اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان چین کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک ہے اور خطے میں تائیوان کی حیثیت، سنکیانگ، تبت، ہانگ کانگ اور بحیرہ جنوبی چین سمیت متعدد حساس معاملات پر سفارتی حمایت کرتا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان کا چین کے ساتھ تعلق ہر حال میں غیرمتزلزل رہے گا اور پاکستان ون چائنا پالیسی پر اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلق فولاد کی طرح مضبوط اسٹریٹجک تعاون پر مبنی ہے۔ انہوں نے چین کی جانب سے پاکستان کے لیے پاک-چین اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت تعاون کو سراہا اور سی پیک کے اگلے مرحلے کے بروقت اور مؤثر نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ اور چینی قیادت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اور چین کے درمیان فولاد کی طرح مضبوط اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کی توثیق کی اور کہا ہےکہ پاکستان کا چین کے ساتھ تعلق ہر حال میں غیر متزلزل رہے گا اور پاکستان ایک چین پالیسی پر اپنے غیر متزلزل عزم پر قائم ہے۔پاکستان 1947ء میں قائداعظم کی قیادت میں آزاد ہوا جبکہ چین 1949ء میں مائوزے تنگ کی عظیم قیادت میں آزاد ہوا۔ 1949ء میں چین کی آزادی کے ساتھ ہی پاکستان اور چین کے تعلقات بہتری کی طرف گامزن ہونا شروع ہو گئے تھے۔ پاکستان نے چین کی آزادی کو تسلیم کیا یہ پاکستان اور چین کی دوستی کا نقطہ آغاز تھا یا اسے اِس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ پاکستان اور چین کی دوستی کی ابتدا تھی 1962ء میں بھارت اور چین کے سرحدی تنازع کا آغاز ہوا اور دونوں ملکوں کی فوجیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ کھڑی ہوئیں اور ہندوستان اور چین میں سرحدی جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ اُس وقت چین عالمی برادری سے کٹا ہوا تھا لیکن پاکستان نے اِس موقع پر چین کا بھرپور ساتھ دیا جس کی وجہ سے چین کی نظر میں پاکستان کا وقار بلند ہوا اور پاکستان اور چین کے تعلقات میں زیادہ بہتری کی طرف گامزن ہونا شروع ہو گئے۔ پاکستان اور چین دوستی کے مضبوط رشتے میں بندھنا شروع ہو گئے۔ اِس موقع پر پاکستان اور چین نے اپنے سرحدی مسائل احسن طریقے سے حل کرلیے اور یہ پاکستان اور چین کی دوستی کا کامیابی کی طرف سفر کا آغاز تھا۔ پاک بھارت جنگوں میں چین نے پاکستان کا ہر طرح ساتھ دیا اور پاکستان کی بھرپور مدد کی اور اپنی سچی دوستی کا حق نبھایا چین نے پاکستان کی حمایت میں جو کردار ادا کیا وہ مثالی تھا اور پاکستان اور چین کی دوستی ایک مثالی دوستی میں تبدیل ہو گئی۔ پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات انتہائی اچھے ہیں۔ دونوں ممالک نہ صرف معاشی بلکہ اقتصادی، اسلحہ اور توانائی میں ایک دوسرے کا تعاون کرتے رہے ہیں۔
دفتر خارجہ نے بیان میں کہا کہ ’دونوں رہنماؤں نے پاک چین تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور علاقائی اور عالمی سطح کے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔‘ ’سی پیک، تجارت، کثیرالجہتی تعاون اور عوامی سطح کے رابطوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔‘
پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ تزویراتی، سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ اسلام آباد اور بیجنگ دونوں علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر قریبی ہم آہنگی کو برقرار رکھتے ہیں۔ دونوں ملک کثیرالجہتی فورمز پر ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کی حمایت کرتے ہیں۔
چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے مطابق پاکستان کے ساتھ اس کی دو طرفہ تجارت 2024 میں 23 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو کہ سال بہ سال کی بنیاد پر 11 فیصد زیادہ ہے۔اسلام آباد بیجنگ کو ایک اہم سرمایہ کاری پارٹنر کے طور پر بھی دیکھتا ہے جس نے گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران سی پیک، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کے تحت پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔دفتر خارجہ کے مطابق ’آل ویدر سٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاک چین دوستی خطے اور دونوں ممالک کے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔‘ ’انہوں نے دوطرفہ اور کثیرالجہتی فورمز پر تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاک چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کو شایان شان طریقے سے منانے پر بھی اتفاق کیا۔‘دفتر خارجہ نے بیان میں مزید کہا کہ ’دونوں فریقوں نے پارٹی ٹو پارٹی تبادلوں، علاقائی صورتحال اور سی پیک کے تحت مختلف منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے دو طرفہ تعلقات کے استحکام اور مستقبل کی جانب پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔‘سی پیک اتھارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان کی سی پیک کے حوالے سے امریکہ کے کمرشل قونصلر سے بھی بات ہوئی ہے۔’یہ غلط تاثر ہے کہ سی پیک صرف چین کے لیے ہے ہم رفتہ رفتہ اس کو زائل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ سی پیک سب کے لیے کھلا ہے۔ حتی کے امریکہ کے کمرشل قونصلر نے بھی مجھ سے بات چیت کی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ بھی آ کر سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائے کیونکہ اس میں جو مالی فوائد ہیں وہ سب کے لیے دستیاب ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’مزاحمت تو مجھے نہیں پتا ہے یا نہیں ہے۔ ابھی تو ہم بات سرمایہ کاری کی کر رہے ہیں۔ اب اگر پاکستان کے اندر امریکہ سے کوئی سرمایہ کار آنا چاہتا ہے۔ پاکستانی تارکین وطن کتنے زیادہ ہیں امریکہ اور یورپ میں اور وہ بہت خوشحال پاکستانی ہیں، اب وہ امریکی قومیت رکھتے ہیں۔ اگر وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے تو بالکل آئیں۔‘سی پیک پوری دنیا سے سرمایہ کاروں کے لیے اوپن ہے۔ ’سی پیک کو اگر دیکھیں تو چین کی بھی یہ خواہش تھی کہ سی پیک راہداری کے ذریعے خطے میں رابطے بڑھیں، اس میں افغانستان بھی ہے پھر گوادر سے مشرق وسطیٰ سے جڑتے ہیں، پھر آگے جا کر یورپ اور افریقہ سے منسلک ہوتے ہیں۔
ہمارے پاس اب سی پیک اتھارٹی میں مختلف سفیروں نے دلچسپی ظاہر کرنا شروع کی ہے اور ہم نے ان کو بھی کہا ہے کہ ہمارے اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کریں۔ ہمارے پاس نو اکنامک زونز ہیں سی پیک کے تحت ان میں سے پانچ بہت تیزی سے تیار ہو رہے ہیں۔۔انہوں نے واضح کیا کہ دلچسپی ظاہر کرنے والے چند یورپی ممالک بھی ہیں جیسا کہ پولینڈ اور جرمنی۔ اس کے علاوہ جنوبی کوریا نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ سی پیک فیز ٹو میں 10 جوائنٹ ورکنگ گروپ مختلف شعبوں میں بنائے گئے ہیں جیسے کہ زراعت، ادویات، آئی ٹی، ٹیکسٹائل اور فارماسوٹیکل کے شعبے میں صعنت لگائی جائے گی۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک کے مطابق سی پیک سے قبل پاکستان کا بڑا مسئلہ بجلی کی کمی تھا۔ 12 سے 18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ تھی۔ ہماری صنعت کسی حد تک بند ہو گئی تھی۔ ہمیں 17 ہزار میگاواٹ کی ضرورت تھی اور ہمیں سستی بجلی بنانی تھی۔ اسی لیے کوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبے بھی لگائے گئے۔ سولر، ونڈ اور ہائیڈل کے منصوبے بھی بنائے گئے۔ فیز ون میں سارا کام ہوا اور اس کے اندر پانچ ہزار تین سو میگاواٹ کے پراجیکٹ لگے۔ اس کے بعد ساڑھے تین ہزار کے پراجیکٹ اگلے نو سے 12 ماہ میں مکمل ہو جائیں گے۔ تھر کا کوئلے کا خزانہ دنیا کا ساتواں بڑا خزانہ ہے، اس کی مدد سے پاکستان کو توانائی کے شعبے میں سکیورٹی حاصل ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تھر میں کوئلے کی کان تیار ہو چکی ہے ۔ دو بجلی کے پراجیکٹ لگ چکے ہیں اور دو اگلے سال تک مکمل ہو جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ گوادر دنیا کی بہترین پورٹ ہو گی۔ جس میں ایک بڑے ایریا پر فری زون بن رہا ہے۔ سی پیک کے فیزٹو میں چین کی وہ انڈسٹری جس میں زیادہ لیبر کی ضرورت ہوتی ہے اسے گوادر میں لایا جائے گا اور فری زون میں اس انڈسٹری کو دوبارہ سے لگایا جائے گا اور پھر اس سے ایکسپورٹ کریں گے۔
دوسرا جب ہم بڑی انڈسٹری لے کر آ جائیں گے چاہے زراعت ہو، انرجی سیکٹر ہو، پیٹروکیمیکل، فارماسوٹیکل، ٹیکسٹائل ہو یہ سب صنعت کے منصوبے ہیں ۔
گوادر میں مقامی آبادی کی طرف سے سہولیات کی عدم فراہمی پر حال ہی میں ہونے والے احتجاج کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں خالد منصور کا کہنا تھا کہ بہت فوکس طریقے سے وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق ان مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر سی پیک اتھارٹی کوشش کر رہی ہے۔ ان میں چاہے بجلی کے مسئلے ہوں یا وہ پانی کے مسئلے ہوں، وہ حل کیے جائیں گے۔ اس طرح وہاں کے نوجوان طبقے کی تربیت کے لیے ہم نے بہت ووکیشنل اور ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ حال ہی میں مکمل کیا ہے۔ وہاں نوجوان بچوں کو شامل کرکے تربیت دیں گے، پھر جو فری زون کے اندر صنعت لگ رہی ہے وہاں تربیت کر کے ان لوگوں کو ملازمت کے مواقع دیے جائیں گے۔
انہوں نے مثال دے کر وضاحت کی کہ جس وقت بجلی کے پراجیکٹ پر کام شروع ہوتا ہے تو پہلے تین سالوں میں ہزاروں لوگوں کو روزگار کے مواقع ملتے ہیں ان میں تربیت یافتہ لیبر بھی ہوتی ہے ، غیر تربیت یافتہ بھی اور نیم تربیت یافتہ بھی ۔ اس کے بعد جس وقت پراجیکٹ ختم ہو جاتا ہے تو بے شمار لوگوں کو وہاں بھی روزگار ملتا ہے اور پھر جب انکی مہارت بڑھ جاتی ہے تو انکو پاکستان میں بھی زیادہ مواقع ملتے ہیں اور بیرون ملک بھی۔ چینی ورکرز کی سکیورٹی کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک ہماری معیشت کے لیے گیم چینجر ہے۔ ہماری معیشت کو بحال کرنے کے لیے شہ رگ ہے، مگر بہت سی مخالف قوتوں کی نظر میں کھٹکتا بھی ہے۔ اسی لیے اس کی سکیورٹی پر خصوصی توجہ دی گئی اور ابھی تک فیز ون میں جو پراجیکٹ محدود علاقوں میں تھے، ان میں ہزاروں چینی آئے اور ان کی سکیورٹی کی ذمہ داری پاکستان آرمی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بہت اچھے طریقے سے پوری کی اور ان کے اندر شاید ہی کوئی واقعہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ چین کی یہ شرط بھی تھی کہ جب وہ کام کریں گے تو ان کو فول پروف سیکورٹی دی جائے۔
تاہم جو اکا دکا واقعات ہوئے وہ ایسے پراجیکٹ تھے جو محدود علاقے میں نہیں تھے بلکہ کھلے علاقے میں تھے جیسے کہ داسو کا حملہ تھا، جس میں (ہلاکتیں ہوئیں) اور پھر گوادر میں بھی ایک واقعہ ہوا تھا لیکن اللہ کا شکر ہے چینی شہریوں کی کوئی اموات نہیں ہوئیں۔ اس کے فوراً بعد اس قسم کے پراجیکٹس کے لیے بھی ازسرنو جائزہ لیا گیا اور ہماری سکیورٹی کو مزید مضبوط کیا گیا ۔ انفراسٹرکچر کے نکتہ نظر سے اور پھر نفری کی تعیناتی کے حوالے سے بھی پھر ایس او پیز کو بھی تبدیل کیا گیا کہ کیسے چینی ورکرز اور انجینئیرز کو لایا جائے گا جب وہ باہر کام کر رہے ہوں گے تو کسی سکیورٹی ہو گی۔ان سارے انتظامات سے اور سکیورٹی میں اضافے کے بعد چین نے اس پر کافی اطمینان کا اظہار کیا۔ اور اس کے بعد داسو کے پراجیکٹ پر بھی دوبارہ کام شروع کر دیا اور گوادر میں جو ایکسپریس وے بن رہی تھی وہاں پر بھی دوبارہ سے کام شروع کر دیا ہے۔ ہماری پوری نظر ہے سکیورٹی پر اور باقاعدہ بنیادوں پر اس کی مانیٹرنگ بھی کی جاتی ہے اور (سی پیک کے ) فیز ٹو میں اپنے گزشتہ تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کام کریں گے۔
افغانستان میں طالبان کی نئی حکومت آنے سے سی پیک پر اثرات کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر افغانستان میں استحکام آجاتا ہے تو اس کے اندر افغانستان کا بھی بھلا ہے اور سی پیک کا بھی کیونکہ اس کا مقصد ہی یہ ہے کہ علاقائی رابطے حاصل کرنے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ کیونکہ گوادر پورٹ تقریباً آپریشنل ہو گئی ہے تو وہاں سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اب ہو رہی ہے اور اس کا ان کو فائدہ ہو رہا ہے۔سی پیک اتھارٹی کے سربراہ نے تسلیم کیا کہ کورونا کی وجہ سے سی پیک کی رفتار میں تھوڑی سی کمی آئی تھی مگر اب دوبارہ سے رفتار بڑھی ہے اور ہم لوگ بہت پرعزم ہیں، چینی سفارت خانے کے ساتھ بہت اچھا رابطہ ہے اور اگر (کورونا کی وجہ سے) ابھی ہم وہاں نہیں جا سکتے تو ورچوئل طریقے سے ان کے ساتھ ہماری بات چیت شروع ہو گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریلوے کے بڑے منصوبے ایم۔ ایل ون پر بھی بہت زیادہ اگلے مرحلے پر بات چیت پہنچ چکی ہے۔ اس کے مالیاتی انتظام کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی ہے، اس کے علاوہ جن چینی کمپنیوں نے اس کی تعمیر میں حصہ لینا ہے، ان کی نیلامی کے حوالے سے بھی ہم بات کر رہے ہیں اور میری بڑی امید ہے کہ فیز ٹو کا یہ بہت اہم منصوبہ ہو گا اور تجارت کے اعتبار سے بھی سب سے موثر طریقہ ہو گا کہ ہماری ریل کے ذریعے رابطہ کاری ہو۔