( اصغرعلی مبارک )
اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیراعظم شہباز شریف نے اسٹاک مارکیٹ کے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے پر اظہار اطمینان کیا اور کہا ہےکہ اسٹاک مارکیٹ میں تیزی سرمایہ کاروں کا عوام دوست بجٹ پر اعتماد کا اظہار ہے وزیر اعظم شہباز شریف نےکہا ہےکہ بجٹ میں عام آدمی پرٹیکس کا مزید بوجھ نہیں ڈالا گیاشہباز شریف کا کہنا تھا کہ تنخواہوں میں اضافہ اور ٹیکس میں کمی سے نوکری پیشہ افراد کو ریلیف ملے گا، الحمدللہ ملکی معاشی ترقی کا سفر شروع ہے، پاکستانی عوام نے قربانیاں دیں، اب ہم سب کو مل کر عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانے کےلیے محنت کرنی ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ مہنگائی کی شرح میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ معاشی ٹیم کی محنت سے ممکن ہوا، پاکستان کی ڈیفالٹ کے دہانے سے واپسی اور ترقی کا سفر ایک معجزہ ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہےکہ پچھلے سوا سال میں ملک نے بے انتہا چیلنجز کا سامنا کیا اور عام آدمی نے قربانی دی۔ تنخواہ دار طبقے نے پچھلے بجٹ میں بوجھ اٹھایا، اشرافیہ کو اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ انہوں نے کتنا اور تنخواہ داروں نے کتنا ٹیکس دیا، پچھلے سوا سال میں ملک نے بے انتہا چیلنجز کا سامنا کیا اور عام آدمی نے قربانی دی۔ مشکل حالات میں حکومت نے جو کارکردگی دکھائی ہے وہ کوئی معمولی کامیابی نہیں، پاکستان کو اب ٹیک آف کرنا ہوگا۔وفاقی حکومت نے 175 کھرب سے زائد (17 ہزار 573 ارب) کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیاہے,وزیر خزانہ کا بجٹ تقریر میں کہنا تھاکہ یہ بجٹ انتہائی اہم اور تاریخی موقع پر پیش کیا جارہا ہے، حالیہ پاک بھارت جنگ میں قوم نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا، حالیہ جنگ میں کامیابی پر عسکری اور سیاسی قیادت کو مبارک باد دیتا ہوں، عالمی برداری میں پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی عزم اور یکجہتی کو بروئے کار لاتے ہوئے ہماری توجہ اب معاشی ترقی پر ہے، معاشی اصلاحات کے ذریعے معاشی استحکام لایا گیا، معیشت کی بہتری کے لیے کئی اقدامات کیے، افراط زر میں نمایاں کمی ہوئی اور ترسیلات زر 10 ماہ میں 36ارب ڈالر رہیں۔مالی سال 2025-2026 کے لیے اقتصادی ترقی کی شرح4.2فیصد رہنے کا امکان ہے، افراط زر کی اوسط شرح 7.5فیصد متوقع ہے، بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3.9فیصد ، پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 2.4فیصد ہوگا۔ بجٹ دستاویز کے مطابق ٹیکس ریونیو کا ہدف 14ہزار 131 ارب روپے، نان ٹیکس ریونیو وصولی کا ہدف 5147ارب روپے تجویز کیا گیا ہے، بجٹ خسارہ رواں سال 5.9 فیصد تھا جوکہ 8500 ارب روپے بنتا ہے۔ قرض پر سود کی ادائیگی کی مد میں 8207 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، رواں سال اس مد میں 9ہزار 9775ارب روپے مختص کیےگئےتھے۔ وفاقی بجٹ میں دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور بجٹ میں دفاع کیلئے 2550 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 11 ہزار 72 ارب روپے ہوگی جبکہ وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 17ہزار 573 ارب روپے ہے، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کےلیے ایک ہزار ارب کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔جٹ میں تنخواہوں میں 10 اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی جبکہ تنخواہوں پر بھی انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی گئی ہے۔ وزیرخزانہ نے بتایاکہ 6 لاکھ روپے سے 12لاکھ روپے تنخواہ پر ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کردی گئی جبکہ 22 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر کم سے کم ٹیکس کی شرح 15 فیصد کے بجائے 11 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے بتایاکہ 22لاکھ روپے سے 32 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر ٹیکس 25 سےکم کرکے 23 فیصد کرنے کی تجویز ہےبجٹ 2025-26 میں جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 4 فیصد سے کم کرکے 2.5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ جائیداد کی خریداری پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی 3.5 فیصد شرح کم کرکے 2 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ پلاٹس اور گھروں کی منتقلی پر 7 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز ہے جبکہ اسلام آباد میں جائیداد کی خریداری پر اسٹامپ پیپر ڈیوٹی 4 سے کم کرکے ایک فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔وفاقی حکومت نے بجٹ 26-2025 میں آئن لائن خریداری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنےکی تجویز دی ہے۔
فنانس بل کے مطابق بجٹ 2025-26 میں گزشتہ سال کے بجٹ کی طرح کل چھ انکم ٹیکس سلیبز رکھے گئے ہیں، جن پر مختلف شرحوں کے مطابق ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ یہ سلیبز سالانہ چھ لاکھ تک تنخواہ، چھ لاکھ سے 12 لاکھ، 12 لاکھ سے 22 لاکھ، 22 لاکھ سے 32 لاکھ، 32 لاکھ سے 41 لاکھ، اور 41 لاکھ سے زائد سالانہ تنخواہ حاصل کرنے والوں کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ فنانس بل میں پہلی سلیب کے تحت سالانہ چھ لاکھ روپے تک تنخواہ پر زیرو انکم ٹیکس برقرار رکھا گیا ہے۔
بل کے مطابق انکم ٹیکس کی دوسری سلیب کے تحت سالانہ چھ لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک تنخواہ پر ڈھائی فیصد ٹیکس عائد ہو گا جبکہ اس سلیب پر پہلے پانچ فیصد ٹیکس عائد تھا۔ اس کے علاوہ تیسری سلیب میں شامل افراد کے لیے سالانہ 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے تک تنخواہ پر ٹیکس 15 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد کر دیا گیا ہے جبکہ اس سلیب میں شامل تنخواہ دار طبقے پر چھ ہزار روپے فکسڈ ٹیکس بھی عائد ہو گا۔
فنانس بل میں یہ بھی درج ہے کہ اگلی یعنی چوتھی سلیب کے تحت 22 لاکھ سے زائد تنخواہ پر انکم ٹیکس 25 فیصد سے کم کر کے 23 فیصد مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر ایک لاکھ 16 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس لاگو ہو گا۔ فنانس بل کے تحت بنائے گئے پانچویں سلیب کے مطابق سالانہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے تنخواہ پر 30 فیصد انکم ٹیکس اور تین لاکھ 46 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس بھی عائد ہو گا۔
چھ لاکھ روپے سالانہ تک کی آمدنی پر اس وقت بھی مکمل ٹیکس چھوٹ حاصل تھی تاہم چھ لاکھ ایک روپے سے 12 لاکھ روپے تک آمدنی رکھنے والے افراد پر پانچ فیصد ٹیکس لاگو تھا، جو اب کم کر کے صرف ڈھائی فیصد کر دیا گیا ہے۔ 12 لاکھ ایک سے 22 لاکھ روپے آمدنی پر 15 فیصد، 22 لاکھ ایک سے 32 لاکھ روپے پر 25 فیصد، 32 لاکھ ایک سے 41 لاکھ روپے تک 30 فیصد، اور 41 لاکھ روپے سے زائد آمدنی پر 35 فیصد ٹیکس لاگو تھا۔ ہر سلیب کے لیے ایک فکسڈ رقم بھی شامل تھی، جو مخصوص آمدنی کی حد کے بعد لاگو ہوتی تھی۔ نئے بجٹ میں اگرچہ سلیبز کی تعداد وہی رکھی گئی ہے، تاہم ٹیکس کی شرحوں میں خاص طور پر درمیانے طبقے کے لیے واضح کمی کی گئی ہے تاکہ ان پر بوجھ کم کیا جا سکے