اسلام آباد (اردو ٹائمز) سفارتکاری واقعی جنگ سے بہتر حل ہے کیونکہ یہ مسائل کا حل تلاش کرنے کا ایک مسالمہ اور کم نقصان دہ طریقہ ہے۔ جنگ کے نتیجے میں جان و مال کا نقصان ہوتا ہے، جبکہ سفارتکاری کے ذریعے ہم باہمی مفاہمت اور سمجھوتے کے ذریعے مسائل حل کر سکتے ہیں,سفارتکاری ایک ایسا فن ہے جس کے ذریعے ممالک آپس میں مسائل حل کرتے ہیں، تعلقات کو بہتر بناتے ہیں، اور مشترکہ مفادات کو فروغ دیتے ہیں۔ یہ ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں مذاکرات،سفارتکاری, ڈپلومیسی اور حکمت عملی شامل ہوتی ہے۔سفارتکاری کے ذریعے ممالک جنگ سے بچ سکتے ہیں اور مسائل کا حل ڈھونڈ سکتے ہیں۔ یہ ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرتی ہے اور تجارت، معیشت، اور ثقافت کے حوالے سے تعاون کو بڑھاتی ہے۔ سفارتکاری کے ذریعے ممالک تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دے سکتے ہیں، جس سے معاشی ترقی ہوتی ہے۔ سفارتکاری ممالک کو ایک دوسرے کے مسائل اور مفادات کے بارے میں آگاہ کرتی ہے اور مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تعاون کو بڑھاتی ہے۔
ایرانی حکومت نے ملک بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق، تہران سمیت ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ بند ہو گیا ہے اور امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مظاہروں میں موجود عناصر کو بیرون ملک سے کنٹرول کیا جا رہا تھا اور کچھ مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر گولیاں چلائیں اور داعش طرز کی دہشتگردانہ کارروائیاں کیں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کے کسی بھی شہر سے بدامنی یا ہنگامہ آرائی کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ جون جیسی غلطی دوبارہ نہ دہرائی جائے ورنہ وہی نتیجہ نکلے گا جو پہلے نکلا تھا، اور کہا کہ ایران کے عزم کو بمباری سے نہیں توڑا جا سکتا
پاکستان کے نائب وزیر اعظم وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اس رابطے میں دونوں رہنماؤں نے ایران اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے خطے میں امن و استحکام کے لیے عباس عراقچی سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر دوطرفہ مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ایران کی معاشی صورتحال انتہائی نازک ہے، جہاں مہنگائی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ مہنگائی کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ضرورت کی اشیاء کی ذخیرہ اندوزی ہے، جہاں تجار بھلے وقتوں میں کسی چیز کو خرید کر اپنے پاس اس انتظار میں روک لیتے ہیں کہ جب وہ چیز بازار میں مہنگی ہو جائے گی تو اسے فروخت کریں گےجہاں معاشی بدحالی کے خلاف مظاہروں نے سیاسی انقلاب کی شکل اختیار کر لی ہے۔ یہ مظاہرے 28 دسمبر سے جاری ہیں اور اب تک 31 صوبوں کے کم از کم سو شہروں میں پھیل چکے ہیں۔ مہنگائی اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں اچانک بڑھنے کی وجہ سے لوگ سڑکوں پر ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کی قدر کرتے ہیں کل جن افراد کو پھانسیاں دی جانی تھیں اب ایرانی قیادت انہیں پھانسی نہیں دے گی۔ گزشتہ روز امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا تھا اسرائیل کے وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر ممکنہ امریکی فوجی حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے بدھ کے روز صدر ٹرمپ سے بات کی، اسی روز امریکی صدر نے یہ بیان دیا کہ انہیں ’دوسری جانب سے انتہائی اہم ذرائع‘ سے معلومات ملی ہیں جن کے مطابق ایران میں مظاہرین کی ہلاکتیں رک گئی ہیں اور مظاہرین کی سزائے موت پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔ اس سے قبل برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ آخری لمحوں میں تبدیل کیا۔ دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی خلیجی ملکوں کی سفارتی کوششوں کے باعث عمل میں آئی۔ سعودی عرب، قطر اور عمان نے واشنگٹن سے ہنگامی مذاکرات کیے اور ٹرمپ کو فوجی کارروائی مؤخر کرنے پر یہ کہہ کر آمادہ کیا کہ تہران کو اپنے ‘اچھے عمل’ کا مظاہرہ کرنےکا موقع دینا چاہیے۔سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ایران سے متعلق کشیدہ صورتحال پر عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ عدم استحکام کسی بھی خطے میں ترقی کے مواقع کو نقصان پہنچاتا ہے۔ سعودی عرب کا موقف ہمیشہ بات چیت اور مسائل کے پرامن حل کے حصول پر مبنی رہا ہے اور رہے گا۔ سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ نے مزید کہا کہ صومالیہ ہو، ایران ہو یا شام، لبنان، سوڈان، افغانستان یا یمن ہو ہماری کوششیں ہیں کہ ڈائیلاگ کو ترجیح دی جائے۔ایران میں گذشتہ دو ہفتوں سے جاری احتجاجی مظاہروں کے سبب گزشتہ چند دنوں ایران سے پاکستان آنے والے افراد کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’انتشار‘ کی صورتحال دیکھی ہے۔ ایران میں حکومت مخالف احتجاج دو ہفتے قبل 28 دسمبر کو شروع ہوا تھا جب تہران میں مقامی تاجر امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں ایک اور بڑی کمی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ ان احتجاجی مظاہروں کے دوران ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق 114 سرکاری اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
سنہ 1979 کے انقلاب کے بعد ایران خطے کا واحد ملک رہا ہے، جو امریکی تسلط والے نظام کو چیلنج کرتا رہا ہے۔ باقی اسلامی ممالک امریکہ کے قریبی اتحادی ہیں، جس کی وجہ سے صورتحال پیچیدہ ہے۔ ایران چین اور روس کے قریب ہے لیکن دونوں ممالک امریکہ کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم سے گریز کرتے ہیں۔گذشتہ سال جب امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تو 21 اسلامی ممالک نے اس کی مذمت کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا تھا۔ ان میں سعودی عرب، ترکی، پاکستان، متحدہ عرب امارات، عمان، مصر، سوڈان، صومالیہ، برونائی، چاڈ، بحرین، کویت لیبیا، الجزائر اور جبوتی جیسے ممالک شامل تھے۔ایران میں اسلامی حکومت کے خاتمے سے خلیجی ممالک کو کافی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے بڑے خلیجی ممالک دسمبر کے آخر سے ایران میں ہونے والے مظاہروں پر خاموش ہیں۔ قطر کے ایران کے ساتھ دیرینہ اور اچھے تعلقات ہیں جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے برسوں کی مخاصمت کے بعد ایران کے ساتھ تعلقات بہتر کیے ہیں۔ ان ممالک نے ایران کے ساتھ سفارتی روابط کو مضبوط کیا۔ لیکن سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اب بھی ایران پر مکمل اعتماد نہیں۔ یہ ممالک ایران کی جانب سے خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کو پسند نہیں کرتے۔ عمان اس خطے میں ایسا ملک ہے جو خلیجی ممالک کے مابین تنازعات کی صورت میں اکثر ثالثی کا کام کرتا ہے۔ عمان، امریکہ اور ایران کے مابین بات چیت کے لیے بھی ایک پل کا کام کرتا ہے۔ 10 جنوری کو عمانی وزیرِ خارجہ نے تہران میں ایرانی وزیرِ خارجہ سے ملاقات بھی کی تھی۔ ملاقات میں فریقین نے تعاون بڑھانے اور ایسی پالیسیوں سے گریز کرنے پر بات چیت کی جو کشیدگی کو بڑھا سکتی ہیں، جس سے امریکہ کو اشارہ دیا گیا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ فریقین نے تعاون بڑھانے اور ایسی پالیسیوں سے گریز کرنے پر بات چیت کی جو کشیدگی کو بڑھا سکتی ہیں، جس سے امریکہ کو ایک طرح سے پیغام دیا گیا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ سعودی عرب اور ایران کی مخاصمت بھی ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ یہ اختلافات شیعہ سنی سے لے کر سعودی عرب کی بادشاہت بمقابلہ ایران کے اسلامی انقلاب تک پھیلے ہوئے ہیں۔ آذربائیجان، شیعہ اکثریتی مسلم ملک ہے لیکن اس کی اسرائیل سے قربتیں ہیں اور ایران سے اس کے اختلافات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا اور صدام حسین کو پھانسی پر لٹکایا گیا تو ایران نے اس معاملے پر امریکہ کی مخالفت نہیں کی تھی۔ سنہ 1979 میں جب ایران میں اسلامی انقلاب آیا تو مصر نے اُسی برس اسرائیل کو تسلیم کیا تھا اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیے تھے۔ اُردن نے سنہ 1994 میں اسرائیل کو تسلیم کیا۔ سنہ 2020 میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیے تھے۔مسلم ممالک امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں اور ساتھ ہی وہ اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے بھی خواہاں ہیں۔ خاص طور پر عرب ممالک کے امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور انھیں بگاڑنے کے متحمل نہیں ہو سکتے پاکستان سرد جنگ کے بعد سے امریکہ کا قریبی اتحادی رہا ہے۔ پاکستان نے امن کے نوبل انعام کے لیے ٹرمپ کی سفارش کی تھی۔ ایران اور پاکستان بھی اکثر ایک دوسرے کی سرزمین پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اسلام آباد ایران میں عدم استحکام نہیں چاہتا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ’اسلام آباد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتا کیونکہ اس کے نتائج بھیانک ہوں گے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان 900 کلومیٹر طویل سرحد مشترک ہے۔ یہ سرحد پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے گزرتی ہے۔ بلوچستان پاکستان کا سب سے غیر محفوظ صوبہ ہے ایران میں کسی قسم کی تبدیلی چاہے اندرونی ہو یا بیرونی، اس کا اثر پاکستان پر پڑے گا۔ پاکستان نے ماضی میں بھی ایران اور مغربی ممالک کے مابین کشیدگی کم کرنے میں مدد کی جبکہ امریکہ میں پاکستانی سفارت خانہ بھی ایرانی مفادات کا خیال رکھتا ہے۔ ’پچھلی بار جب ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ ہوا تو پاکستان نے بہت واضح طور پر ایران کی سرزمین اور خودمختاری کی حمایت کی تھی لیکن میں پاکستان کے ان چند لوگوں میں سے تھا جنھوں نے کہا کہ فوجی تنازع نے ایران کو کمزور کیا آج جو صورتحال ہم دیکھ رہے ہیں، اس سیاسی عدم استحکام کا نتیجہ ہے۔ اب کوئی بھی بیرونی مداخلت چاہے وہ اقتصادی پابندیاں ہوں یا فوجی کارروائی، اس سے ایران میں حالات مزید خراب ہوں گے خانہ فرہنگ ایران کوئٹہ کے ڈائریکٹر جنرل سید ابوالحسن کا کہنا ہے کہ پاکستان ایران میں تناؤکو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے،پاکستان کی جانب سے ایران کے موجودہ حالات میں حمایت پرشکریہ ادا کرتے ہیں، سفارتی سطح پرپاکستان کا مؤقف ہمارے لیے حوصلہ افزا ہے۔ پاکستان ایران میں تناؤ کو کم کرنے میں اہم کردارادا کررہا ہے، امریکا اور اسرائیل کی سازشوں کو ایرانی عوام نے ناکام بنادیا۔ ایران کی 28 دسمبرکی نئی اکنامک پالیسی کو جواز بناکرحالیہ تناؤکوبڑھاوادیاگیا، لاکھوں ایرانی عوام کے حکومتی حمایت میں مظاہرے نے سازش کو ناکام بنایا، ایران میں حالات اب معمول کے مطابق ہیں اور بیرونی قوتوں کی سازشیں ناکام ہوئیں۔ ان کا کہنا تھاکہ اسرائیل کے عزائم ایران تک نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ پر قبضہ کرنےکے ہیں۔ ایران میں تعینات پاکستانی سفیر محمد مدثر ٹیپو نے تہران سے اپنے پیغام میں کہا کہ ہماری درخواست پر تہران نے فوری سہولت فراہم کی۔ 11 جنوری 2026 کو ایران میں احتجاجی مظاہروں کے پیشِ نظر وزارت خارجہ پاکستان نے شہریوں کیلیے ایڈوائزری جاری کی تھی۔ ہم نے اپنے شہریوں کی مدد کیلیے سفارتخانے میں ایک یونٹ قائم کیا ہے جبکہ ان کیلیے ہیلپ لائن نمبرز بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔