوں میں ایکسیسبلیٹی کو شامل کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
(سی-آئ-پی) کی رپورٹ معذور افراد کے لیے ایکسیسبلیٹی میں موجود خلا کو پر کرنے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے جامع پ