اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیر اعظم پاکستان شہبازشریف نے جنرل اسمبلی میں مسئلہ فلسطین بھرپور طریقے سے اٹھایا، فلسطین کا معاملہ حل کی جانب بڑھ رہا ہے اور فلسطینی عوام نے غزہ امن منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے۔ٹرمپ کی جانب سے اس منصوبے کے اعلان کے وقت پاکستان کا بھی خصوصی طور پر ذکر کیا گیا اور وزیرِاعظم شہباز شریف نے اس 20 نکاتی منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے دو ریاستی حل پر زور دیا، انہوں نے ایک پوسٹ میں کہا کہ فلسطینی عوام اور اسرائیل کے درمیان پائیدار امن خطے میں سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔7 اکتوبر 2023سے اسرائیل کی غزہ پر جنگ میں اب تک کم از کم 66 ہزار 55 افراد شہید اور ایک لاکھ 68 ہزار 346 زخمی ہو چکے ہیں، ہزاروں مزید افراد ملبے کے نیچے دبے ہونے کا خدشہ ہے، جنہیں مردہ تصور کیا جارہا ہے حملوں میں اسرائیل میں ایک ہزار 139 افراد ہلاک ہوئے تھےاس منصوبے کو کئی ممالک نے خوش آمدید کہا ہے جن میں سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اٹلی، فرانس اور برطانیہ کے ساتھ ساتھ فلسطینی اتھارٹی بھی شامل ہیں۔واضح رہے کہ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں طے پانے والے ابراہام معاہدوں کے تحت 4 مسلم اکثریتی ممالک نے امریکا کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ وزیراعظم کے بیان پر ملک بھر میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے، سیاستدانوں، ماہرین، صحافیوں اور کارکنوں نے اسے ’سرنڈر‘ قرار دیا۔ سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑنے کہا کہ فلسطین کا معاملہ حل کی جانب بڑھ رہا ہے، فلسطینی عوام نے غزہ امن منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے۔حرمین شریفین کی حفاظت کیلئے دفاعی معاہدے پر فخر ہے۔
10۔ غزہ کی تعمیرِ نو اور اسے ترقی کی نئی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ٹرمپ کا اقتصادی ترقیاتی منصوبہ تشکیل دیا جائے گا، جس کے لیے ایسے ماہرین پر مشتمل ایک پینل قائم کیا جائے گا جنہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں جدید اور خوشحال معجزاتی شہروں کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کیا ہے، کئی بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے سوچے سمجھے سرمایہ کاری کے منصوبے اور پرجوش ترقیاتی تجاویز تیار کی گئی ہیں، جنہیں زیرِ غور لایا جائے گا تاکہ سیکیورٹی اور حکمرانی کے ڈھانچوں کو یکجا کر کے ایسی سرمایہ کاری کو راغب اور آسان بنایا جا سکے جو غزہ کے مستقبل کے لیے روزگار، مواقع اور امید فراہم کرے گی۔ 11۔ ایک خصوصی اقتصادی زون قائم کیا جائے گا، جس کے لیے ترجیحی ٹیرف اور رسائی کی شرحیں شریک ممالک کے ساتھ طے کی جائیں گی۔ 12۔ کسی کو بھی غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا اور جو لوگ جانا چاہیں گے وہ آزاد ہوں گے کہ جا سکیں اور واپس بھی آسکیں، ہم لوگوں کو یہاں رہنے کی ترغیب دیں گے اور انہیں ایک بہتر غزہ تعمیر کرنے کا موقع فراہم کریں گے۔ 13۔ حماس اور دیگر دھڑے اس بات پر متفق ہیں کہ وہ غزہ کی حکمرانی میں براہِ راست، بالواسطہ یا کسی بھی شکل میں کوئی کردار نہیں رکھیں گی، تمام فوجی، دہشت گردی سے متعلق اور جارحانہ انفرااسٹرکچر، بشمول سرنگیں اور اسلحہ بنانے کی فیکٹریاں، تباہ کی جائیں گی اور دوبارہ تعمیر نہیں کی جائیں گی۔ غزہ کو غیر عسکری بنانے کا ایک عمل آزاد نگرانوں کی نگرانی میں انجام دیا جائے گا، جس میں اسلحہ کو ایک طے شدہ غیر فعال کرنے کے طریقہ کار کے تحت مستقل طور پر ناقابلِ استعمال بنایا جائے گا، اور اسے ایک بین الاقوامی مالی معاونت یافتہ باز خریداری اور دوبارہ شمولیت کے پروگرام سے سہارا دیا جائے گا، آزاد نگران تمام مراحل کی توثیق کریں گے، نیا غزہ ایک خوشحال معیشت کی تعمیر اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کے لیے پوری طرح پرعزم ہوگا۔ 14۔ علاقائی شراکت داروں کی جانب سے ایک ضمانت فراہم کی جائے گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ حماس اور دیگر دھڑے اپنی ذمہ داریوں کی پابندی کریں اور نیا غزہ اپنے ہمسایوں یا اپنے لوگوں کے لیے کوئی خطرہ نہ ہو۔ 15۔ امریکا، عرب اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک عارضی بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) تیار کرے گا جو فوری طور پر غزہ میں تعینات کی جائے گی، آئی ایس ایف غزہ میں جانچ پڑتال شدہ فلسطینی پولیس فورسز کو تربیت اور معاونت فراہم کرے گی، اور اس سلسلے میں وسیع تجربہ رکھنے والے اردن اور مصر سے مشاورت کرے گی۔ یہ فورس طویل المدتی داخلی سلامتی کا حل ہوگی، آئی ایس ایف اسرائیل اور مصر کے ساتھ مل کر نئے تربیت یافتہ فلسطینی پولیس اہلکاروں کے ساتھ سرحدی علاقوں کو محفوظ بنانے میں مدد کرے گی، یہ نہایت ضروری ہے کہ غزہ میں اسلحہ داخل ہونے سے روکا جائے اور تعمیرِ نو و بحالی کے لیے سامان کی تیز اور محفوظ ترسیل کو ممکن بنایا جائے، فریقین کے درمیان ایک ٹکراؤ سے بچاؤ کا طریقہ کار طے کیا جائے گا۔ 16۔ اسرائیل غزہ پر قبضہ یا الحاق نہیں کرے گا، جب آئی ایس ایف کنٹرول اور استحکام قائم کرے گا تو اسرائیلی فوج ایسے معیارات، سنگ میل اور وقتی حدود کی بنیاد پر پیچھے ہٹے گی جو اسرائیلی فوج، آئی ایس ایف، ضامنوں اور امریکا کے درمیان طے کیے جائیں گے، مقصد یہ ہوگا کہ ایک محفوظ غزہ قائم کیا جائے جو اسرائیل، مصر یا اس کے شہریوں کے لیے خطرہ نہ رہے۔ اسرائیلی فوج عبوری اتھارٹی کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت عملی طور پر غزہ کے مقبوضہ علاقے کو بتدریج آئی ایس ایف کے حوالے کرے گی، یہاں تک کہ وہ مکمل طور پر غزہ سے واپس نہ ہو جائیں، تاہم ایک سیکیورٹی حصار کے طور پر موجودگی برقرار رہے گی جب تک کہ غزہ کسی دوبارہ سر اُٹھانے والے دہشت گردی کے خطرے سے مکمل طور پر محفوظ نہ ہو جائے۔ 17۔ اگر حماس اس تجویز میں تاخیر کرے یا اسے رد کر دے تو اوپر بیان کردہ اقدامات، بشمول بڑھائی گئی امدادی کارروائی، ان دہشت گردی سے پاک علاقوں میں جاری رکھے جائیں گے جو اسرائیلی فوج نے آئی ایس ایف کے حوالے کیے ہوں گے۔ 18۔ ایک بین المذاہب مکالمے کا عمل قائم کیا جائے گا جو رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کی اقدار پر مبنی ہوگا، تاکہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی ذہنیت اور بیانیے کو بدلنے کی کوشش کی جا سکے اور امن سے حاصل ہونے والے فوائد کو اجاگر کیا جا سکے۔ 19۔ جب غزہ کی تعمیرِ نو آگے بڑھے گی اور فلسطینی اتھارٹی کا اصلاحاتی پروگرام دیانت داری سے نافذ کیا جائے گا، تو ممکن ہے کہ ایسے حالات آخرکار میسر آجائیں جو فلسطینی عوام کی خواہشات کے مطابق ان کی خود ارادیت اور ریاست کے قیام کے لیے ایک معتبر راستہ فراہم کریں، جسے ہم فلسطینی عوام کی آرزو کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ 20۔ امریکا اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ایک مکالمہ عمل شروع کرے گا تاکہ پُرامن اور خوشحال بقائے باہمی کے لیے ایک سیاسی افق پر اتفاق ہو سکے۔بہت سے اہم معاملات غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نہاد ’جامع منصوبے‘ پر منحصر ہیں، اس لیے یہ امکان نہیں ہے کہ اس منصوبے کو مکمل طور پر ناکام ہونے دیا جائے گا۔ امریکی صدر نے یقینی بنایا ہے کہ خود اسرائیل، مسلم ممالک کے بلاک اور یورپ سمیت تمام بااثر اسٹیک ہولڈرز کو اس منصوبے کے لیے اعتماد میں لیا جائے جو جنگ کے خاتمے کے بعد فلسطینی علاقوں میں ایک مثالی صورت حال کا تصور پیش کرتا ہے۔ اس امن مسودے کے کچھ ایسے حصے ہیں جن پر تل ابیب اور فلسطینی گروہوں، دونوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آسکتے ہیں۔ لہٰذا اس بات کا امکان نہیں ہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ مسودہ، زیادہ عرصے تک کسی رد و بدل سے محفوظ رہ پائے گا مجوزہ منصوبے میں حماس اراکین یا کم از کم وہ جو پُرامن رہنے اور ہتھیار ڈالنے پر رضامند ہوں گے، انہیں معاف کردیا جائے گا یا غزہ سے نکلنے کا محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔ امکان نہیں کہ یہ نکتہ بنیامن نیتن یاہو کی کابینہ کے سخت گیر اراکین کے لیے قابلِ قبول ہوگا وہ ایسے منصوبے کو پسند نہیں کریں گے جس کا نفاذ غزہ پر قبضہ کرنے کی اسرائیلی صلاحیت کو روکے جبکہ وہ مسودے کے نکتہ 19 کی سختی سے مخالفت کریں گے جو فسلطینی ریاست کی راہ ہموار کرتا ہے امریکی صدر کے نقطہ نظر سے، اس میں ایک ’گیٹ آؤٹ‘ شق بھی موجود ہے یعنی ’اگر حماس معاہدے کو مسترد کرتا ہے تو اسرائیل کو امریکا کی مکمل حمایت حاصل ہوگی کہ وہ جو کرنا چاہے کرسکتا ہے فلسطینی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ منصوبہ زیادہ تر ان مفادات کی حمایت کرتا ہے جو اسرائیل چاہتا ہے جبکہ یہ فلسطینی مفادات کا تحفظ نہیں کرتا۔ حماس نے زور دیا ہے کہ وہ ایسے کسی منصوبے کو قبول نہیں کریں گے کہ جس میں جنگ کا خاتمہ نہ ہو اورجو غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلا کی ضمانت نہ دیتا ہو لیکن حماس اب مستقبل میں خود کو ایسی پوزیشن میں پا سکتا ہے جہاں وہ ماضی میں پیش کیے گئے مسودے جنہیں انہوں نے مسترد کردیا تھا، موجودہ پیش کش سے زیادہ پُرکشش محسوس کریں گے۔ فلسطینی اسلامی جہاد کے رہنما زیاد النخالہ نے کہا کہ وہ غزہ کے لیے امریکی منصوبہ، خطے کے لیے ’تباہی کا نسخہ‘ سمجھتے ہیں۔ٹرمپ کا ’جامع منصوبہ‘ پہلی بار پیر کی رات کو عوامی طور پر جاری کیا گیا لیکن گزشتہ ہفتے کے دوران بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی جانب سے اس اور اس سے متعلقہ تجاویز کی اطلاع ایک سیریز کی صورت میں دی جارہی تھیں۔ حماس سے پاک غزہ کا تصور کرنے کے علاوہ، اس 20 نکاتی مسودے میں جنگ کے خاتمے کے بعد تباہ حال پٹی میں ’بحالی و تعمیر نو‘ کے عمل پر توجہ دی گئی ہے جہاں عبوری، ٹیکنوکریٹک سیٹ اپ کو بنیادی عوامی اور میونسپل خدمات کی فراہمی کی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی اسرائیلی خبررساں ادارے کے مطابق ممکنہ طور پر اس مجوزہ منصوبے میں یہاں غزہ بین الاقوامی عبوری اتھارٹی کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں ایک ایسے نظام کا تصور پیش کیا گیا ہے جس میں ارب پتی اور دولت مند کاروباری حضرات بین الاقوامی بورڈ کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوں گے جبکہ احتیاط سے منتخب کردہ ’غیرجانبدار‘ فلسطینی منتظمین نچلے عہدوں پر ہوں گے مڈل ایسٹ آئی کے مطابق برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے پیش کردہ مسودے کے تحت، یہ اتھارٹی ایک بین الاقوامی بورڈ کے ذریعے چلائی جائے گی جس کے پاس ’عبوری مدت کے دوران غزہ کے لیے اعلیٰ ترین سیاسی و قانونی اختیارات‘ ہوں گے۔ یہ انتظامیہ اسرائیل، مصر اور امریکا کے تعاون سے کام کرے گی اور ہاریٹز کے اسرائیلی ذرائع کے مطابق، اسے وائٹ ہاؤس کی حمایت بھی حاصل ہوگی۔ بورڈ تمام تقرریوں کا ذمہ دار ہوگا اور اتھارٹی کے ہر جزو کی نگرانی کرے گا۔ ایسا لگتا ہے یہ اتھارٹی وہی ’بورڈ آف پیس‘ ہے جس کا ذکر گزشتہ رات اپنی پریس کانفرنس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا کہ وہ بذات خود اس کی سربراہی کریں گے۔ اس بورڈ میں اقوامِ متحدہ کے ایک سینئر عہدیدارکو بھی شامل کیا جائے گا جبکہ ایگزیکٹیو اور مالیاتی مہارت رکھنے والی سرکردہ معروف بین الاقوامی شخصیات’ کی بھی اس میں شمولیت کا امکان ہے۔ اس بورڈ میں ’کم از کم ایک اہل فلسطینی نمائندہ‘ ہوگا جس کا تعلق ممکنہ طور پر ’کاروبار یا سیکیورٹی سیکٹر‘ سے ہوگا لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ یہاں ’اہل‘ کے معنیٰ کیا ہیں دستاویز میں کہا گیا ہے کہ بورڈ میں بہت سے مسلمان ممبران کو شامل کیا جائے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اس اتھارٹی کو علاقائی اور ثقافتی اعتبار سے مسلم اراکین کی حمایت حاصل ہے’۔ ان مسلم اراکین کو مثالی طور پر اپنے ممالک کی سیاسی حمایت حاصل ہوگی جبکہ وہ ’دیرینہ کاروباری ساکھ‘ کے بھی مالک ہوں گے اگرچہ اسے فلسطینی ایگزیکٹو اتھارٹی کہا جاتا ہے لیکن اپنے نام کے برعکس یہ جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ کے نئے نظام میں سب سے نچلی سطح پر ہوگی اور اس کے پاس حقیقی آزاد اختیارات زیادہ نہیں ہوں گے۔ یہ اُس فلسطینی اتھارٹی سے الگ ہے جو مقبوضہ مغربی کنارے کا انتظام سنبھالتی ہے۔ فلسطینی ایگزیکٹو اتھارٹی، ٹیکنو کریٹک وزارتوں پر مشتمل ہوگی جو صحت، تعلیم، پانی کی فراہمی اور توانائی، لیبر مارکیٹ کی پالیسیز، ہاؤسنگ، مقامی فوجداری نظام عدل اور فلاح و بہبود کے علاوہ کچھ دیگر پالیسی شعبوں کا انتظام سنبھالے گی۔ اس کی سربراہی ایک ’فلسطینی چیف ایگزیکٹو آفیسر‘ کرے گا جسے بین الاقوامی بورڈ تعینات کرے گا۔ یہ قابل ذکر ہے کہ پوری دستاویز میں تمام کرداروں کے لیے استعمال ہونے والی زبان جیسے بورڈ، چیئرمین اور سی ای او سے ایسا لگتا ہے جیسے کسی ملک یا علاقے کی نہیں بلکہ کسی کاروباری ڈھانچے کے متعلق بات ہورہی ہوفلسطینی سی ای او، صحت، تعلیم، انفرااسٹرکچر اور منصوبہ بندی جیسے مختلف شعبوں کے لیے ’ڈائریکٹرز‘ کی سربراہی کرے گا اور ان ڈائریکٹرز کے انتخاب کا اختیار سی ای او کو حاصل ہوگا۔ ڈائریکٹرز کو ’تکنیکی قابلیت، دیانتداری اور غیر جانبداری کے معیارات پر پورا اترنا‘ ہوگا
ارب پتی اور کاروباری افراد کا بین الاقوامی گروپ اس بات کا حتمی فیصلہ کرے گا کہ کس کو تعینات کیا جائے، تاکہ ’ادارہ جاتی ساکھ اور اس کی خودمختاری کو تحفظ فراہم کیا جاسکے دستاویز کے مطابق ’تمام محکمہ جات کے سربراہان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا اور انہیں اپنی عبوری حکمرانی کے طریقہ کار کی بنیاد پر برطرف یا تبدیل کیا جاسکتا ہے امریکی صدر نے واضح کیا ہے کہ مسلم ممالک حماس کے ساتھ ڈیل کریں گے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ مسلم بلاک پر منصوبے پر تعمیل کو یقینی بنانے کی ذمہ داری دے رہے ہیں جنہیں گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے دوران اس تجویز کے نکات کے حوالے سے بظاہر آگاہ کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود اس مسودے میں کچھ ایسے عناصر شامل ہیں جو شاید اتحادیوں کے عدم اطمینان کا باعث بنیں اگرچہ اب حماس پر قطر و دیگر عرب ممالک کی جانب سے نکات کو قبول کرنے کے حوالے سے دباؤ ہے لہٰذا اب حقیقی مذاکرات کا آغاز ہوگا جہاں دونوں فریقین جامع منصوبے‘ میں استعمال ہونے والی مبہم زبان پر آپس میں بحث کریں گے اس تناظر میں تازہ ترین پیش رفت جنگ کا اختتام نہیں بلکہ ایک طرح سے مذاکرات کی بحالی کی بنیاد ہے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے قطری وزیراعظم سے فون کال پر دوحہ حملے پر معذرت کی جبکہ اسرائیل اور قطر نے امریکی صدر کی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے ’ سہ فریقی نظام’ قائم کرنے کی تجویز منظور کرلی۔وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی کے ساتھ سہ فریقی ٹیلی فونک گفتگو کی گفتگو میں صدر نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کئی برسوں کی باہمی شکایات اور غلط فہمیوں کے بعد اسرائیل اور قطر کے تعلقات کو مثبت سمت میں ڈالا جائے۔رہنماؤں نے صدر کی اس تجویز کو قبول کیا کہ ایک سہ فریقی نظام قائم کیا جائے تاکہ ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے، رابطے بہتر ہوں، باہمی شکایات حل ہوں اور خطرات کو روکنے کے لیے اجتماعی کوششیں مضبوط کی جائیں۔انہوں نے تعمیری طور پر ساتھ مل کر کام کرنے، غلط فہمیوں کو دور کرنے اور امریکا کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو بنیاد بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔خیال رہے کہ اسرائیل نے 9 ستمبر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے سینئر رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی حملہ کیا تھا۔تاہم حملے میں حماس رہنما خلیل الحیہ محفوظ رہے تھے لیکن ان کے بیٹے اور معاون سمیت 6 افراد شہید ہو گئے تھے۔یہ حملہ اُس وقت ہوا تھا، جب حماس کے مذاکرات کار امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تازہ ترین جنگ بندی کی تجویز پر غور کرنے کے لیے ملاقات کر رہے تھے۔حماس غزہ کی پٹی پر برسراقتدار فلسطینی عسکریت پسند گروہ ہے جو 2007 میں اقتدار سنبھالنے سے اب تک اسرائیل کے ساتھ متعدد جنگیں لڑ چکا ہے۔ ان جنگوں کے علاوہ حماس نے اسرائیل پر ہزاروں راکٹ داغے ہیں اور کئی حملے کیے ہیں۔ اسرائیل نے بھی حماس کو کئی بار فضائی حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔ 2007 سے اسرائیل نے مصر کی مدد سے غزہ کی پٹی کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ اسرائیل، امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین سمیت کئی عالمی طاقتیں حماس یا اس کے عسکری ونگ کو دہشت گرد قرار دے چکی ہیں۔ حماس کو ایران کی حمایت حاصل ہے حماس اور اسرائیل کے درمیان مستقل تناؤ موجود رہتا ہے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں تاخیر کے علاوہ اسرائیل کی جانب سے غرب اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور ان کے گرد سکیورٹی رکاوٹوں کی تعمیر نے امن کے حصول کو مشکل بنا دیا ہے۔ تاہم ان کے علاوہ بھی کئی اختلافات موجود ہیں۔ اسرائیل یروشلم پر مکمل دعوی کرتا ہے اور اس کا دعوی ہے کہ یہ اس کا دارالحکومت ہے۔ تاہم اس دعوے کو بین الاقوامی حمایت حاصل نہیں ہے۔ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔ فلسطینیوں کا مطالبہ ہے کہ ان کی مستقبل کی ریاست کے سرحدیں 1967 کی جنگ سے قبل کی حالت پر طے ہونی چاہیے تاہم اسرائیل اس مطالبے کو تسلیم نہیں کرتا۔ اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے بعد جن علاقوں پر قبضہ کیا، وہاں غیر قانونی بستیاں تعمیر کی گئی ہیں اور اب غرب اردن اور مشرقی یروشلم میں پانچ لاکھ کے قریب یہودی بستے ہیں۔ ایک اور معاملہ فلسطینی تارکین وطن کا بھی ہے۔ پی ایل او کا دعوی ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں ایک کروڑ سے زیادہ فلسطینی موجود ہیں جن میں سے نصف اقوام متحدہ کے ساتھ رجسٹر ہیں۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ ان افراد کو اسرائیل واپس آنے کا حق حاصل ہے جبکہ اسرائیل کا ماننا ہے کہ ایسا کرنے سے اس کی یہودی شناخت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ایسے میں امن کیسے قائم ہو گا؟ اس کے لیے دونوں جانب سے چند اقدامات ضروری ہوں گے۔ اسرائہل کو فلسطیونیوں کی آزاد ریاست کا حق تسلیم کرنا ہو گا، غزہ کی پٹی کے محاصرہ ختم کرنا ہو گا اور مشرقی یروشلم اور غرب اردن میں رکاوٹیں ختم کرنی ہوں گی۔ پاکستانی فلسطین اور کشمیر کے درد کو اپنا درد سمجھتے ہیں علامہ اقبالؒ نے 3جولائی 1937ء کو اپنے ایک تفصیلی بیان میں کہا تھا کہ عربوں کو چاہئے کہ اپنے قومی مسائل پر غوروفکر کرتے وقت اپنے بادشاہوں کے مشوروں پر اعتماد نہ کریں کیونکہ یہ بادشاہ اپنے ضمیروایمان کی روشنی میں فلسطین کے متعلق کسی صحیح فیصلے پر نہیں پہنچ سکتے۔ قائد اعظم ؒنے 15ستمبر 1937ء کو مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ لکھنؤمیں مسئلہ فلسطین پر تقریر کرتے ہوئے ایک قرارداد کے ذریعہ تمام مسلم ممالک سے درخواست کی گئی کہ وہ بیت المقدس کو غیر مسلموں کے قبضے سے بچانے کیلئے مشترکہ حکمت عملی وضع کریں پھر 23مارچ 1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ لاہور میں بھی مسئلہ فلسطین پر ایک قرار داد منظور کی گئی ۔