اسلام آباد (اردو ٹائمز) لبنان پر اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کردیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکرز کو گزرنے سے روک دیا گیا ہے۔ایران کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق لبنان پر اسرائیلی حملوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کر دیا ہے اور اس اہم بحری راستے کے ذریعے آئل ٹینکرز کی آمدورفت معطل کر دی ہے فارس نیوز کے مطابق، جنگ بندی کے نفاذ کے بعد آج صبح دو تیل کے ٹینکر کو گزرنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن اسرائیل کے حملوں کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو روک دیا گیا ہے تاہم اس اقدام کی مدت کے حوالے سے کوئی واضح تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ خلیج میں موجود کئی جہازوں کو ایرانی بحریہ کی جانب سے آبنائے ہُرمُز بند ہونے کے پیغامات ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ شپنگ ذرائع کے مطابق ایرانی بحریہ سے ملنے والے پیغام میں کہا جا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے جہاز مالکان کو ایران سے اجازت لینی ہوگی. پیغام میں کہا گیا کہ ’کوئی بھی جہاز جو سمندر میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا اسے نشانہ بنایا جائے گا اور تباہ کر دیا جائے گا‘۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی مارکیٹ پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ اس سے قبل ایران نے خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل لبنان پر حملے جاری رکھتا ہے تو وہ امریکا کے ساتھ طے شدہ جنگ بندی معاہدے سے دستبردار ہو سکتا ہے۔ اس بات کا انکشاف ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم نے اپنی ایک رپورٹ میں ایک اعلیٰ عہدیدار کے حوالے سے کیا۔ ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ صیہونی حکومت کے لبنان پر جاری حملوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور ایران اسرائیلی خلاف ورزیوں کے تسلسل کا جائزہ بھی لے رہا ہے۔ مزید کہا کہ جس کے باعث ایران غور کر رہا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے تو امریکا کے ساتھ طے پانے والے جنگ بندی معاہدے سے علیحدگی اختیار کی جائے۔ایرانی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے ساتھ طے پانے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی منصوبے میں لبنان میں حزب اللہ سمیت تمام محاذوں پر جنگ روکنے پر اتفاق کیا گیا تھا تاہم اسرائیل نے جنگ بندی کے پہلے ہی روز یعنی آج لبنان میں اسرائیلی فوج نے بیروت، بقا وادی اور جنوبی لبنان میں صرف 10 منٹ میں 100 سے زائد مقامات پر حملے کرنے کی تصدیق کی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں، ایران کے صرف چند پوائنٹس امریکا کو قابل قبول ہیں اور انہیں پوائنٹس پر بند کمروں میں بات ہوگی، جنگ بندی کی بنیاد بھی یہی پوائنٹس ہیں۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا ایران مذاکرات کے بارے میں قیاس آرائیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے، فہرستیں اور خطوط شیئر کیے جارہے ہیں، یہ سب وہ فراڈیے کررہے ہیں جن کا اس معاہدے سے کوئی لینا دینا نہیں، فیڈرل انویسٹی گیشن مکمل ہونے کے بعد انہیں بے نقاب کیا جائے گا۔مزید کہنا تھا کہ صرف چند بامعنی نکات ہیں جو امریکا کے لیے قابل قبول ہیں، ہم ان نکات پر بند کمرے میں بات چیت کریں گے، یہ وہ نکات ہیں جن کی بنیاد پر ہم نے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔
ایک اور پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے، لبنان کو حزب اللہ کی وجہ سے جنگ بندی میں شامل نہیں کیا گیا، لبنان کا معاملہ الگ ہے، اس کو دیکھا جائے گا۔
اس سے قبل امریکی اخبار سے گفتگو میں جنگ بندی سے متعلق مذاکرات پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ آمنے سامنے مذاکرات جلد شروع ہوں گے، امریکا ایران کے ساتھ قریبی طور پر کام کرے گا، ہم ایران کے ساتھ محصولات اور پابندیوں پر بات کر رہے ہیں اور کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا ایران کے بارے میں یہ طے کیا گیا ہے وہاں نہایت مؤثر نظام حکومت کی تبدیلی ہوگی، ایران میں یورینئم افزودگی نہیں ہوگی، امریکا ایران کے ساتھ مل کر زمین میں دفن تمام نیوکلیئر ڈسٹ نکال کر ختم کرے گا۔